بڑی چال

وہ اسے دیکھ کر چونک پڑا تھا ۔ بات ہی کچھ ایسی تھی ۔
’’ یہ تم نے کیا کیا ہے ؟ ‘‘
’’ کیا کیا ہے میں نے ؟ ‘‘ وہ حیرت سے بولا ۔
’’ تمھیں پتا نہیں ہے ؟ ‘‘
’’ کس بات کا ؟ پتا نہیں ، تم کیا کہہ رہے ہو ؟ ‘‘ اس کی حیرت بڑھ رہی تھی ۔
’’ حارث ! اب اتنے بھولے بھی نہ بنو ۔ ‘‘
’’ اب یہ پہیلیاں بجھانا چھوڑو اور صاف صاف کہو کہ کیا بات ہے ؟ ‘‘ وہ جھنجھلا گیا ۔
’’ تم نے ابھی نماز پڑھی ہے ؟ ‘‘
’’ ہاں ! پڑھی ہے ۔ ‘‘
’’ نماز کے بعد تم نے دعا کیوں نہیں مانگی؟ ‘‘ عدیل نے تیز لہجے میں پوچھا ۔
’’ ارے عدیل ! مجھے پتا نہیں تھا کہ تم اتنے بے وقوف ہو گے ۔ ‘‘
’ ’ اس میں بے وقوفی والی کیا بات ہے ؟ ‘‘
’’ تمھیں پتا ہی نہیں ہے…. ‘‘
’’ کس بات کا ؟ ‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا ۔
’’ سنو ! تمھیں پتا ہے ، نماز خود ایک دعا ہے ۔۔۔ پھر دعا کے بعد دعا مانگنے کی بھلا کیا تک ہے ۔ ‘‘
یہ سن کر عدیل تیزی سے کہنے لگا ۔
’’ میں مانتا ہوں کہ یہ ایک دعا ہے ، عبادت ہے ، اللہ کی شکر گزاری کا ایک ذریعہ ہے ، لیکن دعا مانگنا بھی تو ضروری ہے ۔ ‘‘
’’ وہ کس لیے ضروری ہے ؟ ‘‘
’’ دعا میں بندہ عاجزی اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت پسند ہے ۔۔۔ ویسے بھی ہمیں جو کچھ چاہیے ہوتا ہے ، وہ بھی دعا میں مانگ لیتے ہیں ۔ ‘‘
’’ عدیل ! کیا تمھارا اس بات پر یقین ہے ، اللہ تعالیٰ دلوں کے حال جانتا ہے ، اسے سب پتا ہے ۔ ‘‘ حارث کا لہجہ سوالیہ تھا ۔
’’ بالکل ! جو یہ بات نہیں مانتا ، وہ انسان کہلانے کے لائق نہیں ہے ۔ ‘‘
’’ پھر بھی تم ایسا کہہ رہے ہو ؟ ‘‘
’’ کیا کہہ رہا ہوں ؟ ‘‘
’’ یہی کہ دعا مانگا کرو ۔ ‘‘
’’ دعا عبادت کا مغز ہے ۔۔۔ عبادت کر کے دعا نہیں مانگیں گے ، تو ہماری عبادت ادھوری رہ جائے گی ۔ ‘‘
’’ اس کا مطلب یہ ہے ، اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کا حال نہیں جانتا ہے ۔ ‘‘
’’ یہ کیا کہہ رہے ہو ؟ ‘‘ عدیل نے تیزی سے کہا ۔
’’ میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔ اگر اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے ، تو پھر اسے تو بن مانگے دینا چاہیے ۔۔۔ اس سے مانگنے کی کیا ضرورت ہے ۔ ‘‘
یہ سن کر عدیل اسے گھورتے ہوئے بولا ۔
’’ لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے ۔ ‘‘
عدیل کی بات سن کر حارث کچھ دیر سوچتا، پھر بولا ۔
’’ میں تمھیں سمجھا نہیں سکوں گا ، تم ایسا کرو کہ یہ کتاب لے جاؤ…. اس میں تمھارے سوالوں کے جواب مل جائیں گے ۔ ‘‘
حارث نے اسے ایک کتاب الماری سے نکال کر دی ۔ عدیل اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا ۔ کچھ دیر کے بعد اس نے گھر کی راہ لی ۔
حارث اور عدیل کو دوست بنے ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا ۔ عدیل کے ابو سرکاری ملازم تھے ، اس لیے ان کے اکثر تبادلے ہوتے رہتے تھے ۔ وہ ایک شہر میں زیادہ عرصہ نہیں گزار پاتے تھے ۔ اس بار ان کا تبادلہ جھنگ ہو گیا تھا ۔ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ وہاں چلے آئے ۔ نئے اسکول میں داخلہ ہوا ، تو پہلے کی طرح کچھ دن تو عدیل کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہاں اس کا دل نہیں لگتا تھا ۔ وہ دہم کا طالب علم تھا اور پھر چند لڑکوں کے ساتھ اس کا کچھ تعلق سا بنتا چلا گیا ۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی دوستی حارث کے ساتھ ہوتی چلی گئی ۔ کچھ لڑکوں نے اسے منع بھی کیا ۔
’’ اس کے ساتھ دوستی نہ کرو ۔ ‘‘
یہ سن کر وہ حیرت سے بولا۔
’’ وہ کیوں ؟ ‘‘
’’ اس کا عقیدہ اور ہے ؟ ‘‘
’’ میں سمجھا نہیں ۔ ‘‘ وہ الجھ کر بولا ۔
’’ آہستہ آہستہ سمجھ جاؤ گے ۔۔۔ اگر ہم نے تمھیں بتا دیا ، تو تمھیں یقین نہیں آئے گا ۔ ‘‘
وہ سر ہلا کر رہ گیا تھا ۔ ویسے ایک بات تو اس نے محسوس کر لی تھی کہ سارے لڑکے حارث سے کھنچے کھنچے سے رہتے تھے ۔ اس کے ساتھ کوئی کھیلتا بھی نہیں تھا ، حالاں کہ وہ ایک سلجھا ہوا ذہین لڑکا تھا ۔ اس نے کئی بار لڑکوں سے پوچھنے کی کوشش کی ، لیکن اسے کسی نے کچھ نہ بتایا ۔
آج عدیل ایک کام کے سلسلے میں اس کے گھر گیا تھا ۔ وہاں اسے نماز پڑھتے دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی کہ اس نے نماز کے بعد دعا کیوں نہیں مانگی ۔ حارث اسے مطمئن نہیں کر سکا تھا ۔ اس نے اسے ایک کتاب تھما دی تھی ۔ اب وہ کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا ، لیکن وہ جوں جوں کتاب کا مطالعہ کرتا گیا ، وہ مزید الجھتا گیا ۔ ایک جگہ تو وہ چونک کر رہ گیا ۔
’’ یہ…… یہ کیسے ممکن ہے ؟ ‘‘ وہ بڑ بڑایا ۔
پھر اس نے کچھ سوچ کر حارث سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔
دوسرے دن وقفے کے دوران اس نے حارث کو پکڑ لیا ۔
’’ کل جو کتاب تم نے مجھے دی تھی…… وہ تو بڑی عجیب سی ہے ۔ ‘‘
’’ عجیب سی ہے… وہ کیسے ؟ ‘‘
’’ اس میں تو لکھا ہے کہ غلام احمد نام کا ایک نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد اس دنیا میں آیا ہے ۔ ‘‘
’’ ایسا ہی ہے ۔ ‘‘
’’ لیکن حضور ﷺ کے بعد تو اس دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا…. نبوت ان پر ختم کر دی گئی ہے… قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں یہی آیا ہے… نبی مکرم ﷺ کا اپنا فرمانِ عظیم ہے….. میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے…..پھر یہ کہاں سے آ گیا ؟ ‘‘ عدیل کا لہجہ پرجوش تھا ۔
’’ پہلی تو بات یہ ہے کہ ان کا نام احترام سے لو ۔ ‘‘
’’ میرے نبی ﷺ کی ختمِ نبوت پر جو شبِ خون مارتا ہے اور میں اس کا نام احترام سے لوں… یہ کس طرح ممکن ہے…. ‘‘
’’ عدیل ! تم تو جذباتی ہونے لگے ۔ ‘‘
’’ جب بات ہی غلط ہے ، تو میں اور کیا کروں ؟ ‘‘
’’ وہ غلام احمد خود نبی نہیں تھے ؟ ‘‘
’’ پھر کیا تھے ؟ ‘‘
’’ وہ تو حضرت محمد ﷺ کے نائب نبی بن کر آئے تھے ۔ ‘‘
’’ لیکن اس کے بارے میں کہیں لکھا ہے…. وہ نبی تھے… کہیں لکھا ہے کہ وہ مسیح موعود تھے…. کہیں کچھ ، تو کہیں کچھ ۔ ‘‘
’’ اس سب کا مطلب یہی بنتا ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے نائب تھے ۔ ‘‘
’’ میں یہ نہیں مان سکتا ۔ ‘‘ عدیل کا لہجہ قطعی تھا۔
’’ وہ کیوں ؟ ‘‘
’’ اس لیے کہ اگر حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنا ہوتا ، تو جس طرح پہلے پیغمر علیہ السلام اپنے سے بعد میں آنے والے نبیوں کی بشارت دیتے رہے ہیں ، اسی طرح حضرت محمد ﷺ بھی اپنے سے بعد میں آنے والی کی بشارت دیتے…. یہ کبھی نہ فرماتے کہ میں آخری نبی ہوں ۔ ‘‘
’’ ایک کام کرو… پھر تم بھی مان جاؤ گے ۔ ‘‘
’’ کیا کام ؟ ‘‘ عدیل نے تیزی سے پوچھا ۔
’’ پہلے یہ بتاؤ ۔۔۔ استخارہ کے بارے میں جانتے ہو ۔ ‘‘
یہ سن کر عدیل اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا ۔
’’ کسی خاص طریقے سے کسی کام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ لینا ۔۔۔ کسی کام کے لیے اللہ تعالیٰ سے مشورہ و راہ نمائی اور دسترس کا حصول ہے ۔ ‘‘
’’ بالکل ٹھیک کہا ۔۔۔ ‘‘
’’ تم ایک کام کے بارے میں بتا رہے تھے ؟ ‘‘
عدیل کی بے چینی دیکھ کر حارث دھیرے سے مسکرایا ۔ اس کی مسکراہٹ عجیب سی تھی ۔
’’ اگر تمھیں شک ہے کہ میں غلط کہہ رہا ہوں ، تو تم استخارہ کر لو ۔۔۔ تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے راہ نمائی مل جائے گی ۔۔۔ غلام احمد نبی تھے یا نہیں ؟ ‘‘
عدیل یہ سن کر پریشان ہو گیا ۔ اسے یہ بات بہت عجیب سی لگی تھی ۔ اس نے کوئی بات نہ کی اور اٹھ کر چلا گیا ۔
گھر میں بھی وہ بہت پریشان تھا ۔ اس سے کھانا بھی کھایا نہ جا سکا ۔ اس کی اس پریشانی کو امی نے بھانپ لیا ۔
’’ بیٹا ! کیا بات ہے ؟ ‘‘
’’ امی جان ! میں ایک معاملے میں الجھن کا شکار ہوں ۔ ‘‘
’’ شاباش ۔۔۔ مجھے بتاؤ ! ‘‘
عدیل نے اپنی امی کو ساری بات بتا دی ۔ وہ سن کر چونک اٹھیں ۔
’’ بیٹا ! تمھارا یہ دوست تو مرزائی ہے ، جو غلام احمد قادیانی کا پیروکار ہے ۔۔۔ غلام احمد کذاب تھا ، جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا تھا ۔۔۔ ‘‘
’’ امی جان ! وہ نماز کے بعد دعا نہ مانگنا ۔۔۔ اس کا کیا مطلب ہے ؟ ‘‘
’’ یہ ان کا ایک طرح سے خاص حربہ ہے ، جو بھولے بھالے سادہ لوح مسلمانوں کو پھنسانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اس الجھن میں ڈال دیا جائے کہ نماز تو وہ بھی پڑھتے ہیں ۔۔۔ بس دعا نہیں مانگتے ۔۔۔ جب کوئی پوچھتا ہے ، تو یہی کہتے ہیں کہ دعا کے بعد دعا کیوں مانگی جائے ۔۔۔ یوں وہ کچھ کچے ذہن کے مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ ‘‘
’’ اب جو اس نے استخارہ کا کہا ہے ؟ ‘‘
’’ بیٹا ! استخارہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خواب یا کسی اور ذریعے سے راہ نمائی کا حصول ہے ۔۔۔ آیا یہ کام ہمارے لیے مفید رہے گا یا نہیں ۔۔۔ سمجھ لو کہ اپنا شک رفع کرنا ہے ۔۔۔ اب جب کہ ہمارا اس بات پر ایمان ہے ۔۔۔ نبی مکرم ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔۔۔ جب اس معاملے میں استخارے کی بات کی جائے گی ، تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ ہمیں حضور ﷺ کی ختمِ نبوت پر شک ہو گیا ہے اور جب اس معاملے میں ہمارے دل میں شک پیدا ہو جاتا ہے ، تو ہم مسلمان نہیں رہتے ۔۔۔ دائرہِ ایمان سے خارج ہو جاتے ہیں ۔ ‘‘
یہ سن کر عدیل اچھل پڑا ۔
’’ اوہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ؟ ‘‘
’’ میں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوں ۔۔۔ یہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ایک مسلمان ان کی گرفت میں نہیں آ رہا ، تو یہی استخارہ والا حربہ استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ اگر وہ بندہ ان کے پاس نہ بھی آئے ، تو کوئی بات نہیں…. ان کا حربہ تو کامیاب ہوگیا….. ان کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ مسلمان ختم نبوت کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جائے…. جب وہ اس بارے میں شک میں مبتلا ہو جاتا ہے، تو وہ مسلمان تو نہ رہتا ۔۔۔ یوں وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ ‘‘
یہ سن کر عدیل پریشانی سے بولا ۔
’’ اب کیا کروں ؟ ‘‘
امی نء اسے پیار کرتے ہوئے کہا ۔
’’ بیٹا ! ابھی تم اس قابل نہیں کہ اسے سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کرو ، کیوں کہ ان لوگوں کے دلائل کے جواب عام مسلمان نہیں دے سکتا ، اس لیے اس سے دوستی ختم کر دو ۔۔۔ یہ نہ ہو کہ تم بھی ان کے دین میں داخل ہو جاؤ ۔ ‘‘
عدیل یہ سنتے ہی تیزی سے بولا۔
’’ اللہ نہ کرے ۔۔۔ امی جان ! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘
’’ مجھے تم پر بھروسا ہے ۔ ‘‘ امی نے مسکرا کر اس کا کندھا تھپتھپایا۔
**
دوسرے دن حارث نے اس سے پوچھا ۔
’’ تو پھر تم نے استخارہ کیا ؟ ‘‘
’’ کس لیے ؟ ‘‘ عدیل کا لہجہ سخت تھا۔
’’ کہ غلام احمد نبی تھے یا نہیں ؟ ‘‘
حارث کی بات سن کر اس نے اسے گھورا ۔
’’ مجھے استخارہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ‘‘
حارث نے چونک کر اسے دیکھا ۔
’’ وہ کیوں ؟ ‘‘
’’ اس لیے کہ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ نبی مکرم ﷺ آخری نبی ہیں ۔۔۔ ان پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے ۔۔۔ اب کوئی پیغمبر نہیں آئے گا ۔۔۔ جو بھی اب نبوت کا دعویٰ کرے گا ۔۔۔ وہ صرف اور صرف کذاب ہوگا ۔۔۔ تم نے چال تو بہت بڑی چلی تھی ، لیکن کامیاب نہ ہو سکے ۔۔۔ ایک بات اور اپنے ذہن میں بٹھا لو ۔ ‘‘
’’ وہ کیا ؟ ‘‘
’’ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمھارے شکنجے میں نہیں آ سکا ۔۔۔ اب تم جسے بھی بھٹکانے کی کوشش کرو گے ۔۔۔ میں تمھیں تمھارے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔ ان شا ء اللہ ۔۔۔ آج سے میرے اور تمھارے راستے جدا ہیں ۔ ‘‘ عدیل کا لہجہ پرعزم تھا ۔
پھر وہ اٹھ کر چل دیا ۔
حارث اپنا منہ سا لے کر عدیل کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ اپنی اتنی بڑی چال کی ناکامی نے اسے گڑبڑا کر رکھ دیا تھا۔
عدیل سوچ رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے آپ سے یہ عہد کر رہا تھا ۔
” ابھی تو میں کم عمر ہوں، ان کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا، مگر مجھے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے راستہ مل گیا ہے اور اپنی آنے والی زندگی میں، میں اس راستے پر چلوں گا ۔میں علم حاصل کروں گا ۔اسلام کا مبلغ بنوں گا اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اور پیارے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت میں ان گستاخوں کے پرخچے اڑ دوں گا۔جن مسلمانوں کو انھوں نے گمراہ کیا ہے، انھیں راستے پر لانے کا وسیلہ بنوں گا میں…. “

اپنا تبصرہ بھیجیں