بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا کیا حل ہے

آپ نے اپنے بچوں کو خود برباد کیا _آپ کو بچوں کے تحفظ سے زیادہ مولوی کو بدنام کرنے کا فکر تھا ۔آپ خود بچوں کے حقیقی مجرم ہیں ۔۔۔
آپ کسی بھی اخبار کے مہینے بھر کے شمارے اٹھا لیجئے ، کسی بھی تھانے میں موجود مہینے بھر میں درج رپورٹس دیکھ لیجئے ، اور کسی بھی شہر میں کسی بھی مہینے میں ہونے والی جنسی جرائم کی وارداتیں شمار کر لیجئے ۔۔۔۔
میرا دعوی ہے کہ ایک فیصد سے بھی کم کیسز مدرسوں کے ہوں گے ۔۔۔۔
پہلے میرا نکتہ نظر پڑھ لیجئے کہ آپ کو بات سمجھنے میں آسانی ہو وگرنہ آپ مضمون کے مرکزی نکتے کی بجائے اسی ” لبرل مولوی بحث” میں الجھ جائیں گے ۔۔۔میرا نکتہ نظر ہے کہ اگر کوئی مولوی یہ جرم کرے تو اس کو اسی مدرسے کے سامنے سنگسار کیا جائے کیونکہ اس کا جرم دوہرا ہے وہ دین حنیف کا نمائندہ تھا نہ کہ کسی مادرپدر آزاد آبرو باختہ لبرل این جی او کا ملازم ۔۔
آب آگے چلتے ہیں ۔۔۔۔آپ یعنی عام افراد سے غلطی یہ ہوئی کہ مغربی ایجنڈے اور پے رول پر چلنے والی این جی اوز کے شور شرابے کا حصہ بن گئے ۔۔۔ان کا مقصد عوام کے اندر دین سے نفرت اور دوری پیدا کرنا تھا ۔۔اگر ان کے اندر بچوں کو محفوظ رکھنے کا جذبہ ہوتا تو کبھی محض مدارس کے خلاف مکروہ پراپیگنڈا نہ کرتے بلکہ ہر مجرم کو سزاء دینے کا مطالبہ کرتے ۔۔۔
لیکن مطالبہ کیا ہوا ؟
یہ قصہ بھی بہت عجیب ہے ۔۔۔مطالبہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہا۔۔۔اگر کبھی کوئی داڑھی والا مجرم پکڑا گیا تو ہمارے اس طبقے کی آواز آسمان شکن ہوتی اور منہ سے غیظ کے سبب کف اڑا رہے ہوتے ۔۔یوں لگتا جیسے سنگسار کیا ، کچا ہی چبا جائیں گے ۔۔۔۔
اس پر ہمارے جیسے طالب علم جب گرہ لگاتے کہ آئیں دوست مل کر مطالبہ کرتے ہیں کہ مجرم کو سرعام پھانسی دی جائے ۔۔۔
تو فورا ہی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں کہ نہیں نہیں یہ سزائیں بہت خوفناک ہیں اور مسلے کا حل نہیں ۔۔۔
آپ احباب کو شائد یاد ہو گا کہ جب قصور میں معصوم زینب قتل ہوئی تو قوم نے یک زبان ہو کے احتجاج کیا ۔مجرم پکڑ گیا ۔۔۔اسی کے ردعمل میں آخر ایک زینب الرٹ بل آیا ۔۔جس میں بچوں سے بد فعلی کے مجرم کو سزائے موت دینے کی شق زیر بحث آئی ۔۔۔۔کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کی سب سے زیادہ مخالفت کس کی طرف سے کی گئی ؟
جی ہاں ! ہمارے لبرل طبقات نے اس سزا کی مخالفت کی ۔
اب سوال یہ ہے کہ آپ آخر کس طرف ہیں ؟ بچوں کے ہمدرد ہیں یا قاتلوں کے ساتھی ؟
مجھے معلوم ہے ہمارے لبرل طبقات چاہتے ہیں کہ یہاں بھی مغرب کی سیکس فری معاشرہ قائم ہو ۔۔۔لیکن میں ان سے سوال کرتا ہوں کہ آپ کی دال کالی کیوں ہے ؟ سیکس فری معاشرہ قائم کرتے کرتے آپ ریپسٹ کے ہمدرد کیوں ہو جاتے ہیں ؟
اب آتے ہیں ان مسائل کے حل کی طرف ۔۔۔
بازدوست کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی مثال نہ دو ۔۔۔۔جناب سعودی عرب میں جنسی جرائم دنیا میں سب سے کم ہیں ۔۔تو ان کی مثال کیوں نہ دی جائے ؟
معامله عورت اور بچوں کو محفوظ رکھنے کا ہے ۔۔۔اور جب بات کی جائے گی تو سب سے پہلے دیکھاجائے گا کہ کس ملک میں ” ریپ ” کی شرح سب سے کم ہے ۔۔۔اور اس کے بعد مطالعہ کیا جائے گا کہ انہوں نے کیا اہتمام کیا ہے ۔۔۔۔
غرض مقصد سے ہے ، اور مقصد جہاں سے حاصل ہو گا وہاں جانا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔یہ کسی ” ریپ شدہ ” عورت یا بچے کےوالدین سے پوچھیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں ؟
اگر آپ کی ” نفسیاتی گرہ ” کا لحاظ کرتے ہوے عرب ممالک کا ذکر نہ کیا جائے تو کیا پھر مغرب کی مثال دی جائے ؟
کہ جہاں عورت کا حصول آسان تر لیکن اس کے باوجود ریپ کی شرح بلند تر ۔۔۔
ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں ۔۔۔سوال یہ ہے کہ جنسی جرائم سے بچوں اور معصوم عورتوں کو کیونکر بچایا جا سکتا ہے ؟
مختصر نکات پڑھ لیجئے ۔۔۔
جنس انسان کے لئے بھوک جیسی ضرورت ہے اور فطرت کا حصہ ہے ۔۔۔اس بھوک کو مٹانا انسان کا حق ہے ۔۔۔
اسلام بلوغت کے فورا بعد شادی پر زور دیتا ہے ۔۔۔اب اس میں رکاوٹ کون ہے ؟
آپ کا معاشرہ ۔۔۔۔۔ہمارے لبرل احباب کے قوانین کہ اٹھارہ برس سے پہلے شادی نہیں ۔۔۔ظاہر ہے بلوغت کے پانچ چھے برس اور محرومی جنسی جرم کا سبب ہی بنے گا ۔۔
تدد جنسی بھوک مٹانے کی کو دوسری راہ تعدد ازواج ہے ۔۔۔مرد کی فطرت الگ عورت کی الگ ۔۔۔۔اب آپ خالق سے لڑنے سے تو رہے ۔۔۔بہتر ہے مان لیجئے ، مذہبی افراد ہمت والے ہوتے ہیں ایک سے زیادہ شادی کر لیتے ہیں اور جرم اور گناہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔۔جو سر مجلس تعدد ازواج کا تمسخر اڑاتے ہیں ۔۔۔وہ باہر منہ مارتے ہیں اور آخرت برباد کرتے ہیں ۔اور اگر ان کی زندگی میں آخرت کا تصور ختم بھی ہو چکا تو ” بیوی سے بے وفائی ” کا تصور ختم نہیں ہو سکتا ۔۔۔کیونکہ شومئی قسمت یہ تصور وفا ابھی مغربی معاشرے میں بھی پورے طور پر موجود ہے ۔۔آپ کو یاد ہوں گے ہیلری کلنٹن کے آنسو ۔۔۔جب میاں صاحب مونیکا صاحبہ کےساتھ ملوث ہوے تھے ۔۔۔
تو عرض ہے کہ مرد کی فطرت میں مزید کی طلب ہے ۔۔سو مزید کا اہتمام بھی اس کو ” ریپسٹ ” یا زانی بننے سے روک سکتا ہے ۔۔۔۔
تیسرا راہ شادی میں دیگر مشکلات کا خاتمہ ہے ۔۔۔۔اگر آپ اسلام کی بات کرتے ہیں تو اسلام میں تو شادی انتہائی آسان ہے ۔۔۔۔مجھے معلوم ہے کہ آپ کو اسلام سے ” چڑ ” ہے ، لیکن کیا کیجئے ۔۔یہ واحد اسلام ہی ہے جو عورت کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور شادی کو انتہائی آسان کرتا ہے ۔حتی کہ آپ کی کورٹ میرج بھی عورت کو تحفظ اور عزت فراہم نہیں کرتی ۔۔۔۔آپ کے معاشرے میں غریب کی شادی بھی اب لاکھوں کھا جاتی ہے ۔۔۔۔۔امیر تو خیر کروڑوں میں بھی چلے جاتے ہیں ۔۔۔نتیجہ لیکن ایک ہی ہے کہ شادی کمر توڑ دیتی ہے ۔۔اب ٹوٹی کمر والےنے کیا انجوائے کرنا ہے ۔۔۔
سو جناب ۔۔۔۔یہ ایک دائرہ ہے ۔۔ایک کے sساتھ دوسری وجہ جڑی ہوئی ہے ۔۔۔۔
ہم نہیں کہتے کہ صرف سخت سزائیں دی جائیں ۔۔۔۔
ہم کہتے ہیں کہ پہلے بھوکے پیٹ کو روٹی دی جائے اور پھر اس کے بعد کوئی چوری کرے تو ہاتھ کاٹ دیں ۔۔۔یعنی جائز طور پہلے جنس کا حصول آسان کیجئے ، انتہائی آسان اور بروقت ۔۔۔نکتہ نوٹ کیجئے بروقت ۔۔۔۔اور اس کے بعد اگر کوئی جرم کرے ، کسی معصوم بچے کو برباد کرے ، کسی معصوم عورت کی عزت کے درپے ہو تو اس کو چوک پھانسی دیجئے ۔۔۔۔
لیکن آپ نے کیا کیا ؟؟
آپ نے میڈیا میں عورت کو ننگا کیا ، آپ نے بازاروں میں ننگا کیا ۔۔۔ہر طرف فحاشی کا بازار گرم گیا ۔حد یہ کہ عورت کا پورا بازار ” بازار حسن ” بنا دیا جہاں عورت کی ” منڈی “” لگتی ہے ۔۔جب مرد کے اندر جنس کی آگ بڑھکا دی ۔۔۔آگ نہیں بھائی آگ نہیں پورا ” بھانبڑ ” مچ گیا ۔۔۔۔اس کے بعد اسے کہا کہ ۔۔۔یہ تمہیں دستیاب نہیں ۔۔۔۔جرم کی راہ تو آپ نے دکھائی ۔۔۔ریپسٹ تو اس کو آپ نے خود بنایا ۔۔۔۔
جب خرابی عام ہو گئی تو کبوتر کی طرح منہ چھپا لیا ۔۔۔اور مولوی مولوی مولوی ۔۔۔مدرسے مدرسے ۔۔۔کی گردان شروع کر دی ۔۔۔۔
ابھی وقت ہے اس نفرت انگیز حرکت کو ترک کیجئے ۔۔۔اور اور مل کے اپنے بچوں کا تحفظ کیجئے ۔۔۔۔مسائل کا حل کیجئے نہ کہ بلیم گیم ۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں