مُلّاں پور کا سائیں

نام نہاد مذہبی رہنماؤں کی خواہشات،شیطان جنات کے شیطنت،ہوس کے پجاری پیروں اور ایک عام مسلمان مظلوم عاشق کی کہانی پہ مبنی ناول

یہاں سے بہت دور ، راوی کنارے مُلاں پور نامی ایک گاؤں ہے- یہ گاؤں حکومتی غفلت سے ہر سال سیلاب کی نظر ہو جاتا ہے اور حکومتی غفلت سے دوبارہ آباد بھی ہو جاتا ہے- یہاں کے لوگ جانگلی کہلاتے ہیں اور بڑے مہمان نواز واقع ہوئے ہیں-

میرا نام صلاح الدین ہے- پہلے دُنیا صلّو کہتی تھی ، اب سائیں صلّو- میرے مُرید راوی کے دونوں اطراف پھیلے ہوئے ہیں- میں اس قوم کا پِیر ہوں جو برسات میں ڈوب جاتی ہے ، گرمیوں میں سوکھ جاتی ہے ، اور جاڑوں میں ٹھٹھّر کے مر جاتی ہے- لیکن نعرہ پھر بھی حق سائیں کا ہی نعرہ لگاتی ہے-

میں فقیر کیسے ہوا ، صلاح الدین سے سائیں صلّو کیسے بنا ، یہ ایک طویل قصّہ ہے- بس اتنا سمجھ لیجئے کہ مذھب اور معاشرہ دو مختلف اطراف میں چل رہے تھے ، اور میں نے تیسری راہ اختیار کی- یہی کہانی میں آج آپ کو سنانے لگا ہوں-

میرے ماں باپ بچپن میں ہی دغا دے چکے تھے ، بس دور پار کے ایک چچا تھے جنہوں نے روکھی سوکھی کھلا کر کفالت کی- ھوش سنبھالا تو معلوم ہوا کہ کمہار ہوں اور جتنا بھی پڑھ لکھ لوں کمہار ہی رہونگا- چنانچہ اسکول میں وقت گنوانے کی بجائے بھانڈے بنانے والی آوی میں چچّا کا ہاتھ بٹانے لگا-

جب گھڑے ، چاٹیاں ، اور کُنیّاں بنا بنا کر تھک گیا تو قصد کاروبار کا کیا- کمالیہ سے ٹوبہ جانیوالی لاریوں میں جس جس نے بھی سفر کیا ، صلّو کا سرمہ ضرور خریدا ہو گا- اس کا ایک سُرمچو دیدہ وروں کے چودہ طبق روشن کر دیتا تھا- فقیر تو کچھ روز یہ دھندا کر کے لوٹ آیا ، کمالیہ والے آج بھی آنکھوں کے “ککرے” صاف کرتے ہیں-

گاؤں آکر “لکڑی کا کاروبار” شروع کیا- دن بھر کیکر کی مسکواکیں لئے “چِٹّی مسیت” کے سامنے کھڑا رہتا ، مگر دال کھانے والی قوم نے مسواک کا کیا کرنا تھا- کچھ روز مسجد کے سامنے ٹوپیاں ، تسبیحاں بھی سجائیں مگر مسیت میں پڑا “کھجّی ٹوپیوں والا ڈبّہ” کاروبار میں ہمیشہ رکاوٹ بنا رہا-

سال بعد مسجد کے ساتھ والی اسلامی کیسٹوں کی دُکان خالی ہوئ تو میری قسمت نے یاوری کی-

ملاں پور” میں 5 مساجد تھیں اور چھٹّی زیر تعمیر – ہر طرف چندے اور بندے جمع کرنے کا رجعان تھا- جمعہ کے دن یہاں کان پڑی آواز نہ سنائ دیتی- اس کے باوجود ہر مولوی کو گِلہ تھا کہ آوازِ حق ، خلقِ خُدا تک پہنچنے سے پہلے ہی فرقہء باطلہ کا لاؤڈ اسپیکر لے اُڑتا ہے-

میری مذھبی تعلیم اگرچہ صفر تھی مگر اسلامی کیسٹوں کا کاروبار خوب راس آیا- باتونی شروع سے ہی تھا- کاروباری نزاکتوں کے پیش نظر مدنی رومال بھی اوڑھ لیا ، انداز بھی خطیبانہ سا ہو گیا اور مجمع لگانے میں لطف آنے لگا-

دور سے ہی گاہک کے فرقے کا اندازہ لگانا ، شیلف سے جھاڑ پھونک کر مطلوبہ کیسٹ اُٹھانا اور خطیب کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملانا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا-

اس روز اگر میں مولانا کمالوی کا نیا والیم لینے کمالیہ نہ جاتا ، اور رستے میں بس خراب نہ ہوتی تو “عالیہ” سے میری کبھی ملاقات نہ ہوتی- لیکن اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا کہ آج میں راوی کنارے یہ آوازہ نہ لگا رہا ہوتا کہ شادی کر دریا میں ڈال !!!

ہوا یوں کہ ” اڈّہ موٹی کیکر” پر بس ایک چیخ مار کے رکی اور گھنٹہ بھر رکی رہی- ڈریور ، کنڈکٹر ، ہیلپر اور سواریاں مل جُل کر بس کی بیماری ڈھونڈنے لگے-

اسی لمحے ایک ماہ رُخ ہمراہ ایک قبول رُخ امّاں کے ، بس میں سوار ہوئ اور کپڑوں سے بھری گٹھڑی میری گود میں ڈال دی- میں جو تین والی سیٹ پر پھیل کر بیٹھا ہوا تھا استغفار پڑھ کر سمٹا ، پھر جو پھیلنا شروع ہوا تو ماں بیٹی نے استغفار پڑھنی شروع کر دی-

کمالیہ تک آنکھ مٹکّا جاری رہا- سلونی جھال پر میں نے ادھ پاؤ سیو بیر خریدے اور امّاں کے حضور نذر کئے- رجانہ آیا تو اماّں نے مرُنڈے کا ٹُکڑا پیش کیا- کچھ سفر کے بعد وہ لوگ ” پنڈ دھوبیاں” اترنے لگے تو پیچھے پیچھے میں بھی اتر گیا-

امّاں نے پوچھا پُتّر کدھر جانا ہے-
میں نے کہا امّاں بزرگوں کی خدمت میرا شعار ہے اور اسی میں دوجہاں کی کامیابی ہے- پھر یہ کہانی گھڑی کہ ایک پرانے بیلی سے ملاقات کےلئے دھوبیاں کی نیت باندھی تھی- راستہ معلوم نہیں- خدا نے سبب کیا ، صد شکر کہ قافلہ میسر آیا-

یوں میں گٹھڑی سر پہ اٹھائے برابر دو کلومیٹر چلتا رہا- وہ لوگ گاؤں کو چیرتے ہوئے اپنے محلہ کے گھاٹ پر جا اُترے- ماہ رُخ نے کپڑوں کی گٹھڑی میرے سر سے اتاری مگر پیار والی پنڈ ہمیشہ کےلیے رکھ دی-

چنانچہ میری دکان کو تالہ پڑا- ہر روز مونہہ اندھیرے مشکی صابن سے نہا کر ، تیل سرسوں سر پر جما کر ، اور خوُد پہ عطر پھلیل چھڑکا کر سیدھا ” پنڈ دھوبیاں” جا پہنچتا- مُلاں پور والے بھی حیران تھے کہ “دھوبیاں” میں کس خطیب کا ظہور ہوا ہے جو صلّو روز بھاگا جاتا ہے- کسی کو میرے عشق کی خبر نہ تھی ، سوائے صادق سیکلوں والے کے-

اڈے پر اس کی سائیکلوں کی دکان تھی- یہی دکان میرا پکّا “ٹھیّا” بن گئ- میں سارا دن صادق کے پاس بیٹھا مکھیاں مارتا رہتا-ایک آنکھ سے کانا صادق دور اندیش بندہ تھا- اس نے میری حالتِ زار پر رحم کھایا اور مذکورہ گھرانے میں میرے رشتے کا پیغام بھجوا دیا- وہ لوگ بھی شاید کسی اچھّے جوائ کے انتظار میں تھے- ایک مبارک ساعت میں “منگیوا” ہوا- دوسرے ہی روز چند جاننے والوں میں چھوارے بانٹے اور ” پرنیوا” ہو گیا-

دلھن لیکر گاؤں آیا تو کئ فتنے ایک ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے- پہلے چچّا نے جائداد سے عاق کیا کہ ذات کا کمہار اور دھوبیوں سے رشتے- پھر مولوی نزیر بھاگا آیا کہ نکاح کس نے پڑھایا ہے ؟؟ میں نے کہا پِیر حسین بخش جنڈاں والی سرکار نے- مولوی کو تو بریک لگ گئ لیکن چچا نے جائیداد سے ہمیشہ کےلئے محروم کر دیا- میں نے بھی لعنت بھیجی کہ مٹی کے بھانڈے بنانے والی آوی اور ایک مریل کھوتے کا میں نے کیا کرنا تھا-

مسجد سے ملحقہ ایک کوارٹر کرائے پر خالی تھا- مولوی صاحب نے عنایتاً مجھے بخش دیا- دکان کا تالہ کھُل گیا- یوں دن عید اور رات شبرات کی طرح گزرنے لگے- میرا ایک پاؤں کیسٹوں والی دکان میں ہوتا اور دوسرا زنان خانے میں- عالیہ بھی جی جان سے میری خدمت کرتی- اور یوں زندگی بڑے مزے سے کٹنے لگی-

پانچ چھ ماہ بعد ایک روز میں کیسٹوں کا نیا اسٹاک لینے کمالیہ گیا تو واپسی پر تاخیر ہو گئ- رات گئے میں ملاں پور پہنچا- ابھی گھر سے کچھ دور ہی تھا کہ مجھے ایک انسانی ھیولہ دکھائ دیا- میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہیولہ میرے گھر سے باہر نکلا اور اندھیرے میں غائب ہو گیا-
میں وہیں ٹھٹھک کر رک گیا-
میں دبے پاؤں چلتا ہوا گھر کے دروازے تک پہنچا اور زور سے کنڈی کھٹکائ- کافی دیر بعد دروازہ کھُلا-

دروازہ عالیہ نے ہی کھولا- مجھے دیکھ کر وہ کُچھ پریشان ہوئ پھر سر جھکائے واپس چل دی- میری غیرت جاگ اٹھی اور میں “عاشق” سے ایک دم شوھر بن گیا- ایک غیرت مند شوھر-
میں نے غُصّے میں کانپتے ہوئے آواز دی:

“کون آیا تھا یہاں — ؟؟”

اس نے پلٹ کر دیکھا پھر سراسیمگی سے میرے ہیولے کو گھورنے لگی- میں نے کہا ” بولو بھی — کون تھا یہ — جو ابھی ابھی — اس بوُہے سے باہر نکلا ہے؟”

دونوں ہاتھوں سے اوڑھنی سنبھالتے ہوئے بمشکل اس کے ہونٹ ہِلے :

” کک …. کون — ؟؟ ”

” واہ — سرے سے ہی مُکر گئ توُ-؟ ” میں نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا- ” خُود دیکھا ہے میں نے — اپنی اِن اکھّوں سے — ایک بندہ یہاں سے نکلا — اس بوُہے سے — چور تھا — ڈاکو تھا — لٹیرا تھا — یا بھوُت –!!! ”

” بتا دیا ناں تجھے — کوئ نئیں آیا یہاں ” وہ روہانسی ہو کر بولی-

میں اس پہ ایک غصیلی نظر ڈالتا ہوا گھر کے اندر آ گیا- پھر کمرے میں جا کر بلب روشن کیا اور ماحول کا جائزہ لینے لگا- سب کچھ درست حالت میں تھا اور گھر میں کسی اجنبی کی آمد کے کوئ آثار نہ تھے- تناؤ سے میرا دماغ پھٹنے لگا- مجھے اپنی عقل اور یاداشت پر شک ہونے لگا-

میں نے کہا عالی دیکھو- جو کچھ بھی ہے سچ سچ بتا دے- اگر کوئ چور تھا — ڈاکو یا کوئ بدمعاش تو ابھی مسیت میں اعلان کرا دیتے ہیں — میں نے خود ایک اجنبی کو یہاں ، اس بوھے سے نکلتے دیکھا ہے-

اس بار وہ تنک کر بولی:

” اپنا علاج کرا- دوسروں کو سرمہ بیچتے بیچتے تیری آنکھوں میں بھی کُکرے اتر آئے ہیں- کوئ نئیں آیا یہاں”

مجھے اس بات نے بھڑکا دیا- پھر ہمارے بیچ لڑائ شروع ہو گئ- مجھ پر وحشت سوار ہوئ اور میں نے اسی کے دوپٹّے سے اس کا گلہ دباتے ہوئے کہا:

” سچ سچ بتا عالی — کون تھا وہ — ورنہ ٹوٹے کر کے یہیں ویہڑے میں دفنا دونگا”

اس نے گھُٹّی گھُٹّی آواز میں کہا:

“بھبھ …. بھائ !!!”

میں نے اس کا گلہ چھوڑ دیا- پھر ایک گہری سانس لے کر کہا:

” اچھا — تو اب توُ نے بھائ بھی بنا لئے ہیں — !!! ”

میں جانتا تھا کہ عالیہ کا کوئ بھائ نہیں ہے- وہ محض بہانہ کر رہی ہے- مجھے دھوکا دے رہی ہے-

میں نے غُصّے سے زمین پہ تھوُکا پھر منجا گھسیٹتا ہوا ویہڑے میں لے گیا اور تکیہ گود میں دھر کے بیٹھ گیا- کچھ ہی دیر میں وہ کپکپاتے ہاتھوں سے پانی کا گلاس لیکر آئ- میں نے گلاس جھپٹ کر دور پھینک دیا اور کہا:

” نہیں پیتا میں تیرے ہاتھ کا پانی- نفرت ہے مجھے تجھ سے- جب تک تو مجھے یہ بتائے گی کہ یہاں کون آیا تھا ؟ کہاں سے آیا تھا ؟ کیا لینے آیا تھا قسم عنایت شاہ سرکار کی تجھ سے کلام نہ کروں گا-

” بھائ تھا میرا — ” وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بولی-

آخر کون ہے یہ بھائ ؟؟ تیرا تو کوئ بھائ بہن نہیں؟ کہاں سے پیدا ہو گیا یہ بھائ — ؟؟

وہ خاموشی سے اندر کمرے میں چلی گئ- میں دل پہ پتھر کی سِل رکھ کر ویہڑے میں لیٹ گیا- میرا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا-

اگلے روز میں نے عالیہ سے کوئ بات نہ کی- ہمارے بیچ ایک انجانی دیوار حائل ہو چکی تھی- مجھے اس میں ہزارہا خامیاں دکھائ دینے لگیں- وہ بھی کسی قدر بے رُخی برت رہی تھی- میں نے پورا دن دکان میں گزار دیا- شام کو محمد دین نائ سے بہانہ کیا کہ ٹبری بیمار ہے ، ایک بندے کا کھانا بھیج دے- وہ غریب دو روٹیاں لے آیا- بھوک تو ویسے اڑ چکی تھی زھر مار کر کے گھر آ گیا اور منجا گھسیٹ کے ویہڑے میں ہی سو گیا-

وہ رات میں نے جاگتے ہوئے گزاری- عالیہ سے بات چیت کا کوئ فائدہ نہ تھا- ویسے بھی جتنا الاؤ نفرت کا میرے اندر جل رہا تھا اتنا ہی غصّہ وہ بھی پالے بیٹھی تھی- میں نے فیصلہ کیا کہ صبح دھوبیاں جا کر صادق سے بات کروں گا- اسی نے یہ رشتہ کرایا تھا- لیکن اس کی نوبت ہی نہ آ سکی-

صبح سویرے وہ دھماکہ ہو ہی گیا جس کے خطرات کل سے منڈلا رہے تھے- وہ چائے لیکر آئ تو میں نے گرم چائے اسی کے اوپر انڈیل دی- اس نے غُصّے میں مجھے ” ذلیل ، کُتّا ، کمینہ ، کُبھار دی اولاد” کا القاب عطاء کر دئے- میں نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ پہلے دھوبیوں کی سات پشتوں کو دھویا پھر طلاق طلاق طلاق کے آٹھ دس فائر کر دیے-

وہ خاموشی سے آنسو چھپاتی کمرے میں چلی گئ- میں اٹھ کر دکان پہ آ گیا- مجھے اپنے فیصلے پہ کوئ افسوس نہ تھا- جب شک کا کانٹا دل میں چُبھا ہو ، اور آپ کی عزیز ترین ہستی اسے نکالنے کی قدرت رکھنے کے باوجود مزید گہرا کر رہی ہو تو کیسی گرہستی کہاں کا وسیبا-

شام کو گھر آیا تو عالیہ جا چکی تھی-

رات کو جب یہ فقیر چارپائ پر گرا تو غُصہ کی بجائے ندامت گھیرنے لگی- احساس کے کوئلے دہکے تو دل و دماغ پر جمی کبرونخوت کی برف پگھلنے لگی- رفاقتوں کے دیپ بجھے تو تنہائ کے اندھیرے ڈسنے لگے اور میں زندگی میں در آئ شبِ تنہائ میں بری طرح بھٹکنے لگا-

پوری رات افسوس میں گزری کہ آخر عالیہ نے مجھ سے کیوں بے وفائ کی- صادق سیکلوں والے کا لگایا ہوا یہ پنکچر زیادہ دیر کیوں نہ ٹھہر سکا اور تین ماہ بعد ہی گرھستی کا ٹائر کیوں پھٹ گیا-

میں “ہائے بے وفا ” کہتا ہوا بستر پر گرا اور رونے لگا- شب خوابی کا مارا تو تھا ہی ، روتے بسورتے جانے کب آنکھ لگ گئ-

کچھ دیر بعد مجھے یوں لگا جیسے دروازہ زور زور سے پیٹا جا رہا ہو- میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا- آنکھیں ملتے ہوئے باہر جا کر دیکھا تو سامنے سجی سنوری عالیہ کھڑی تھی-

میرے جزبات کا سمندر بے قابو ہونے لگا- میں نے کہا ” عالیہ یہ سب خواب تھا ناں ؟؟ بولو — بولو — ہمارے بیچ طلاق نہیں ہوئ ناں ؟؟ اس سے پہلے کہ وہ کوئ جواب دیتی اچانک کہیں سے صادق سائیکلوں والا نمودار ہوا اور مجھے زور کا دھکا دے دیا-

میں لڑھکتا ہوا جیسے کسی گہری کھائ میں جا گرا — !!!

آنکھ کھلی تو بستر سے نیچے پڑا تھا اور دروازہ شدّت سے پیٹا جا رہا تھا-
میں جلدی سے اٹھا اور چپل گھسیٹتا ہوا دروزے تک پہنچا- سورج مشرق سے کنّی نکال رہا تھا- ہُڑکا کھولا تو سامنے سچ مچ صادق سیکلوں والا کھڑا تھا- اس کی قہر آلود نگاہوں سے بچنے کےلئے میں خجالت سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا-

وہ کھڑکھڑاتا ہوا اندر داخل ہوا- ورانڈے کے پاس سائیکل کھڑی کی پھر صافے سے مونہہ صاف کرتے ہوئے ہونٹ بھینچ کر بولا :

“کچھ لوگ لانتی کردار ہوتے ہیں ، مگر تُو تو چلتی پھرتی لعنت نکلا صلّو !! ”

میں نظریں جھکائے بمشکل اتنا ہی کہ پایا:

” کیا ہو گیا اُستاد — !!!”

وہ نتھنے پھلاتے ہوئے بولا:

” مت کہ مُجھے استاد- لعنتیوں کے استاد وی لعنتی ہوتے ہیں — غلطی میری ہے صلّو — جس نے تجھ جیسے مہاتڑ سے نیکی کی ، اک چنگے بھلے گھر میں رشتہ کرایا ، اور تو نے — ؟؟ کیتی کتائ پہ پانی روڑھ دیا –؟ اشکے وئ — !!! ”

میں نے اپنا اعتماد بحال کرتے ہوئے کہا:

” دیکھ صادق !!! عالیہ نے میرے ساتھ بے وفائ کی ہے- پہلے میری پوری بات سُن لے — پھر بھلے چپیڑیں مارنا — ”

وہ کچھ دیر خاموشی سے مجھے گھورتا رہا پھر بولا ” ہاں پھُٹ – کیا بولتا ہے توُ — !!!”

میں نے کہا پہلے یہ بتا — کوئ مرد یہ برداشت کر سکتا ہے کہ ٹبری گھر میں کنجر پُنّا کرتی پھرے اور وہ عزت مارے خاموش رہے ؟؟”

صادق کچھ دیر پریشان نگاہوں سے مجھے گھورتا رہا- پھر بولا:

” مطبل کیا ہے تیرا – — ؟؟ ”

میں نے کہا ” پرسوُں رات کو – شہر گیا تھا میں- کیسٹیں لینے- واپسی پہ دیر ہو گئ- کوئ نو دس بجے کا ٹَیم تھا- وہ سامنے میاں ماچھی کی ہٹّی کے پاس تھا تو اپنے گھر سے — اپنے بوُہے سے — ایک مہاتڑ کو نکلتے دیکھا — رب جانے کون تھا — قسم اٹھوا لے یار– میں نےخود دیکھا — اپنی ان دو آنکھوں سے — !!! ”

” تو نے عالیہ سے پوچھا کہ وہ بندہ کون تھا ؟؟”

” ایک بار –؟؟ اور یار ھزار بار پوچھا ہے- کون لعنتی تھا ؟ …. وہ کچھ بتاتی ہی نہیں …. میں نے دھمکایا تو بولی بھائ تھا … اب بتا …. یہ بھائ کہاں سے پیدا ہو گیا ؟ نکاح کے وقت تو کوئ بھائ نہیں تھا …. کہاں سے آیا یہ بھائ ؟؟ آسمان سے گرا یا چھپر پھاڑ کے ٹپکا ؟؟ اور یوں ملنے آ رہا ہے چوری چھُپے ؟؟ … راتوں رات چلا بھی گیا ؟؟”

میری بات سُن کر صادق چارپائ کھینچ کر بیٹھ گیا اور تکیہ گود میں رکھ کر کچھ سوچنے لگا- پھر کچھ دیر بعد بولا:

” زندگی برباد کر دی تو نے اس غریب کی … باپ اس کا دمّے کا مریض ہے … ماں لوگوں کے کپڑے دھو کر گزارا کرتی ہے …. ایک ہی دِھی تھی وِچاروں کی …. اس کے مونہہ پر بھی طلاق کی کالک مل دی تونے دوزخی”

میں نے کہا :

“اگر میں دوزخی ہوں تو مجھ سے بھی بڑی دوزخن عالیہ ہے …. جس کے یار اسے چوری چھپے ملنے آتے ہیں …. کس چیز کی کمّی تھی یار مجھ میں ؟؟ ”

صادق کچھ دیر خاموشی سے سر کھجاتا رہا پھر بولا:

” اس نے یہی کہا تھا کہ بھائ ہے ؟”

میں نے کہا:

” ہاں ہاں …. اس نے یہی کہا … تو جانتا ہے ناں … اس کا کوئ بھائ وائ نئیں ہے …. !!”

صادق کچھ دیر سوچتا رہا بولا:

” وہ ٹھیک کہتی تھی …. ہے اس نصیبوں جلی کا ایک بھائ وی … !!! ”

میں حیرت سے اٹھ کھڑا ہوا-

” کیا بول رہا ہے صادق- کون سا بھائ …؟ مطلب .. اگر بھائ ہے تو آج تک سامنے کیوں نہیں آیا …. ؟؟ کیا ڈاکے ڈالتا ہے بھائ ؟؟”

” نہیں …….. !!!”

” قاتل ہے … ؟؟ …. خونی ہے …. ؟؟”

“نہیں …… !!! ”

“پھر ؟؟ آج تک سامنے کیوں نہیں آیا …. ؟؟”

” وہ سامنے آنے کے قابل نہیں … چھپ چھپا کے ملتا ہے بہن سے … چھوٹا بھائ جو ہے اس کرماں سڑی کا … ”

” چھپ چھپا کر ملتا ہے ……. ؟؟ آخر کیوں ؟؟”

” وہ …… ہیجڑا ہے !!!!”

صادق نے گویا میری سماعت پر بم گرا دیا- میں کسی کٹّے ہوئے شہتیر کی طرح چارپائ پر آن گرا- پچھتاوے کے کالے سائے میری طرف بڑھنے لگے- صادق زمین سے گھاس کا ایک تنکا اٹھا کر اسے انگلیوں میں مسلنے لگا- میری نظریں اس کے سپاٹ چہرے پر گڑی تھیں- کچھ دیر ہمارے بیچ خاموشی حائل رہی پھر میں نےکہا:

” مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئ یار صادق ”

وہ تنکے پہ نظرجمائے بولا:

“ہاں چوّل تو تجھ سے بوہت وڈّی وجّی ہے ، پر قصور عالیہ کا وی ہے- جو بات پُورے پِنڈ کو ملُوم تھی ، آخر تُجھ سے چھپانے کا فیدہ ؟ ڈر گئ ہو گی شاید- کئ رشتے ٹوُٹے تھے ناں اس نمانڑیں کے- صرف اسی وجہ سے- کوئ نہ کوئ لوُطی لگا دیتا تھا کہ بھرا اس کا ہیجڑا ہے- ہیجڑوں کے گھر میں کون رشتہ کرتا ہے بھلا- پھر جب تو مجنوں بن کر آیا تو ماملہ کچھ اور ہو گیا- اس ڈر سے کہ کوئ لوُطی نہ لگا دے ، جھٹ منگنی پٹ ویاہ ہوا- پر افسوس یہ کشتی وی کنارے نہ لگ سکی- لکڑ کی ھانڈی تھی — کب تک چلتی- اب سلگتی ہی رہے گی پُوری حیاتی — چنگا وئ صلّو — اللہ بیلی — !!! ”

صادق سائیکل کھڑکاتا باھر نکل گیا اور میں پچھتاوے کے سمندر میں غوطے کھانے لگا-
کوئ سوا گھنٹہ تک میں منجے پہ یوں ہی چت لیٹا آسمان کو گھورتا رہا- سوُرج نکل آیا تھا- دھوپ کی تمازت محسوس ہوئ تو منجا گھسیٹ کر چھپری تلے چلا آیا- دماغ میں ہزارہا خدشات ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہو رہے تھے- گزشتہ دو دنوں میں پیش آنے والے واقعات کی کڑواہٹ رگ و پے میں سرایت کر چُکی تھی-

بالاخر میں اپنی تمام ہمت مجتع کر کے اٹھ بیٹھا- میری سوچ خیالات کے نئے زاویے بننے لگی- مقدر کی الجھی ہوئ گُتھی کو سلجھانے کی کوشش ترک کرنے کا جنون بیدار ہوا- سوچا جو ہو گیا سو ہو گیا- محبت ہوئ ، شادی ہوئ ، ناکام ہو گئ- اللہ اللہ- خیر صلّہ- اب کیسا عشق اور کہاں کا جنون- اِنا للہ و انا الیہ راجعون-

دِل کو سمجھایا کہ پچھتاوے کی اندھی غاروں میں سرپٹخنے کا اب کوئ فائدہ نہیں- اس غلطی کو لیکر بیٹھا مت جائے- خود کو سنبھالا جائے- یادِ ماضی پر بے فکری کی خاک ڈال کر نئ زندگی شروع کی جائے- جیون کی نئ منزلیں ، نئے راستے ، نئ راحتیں اور نئ خوُشیاں تلاش کی جائیں-

میں نے غُسل کیا- دھلا ہوا صاف لباس پہنا ، عطر چھڑکا اور دوکان پہ چلا آیا- تھڑے پہ پانی کا چھڑکاؤ کیا ، کاؤنٹر کو صاف کیا ، دکان میں پڑی خالی کیسٹوں کو ڈبیوں میں ڈال کے شیلفوں میں سجایا اور ٹیپ پر ” آؤ مدینے چلیں ، اسی مہینے چلیں ” کا پرسوز کلام لگا کر اطمینان سے کُرسی پر بیٹھ گیا-

سامنے کچّی سڑک پر لوگوں کی آمدورفت جاری تھی- سب کچھ معمول کے مطابق تھا- کسی کو کان و کان خبر نہ تھی کہ دکان پہ ہشاش بشاش بیٹھا صلّو اندر سے پاش پاش ہو چکا ہے- آشیانے کو خاکستر کر کے بیٹھا ہے- گھر کو قبر بنا کر بیٹھا ہے- لوگ گھروندوں کو دیکھتے ہیں ، گھر والے کس حال میں جی رہے ہیں وہ کیا جانیں-

سامنے سڑک سے نادر اور اس کی بیوی جٹّی گزرے- وہ دونوں کھیتوں سے آ رہے تھے- نادر کے ہاتھ میں درانتی تھی اور جٹّی کے سر پہ گھاس کی بھاری پنڈ – میں نے سوچا کتنا ظالم ہے یہ نادرا- بیوی کو گدھی سمجھتا ہے- اتنا کڑیل ہو کے خود بھار کیوں نہیں اٹھاتا ؟؟

پھر خود پہ نفرین کی کہ آج سے پہلے یہ سوچ میرے دماغ میں کیوں نہ آئ- روز شام کو جب دکان بڑھا کے گھر پہنچتا تھا تو چارپائ کمر پہ لادے صحن میں کون آ کے بچھاتا تھا- حاجی بشیر کے نلکے سے تازہ پانی کے گھڑے کون بھر کے لاتا تھا- سوکھی گیلی لکڑیوں کے دھویں میں جھلس کر گرم کھانا کون بناتا تھا آہ — عالیہ — آہ میں نے کیا کر دیا — !!!

ایک بار پھر پچھتاوہ تلخ زھر بن کر میرے وجود میں پھیلنے لگا- میں نے ٹیپ بند کی ، کاؤنٹر کو اندر دھکیلا اور دکان کو چٹخنی لگانے لگا- اتنے میں اقبال ارائیں دور سے بھاگتا ہوا نظر آیا- میں رُک گیا- اسے سانس چڑھی ہوئ تھی- لگتا تھا جیسے کوئ بڑی اہم خبر دینے آ رہا ہے- پاس آیا تو میں نے کہا ہاں اقبال خیریت ؟؟

کہنے لگا آج والدہ کا چالیسواں ہے- واگی اڈّہ سے مفتی شیر علی شاہ صاحب تشریف لا رہے ہیں- مقامِ والدین پر خطاب رکھا ہے- شام کو کیسٹ ریکارڈ کرنے پہنچ جانا-

میں نے کہا ضرور آؤنگا- لیکن پہلے میرے ایک سوال کا جواب دے- 6 ماہ پہلے تیری بیوی کا انتقال ہوا تھا- اس موقع پر تونے ” مقامِ بیوی” کا بیان کیوں نہ رکھوایا تھا ؟؟

وہ کچھ دیر مجھے حیرت سے گھورتا رہا پھر کہا استغفراللہ- دماغ تو ٹھیک ہے تیرا ؟؟ یہ کیسی بے حیاؤں والی بات کر رہا ہے ؟؟

میں نے کہا معاف کرنا یار – رات سے کچھ بخار والی طبیعت ہے- نیند بھی نہیں آئ- دماغ میں عجیب عجیب خیالات آ رہے ہیں- پتا نئیں کیوں محسوس ہوتا ہے کہ عورت ہی اللہ پاک کی سب سے خوبصورت تخلیق ہے- اور انسان کی سب سے قیمتی متاع حیات اس کی بیوی ہے-

اس نے غُصّے سے مجھے دیکھا اور کہا ایسی شوھدوں والی باتیں مردوں کو زیب نئیں دیتیں- ایک مؤمن کی یہ شان نہیں کہ عورت کو اپنی کمزوری بنا لے- ہر چِیز کا اپنا مقام ہے- تیری نویں نویں ہے اسی لئے لُدھڑ بنا پھرتا ہے- کوئ اور یہ بات کرتا تو چنڈ مار کے بوُتھا بھَن دیتا-

میں حسرت و یاس کی تصویر بنا اپنے کواٹر میں آ گیا- کاش اقبال چنڈیں مار مار کے واقعی میرا بوُتھا بھًن دیتا- مجھے مُڈھّی کی طرح بیلوں کے پیچھے باندھ کے کھیت میں گھسیٹتا- ترینگل چبھو چبھو کے مجھے چھلنی کر دیتا- میں اسی قابل تھا- اپنے ہاتھوں سے اپنا گھروندہ جلا کے اوروں کو گرہستی کی تعلیم دینے چلا تھا ؟؟

اس رات مجھے زور کا بخار ہوا- نہ کوئ سر دبانے والا تھا نہ پانی پلانے والا- گھر سلگتی ہوئ قبر بن کر رہ گیا- ایک ایسی قبر جس میں طلاق دینے والے ظالم مرد پر عذاب کے فرشتے مسلط ہوتے ہیں- کس کو آواز دیتا ؟ کون مدد کو آتا ؟ رات تڑپتے پھڑکتے گزر گئ-

صبح ہوتے ہی میں نے اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کر لیا- مجھے عالیہ کو بہرصورت واپس لانا تھا- ہر قیمت پر اپنا ٹوٹا ہوا گھروندہ پھر سے بسانا تھا- چاہے اس کےلئے جو بھی قربانی دینا پڑے- اذانِ فجر کے ساتھ ہی میں کلانچ بھر کے منجے سے اترا اور مولوی نزیر سے بھی پہلے مسیت پہنچ گیا-!!

تھوڑی دیر میں مولوی نزیر صاحب کی آمد ہوئ- مجھے وضو خانے میں بیٹھا دیکھ کر رُک گئے- کچھ بصارت کمزور تھی اور کچھ اندھیرا بھی قدرے زیادہ تھا-

میں نے کہا:

” کیا دیکھتے ہیں امام صاب — میں صلاح الدین ہوں — صلوّ — ”

وہ لوٹا اُٹھائے ، ہاتھ سے تہمد سمیٹتے قریب ہوئے اور بولے:

” اج خیر تو ہے — ؟؟ اذان سے بھی پہلے آ گیا تو –؟؟

میں نے کہا ایک مسئلہء شرعی درپیش ہے- سوچا اکیلے میں آپ سے بات کر لوُں — ؟؟”

” اتنی سویر سویر –؟؟ رب خیر کرے- کسی سے مناظرہ تو نئیں کھڑکا لیا توُ نے — ؟؟

میں نے کہا نہیں ، مناظرے تو علماء کو ہی زیب دیتے ہیں- بات یہ ہے کہ دو روز پہلے میرا اپنی ووہٹی عالی کے ساتھ جھگڑا ہوا — بات بڑھ گئ — اور — شدید غُصّے میں — میرے مونہہ سے لفظ طلاق — ”

” تیرا بیڑہ غرق — ” مولوی صاحب کے ہاتھ سے بھرا ہوا لوٹا چھوُٹ کے گرا اور وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئے- اس کے بعد انہوں نے تہمد سمیٹتے ہوئے لوٹا اٹھایا اور چل دئے- پھر مسیت کی کھُوہی کے پاس کھڑے ہو کر مجھے یوں گھورنے لگے گویا میں کوئ بدروح ہوں-
نماز کے بعد میں ٹوٹے قدموں سے گھر آیا تو ایک بار پھر تنہائ کاٹنے لگی- دِل کہتا تھا اُٹھ اور کچھ کر- اگر یونہی پڑا رہا تو کچھ حاصل نہ ہو گا- میں نے بستر چھوڑا ، بس پکڑی اور سسرال کے پِنڈ جا اترا-

اڈے پہ چند ایک دکانیں کھُلی تھیں- ان میں صادق کی دکان بھی تھی- وہ ایک سائیکل کا پہیہ گوڈوں میں دبائے ھینڈل کس رہا تھا- میں سلام کر کے لکڑی کے بنچ پہ بیٹھ گیا-

میرے سلام کا جواب دینے کی بجائے وہ اپنے کام میں مصروف رہا- میں کچھ دیر بیٹھا رہا پِھر اٹھ کر اس کے قریب آیا اور انتہائ مسکین صورت بنا کر کہا:

” چائے نئیں پلائے گا اُستاد –!!!”

مجھ سے نظر ملائے بغیر اس نے ادھر ادھر دیکھا- مونہہ ہی مونہہ میں کچھ بڑبڑایا- پھر کھوکھے والے کو آواز دی:

“اوئے ماجے- اِک کپ چاہ میں زھر ڈال کے لے آ- نحوست آئ ہے”

میں نے کہا دیکھ اُستاد … غلطی تو انسان سے ہو ہی جاتی ہے … بابے آدم سے بھی خطاء ہوئ تھی …. میں بھی آدم زاد ہوں- مانا … بہت بڑی خطاء ہوئ مجھ سے- ایک چھوٹی سی غلط فہمی نے میرا گھر اُجاڑ دیا- لیکن … اتنی نفرت تو ٹھیک نئیں ناں …”

وہ اوزار تگاری میں پھینکتے ہوئے بولا:

” ناں تو کیا اب تُجھے جپھی لگاؤں ؟ چُمیاں لوُں تیری ؟ … گلے میں ہار ڈال کے پوُرے پِنڈ میں پھراؤں ؟ کیا کروُں تیرا …. ؟؟”

میں کچھ دیر خاموش رہا پھر کہا:

” جو ہو گیا سو ہو گیا استاد … کوئ رستہ نکال یار … تو جانتا ہے ناں میں عالیہ سے بہت محبّت کرتا ہوں ، اس کے بغیر جی نئیں سکتا … صُلح صفائ کی کوئ صورت نکال استاد … !!! ”

اس پر وہ تنک کر بولا:

” بس کر … ٹوُپ ایک دفعہ پھٹ جائے تو اس میں پنچر نئیں لگتا ….. طلاق میں کون سی صلح صفائ ؟؟ دماگ ٹھیک ہے تیرا ؟؟ ”

میں نے کہا:

” دیکھ یار …. مُدعی معاف کردے تو قاتل بھی چھوٹ جاتا ہے … میں نے تو صرف طلاق دی ہے …. وہ بھی غلط فہمی میں …. عالیہ اگر معاف کر دے تو گھر بس سکتا ہے میرا … شرع متین میں ضرور اس کی کوئ گنجائش ہو گی”

وہ قمیض سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولا:

” یہ مولبی کے مسئلے ہیں ویر …. میں تو بس اتنا جانتا ہوں … کمانی اک وار ونگی ہو جائے تو بھلے لَاکھ ٹانکے لگا لو — سَیکل نئیں چلتی ”

میں نے کہا:

” میری زندگی کی کمانی ٹوٹ چکی ہے صادق …. خالی ھینڈل ہاتھ میں ہے … سمجھ نئیں آتی کیا کروں- توُ میرے ساتھ چل … ھم کسی وڈّے عالم فاضل سے ملتے ہیں- یار جب قاتل دیت دے کر چھوٹ جاتا ہے تو طلاق کی بھی تو کچھ دیت ہوگی ؟؟”

وہ کچھ دیر تک عجیب نظروں سے مجھے گھورتا رہا- پھر پیچ کس سے کمر کھجاتے ہوئے بولا:

” کیسٹیں تُو سنتا ہے عالموں کی اور مسئلے مجھ سے پوچھ رہا ہے- ”

میں نے کہا:

” یار کیسٹیں سننے سے کون عالم بنتا ہے- یہ تو پیٹ کا کاروبار ہے- مولبی پہلے تقریر سنا کے لوٹتا ہے پھر کیسٹ وَیچ کے- اسلامی ریکارڈنگ سینٹر فی سبیل اللہ تھوڑی چل رہے ہیں- عوام کو خیالے لگایا ہوا ہے- ممبر پہ طلاق کے مسئلے چھیڑ کے مولوی اپنے پاؤں پہ کلہاڑی کیوں مارے- ایسی کیسٹ سنے گا کون ؟ خریدے گا کون ؟ ”

وہ اُٹھ کر چارپائ پر میرے ساتھ آن بیٹھا اور بولا:

“اب توُ چاھتا کیا ہے ؟؟”

میں نے کہا:

” بس عالیہ واپس آ جائے ….. کسی طرح بھی !!! ”

وہ مجھے گھورتے ہوئے بولا:

” مقدر میں ذلالت لکھی ہو ناں تو بندہ گھر بیٹھے بیٹھے وی ذلیل ہو جاتا ہے- عالیہ کوئ روُٹھ کے پیکے نئیں آئ کہ منا کر تیرے ساتھ ٹور دیں ”

میں کچھ دیر تک اپنے ہاتھوں کی لکیریں دیکھتا رہا پِھر کہا:

“ویکھ صادق !! تین گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہوا تھا … پکّی شاہی سے فارم بھرے تھے … انگوٹھے لگے تھے … چھوارے بٹے تھے …. ڈھول بجا تھا …. ویل ودھائ ہوئ تھی …”

“فیر ؟؟؟ ”

” فیر یہ کہ نکاح کےلئے تو اتنی وڈّی چوڑی کاروائ …. اور طلاق کےلئے ؟؟ بس تِن لفظ ؟؟ جن کا نہ کوئ گواہ ہے نہ وکیل ؟؟ اتنی نازک ہوتی ہے یہ شادی — ؟؟ ”

وہ بولا:

” ناں تو … تیرا کیا خیال ہے پٹاخے وجنے چاھئیں طلاق پہ … ؟؟ ڈھول کھڑکانا چاھئے ؟؟ ہوکا دینا چاھئے پورے پِنڈ میں کہ جوان نے طلاق دے دی ہے ؟؟ او وِیر …. یہ پُٹھے سِدھّے سوال کسی مُولبی سے جا کے کر …. وہ تیرا دماگ ٹھکانے لگائے گا- مجھے کام کرنے دے ”

میں نے کہا:

” بات کی تھی میں نے مولوی نزیر سے- استغفار پڑھتا ہوا یوں بھاگا جیسے کوڑھی ہو گیا ہوں میں- ایک توُ ہی سجن تھا ، تو بھی ساتھ چھوڑ گیا- کل میری لاش کسی کھوُہ سے ملے تو سمجھ لینا …. سر سے بوجھ اتر گیا … صلّو کا … !!! ”

” اچھا ٹھیک- کل سویرے سویرے میں آ جاؤں گا- نماج کے بعد جب لوگ چلے جائیں گے تو مولوی نزیر سے پوچھ لیں گے مسئلہ … کرا دیں گے تیری تسلّی … اب میرے سر سے اتر … مجھے سڑک پہ کیل بھی لگانے ہیں … سیکلیں پنچر نئیں ہوں گی تو کھائیں گے کہاں سے … !!!
اگلے روز اذانوں کے وقت صادق میرے کوارٹر میں آن دھمکا- نماز فجر کے بعد ھم مولوی نزیر سے ملے- مسجد خالی ہو چکی تھی- سورج کی کرنیں کھڑکیوں سے چھن چھن کر صفوں پر پڑ رہی تھیں- باہر پیپل پہ غُل مچاتے پرندوں کا شور اندر تک آ رہا تھا- ننھے منے بچے قاعدے سپارے گود میں دھرے سبق دھرا رہے تھے- اس حسین منظر کا طلسم مولوی نزیر نے توڑا:

” طلاق کا لفظ کتنی وار ادا ہویا؟؟ ”

میں کچھ دیر برابر سرجھکائے بیٹھا رہا پِھر دماغ پہ زور دیتے ہوئے کہا:

” ٹھیک طرع یاد نئیں پر — شاید آٹھ دس دفعہ — !!!”

وہ زیرِلب کچھ بڑبڑائے پھر کہا:

” لاحول ولا قُوّة — تم لوگوں نے طلاق کو آخر سمجھ کیا رکھا ہے ؟بچوں کا کھیل ؟؟ اتنّی وی ہوش نئیں کہ ایک محفل میں ایک سے زیادہ طلاق نئیں دی جاتی ؟؟ ”

میں نے فوراً کہا :

” میں نے محفل میں طلاق نئیں دی- میرے اور عالیہ کے سوا وہاں کوئ نہ تھا — ”

وہ سر پیٹ کر بولے:

” ایک نمبر چرخے ہو یار- محفل کا مطبل ہے موقع- گھڑی- وقت- او یار چنگے بھلے دیندار بندے ہو تُم ، سارا دن عالموں فاضلوں کی کیسٹیں سنتے ہو ، طلاق کا مسئلہ بھی نئیں معلوم ؟

میں نے کہا میرے اسلامی کیسٹ ہاؤس پہ ایک بھی کیسٹ طلاق کی نہیں ہے- میرے پاس تو میلاد کی کیسٹیں ہیں ، نعتیں ہیں ، مرثیے ہیں مناظرے ہیں، ایصالِ ثواب ، رفع یدین ، نور بشر …… !!”

وہ تاؤ کھا کر بولے:

” بس بس — اب تو ُیہاں کیسٹیں نہ بیچ- بندے کو پتہ نہ ہو تو کسی سے پوُچھ ہی لیتا ہے ، پاکی پلیتی ، حلال حرام ، ثواب گناہ کا علم ہر کلمہ گو کو ہونا چاھئے-

صادق نے کہا:

” دیکھئے امام صاحب — بندہ بہت پریشان ہے- میں نے وی سمجھایا پر سمجھ نئیں رہا- دو دنوں سے بُخار میں تپ رہا ہے- نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے- جو کچھ ھدیہ فدیہ بنتا ہے ، ہم دینے کو تیار ہیں – مسئلے کا حل نکالیں ! ”

اس پر وہ کچھ دیر جُز بز ہوئے پھر داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے :

” طلاق تو واقع ہو چُکی- ہاں تین طلاق اکٹّھی دینے پہ جو گناہ ہوا اس پہ استغفار پڑھے یہ بندہ – معافی منگے رب سے- وہ غفور الرحیم ہے!! ”

میں نے عرض کی :

” کیا رب میرا گناہ معاف کر دے گا ”

وہ کسی قدر نرم ہوئے اور کہا

” کیوں نہیں- خُدا معافی کو پسند کرتا ہے- حدیث میں آیا ہے کہ ایک بندے نے 99 قتل کئے- پھر ایک عالم سے جا کر پوچھا کہ کیا رب مجھے معاف کر دیگا- اس نے کہا کبھی نہیں- اس پر اس شخص نے عالم کو بھی قتل کر دیا- پھر وہ کسی دوسرے عالم کی تلاش میں نکلا- رستے میں اسے موت آ گئ- اب جنت اور جہنم کے فرشتے اس کی بابت جھگڑنے لگے- اس پر رب تعالی نے دونوں اطراف کا فاصلہ کچھوایا- جس طرف وہ سفر کر رہا تھا اس طرف فاصلہ گَھٹ نکلا- رب تعالی کی رحمت جوش میں آئ اور زمین کھینچ کے اس طرف کے فاصلے کو کم کر دیا جدھر وہ معافی مانگنے جا رہا تھا- اس کی رحمت تو بہانے ڈھونڈتی ہے ”

میں نے موقع پا کر کہا:

” رب تعالی سے معافی مانگ کے عالیہ کو لے آؤں؟؟”

” عالیہ کون ؟؟” وہ آنکھیں پھاڑ کر بولے-

” بب … بیوی میری”

وہ تڑپ کر بولے:

“شرم کر …. حیا کر …. حرام ہو چُکی وہ تیرے واسطے — !!!”

صادق نے لُقمہ دیا “اس کھڑپینچ کو میں نے وی بوہت سمجھایا کہ پہیّے سے نکلی ہوئ پھُوک اور مونہہ سے نکلی طلاق واپس نئیں آ سکتی- یہ شٍدائ کہتا ہے جب رب سو قتل معاف کر سکتا ہے تو طلاق کیوں نئیں ماف ہو سکتی ؟؟ ”

مولوی صاب بولے:

” دیکھ- قتل بھلے معاف ہو جائے لیکن قتل ہونے والا بندہ تو واپس نئیں آ سکتا ناں –؟؟ مَر جو گیا –!!!
اسی طراں عالیہ وی قتل ہو گئ — مر گئ تیرے واسطے- غیر محرم ہو چکی- ہاں ایک رستہ ہے لیکن — ”

” کون سا — ؟؟ ” صادق اور میں دونوں بول پڑے-

” حلالہ — !!! ”

کچھ دیر ہمارے بیچ خاموشی رہی پھر صادق نے کہا :
” مطبل …. کوئ ڈنگر شنگر حلال کرنا پڑے گا ؟؟ ….صدقے شدقے کےلئے ؟؟

” خُدا کا واسطہ … ” مولوی نزیر نے ٹوکا- “حلالہ کا مطلب ڈنگر حلال کرنا کس لعنتی نے بتایا تمہیں — ؟؟ حلالہ یہ ہے کہ جس عورت کو طلاق ہوئ وہ کسی اور مرد سے نکاح کرے- دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں- پھر وہ مرد یا تو اس عورت کو طلاق دے- یا فوت ہو جائے- اس صورت میں وہ عورت پرانے شوھر کے پاس واپس آ سکتی ہے”

“کمال کی بات ہے ” صادق پھٹ پڑا-
” مطبل …. پہلے اُس کُڑی کو کسی مہاتڑ کے ساتھ ویاہو … پھر اس بُرچھے کے مرنے کی دُعا کرو … اب ہر کوئ صلّو تو نئیں ناں کہ اتنا جلدی طلاق دے دے … اشکے وئ … قصور کس کا اور بھگتے کون ؟؟ اُس مردود کو پتھّر مارنے کا کہیں ذکر نئیں جس نے طلاق دے کر ایک معصوم کو ذلیل کیا … ؟؟ مطبل یہ کہ … !!! ”

مولوی صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا:

” او وِیر … میں مولوی ہوں کوئ دکاندار نئیں کہ تمہاری مرضی کا مال دوں …. ماتم کرنے سے مردہ زندہ نئیں ہو جاتا …. آخری حل یہ ہے کہ یہ مردود دوُجا ویاہ کر کے گھر وسا لے … اللہ اللہ خیر صلہ … چَلو اُٹھو اب … موسم خراب ہو رہا ہے … میں نے مسیت وی بند کرنی ہے– !!”

صادق اور میں بھی اُٹھ کھڑے ہوئے-

مُلاں پور کا موسم واقعی خراب ہو رہا تھا- آسمان پہ سیاہ رنگ کے بادل چھا چکے تھے- تیز ہوا کے جھکڑ آنے والے طوفان کی خبر دے رہے تھے- صادق سائیکل کھینچتا ہوا پکّی سڑک کی جانب چلا- میں بھی ساتھ ہو لیا- ہم خاموشی سے چلتے ہوئے بادلوں کی گڑگڑاھٹ سنتے رہے-

بخشوُ والے پُل پہ اسے رخصت کرتے ہوئے میں نے بڑی اداسی سے کہا:

” کتنا اچھا موسم تھا صادق- مولوی نے خراب کر دیا- مشورہ ویکھ کیڈا سوہناں دیا- حلالہ کرا لوؤ جی .. !! ”

وہ بولا:

” مولوی کا کیا قصور؟ اس نے وہی کچھ بتانا ہے جو کتاب میں لکھا ہے- ویکھ میاں بیوی سیکل کے دو پہیے ہوتے ہیں- بھلے چوں چاں کرتے رہیں چلنا ساتھ ہی ہے- جب تک ساتھ چلتے ہیں سیکل کی شان بنی رہتی ہے- جب الگ ہوتے ہیں تو کباڑئے کا رزق کھُلتا ہے- فیر کوئ پہیہ کسی پتھارے کو جا لگتا ہے کوئ کسی ٹھیلے کے نیچے رُلتا ہے- عُمر بھر کےلئے-
رات بھر تیز بارش ہوئ-
خُدا بھلا کرے یار محمد کمبوہ کا جو مکئ کی نصف روٹی اور چھٹانک بھر ساگ دے گیا- دروازے پہ قندوری اور چھابہ پکڑاتے ہوئے اس نے جِھِیت سے اندر جھانکتے ہوئے پوچھا ” بھرجائ کدھر ہے ؟ ”

رات گزارنے کےلئے یار محمد کی یہ ضیافت اور ایک جُملہ کافی تھا- گاؤں کے لوگ روحانی طور پہ ایک دوُسرے سے جُڑے ہوتے ہیں- موت اور طلاق کی خبر پہ ٹڈّی دل کی طرح گرتے ہیں- سو اس خبر کو اب زیادہ دیر چھپائے رکھنا مشکل تھا-

میری آنکھیں بخار سے جلنے لگیں- گھر میں جو چادر ، لحاف ، کھیس میّسر ہوا ، اوڑھ لیا- عجب چسکے والی بیماری ہے یہ بخار بھی- عقل بندے کا ساتھ چھوڑ کے بخار کی غلام ہو جاتی ہے- بندہ جاگ رہا یا سو رہا ہے ، کچھ پتا نئیں چلتا- خواب اور یاد ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کے سیر سپاٹےکو نکل جاتے ہیں- عالیہ خوابوں اور یادوں سے نکل کر میرے سرھانے آن بیٹھی- کبھی ماتھے پہ اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کا لمس ، کبھی بالوں میں پھرتی ملائم انگلیاں ، کبھی قہوے پلا رہی ہے تو کبھی کھچڑی کھلا رہی ہے- آنکھ کھلتی تو وہی سنسان تاریک گھر ، تنہائ اور پٹاخے مارتا ہوا بادل-

موسم کی خرابی نے زندگی مزید ابتر کر دی- پہلے ہی دُکھ کیا کم تھے کہ بخار بھی جان کو آ گیا- صحن میں پڑی لکڑیاں نہا دھو کے بال نچوڑ رہی تھیں- بجلی گھنٹوں سے غائب تھی- قہوے کی طلب نے ستایا تو کھیس کمبل اتار کے دور پھینکے- سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے سات تیلیاں ماچس کی جلائیں تو لالٹین جلی-

گھر میں نام کا باورچی خانہ تھا- ایک چھوٹی سی دو طرفہ دیوار ، اوپر بانس اور سرکنڈے کا چھپّر – ہم اسے چولھانہ کہتے تھے-

لنگری ، ملناں ، ہانڈی ، مرتبان ، کاشک ، لوُن چی ، توّا ، پرات ، چھکیر ، گڑوی ، کٹوی ، صحنک ، دھوٌکنی سب ترتیب سے رکھّے تھے- یہی عالیہ کی کُل کائنات تھی- ہر چیز کے ساتھ عالیہ کی بے شُمار یادیں جُڑی تھیں- ہائے ہائے کا وِرد کرتا میں پیڑھے پہ ڈھیر
ہو گیا-

ابھی چار دن پہلے مجھے اس چولھانے سے کوئ سروکار نہ تھا- لکڑیاں کون کاٹتا ہے ، تندور کون سیکتا ہے ، چھِٹیاں کہاں پڑی ہیں ، کون سا بھانڈا کدھر ہے کچھ پرواہ نہ تھی- عالیہ کا کام پکانا تھا اور میرا منجے پہ بیٹھ کے کھانا- آج میری حالت اس سپاہی کی سی تھی جو میدان جنگ میں ہتھیاروں کے ڈھیر کے سامنے کھڑا ہو مگر لڑنے سے قاصر ہو-

چائے کا خالی ڈبّہ ، تھوڑی سی روئ ، ایک آدھ شاپر اور دو کپاس کی سوُکھی چھِٹّیاں کام آئیں اور چُولھے کا شُعلہ بھڑکا- خُدا خُدا کر کے قہوہ تیّار ہوا- ابھی پیالی میں انڈیل ہی رہا تھا کہ دروازہ زور سے بجا- دل تیزی سے دھڑکا- اس وقت کون آگیا ؟ کہیں صادق تو نہیں ؟ مولوی صاحب نہ ہوں کیا معلوم کوئ نیا رستہ ڈھونڈ لائے ہوں- انہونی ہوتے کون سی دیر لگتی ہے- قسمت بدلنے کو ایک دستک ہی کافی ہے-

ہزاروں خدشات اور موہوم امیدیں لئے بتّی اٹھائے دروازے پہ گیا- آنے والے کا چہرہ لالٹین کی روشنی میں بھی بجھا ہوا محسوس ہوا- یہ غوث محمد تھا- سردی سے کپکپاتے ہوئے کھانس کر بولا صلّو ایک ضروری اعلان کرانا ہے-

مسجد کے کوارٹر میں رہنے کا یہی ایک نقصان تھا کہ گاؤں والے خادم مسجد سمجھتے تھے- کسی کی بکری گُم ہو جاتی ، سرکاری کھال کی کھٹّائ ہوتی ، داج کی نمائش ہوتی ، یا کوئ فوت ہو جاتا ، اعلان مجھے ہی کرنا پڑتا تھا- یہ خدمت میں مبلغ دو روپے فی اعلان ، پوری تندہی سے انجام دیتا چلا آ رہا تھا-

” غوث محمد ماشکی— اس کی بیوی — رضائے الہی سے فوت ہو گئ ہے— جنازے کا اعلان بعد میں کیا جائے گا”

مسیت کا اسپیکر بند کر کے باھر نکلا تو رگ رگ سے پسینہ پھُوٹ پڑا- یوں لگ رہا تھا جیسے بخار اتر گیا ہو- دل میں ایک عجب سی امنگ جاگ اُٹھی-ہاں میری بیوی تو زندہ ہے … ہاں زندہ ہے … میں شدائیوں کی طرح بڑبڑانے لگا … میری بیوی فوت نہیں ہوئ … عالیہ تو زندہ ہے … !!!

مسجد کی چٹخنی لگا کر میں گھر کی طرف بھاگا- بابا دینہ لاٹھی ٹیکتا ہوا آ رہا تھا- اس سے ٹکرایا- ” پُت کون فوت ہوا ہے ؟؟ ” وہ میرا چہرہ ٹٹولتے ہوئے بولا- میں جان چھڑا کے بھاگا اور پکارتا چلا گیا …. غوث ماچھی کی بیوی … ستّر سے اوپر تھی …. گینٹھیا کی مریض .. اب قبر میں آرام کرے گی … میری بیوی زندہ ہے … جھوُٹ بولتا ہے مولوی … وہ مری نہیں- بھلا تین بولوں سے کون مرتا ہے ؟ نہ اعلان ہوا نہ جنازہ- بس ان تین حرفوں کی قیمت چکانی ہے مجھے- وہ واپس آ جائے گی”

بارش تھم چُکی تھی- صبح کاذب نمودار ہو رہی تھی- نماز کے بعد میں نے اڈے سے گزرنے والی پہلی بس پکڑی اور سورج نکلتے ہی پِنڈ دھوبیاں جا اُترا- اڈے پہ ہوُ کا عالم تھا- ماجے کے سوا کوئ ذی روح نہ تھی- وہ گیلی لکڑیوں میں پھونکیں مار مار کے چائے کےلئے دودھ گرم کر رہا تھا- میں سلام کر کے ہوٹل کے سامنے پھٹّے پہ جا بیٹھا-

شیشے کے گلاس میں بھاپ چھوڑتی چائے پکڑاتے ہوئے اس نے کہا ” آج خیر ہے ؟؟ سویرے سویرے ہی سوہرے پِنڈ آن پُہنچے ہو”
مجھے اس کے الفاظ نے خوشی اور غم دونوں سے لبریز کر دیا- سوہرا پِنڈ- واہ واہ … ہائے رے قسمت- ایک آنکھ خوشی سےہنس رہی ہے اور دوسری مقدر کے لکھے پہ رو رہی ہے-

” گلاب بی بی فوت ہو گئ ہے چاچا- غوث ماچھی کی بیوی- اس کے پیکے پِنڈ آیا ہوں …اعلان کرانے … !!! ”
” ہک ہا … ” ماجے نے تاسف سے کہا- ” وِچاری … دن پورے کر گئ … اوکھے سوکھے … مولا پاک قبر میں سوَکھا رکھّے … غوثے کا کیا ہے … وہ پہلے وی اڈّے پہ تاش کھیلتا تھا اب وی کھیلا کرے گا ”

دھوبیاں کی مسجد میں فوتگی اعلان کرا کے باھر نکلا ہی تھا کہ صادق آتا دکھائ دیا- وہ سائیکل کے پیڈل مارتا مسیت کی طرف ہی آ رہا تھا- اس نے میرے پاؤں کے پاس آ کر بریک ماری ، سائیکل کی گھنٹی بجائ اور آنکھ مارتے ہوئے بولا ” مبارک ہو شِدائیا – تیرے واسطے اک اچھی خبر ہے”

میں نے خوشی چھپاتے ہوئے کہا :

” سچ .. ابھی نہ سنانا استاد … مولبی نے سُن لیا تو غش کھا کے گر جائے گا- چل اڈّے پہ چلتے ہیں- کل رات سے ہی دل پرامید ہوا بیٹھا ہے- ہمّت بڑھنے لگی ہے- لگتا ہے مقدر کا ستارہ دکھ کے بادل سے باہر نکل آیا ہے ”

اڈّے پہ پہنچ کے جیس ہی صادق نے بریک لگائ- میں چھلانگ لگا کے کیریئر سے اترا اور سیکل کا ہینڈل پکڑ لیا-
” ہاں اب بتا …کیا خوش خبری ہے ؟ ”

وہ سائیکل سے اترتے ہوئے بولا:
“چھُرّی تلے دم لے .. اڈّہ ہے … دُکانوں کے وی کان ہوتے ہیں … کسی نے سن لیا تو پورے پنڈ میں دھمال پڑ جائے گی …. ”

سائیکل کو اسٹینڈ پہ کھڑا کر کے اس نے تالہ لگایا- پھر میرا ہاتھ پکڑے ماجا ہوٹل کے پچھواڑے میں لے گیا- یہاں بوہڑ کا ایک گھنّا درخت تھا جس کے نیچے کچّا تھڑا بنا ہوا تھا- آس پاس خودرو جھاڑیوں کا پردہ تھا- شام کو گاؤں کے اوباش لوگ یہاں منگ پتّہ کھیلا کرتے تھے-

ہم پھوہڑ کی صف پہ آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئے- صادق نے کہا:

“دیکھ صلّوُ – کل شام میں چاچے لطیف کے ہاں گیا تھا- بڑے ہی خراب حالات ہیں- وچارہ پہلے ہی بیمار تھا ، اب اکلوتی دِھی وی طلاق لے کر بوہے پہ بیٹھ گئ ہے- تیری ساس وی منجے پہ لگی ہے- بس یوں سمجھ کہ دونوں کی موت کا اعلان تُو اسی ہفتے سنے گا- بچے گی عالیہ وی نئیں- اس سے پہلے کہ پوُرا ٹبّر مر جائے ، کچھ کر-”

” یہ خوش خبری ہے ؟؟ ”

” اگلی بات وی سن موُرکھا …” اس نے ٹہوکا دیا- ” ٹوبہ چلتے ہیں .. وہاں ایک مولبی کا پتا چلا ہے … بڑا ای پھنّے خان ہے …چَٹ نکاح پَٹ طلاق … پکّا اشٹام بنا کے دے گا حلالے کا … تیرا کم وی بن جائے گا ، سوہرا گھر وی بچ جائے گا ، مولبی نزیر کا کُلنج وی دُور ہو جائے گا ”

میں کچھ دیر سر سوچتا رہا پھر کہا:

” لیکن … یہ تو دو نمبری ہے صادق … مولوی نزیر نے تو کہا تھا کہ … کُڑی کا ویاہ کرانا ضروری ہے … پھر اس کا بندہ آئ موت مرے یا اپنی مرضی سے طلاق دے … کُڑی تب حلال ہو گی ؟؟ ”

وہ بولا :

” کُڑی کو ہی حلال کرنا ہے تو سیدھی چھُری کیوں نہ پھیر دیں … قنون انسانوں کےلئے بنتا ہے ، انسان قنون کےلئے نئیں … اس ملک کے قنوُن پہ چلیں ناں .. تو بندے کو اپنے جَمّن کا ثبوت دینے کےلئے وی ستّر چاھئیں … یاد ہے وہ ماسٹر عزیز والا کیس ؟؟

” ماسٹر عزیز ؟؟ … وہی جو معزور ہو گئے تھے ؟”

” ہاں وُہی … ان سے میں پنج جماعت پڑھا ہوں … بعد میں معزور ہو گئے … بڈھی ماں اور لاچار پُتّر پینش پہ زندہ تھے … ان کی ہنشن سرکار نے روک لی … ہم انہیں اٹھا کے بینک لے کے گئے کہ عالی جاہ … بندہ معزور ہو گیا ہے … دستخط کے قابل نئیں رہا … انگوٹھا لگانے کی وی سکت نئیں … لیکن ہے تو ریٹائرڈ اسکول ماسٹر ناں … اس کی پینشن بحال کر دو … پتا ہے بینک مینیجر نے کیا کہا ؟؟

کہنے لگا جب تک ماسٹر اپنی مرضی سے خود انگوٹھا نئیں لگائے گا پینشن نئیں مل سکتی-

پھر ہم ماسٹر کی بُڈّھی اماں کو بینک لیکر گئے کہ ان کا انگوٹھا لگا لو- مینیجر بولا پہلے اماں کو اس کا گارڈین بنا کے لاؤ- ہم کچہری گئے تو وکیل نے کہا اماں گارڈین نئیں بن سکتی ، باپ کو لے کے آؤ – ہم نے کہا مائ باپ ، باپ تو اس غریب کا بیس برس پہلے فوت ہو چکا ؟ وہ بولا پھر اس کی فوتگی کی سند بنوا کے لاؤ-

ہم یونین کونسل گئے- انہوں نے کہا پہلے اماں کا شناختی کارڈ بنوا کے لاؤ- ہم نادرا گئٰے- انہوں نے پھر وہی بات کی کہ پہلے اماں کے شوھر کی فوتگی کی سند بنوا کے لاؤ- تیرا کیا خیال ہے … خالی اعلان کرنے سے بندہ فوت ہو جاتا ہے ؟؟ فوتگی کی سند بنوانا پڑتی ہے-

دو ہزار دئے تھے ہم نے یونین کونسل میں- تب جا کے ماسٹر کا ابّا فوت ہوا ،قنونی طور پر- اب آگے سُن- اماں کا شناختی کارڈ بنا- عدالت میں کیس گیا- دو سال تک ماسٹر کو ہاتھوں میں اٹھا اٹھا کر جج کے سامنے پیش کرتے رہے- کہ مائ باپ معزور ہے- اماں کے نام پینشن بنا دو- 28 پیشیاں بھگتیں- دو سال بعد جج نے فیصلہ دیا کہ کیس ناقابل سماعت ہے- تم لوگ ایویں ہی ذلیل ہوتے رہے-

گھوم پھر کر دوبارہ بینک مینجر کے پاس گئے- وہ تو شکر رب کا کہ اس قنونی بینک مینیجر کا تبادلہ ہوا … جان پہچان والا بندہ آیا … اس نے دوسرے بینک میں ماسٹر کا اکاؤنٹ کھلوایا- پینشن شفٹ ہوئ- تب جا کے ملا اس غریب کو اپنا حق- میری جان جس قنون کو مولویوں کی زبان میں حلالہ کہتے ہیں ناں ، وہ اسی گدڑ گھول کا نام ہے- قنون پہ چلنا ہے تو عالیہ کی امید چھوڑ دے”

میں نے بغور اس کی بات سنی اور کہا ” مطلب …. عالیہ کو اس پھنّے خان مولبی کے حوالے کرنا ہی پڑے گا ؟؟ ”

” او یار نئیں … اتنی دیر سے ہِیر پڑھ رہا ہوں ، پوچھتا ہے کہ ہیر کُڑی تھی یا مُنڈا- او وِیر … شارٹ کٹ پکڑ … صرف کاغذی کاروائ ہے بس … نکاح نامہ بنے گا … مولوی اور گواہوں کے انگوٹھے لگیں گے … پکّے اشٹام پہ طلاق ہو جائے گی … اللہ اللہ خیر صلّہ … فیر کوئ مائ کا لال تجھے ہاتھ نئیں ڈال سکے گا … مولوی نزیر وی نئیں ..!! ”

” خرچہ ….. کتنا آئے گا … ؟؟ ”

” توُ اس کی فکر نہ کر- تین سو میں سب کام ہو جائے گا- میں نے سیکل ویچ دی ہے فیکے جٹ کو- پچاس روپے دکان میں پڑے ہیں- کرایہ خرچہ سب نکل آئے گا- ہم آج ہی ٹوبہ جائیں گے- تو حکیم صاب کی دکان پہ چل کے بیٹھ – بڑی گپ شپ والے بندے ہیں … میں فیکے کو سیکل پھڑا کے ابھی آیا-”

صادق مجھے تھپکی دے کر ہوا ہو گیا- میں کچھ دیر تھڑے پہ بیٹھا رہا پھر لاغروں کی طرح چلتا ہوا حکیم اللہ دتّہ کی دکان پہ چلا آیا-

حکیم صاحب بزرگ آدمی تھے- چِٹّی سُفید داڑھی اور مونچھ جڑ سے کتری ہوئ- نورانی چہرہ- میں سلام کر کے سامنے بنچ پہ بیٹھ گیا- وہ کچھ دیر مجھے پہچاننے کی کوشش کرتے رہے پھر بڑی شفقت سے پوچھا کس پِنڈ سے آئے ہو اور کون ہو ؟
میں نے مری ہوئ آواز میں کہا:
“صلاح الدین نام ہے- پیدائشی یتیم ہوں- ملاں پور میں رہتا ہوں- کیسٹیں بیچتا ہوں- لطیف دھوبی کا جواترا ہوں”

وہ مجھے بغور دیکھتے ہوئے بولے:
” کوئ پریشانی ہے ؟ تمہاری آواز میں دکھ اور پچھتاوا کیوں چھلک رہا ہے”

میں نے کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن گلہ رندھ گیا- وہ کرسی سے اٹھے اور میرے قریب آن بیٹھے- پھر بڑی شفقت سے میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولے:

” کوئ مرض ایسا نہیں جس کی شفاء نہ ہو- کوئ جادو ایسا نہیں جس کا توڑ نہ ہو- کوئ درد ایسا نہیں جس کی دوا نہ ہو- سچ سچ بتا-مسئلہ کیا ہے ؟ کیا دُکھ ہے تجھے ؟؟”

میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے- پہلی بار کوئ درد آشناء ملا تھا- آنکھیں رواں ہوئیں تو زبان بھی چل پڑی- میں نے پیدائش سے لیکر اس دن ، اس گھڑی تک کے تمام حالات و واقعات حکیم صاحب کے گوش گزار کر دیے-

ان کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں-جب قصّہ تمام ہوا تو وہ میری کمر پہ ہاتھ رکھ کے بولے صلاح الدین- گھبرا نئیں پُتّر- تیرا دُکھ میں سمجھ گیا ہوں- تو خواہ مخواہ عطائ حکیموں کے پاس بھٹک رہا ہے- سالے ایک مسئلہ حل کرتے ہیں ، دس چموڑ دیتے ہیں- بخار جب رگوں میں بیٹھ جائے تو دیسی نسخے کام نہیں کرتے- تجھے ٹوبہ جانے کی کوئ ضرورت نہیں-اب غور سے میری بات سن … !!!

کوئ گھنٹے بعد صادق لوٹا تو میں ہشاش بشاش ہو چکا تھا- حکیم صاحب کو سلام کر کے اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور دکان سے باہر لے گیا- سڑک پہ تانگہ بالکل تیّار کھڑا تھا- صادق جست لگا کے اگلی سیٹ پہ بیٹھا پھر مجھ سے کہا:

” دیکھتا کیا ہے ؟ بیٹھ ناں- موٹی ککّر تک جائیں گے- وہاں سے ٹوبہ کی بس پھڑ لیں گے … ”

میں نے کہا :

” توُ نیچے اُتر ….. جا طِیفے سے اپنی سائیکل واپس لے کے آ … نہیں جانا مجھے ٹوبہ ٹیک سِنگھ- ھم گدڑ پنڈی جائیں گے- اپنی سائیکل پہ- وہاں اک حکیم ہے جو مُفت کی دوا دیتا ہے”
جاری ہے …
صادق کچھ دیر خاموشی سے مجھے گھورتا رہا ، پھر تانگے سے نیچے اتر آیا- میری کمر پہ پہ اپنا بھاری ہاتھ جماتے اس نے کہا:
” اِک بات میری پلّے باندھ لے وِیر … اگر کام نا بنا ناں … فیر پوُری حیاتی متھے نئیں لگنا میرے … !!! ”

میں نے کہا :

” بے فکر رہ اُستاد- جب انسان کسی چیز کی نیّت باندھ لیتا ہے ، رب سائیں خود اس کے رستے سیدھے کرتا ہے ”

” لیکن گدڑ پنڈی میں ہے کون ؟؟ کون سا مولبی تاڑ لیا تو نے جو مفتو مفتی حلالے کرتا پھرتا ہے ؟ … ”

میں نے کہا:

” گدڑ پنڈی میں کوئ مولوی نہیں استاد …. مستاں والی سرکار کا دربار ہے … پچھلے دو دنوں سے وہ میرے خواب میں آ رہے تھے … اسی لئے میں نے صبح مسیت کے سامنے تجھے کہا کہ دل بڑا پرامید ہے … مقدر کا ستارہ دُکھ کے بادل سے نکل رہا ہے … ابھی جب میں حکیم صاب کے پاس بیٹھا تھا تو آنکھ لگ گئ … ایک بار پھر مستاں والی سرکار کی زیارت ہوئ … کہنے لگے ٹوبہ مت جا … تیری مُراد وہاں پوری نئیں ہو گی …. گدڑ پِنڈی سے آگے جا ، کوٹاں والے اڈّے پہ .. !! ”

صادق کچھ دیر مجھے بے یقینی سے دیکھتا رہا پھر بولا:

” کوٹاں والا اڈّہ …؟؟ وہابی سے حلالہ کرائے گا توُ . …؟؟

میں نے معصومیت سے کہا:

” مستاں والی سرکار کا یہی حُکم ہے اُستاد …. اللہ کے ولیوں کے اپنے اسرار ہوتے ہیں … ان کی بات نہ مانیں تو بندے کا موُل مِٹ جاتا ہے … ”

تیر نشانے پہ لگا اور صادق خاموشی سے میرے ساتھ چل پڑا- ھم دونوں فیکے جٹ کے ڈیرے پہ گئے- منت سماجت سے سائیکل واپس کروائ- صادق نے بسم اللہ پڑھ کے کاٹھی سنبھالی اور میں ٹانگیں لٹکائے کیرئیر پہ ہچکولے کھانے لگا-

“جامن والے کھوہ” پر اچانک سیکل کی چین اتر گئ- اگلا پہیہ کھڈّے میں گیا اور ھم دونوں ایک دوسرے کے اوپر گرے- سائیکل ہمارے اوپر تھی- اڈّے پر بیٹھے لوگوں کا ہاسا نکل گیا-

صادق کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھا اور بولا :

” اس کھسماں کھانڑی سیکل کو کیا ہو گیا … ؟؟ منحوس ماری صبح تک تو بالکل ٹھیک تھی ”

وہ سائیکل وہیں چھوڑ کے کافی دور جا کھڑا ہوا- شاید عزیمت اور شرمندگی سے بچنا چاھتا تھا- میں نے خاموشی سے کھڑی کی- کاٹھی کو جھاڑا اور چین درست کرنے لگا- کچھ دیر ہاتھ کالے کرنے کے بعد آواز دی:
“آ جا استاد !!! چڑھ گیا ہے چین … ”

قسمت شاید آج رسواء کرنے پر تُلی ہوئ تھی- “کھِڈّی والا” کے قریب تھے کہ صادق ہوا میں پیڈل چلانے لگا اور سائیکل سُستی و کمزوری کا شکار ہوتی چلی گئ-

” اب کیا ہوا اُستاد !!” میں نے ایک بار پھر چھلانگ لگاتے ہوئے پوچھا-

” تیری ماں کا کھسم ہوا ہے … ” وہ پھٹ پڑا- “بندہ کسے کُتّے کو سیکل پہ بٹھا لے پر طلاقی کو دفعہ دور کرے …. قسمے … بڑا ہی نحش بندہ ہے وئ تو … !! ”

“ہوا کیا ہے ؟؟” میں نے اس کے الفاظ کا نشتر سینے پر برابر جھیلتے ہوئے پوچھا-

” کُتّے فیل ہو گئے ہیں … سمجھ نئیں آتا کہ فیکے بدماش نے کون سا سیہہ کا کنڈا دب دیا اس کی گدّی میں … ہتھ ہی نئیں آ رہی !! ”
میں نے کہا ” ضرور اس نے بھینس کے پٹھّے ڈھوئے ہونگے اس پہ- یہ جٹ لوگ سیکل کو وی کھوتی سمجھتے ہیں- اچھا کیا جو واپس لے آیا- پتہ نئیں کیا کیا ظلم کرتا بے زبان پہ … سیکل مجھے دے اُستاد … تو یہیں ٹھہر …. میں کرتا ہوں کُتّوں کو سیدھا ….. !!! ”

صادق کو وہیں سڑک پہ کھڑا کر کے میں سائیکل کو ایک جھاڑی کی اوٹ میں لے گیا- کچھ دیر بعد ازار بند اور سیکل سنبھالتا ہوا واپس آیا اور کہا:

” آ جا اُستاد ہو گئے تیرے کُتّے پاس !!”

خدا خدا کر کے عصر تک ہم ” کوٹاں والا اڈہ ” پہنچے- مسیت کی تلاش میں پھر رہے تھے کہ ایک لحیم شحیم مولوی پر نگاہ پڑی جو پائنچے خوب چڑھائے ٹانگیں کھولے چوک میں کھڑا تھا-

میں نے کہا ” صادق … دیکھ وہ بندہ شکل سے مولوی نئیں لگ رہا ؟؟ … ”

صادق نے بریک لگائ اور بولا:

” تو خود ہی جا کے نمٹ … میں یہیں کھڑا ہوں ”

میں ڈرتا جھجھکتا اس بغیر ٹوپی والے مولوی کے پاس پہنچا- دونوں ہاتھ مصافحے کو بڑھائے تو اس نے بمشکل ایک ہاتھ آگے کیا- اس کی خشک طبیعت تر کرنے کو میں نے اپنا اسلامی کیسٹ ہاؤس والا بیس سالہ تجربہ آزمانے کا فیصلہ کیا اور کہا :

” سبحان اللہ … اس فتنوں کے دور میں …. جب اللہ والوں پہ زمین تنگ ہو چکی … آپ کا یوں ٹانگیں پھیلا کر کھڑا ہونا …. بڑے ہی دل گردے کی بات ہے … !!! “ِ

اس پر وہ ذرا کو مسکرایا اور بولا:

” بندے کو صادق سلفی کہتے ہیں ، کہاں سے تشریف لائے آپ لوگ … !!!”

میں نے کہا مُلاں پوُر سے آئے ہیں- ایک مسئلہء شرعی درپیش ہے- بہت پریشان ہیں-کسی اچھے عالم کی تلاش ہے-

وہ بولا : ضرور مسئلہ طلاق ہو گا- نکاح کےلئے تو آپ لوگ ہمارے پاس آنے سے رہے-

میں نے کہا واللہ آپ نے تو دِل کی بات جان لی- شاید آپ کے فتوی سے ایک غریب کا بجھا ہوا چُولھا پھر سے جل اٹھے …. !!”

وہ بولا:

” ست بسم اللہ !! وہ سامنے اِک مینارہ مسجد ہے … وہاں درس چل رہا ہے مولوی بشیر سلفی کا … ماموں کانجن سے لیکر ٹوبہ ٹیک سنگھ تک کے بُجھے چولھے وہی جلاتے ہیں … جو مسئلہ پیر فقیر حل نئیں کر سکتا … مولوی بشیر حل کرتا ہے … درس کے بعد مِل لینا ان شاءاللہ فائدہ ہو گا ….. !!! ”

ھم اس شخص کے پیچھے چلتے چلتے ” اِک مینارہ مسجد” پہنچے- مولوی بشیر کادرس ختم ہو چُکا تھا- صادق سلفی نے ہمارا تعارف کرایا- مولوی صاحب نے توجّہ سے ہمارا پورا کیس سُنا پھر دریافت کیا:

وقوعے کو کتنا ٹائم ہوا … ؟؟

ہم دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا- پھر صادق بول اُٹھا :

” وقُوعہ ؟؟ … کون سا وقوعہ مولوی صاحب … ؟؟”

وہ بولے:

“او یار میں طلاق کی بات کر رہا ہوں … ڈاکہ مار کے تھوڑی آئے ہو تم لوگ ….. مطلوُق نے …. مطلقہ کو … کب طلاق دی ..؟؟ ”

” اِس نے دی ہے جی …. چار پانچ دن پہلے کی بات ہے ” صادق نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-

مولوی صاحب داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کچھ سوچنے لگے- گھنّی ، طویل سفید براق داڑھی نے ان کی پوُری قمیض ڈھانپ رکھّی تھی- اس کے بعد وہ خاموشی سے اُٹھے اور اندر حجرے میں چلے گئے- پھر کچھ دیر بعد ہمیں بھی اندر ہی بلوا لیا-

“دیکھو بیٹا جی … طلاق دینا کوئ چنگا فعل نئیں ہے … معمولی بات پہ طلاق ، طلاق کہہ دینا عزت دار لوگوں کا کام نئیں … یہ واحد جائز عمل ہے جس پر ابلیس شیطان خوش ہو کے لُڈیاں ڈالتا ہے … اسلام نے طلاق کا دروازہ تو بند نئیں کیا … لیکن بوہت ہی مشکل حالات میں … مطبل جب بندہ ، بُڈھّی اک دوجے سے نکّو نک ہو جائیں … اکٹّھے رہنے کی کوئ صورت باقی نہ رہے … تب جا کے … خوب سوچ وچار کے دیتے ہیں طلاق … لیکن اس کا وی اک طریقہ ہے …. اک وقت میں صرف اِک طلاق … دوسری طلاق اگلی وار عورت کے پاک ہونے پہ … ٹھیک ہے ناں … اس دوران دونوں کو سوچنے کا … اور اپنے فیصلے پہ دوبارہ غور کرنے کا وقت ملتا ہے …. عزیزوں رشتہ داروں کو صلح صلاح کا موقع ملتا ہے … رب تعالی کا فرمان ہے …. الطلاق مرتن …. مطلب طلاق 2 وار ہے … مطبل یہ کہ … تیسری طلاق کے بعد رجوع نئیں ہو سکتا ”

یہ سن کر ہمارے چہروں پر مایوسی چھا گئ- میں نے کہا:

” یعنی ہمارے لئے اب کوئ گنجائش نئیں ہے … ہم تو بڑی امید لے کے آئے تھے”

مولوی بشیر نے کہا :

” گنجائش کیوں نئیں … گنجائش ہی گنجائش ہے … آپ کی صرف اک طلاق واقع ہوئ ہے ..!!! ”

اس سے پہلے کہ میرا دل سینہ توڑ کر باہر آجاتا صادق بول اٹھا:

“لیکن مولبی صاب … ایس بے غیرت نے اک وار نئیں …. اَٹھ وار طلاق دی ہے ووہٹی کو …. !!!”

مولوی بشیر نے مسکراتے ہوئے کہا:

” اگر سَٹھ وار وی دیتا … فیر وی ایک ہی گِنّی جاتی … اِک محفل میں صرف اِک طلاق … ہاں اگر 3 حیض تک یہ بندہ رجوع نئیں کرے گا …. مطلب بُڈھی کو واپس نئیں لائے گا تو فیر نکاحِ جدید ہوئے گا …. اُسی بُڈھی سے … نویں حق مہر کے ساتھ .. !!! ”

میں ھونقوں کی طرح کچھ دیر مولوی صاب کی شکل دیکھتا رہا پھر کہا :

“اب ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟؟ ”

” فوراٌ رجوع کرو … بُڈّھی کو گھر لے کے آؤ … رب تعالی راضی ہوئے گا …. گھر وچ برکت آئے گی …. بس آئیندہ محتاط رہنا … اک موقع گزر گیا … دو موقعے باقی ہیں !!”

میں مولوی بشیر کو گلے لگانے کےلئے اٹھنے ہی لگا تھا کہ صادق نے ہاتھ پکڑ کر مجھے نیچے بٹھا لیا-

” یہ سب کچھ آپ ہمیں … کاگت پہ لکھ کے دے سکتے ہیں … ؟؟ ”

“کیوں نئیں ….. شرع میں شرم کیسی … اوئے اقبال …. جا اندر سے فتوے والا پیڈ اور اسٹیمپ لے کے آ .. ”

کچھ ہی دیر بعد ھم ایک مجلّد فتوی لیکر مسجد سے نکل رہے تھے- مولوی بشیر ہمیں دروازے تک چھوڑنے آیا- میں نے جھُک کے اس بزرگ کے گھٹنوں کو چھونا چاھا تو اس نے ہاتھ پکڑ کے کہا ” بدعت ہے پُتّر … مصافحہ … بس مصافحہ کرو .. !!!”

میں نے مصافحہ کرتے ہوئے سو روپے نزر کرنے چاھے تو وہ بولے ” ہم مسئلہ بتانے کے پیسے نئیں لیتے … آپ لوگ مہمان ہو … روٹی شوٹی کھا کے جانا”

میں نے کہا ” شکریہ امام صاب ، روٹی تو اب ووہٹی کے ساتھ ہی کھاؤں گا … ”

مسجد سے باہر آ کر میں نے صادق سے کہا:

“اب سائیکل میں چلاؤں گا …. دیکھتا ہوں کیسے فیل ہوتے ہیں اس کے کُتّے ”

وہ مجھے گھورتے ہوئے بولا:

” چھُرّی تلے دَم لے …. ٹھنڈی کر کے کھا … کسی ٹانگے میں نہ وج جانا ”

میں نے کہا:

” بس …. اب اور صبر نہیں …. میں ابھی جاؤں گا پِنڈ دھوبیاں …. ووھٹی کو لے کے آؤں گا …. رب نے میری فریاد سن لی ہے … !!! ”

وہ ٹوکتے ہوئے بولا:
” نئیں …. پہلے مستاں والے دربار پہ جائیں گے … جن کی برکت سے یہ کام ہوا … ”

مستاں والا دربار پہ میلے کا سماں تھا- ایک طرف دھول کی تاپ پہ گھوڑے کا ناچ ہو رہا تھا ، دوسری طرف قوال طبلے اور ہارمونیم پہ قوالی پیش کر رہے تھے- مجھے اس شور و ہنگامے ، لنگر ، روٹی میں اب کوئ دلچسپی نہ تھی- میرا دل تو بس ووہٹی ووہٹی کر رہا تھا-

صادق لنگر سے دوُدھ جلیبی کے دو پیالے لیکر آیا- دربار کے پیچھے ایک اونچا پیپل کا پیڑ تھا- لوگ یہاں منتوں مرادوں کے دھاگے باندھ ریے تھے- ہم پیالے لیکر وہیں آ بیٹھے-

صادق نے کہا:

” یار پتا نئیں … مجھے تو بار بار ڈر ہی لگ رہا ہے … مستاں والی سرکار بڑی ڈاڈھی ہے … یہ جو تو اس پیڑ کے نیچے اس وہابی کا فتوی کھِیسے میں ڈال کے بیٹھا ہے ناں …. اپنے ساتھ مُجھے وی مروائے گا … !!! ”

میں نے کہا :

” بے فِکر ہو جا اُستاد … ناروال میں پیر عبدالواحد کے مزار پہ برگد کا ایک گھنّا پیڑ تھا …. خلیفے کا دعوی تھا کہ پیڑ سے لکڑی توڑنے والے کو بابا تہش نحش کر دیتا ہے …. نہر کی کھُدائ تک منسوخ ہو گئ اس پیڑ کی وجہ سے …. سب بلڈوزر ٹریکٹر وہاں آ کر بند ہو جاتے تھے …. پھر اک روز وہابیوں کا ایک جتّھہ کلہاڑیاں کسّیاں لیکر آیا …. اس پیڑ کے ٹوٹے ٹوٹے کئے اور ٹرالیوں پہ لاد کے لے گیا- خلیفہ وچارہ دیکھتا ہی رہ گیا …. استاد …. یہ اپنے پِیر فقیر ولی قلندر کتنے ہی ڈاڈھے کیوں نہ ہوں … وہابی وی گھَٹ اتھرے نئیں ہیں … اللہ ہی بچائے دونوں سے … خیر ہمیں کیا …. آپس میں نبڑ لیں گے … ہمارا تو کام بن گیا ناں … چل استاد اب اُٹھ …. دھوبیاں کا رستہ پکڑتے ہیں”
رات 9 بجے ہم “پنڈ دھوبیاں” پہنچے- بجلی ہمیشہ کی طرح غائب تھی مگر چاند نکلا ہوا تھا- پِنڈ کے کُتّوں نے بھونک بھونک کر آسمان سر پہ اُٹھا لیا-
صادق نے کہا “ویکھ تیرے باراتی آ گئے !!”

گاؤں کی تاریک گلیوں سے گزرتے بالاخر ھم لکڑ والے بوُہے پر جا رُکے جس کے سامنے بیری کا چھتریلا پیڑ تھا- سائیکل کھڑی کر کے صادق اترنے لگا تو میں چھلانگ لگا کر کنڈی کھٹکانے کو دوڑا- اس نے پیچھے سے آ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا-

” پچھے ہٹ شدائیا !!! مروائے گا مُجھے وی … !!! ”

میں نے ہڑبڑا کر کہا :

” کیوں استاد ؟؟ دروازے میں کرنٹ ہے کیا …. ؟؟”

وہ بولا:

” توُں یہاں سے دفعہ دوُر ہو جا .. وہ گلی کی نُکّر پہ جا کے کھڑا ہو .. میں کروں گا بات ، جب بلاؤں تب آنا.. !!”

کسی سعادت مند بچّے کی طرح میں دروازے سے کچھ دور جا کھڑا ہوا اور آنے والے حالات کا وِچار کرنے لگا-

صادق نے کُنڈی کھٹکائ- کچھ دیر تک خاموشی رہی پھر اندر سے کھانستے ہوئے نقاہت بھری آواز میں پوچھا گیا:

“کون آں ….. ؟؟”

” چاچا میں صادق …. صادق سیکلاں والا”

تھوڑی سی کھڑل پڑل کے بعد دروازہ کھل گیا- صادق کچھ دیر دروازے پر کھڑا میرے سُسّر سے کھُسر پُسر کرتا رہا پھر سائیکل سمیت اندر چلا گیا-

میں باہر سردی میں اکڑنے لگا- ایک آوارہ کُتّا لُوس لوُس کرتا ہوا میرے قریب آیا اور بغور میرا مشاھدہ کرنے لگا- شاید میری طرح وہ بھی حالات کا ستایا ہوا تھا-

تقریباً دس منٹ بعد دروازے پر کھڑ پڑ ہوئ- پھِر صادق نے سر نکالا اور گلی میں ادھر ادھر جھانکتے ہوئے کہا:

” آ جا …. صلّو .. !!! ”

میری سانس گلے میں اٹکنے لگی- یوں لگا جیسے پھانسی گھاٹ کی طرف جا رہا ہوں- بالاخر الھم افتح لی ابواب رحمتک پڑھتا گھر میں داخل ہو گیا-

کپڑے دھونے والے گھاٹ سے گزرتے ہوئے ہم ایک کوٹھڑی میں پہنچے جو صحن سے بھی ایک فٹ نیچے تھی- لالٹین کی مدھم روشنی یہاں زندگی کا احساس دلا رہی تھی- چاچی زینت مجھے دیکھ کر آنسُو ضبط کرتی ، مونہہ لپیٹ کر اُٹھی اور ساتھ والی کوٹھڑی میں چلی گئ- چاچے لطیف نے دمّے والی نلکی کے دو تین کش لگا کر سانس بحال کی اور ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا-

اخلاقی لحاظ سے کئ گنا طاقتور لوگوں کے سامنےمیں خود کو ہیچ تصوّر کر رہا تھا- مجھے اپنا گلہ سوُکھتا ہوا محسوس ہوا- صادق کو کہنی مارتے ہوئے میں نے سرگوشی کی :

” اُستاد ….. تھوڑا … پپ .. پانی تو پلا دے !!! ”

وہ کونے میں رکھّے کچّے گھڑے کی طرف بڑھا تو چاچے لطیف نے آواز لگائ:

“زینتے ….. کِتّھے مر گئ ایں …. پانی دے مُنڈے کو … !!! ”

اندر سے چاچی کی آواز آئ :

“زھر نہ دوُں مُنڈے کو …. !!! ”

کوٹھڑی میں ایک دم خاموشی چھا گئ- چاچے لطیف کے پھیپھڑوں سے نکلتی سِیٹی جیسی آواز ماحول کو مزید بوجھل کر رہی تھی- میں نے خود کو آنے والے حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا اور بے سدھ ہو کر بیٹھا رہا-

بالاخر وہ طوفان آ ہی گیا جس کا انتظار تھا- کمرے کی حبس زدہ خاموشی کو چاچی نے آ کر توڑا- دوپٹّے سے آنسُو صاف کرتے ہوئے اس نے کہا:

” کون سا چن چڑھایا مُنڈے نے کہ پانی دوں ؟؟ میری سونے ورگی بیٹی اس لعنتی کے گلے ڈالی تو نے صادق … ستّر رشتے آئے تھے میری پُھولوں ورگی دِھی رانی کے … صرف یہی ذلیل ملا تھا تمہیں عالیہ کےلئے ؟؟ بولتا کیوں نئیں ؟؟ زندہ درگور کر دیا اس نے میری شہزادی کو … پوچھ ناں اس سے … طلاق دے کے اب کس مونہہ سے آیا ہے ووہٹی کو لینے ..!!!”

صادق نے اٹھ کے چاچی زینت کے آگے ہاتھ جوڑے- اور کہا :

” کوئ طلاق شلاق نئیں ہوئ چاچی … جھگڑا لڑائ تھا ، ختم ہوا … سائیں کے دربار پہ نک رگڑوا کے لایا ہوں اس کی … تو بھی معاف کر دے … آئیندہ رولا نئیں کرے گا … کرے گا تو مونہہ کالا کر کے پھراؤں گا پورے پِنڈ میں .. سوالی بن کے آیا ہے … اس کی جھولی میں خیرات ڈال دے … !!!”

میری نگاھیں تو جیسے زمین میں گڑ گئیں- کاٹو تو جسم میں لہو نہیں- پہلی بار احساس ہوا کہ عالیہ محض میری بیوی ہی نہیں کسی کی بیٹی بھی تھی اور بیٹی چاہے امیر کی ہو یا غریب کی سونے ورگی ، پھول ورگی شہزادی ہی ہوتی ہے-

بہرحال چالیس بار ناک رگڑوا کر ، 70 بار کان پکڑوا کر اور سو بار توبة کروا کر رات ساڑھے دس بجے عالیہ کو ہمارے حوالے کیا گیا-

صادق اڈّے سے یکّہ لے آیا- میں ایک بار پھِر دولھا بن کر یکّے پر جا بیٹھا- عالیہ چادر کا پلّو سنبھالتی سکڑتی سمٹتی پچھلی نشت پر رونق افروز ہوئ- جاڑے کی چاندنی میں اس کا وجود اوس کی مانند جگمگا رہا تھا-

یکّہ سمندری روڈ پر بگٹٹ بھاگ رہا تھا- وصل کا سرور میرے رگ و پے میں سرایت کرنے لگا- میری کیفیّت کبڈّی کے اُس کھلاڑی کی سی تھی کہ سانس ٹوٹنے سے گھڑی پہلے جسے فتح میسّر آئ ہو- عالیہ اب میری تھی اور دنیا کی کوئ طاقت اسے مجھ سے چھین نہ سکتی تھی-

تانگہ ” برُود والے پُل” سے گزر رہا تھا- ھمارے بیچ اگرچہ خامشی کی دیوار حائل تھی لیکن تانگے کی ٹک ٹک پہ وصل کےلئے تڑپتے دِل دھک دھک ضرور کر رہے تھے- کوچوان رات کی مہیب تاریکی کو “سیف الملُوک” کی تانوں سے روشن کئے ہوئے تھا-

سُفنے دے وِچ ماہی مِلیا
میں گھُٹ گھُٹ جپھیاں پاواں
ڈر دی ماری اکھ نہ کھولاں
کتھّے فیر وِچھڑ نہ جاواں

“سلونی جھال” سے گزرے تو گھنّے درختوں پر پرندوں نے غُل مچا رکھا تھا- عالیہ نے ڈر کر اپنی چوڑیوں والی کلائ میرے کندھے پر آن دھری اور سرگوشی کی :

” یہ پکھُّو شور کیوں کرتے ہیں ؟؟”

میں نے فرطِ محبّت سے اس کا ہاتھ چوم کر کہا :

” شاید ہمارے ملنے کی خوشی میں پاگل ہو رہے ہیں …. ”
وہ کھکھلا کر ہنس دی-

شب بارہ بجے ھم مُلاں پور پہنچ گئے- پنڈ خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹ رہا تھا- رات کے ستارے ڈھلنے کو تیار تھے جبکہ میری قسمت کا سورج طلوع ہو رہا تھا- میں ایک بار پھر خاوند سے عاشق بننے جا رہا تھا- وہ رات زندگی کی حسین ترین رات تھی-

ملاں پور کے لاؤڈ اسپیکروں پر فجر کی اذانیں بلند ہوئیں تو ہمیں صبح کا احساس ہوا- میں غسل کر کے مسجد پہنچا اور پہلی صف میں کھڑے ہو کر نمازِ فجر ادا کی- واپس گھر آیا تو عالیہ نے سُرخ قہوے کی پیالی چٹائ پر آن دھّری-

میں نے حیرت سے پوچھا:

” وہ گھر سے جو دودھ لائ تھی ختم ہو گیا …. ؟؟”

وہ گھبرا کر بولی:

” ڈولی میں رکھا تھا .. شاید … رات کو بِلّا پی گیا …. !!”

میں زیرِ لب مسکرایا تو وہ شرما کے چولھانے میں چلی گئ- میں کڑوے سیاہ قہوے کو آبِ شیریں سمجھ کر پینے لگا- خیال ہوا کہ ایک اچھّے جیون ساتھی سے بڑی کوئ نعمت نہیں – آفرین ان لوگوں پہ جو اس رشتے کی قدر کرتے ہیں اور نفرین اس سماج پہ جو زن کی خدمت کرنے والوں کو زن مرید کہتا ہے-
اپنی قسمت پر رشک کرتے کرتے جانے کب میں سو گیا-

سورج کافی بلند ہوا تو عالیہ نے مُجھّے جھنجھوڑ کر جگایا- باہر دروازے پہ دستک ہو رہی تھی- میں نے اٹھ کر چپل پہنی اور گنگناتا ہوا دروازے تک پہنچا- کنڈی کھولی تو باہر مدرسے کا ایک کمسن طالب علم یارُو کھڑا ہوا تھا-

میں نے کہا:

“ہاں یارُو …. خیریت ؟؟”

وہ بولا:

” امام صاب نے بلایا ہے … !!!”

میں نے کہا:

“کیوں ….. ؟؟”

وہ کندھے اچکا کر بولا:

” رب جانے … !!”

میں نے ہُڑکا چڑھایا اور بال جھاڑتے ہوئے صحن میں آ گیا- پھر اچانک ٹھٹھک کر رُکّا اور کسی ان دیکھی پریشانی نے آن گھیرا- کچھ دیر سوچوں کے سمندر میں غوطے کھانے کے بعد میں نے عالیہ کو آواز دی:

” عالی …. میری رات والی قمیض کہاں ہے … ؟؟ ”

وہ پریشان ہو کر بولی:

” کہاں جا رہے ہو ؟؟ ناشتہ تو کر کے جاؤ …. !!! ”

میں نے کہا ” بس ابھی آیا … امام صاحب نے بُلایا ہے .. شاید دُکان کا کرایہ مانگتے ہوں ”

گھر سے باھر نکل کر میں نے چٹخنی چڑھائ اور اپنی جیبیں ٹٹولتے ہوئے مسجد کی جانب چل دیا-

دل میں سو وسوسے سر اٹھا رہے تھے- مسجد پہنچا تو مولوی نزیر بچّوں کو درس دے رہے تھے- 9 سے 12 سال کے بچّے لہک لہک کر قران پڑھ رہے تھے- میں نے پاس جا کر سلام کیا-جواب دینے کی بجائے انہوں نے سبق سناتے ہوئے “یارُو” کی کُھتّی میں زور کی چپت لگائ اور دھاڑے:

“کھڑی زبر …حرام دِیا کھڑّی زبر .. !!”

یارُو 12 سال کا تھا- اسکول میں چل نہ سکا اور اب 5 سال سے نوارانی قاعدہ بھگت رہا تھا- اس نے سسکتے ہوئے ” ہے کھڑی زبر ہا” کا ورد شروع کیا- مولوی صاحب گھڑی بھر کو میری طرف متوّجہ ہوئے اور کہا:
” تو کیوں کھڑا ہے .. ؟؟ بیٹھ جا ”

اس سے پہلے کہ میں پوری طرح بیٹھتا انہوں نے یارو ُ کے ایک اور چپت لگائ اور میری طرف کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے بولے :

” نلیق آدمی … مولوی کا مغز وی کھاتے ہو … سدھرتے وی نئیں ہو … !!”

بالاخر یہ متشدّد محفل برخواست ہوئ- بچّے قاعدے سپارے اٹھائے یوں اُڑے جیسے پنجرہ توڑ کے قیدی چڑیاں – مسجد خالی ہوئ تو وہ میری جانب متوجہ ہوئے:

” صلّو ..؟؟ تو نے …. دُوجا ویاہ کر لیا یا مجھے وہم ہو رہا ہے ….؟؟ ”

میرے رگ و پے میں سردی سرایت کرنے لگی-آنے والے طوفانوں کا اندیشہ ضرور تھا ، لیکن موسم اتنا جلد خراب ہو گا اس کا اندازہ نہ تھا-مولوی نزیر کی نظریں میرے چہرے پر گڑی تھیں اور میں مسجد کی صفّوں کے تِنکے گن رہا تھا-

وہ دوبارہ گویا ہوئے:

” میں نے فارسی بولی ہے یا کاَن بند ہیں تیرے … ؟؟ بولتا کیوں نئیں ؟؟ ”

میں نے ہمّت مجتمع کی ، اور کان کھُجاتے ہوئے کہا :

” جج …..جی …. ویاہ تو نئیں کیا اُسی ووہٹی کو واپس لایا ہوں ..!!”

وہ کچھ دیر داڑھی کُھجاتے ہوئے مجھے گھورتے رہے پھر کہا :

” سچ سچ بتا …. توں نے ووھٹی کو طلاق دِی تھی یا مذاق کیا تھا … ؟؟”

میں نے کھنگار کر گلہ صاف کیا ، اور اپنی جیب ٹٹولتے ہوئے کہا:

” اِک وار طلاق … دی تھی جی .. اب رجوع فرما لیا ہے .. !! ”

ان کے ماتھے پر حیرت کی شکنیں ابھریں اور بولے:

“فیر شاید میرے کَن بند ہیں …. اس روز تُو ہی بکواس کر رہا تھا کہ آٹھ وار دی ہے طلاق … ؟؟ ”

میں اس سوال کےلئے تیّار تھا- فوراً جیب سے فتوی نکال کر سامنے رکھا اور قدرے اعتماد سے کہا:

” مولوی بشیر سَلفی ، اک مینارہ مسجد ، کوٹاں والے کا فتوی ہے کہ اک محفل میں چاہے سَٹھ وار طلاق دو ، نشانے پر صرف اِک ہی لگتی ہے .!! ”

ان کی آنکھوں سے حیرت غائب ہوئ اور غّصّہ در کر آیا- کانپتے ہاتھوں سے سرسری انداز میں فتوی دیکھا پھر کاغذ تہہ کر کے میری طرف پھینکتے ہوئے بولے:

” لعنت بھیجتا ہوں میں مولی بشیر اور اُس کے فتوؤں پہ …. بُڈھی کو واپس چھوڑ کے آ …. کوٹاں والے کا سالا …. !!”

میں بھی تاؤ کھا گیا- فوراً اُٹھتے ہوئے کہا:

” بُڈھی تو اب واپس نہیں جائے گی امام صاحب … چاہے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے … !!! ”

وہ بھی اُٹھ کھڑے ہوئے اور بولے:

” جان توُ سنبھال کے رَکھ … اوکھے سوکھے ویلے کم آئے گی … پر اِک بات میری وی پلّے باندھ لے … اِک زانی کو مسیت کے کوارٹر میں ٹھہرا کے ہم نے وی شِرع کا جنازہ نئیں پڑھانا …!! ”

میرا گلہ سوُکھنے لگا- بغیر سلام کئے وہاں سے رُخصت ہوا اور تیز تیز قدم اٹھاتا گھر کی جانب چل دیا-

پھس گئ جان شکنجے اندر
جُوں ویلن وِچ گنّاں
رؤ نوں کہو ، ہُن روہ محمّد
ہُن رہوے تے منّاں

گھر آ کر میں خاموشی سے منجے پر گر گیا- دماغ میں جزبات کی تیز آندھیاں چل رہی تھیں- امام صاحب کا رویہ ناقابلِ برداشت تھا- اندیشے اب مجھے چاروں طرف سے گھیرنے لگے تھے-

دِل میں بے شمار منصوبے بننے اور ٹوٹنے لگے- کبھی سوچتا کہ آج اور اسی وقت مسیت کا کوارٹر خالی کر دوں ، اسلامی کیسٹ ہاؤس کو تالہ لگاؤں ، چابی مولوی نزیر کے گھر میں پھینکوں اور عالیہ کو لے کر پِنڈ سے بھاگ جاؤں-

لیکن جاؤں گا کہاں ؟ اس سے آگے اندھیرا ہی اندھیرا تھا- سسرالی پِنڈ میں مولوی شبیر کی حکومت تھی- اس میں اور مولوی نزیر میں صرف نون اور شین کا فرق تھا- مولوی بشیر سلفی کا فتوی یہاں بھی جعلی نوٹ ہی ثابت ہونا تھا- ہائے کاش اُمّت ایک دین پر ہوتی تو بندہ کڑوے کسیلے مسئلوں پر صبر شکر ہی کر لیتا- میری طرح نکاح اور زنا کے بیچ نہ پھنسا ہوتا-

ایک سوچ یہ آئ کہ دُکان کا سامان بیچ کر ایک مریل سا کھوتا خریدوں اور چاچے خورشید کی بھٹّی پر قبضہ جما لوں- مٹّی کے بھانڈے بنا کر پِنڈ پِنڈ بیچوں اور باعزّت روٹی کماؤں-مولوی نزیر کا بھوُت بھی سر سے اتر جائے گا اور کارِ روزگار بھی ہاتھ آئے گا-

مگر اس منصوبے میں بھی کئ خامیاں تھیں- میرے پاس کون سی راج دَل تھی کہ اتنا بڑا قدم اٹھاتا-
اور لامحالہ ایسا کر بھی لیتا تو مولوی نزیر کے ساتھ ساتھ چاچا خورشید بھی میرے خلاف مورچہ سنبھال لیتا- وہ تو پہلے ہی میری پسند کی شادی پر خار کھائے بیٹھا تھا-

میں تکئے پہ داھنی کروٹ لیٹا عالیہ کو دیکھنے لگا- وہ معصوم آنے والے طوفانوں سے بے خبر ، بڑے سکون سے “کھُرّے” میں بھانڈے مانجھ رہی تھی- اس غریب فاختہ کو کیا علم تھا کہ بے خبری میں وہ کس توپ کے دہانے میں آشیانہ بنا بیٹھی ہے-

بائیں ہاتھ سے جیب ٹٹول کر گھر کی معیشت کا جائزہ لیا- کُل سولہ روپے آٹھ آنے ہاتھ آئے- دو دن کی ھانڈی بخیرو خوبی چل سکتی تھی- دکان تین روز سے بند تھی اور مزید وہاں بیٹھنا فضول تھا- ایک باطل شخص سے علمائے حق کی کیسٹیں کون خریدے گا ؟ مولوی نزیر نے دیکھ لیا تو ہنگامہ کھڑا کر دیگا ؟

اچانک ہی دروازے پر دستک ہوئ- میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا- حالات اس نہج پر تھے کہ دروازے کی دستک بھی سیدھا ٹخنے پر لگتی تھی- ننگے پاؤں بلّی کی طرح چلتا ہوا بوہے تک آیا پھر دروازے کی جھریٹ سے جھانک کر باہر کے حالات کا جائزہ لینے لگا-

باہر دو باریش نوجوان کھڑے تھے-

میری چوٹی سے ایڑھی تک پسینہ بہہ نکلا- یہ “ریش” ضرور کسی طوفان کا پیش خیمہ تھی- کہیں مولوی نذیر کے بھیجے ہوئے “فرشتے” تو نہیں – کوارٹر خالی کرانے تو نہیں آ گئے- یا اللہ خیر-

میں نے خفیف سی آواز میں پوُچھا:

“کون ہے ؟”

باہر سے آواز آئ:

” بھائ صاحب .. ذرا دکان پہ تشریف لائیے گا … مفتی ” سمیع سواتی” کا بیان چاھئے …. سماعِ موتی والا ”

میں نے سُکھ کی ایک طویل سانس لی- دل میں مُفتی سمیع کو ہزارہا دعائیں دیں جنہوں نے سماعِ موتی پہ روشنی ڈال کر مجھ غریب کو وقتی طور پہ ہی سہی ، موت کے مونہہ سے تو نکالا-

میں نے کہا:

“اجی بس آیا …. ذرا چپل پہن لوں ..”

دکان پر پہنچا تو چار پانچ گاہک اور چلے آئے- ان میں سے ایک کو مولانا رجانوی کی ” شرک و بدعت” ، دوسرے کو مفتی کمالوی کی ” برکات گیارہویں” ، تیسرے کو رمضان سلفی کا مناظرہ ” آمین بالجہر ” ، چوتھے کو ذاکر قریشی کے گلہائے عقیدت اور پانچویں کو عباس جعفری کے “حسینی دوھڑے” تھمائے- پھر دکان بند کر کے سیاہی سے ایک چٹ لکھ کر شٹر پر چپکا دی:
“دکان عارضی طور پر بند ہے”

جیب میں 100 روپے آنے کے بعد خیالات میں واضح تبدیلی محسوس ہونے لگی- سوچا فرقہ پرستی اتنی بُری چیز بھی نہیں- اختلاف چھوڑ کر لوگ اگر ایک دین پر آ گئے تو ہماری کیسٹیں کون خریدے گا ؟ ؟؟ مناظروں کے میدان ٹھنڈے پڑ گئے تو ہمارا چولھا کیسے گرم ہو گا- پس “مسئلہء طلاق” کو چھوڑ کے باقی سب اختلاف تو رحمت ہی رحمت ہے-

اسی وقت ارادہ کیا کہ ظہر کے بعد مولوی نذیر کے پاؤں پکڑ وں گا اور گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ کر التجاء کروں گا کہ بے شک حشر میں میری شکایت لگا دینا ، فرشتوں سے اٹھوا کر دوزخ میں پھینکوا دینا مگر فی الحال پنڈ والوں کے سامنے میری پوٹلی مت کھولیو- رب تجھے دائمی جنّت بخشے ، میری اس عارضی جنّت کو مت اجاڑیو … !!!

مگر یہ منصوبہ بھی دھرے کا دھرا رہ گیا- ظہر کی نماز میں مولوی صاحب تشریف نہ لائے اور خادم مسجد نے امامت کرائ- نماز کے بعد میں نے ڈرتے جھجھکتے اس سے امام صاحب کا پوچھا تو بولا:

” چھوٹی بی بی کو ملنے کے واسطے “سوُنڈھ” تک گئے ہیں ، جمعے کو واپس آئیں گے … !!!”

میں نے سُکھ کی ایک طویل سانس لی کہ اگلے 3 روز تک تو چین میّسر آیا- بازار سے گھر کا سودا سلف لیا اور ھنستا مسکراتا گھر آ گیا-

اگلے روز میں نے سر چُپڑ کے ، کنگھی کر کے عطر پھلیل لگا کے اور آنکھوں میں پوری سرُمہ دانی الٹ کے دکان کا رُخ کیا- شٹر پر سے پرچی اتار کے پرے پھینکی اور پورے جاہ و جلال سے کاؤنٹر پہ رونق افروز ہو گیا-

اس روز ماسٹر خداداد صاحب میری دکان پر تشریف لائے- وہ گاؤں کے پرائمری اسکول ماسٹر تھے اور بڑے سیانے بندے سمجھے جاتے تھے- میں نے ماسٹر صاحب کو بٹھایا اور سیڑھی لگا کر ان کےلئے “مولوی بغدادی” کا “قِصّہ یوسف زلیخا” تلاش کرنے لگا-

وقت گزاری کےلئے میں نے کہا:

“ماسٹر صاحب … ایک مسئلہ پوُچھنا ہے آپ سے … میرے دور پار کے ایک رشتہ دار نے اپنی بیوی کو طلاق دے رکھّی ہے …. اب وہ رجوع کرنا چاھتا ہے … ایک مسلک کے مولوی کا کہنا ہے کہ طلاق واقع ہو چکی ہے اور بیوی کو گھر میں رکھنا زناء کے مترادف ہے جبکہ دوسرے مسلک کے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک ہی طلاق واقع ہوئ ہے ، اور رجوع کرنا کارِ ثواب ہے …. اب بندہ کس مسلک کے مولوی کا فتوی مانے؟؟؟ ”

ماسٹر صاحب کچھ دیر سوچتے رہے پھر فرمایا:

” میرے خیال میں تو جس مسلک کے مولوی نے اس کا نکاح پڑھایا ہے ، طلاق کا فتوی بھی اسی کا ہی چلے گا … !!”

میں نے کہا:

“اور اگر اپنے مسلک کے مولوی کا فتوی سمجھ نہ آئے تو پھر کیا کرے ؟؟”

وہ بولے:

” دیکھو اگر فتوی سمجھ نہ آئے تو سوال کرے … حوالہ مانگے اگر پھر بھی تسلی نہ ہو تو خود دین کا علم حاصل کرے … اور اگر یہ سب کچھ نہیں کر سکتا تو چپ چاپ مولوی کی مانتا رہے … باقی لوگ بھی تو مان رہے ہیں ناں … !!! ”

میں نے کہا:

“اگر اپنے مولوی کے فتوی پر عمل کرنے سے اس کا گھر اجڑ رہا ہو ، اور دوسرے کے فتوے سے آباد ہو رہا ہو تب بھی …؟؟ ”

وہ بولے:

” ہاں تب بھی- دیکھو مسلک ایک مذھبی سوسائٹی کا نام ہے- بدقسمتی سے ھم مسلکی اختلافات کو مخالفت کی سطح پر لے آئے ہیں …. بات آگے بڑھ کر جھگڑے تک جا پہنچی ہے …. ان حالات میں … محض اپنا الوّ سیدھا کرنے کےلئے ، دوسرے مسلک سے ایسا فتوی لے کر آنا جو اپنے مسلک سے ٹکراتا ہو اکثر فساد کا باعث ہی بنتا ہے … ذاتی غرض کےلئے کسی دوسرے مسلک کا دروازہ کھٹکانا شرعاً جائز ہو یا ناجائز … سوسائٹی اسے قبوُل نہیں کرتی …. اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ اپنے گھر میں دال پکّے تو بندہ دشمن سے قورمہ مانگنے نکل کھڑا ہو …. ظاہر ہے معاشرہ اسے قبول نہیں کرے گا … یوں آسانیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے انسان بعد اوقات بڑے خسارے کا سودا کر بیٹھتا ہے”

میں نے چونک کر پوُچھا:

” خسارا …؟؟ کیا مطلب … ؟؟ ”

وہ کچھ توقف سے گویا ہوئے:

” تقسیم سے پہلے کی بات ہے …. یہ اپڑیں گجرات کے کسی گاؤں میں ایک میاں بیوی رہتے تھے …. ان کے بیچ طلاق ہو گئ … بعد میں دونوں بہت پچھتائے …. ادھر ادھر مولویوں کے پاس بھاگے … عالموں فاضلوں سے بات کی …. سب نے کہا طلاق ہو گئ … وہ مرد اپنے نفس کے بہکاوے میں آ گیا اور اس عورت کو اپنے گھر لے آیا … اس پر پِنڈ والوں نے شور مچایا … شرم اور غیرت دلائ …. یوں دونوں کو گاؤں چھوڑنا پڑا … لیکن یہ جہاں جاتے … ان کی کہانی بھی وہاں پہنچ جاتی … دربدر ہو کر رہ گئے وچارے …. یوں پِنڈ پنڈ بھاگتے بالاخر سکھّوں کے پِنڈ جا پہنچے …. اس دور میں سکھّوں کا عروج تھا …. وہ مسلمانوں کو تھلّے لگانے کا کوئ موقع نہ چھوڑتے تھے …. ان بد نصیبوں کو پناہ ملی بھی تو اس شرط پر کہ سکھ مذھب قبول کر لیں … معاشرے کے ستائے ہوئے تو تھے ہی …. جھٹ سکھ دھرم اپنا لیا …. بدنصیبی صرف یہیں پر ختم نہیں ہوئ … آس پاس کے پنڈوں تھاؤں میں بات مشہور ہوئ … ہر کوئ لعنت ملامت کرنے لگا … مولویوں نے تقریریں کیں دوسری طرف وہ مرد عورت بھی اپنا ساڑ نکالنے اور سکھّوں کی ھمدردی حاصل کرنے کےلئے اسلام کے خلاف بکواس بازی کرنے لگے ….

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مولویوں نے انہیں “گستاخِ رسول” قرار دے دیا …. ایک روز جب یہ دونوں میاں بیوی …. شکر دوپہری …. جوّی کا کھیت کاٹ رہے تھے … ایک غازی …. ٹوکا لئے وہاں پہنچا … اور دونوں کا گاٹا کاٹ کر لے آیا ….
یہ ہے خسارے کا سودا … !!! ”

میں سیڑھی پر کھڑا کانپ گیا اور ہاتھ میں پکڑی “یوسف زلیخا” نیچے گر کر پاش پاش ہو گئی-

منگل گزرا ، بُدھ آیا ، پھر آئ جمعرات- وصل کے دِن کسی غریب کی پونجی کی طرح خرچ ہوتے چلے گئے- حالات کے سردوگرم میں تنہائ میّسر آتی تو اداسی کی چادر اوڑھ لیتا ، محفل میں مسکان کا دریچہ کھول لیتا- عالیہ کو موسموں کے جبر سے محفوظ رکھنے کی یہی سعئ لاحاصل تھی-

اس صبح بھی وہ خاموشی سے آ کر میرے سرہانے بیٹھ گئ- میں سر اس کی گود میں رکھ کر دور خلاؤں میں گھورنے لگا-

فاصلے ایسے بھی ہونگے
یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے
وہ مگر میرا نہ تھا

وہ بولی:

” اُداس کیوں ہے …. ؟؟”

میں نے نظریں چراتے ہوئے کہا:

” نئیں … اداس تو نہیں … ہاں وہ کوٹاں والا پنڈ ہے ناں … وہاں سے ایک مولبی آیا تھا …. دُکان پہ … کیسٹیں خریدنے … پچاس کا نوٹ دے گیا ہے … اپنے امام صاب کہتے ہیں جعلی ہے … اب تو ہی بتا … جب مولبی ہی فراڈ کرے تو بندہ کیا کرے ؟؟”

وہ خاموشی سے اندر گئ اور کچھ دیر بعد پچاس روپے کا ایک مُڑا تُڑا نوٹ لیکر آ گئ-

میں ہنس پڑا اور کہا:

“یہ کہاں سے آیا ؟؟”

بولی “امّاں نے دِیا تھا …. آتے ہوئے … !! ”

میں نے کہا :

” اماں کو تو نے میری شکیتیں لگائ تھیں ناں … گھر جا کے ؟؟”

وہ ہونٹوں پر ایک اداس سی مسکراہٹ سجا کر بولی::

” نئیں …. میں تو بس روتی رہی … امّاں کے گلے لگ کے …. ”

میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا:

” آئیندہ نئیں رونا ….. ویکھ چاچی نے مجھے پُرانے لٹھّے کی طرح دھویا … میں رویا ؟؟ ”

وہ ہنس دی اور بولی:

” چل … نوٹ مل گیا ناں … اب چھوڑ دے اداسی .. !!”

میں نے اس کا سیُو بیر جیسا چہرہ اپنے قریب لاکر کہا:

” سب کچھ چھوڑ سکتا ہوں … بس تجھے نئیں ……!!!”

یوں مولوی نزیر کی فقّہ سے ایک اور گناہ کما کے اور مولوی بشیر کے فتوی سے ڈھیروں ثواب حاصل کر کے ہم سرخرو ہوئے- اس کے بعد میں تیار ہو کے دکان پہ چلا آیا-

تھڑے پہ حیاتی سہُو میرا منتظر تھا- کہنے لگا صلّو بھائ ، آج گھر میں میلاد شریف ہے ، ہم نے نئ ٹیپ ریکارڈ وی خریدی ہے- ڈھماں ڈھم والی نعت نکال کے دو- میں نے کہا چَگل آدمی …. اسے دَف والی نعت شریف کہتے ہیں- صبر کر- اوپر پڑی ہے- کیسٹ تلاش کرنے کو سیڑھی پہ چڑھ ہی رہا تھا کہ سامنے سڑک سے یارُو گزرا- اس کے ہاتھ میں “نورانی قاعدہ” تھا-

میں نے آواز لگائ:

“اوئے چِبڑ …. ادھر آ … مولوی صاب تو “سُونڈھ” گئے ہیں … تو کدھر مونہہ اُٹھائے جا رہا ہے ؟؟”

وہ دامن سے ناک صاف کرتے ہوئے بولا:

“رات کو آگئے جی … سویرے نماج نئیں پڑھی تُو نے … ؟؟”

میرے مونہہ سے نکلا:

” دُر فِٹّے مونہہ …. کبھی اچھّی خبر نہ دینا .. !!!”

پھر حیاتی کو ایک سادہ نعت والی کیسٹ تھماتے ہوئے کہا:

“یہ لو بھائ …. ڈھماں ڈھم خود کر لینا … مجھے نِکلنا ہے.. !!!”

گاہک سے پندرہ روپے چھین کر میں نے شٹّر گرایا اور گھر کی طرف بھاگا- پاؤں من من کے ہو رہے تھے- یوں لگ رہا تھا جیسے گھر سے دکان ہزار مِیل کے فاصلے پر ہو-

گرتا پڑتا اندر داخل ہوا اور آواز لگائ:

“عالی …. کہاں ہو … عالی ؟؟”

وہ پریشان ہو کر چولھانے سے نکلی:

” ہائے اللہ جی … خیر ہے .. ؟؟”

میں نے کہا:

” ستّے خیر ہے …. وہ …. میلاد کی محفل تھی ناں تیرے پِنڈ کی مسیت میں … مجھے اس کی کیسٹ ریکارڈ کرنی ہے- چلو نکلیں دیر ہو رہی ہے- ”

وہ افراتفری میں تیّار ہوئ- میں نے پانچ سو ترتالیس اُٹھائ ، ہم پِنڈ چیرتے ہوئے بس اڈہ پہنچے- ہر آن یہی کھٹکا رہا کہ مولوی نزیر کی نظر نہ پڑ جائے- خدا خدا کر کے بس آئ اور ہم ٹیپ ریکارڈر گود میں رکھ کے دو والی سیٹ پر جُڑ کے بیٹھ گئے-

عالیہ کو اس کے پیکے چھوڑ کر اور چاچی کے پاؤں چھُو کے میں سیدھا اڈّے پر چلا آیا- صادق کی دکان پر تالہ پڑا ہوا تھا-

میں نے چاچے یعقوب سے پوچھا :

“چوھری صادق کہاں گیا ؟؟”

وہ بولا:

” کمالیہ گئے ہیں .. لنگ والی سرکار پہ”

بابا ابن شاہ المعروف لنگ والی سرکار کا مزار کمالیہ سے کچھ فاصلے پر ہے- علاقے بھر کے لوگ خصوصاً خواتین کا یہاں میلہ لگا رہتا تھا- دربار کے احاطے میں بڑ کے درخت پر انسانی جنسی اعضاء سے مشابہ مٹی پلاسٹک ، کپڑے اور دھاتوں کے رنگ برنگے کھلونے لٹکے ہوئے تھے- عورتوں کا عقیدہ تھا کہ اسے ناف پر پھیرنے سے بانجھ پن دور ہو جاتا ہے*

میں نے حیرت سے کہا:

” صادق وہاں کیا کرنے گیا ہے ، وہ تو پانچ بچّوں کا باپ ہے”

وہ بولا:

” عرس شریف کا میلہ ہے … چوھری اپنی دکان اودھر ہی لے گیا ہے ”

میں نے ٹیپ چاچے یعقوب کو پکڑائ اور خود کمالیہ کی بس پکڑ لی- ظہر تک میں بابا ابن شاہ پہنچ چکا تھا- دربار پہ عورتوں مردوں کا ہجوم تھا- میں نے حاضری کی گھنٹی بجا کر دس روپے نذر گزاری اور صادق کو تلاش کرنے لگا- بالاخر سائیکلوں کے ہجوم میں پنکچر لگاتے ہوئ اسے جا لیا-

وہ مجھے دیکھ کر کافی حیران ہوا اور بولا:

” خیر ہے … ؟؟ توُ کیا لینے آیا ہے ادھر …. ؟؟ ”

میں نے کہا:

” میری پریشانی ختم نہیں ہوئ صادق …. مولوی نزیر ، وہابیوں کا فتوی نہیں مان رہا … کہتا ہے ایک زانی مسیت کے کوارٹر میں نئیں رہ سکتا … کہاں جاؤں یار …. کچھ سمجھ نہیں آ رہا … ؟؟”

وہ سائیکل کی ٹیوب رگڑتے ہوئے بولا:

” رگڑا تو لگنا تھا تُجھے … بھلا سیکل کی ٹوُپ ٹریکٹر میں کیسے لگ سکتی ہے …. سمجھایا وی تھا لعنتیا … ٹوبہ جا کے حلالہ کر لے … سارا سیاپا ہی مُک جاتا … تُو نے کہا رب کے ساتھ دھوکہ ہے … یہاں بندہ رب کو راضی کرے یا مولبی کو … خیر جو ہوا سو ہوا …. اب ایسا کر …. مولوی کی جیب میں سو دو سو روپیہ ڈال … مان جائے گا”

میں نے کہا:

” نہیں مانے گا … وہابی کا فتوی دیکھ کر بپھر گیا ہے … پنج سو پہ بھی نہیں مانے گا …. بچپن سے جانتا ہوں اُسے … ضِد کا بُرا ہے … مسلک کی بات پر تو سانڈ کی طرح اڑ جاتا ہے … تو چل میرے ساتھ …. کوٹاں والا چلتے ہیں … مولوی بشیر کے پاس .. !!! ”

وہ کپڑے سے ہاتھ صاف کرتا ہوا بولا:

” مولی بشیر کیا کرے گا ..؟؟ اس کا کام فتوی دینا تھا … دے دیا … رینجر تھوڑی ہے اس کے پاس کہ فتوے پر عمل بھی کرائے … !!! ”

میں نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا:

” دیکھ استاد … میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کوٹاں والا جا کے مولوی بشیر کا مذھب قبول کر لوں”

وہ آنکھیں نکالتے ہوئے بولا:

” تُو سو جُتیاں وی کھائے گا ، سو پیاز وی …. وہابی بنے گا تو ؟؟ پہلے گھر کا بیڑا غرق کیا … اب دین ایمان کا بیڑا غرق کر … !!! ”

میں نے کہا:

” کون سی قیامت آجائے گی یار … گھر تو بس جائے گا ناں میرا … اور وہابی بھی تو کلمہ روزہ نماز کرتے ہیں … خُدا رسول کو بھی مانتے ہیں .. فرق کیا ہے ہمارے بیچ … ؟؟”

وہ تاؤ کھا کر بولا:

” فرق کیوں نئیں ہے ؟؟ ہمارے سائیں ، خواجہ ، غوث ، قطب ، ولی ، قلندر … ان کے پاس کیا ہے … ؟؟ چھنکناں ؟؟ … جب پاکستان بنا تھا ناں … تو آس پاس پِنڈوں کے جِتنے سِکھ تھے … جان بچانے کےلئے … سب کے سب وہابی ہو گئے تھے … کِیس اور لنگ کٹا کے … توُ بھی ہو جا …. !!! ”

مجھے بھی غُصّہ آ گیا- میں نے کہا:

” اور ہم کیا تھے ؟؟ ھندو ؟؟ وہ کھڑے کی پوجا کرتا ہے ہم لیٹوں کی … وہ مندر کی گھنٹی بجاتا ہے ھم دربار کی … وہ پرساد چڑھاتا ہے ہم چڑھاوے .. ان کے پاس شیو لنگ ہے ہمارے پاس لنگ شاہ … بتا ناں … فرق کیا ہے ؟؟ ”

اس نے آگے بڑھ کر میری ٹھوڑی مظبوطی سے پکڑ لی- پھر نفرت سے مجھے پیچھے دھکیلتے ہوئے بولا:

” بکواس بند کر …. اور اپنی منحوس شکل لے کر دفع ہو جا …. آئیندہ اپنا بوُتھا نئیں دکھانا مجھے … لعنتی کہیں کا … وَلیوں کا گُستاخ …. !!!
رجانہ والی بس میں کافی رش تھا- بمشکل سیٹ ملی- سورج غروب ہو رہا تھا- میں بس کے شیشے سے کھلے میدان میں چرتے مویشیوں کو دیکھنے لگا- ان کی تعداد سیکڑوں میں تھی- ہر مویشی کے گلے میں ایک مخصوص گھنٹی بندھی ہوئ تھی- یہ دربار بابا شاہ عنایت کی نذر کے مخصوص جانور تھے-

مجھے لگا جیسے میں بھی نذر کا ایک مخصوص جانور ہی ہوں- جس کے گلے میں پیدائش سے ہی ایک مسلک کی گھنٹی بندھی ہے- کل تک مجھے اس گھنٹی کا احساس تک نہ تھا اور آج فتوے کی چُھری نظر آئ تو جان بچانے کو بھاگا پھرتا ہوں-

مولوی نزیر اور مولوی بشیر کے بیچ فِکر کا لامتناہی فاصلہ تھا مگر میری غرض کی چراگاہ اس سے بھی وسیع تر تھی- یہی غرض مجھے دربدر لئے پھرتی تھی- کل کلاں کسی سلفی کی چھُرّی تلے آنے کے بعد مجھے پِھر رسّی تڑا کے بھاگنا تھا- جو شخص مذھب میں محض اپنی غرض کا غُلام ہو ، اس کی بھاگتے ہی گزرتی ہے- نفس جس کا امام ہو وہ یونہی دربدر رُلتا ہے-

خُدا کو راضی کرنے کےلئے اب مولوی نزیر کو راضی کرنا ضروری تھا- یہی اس پِنڈ کا دستور تھا اور یہی آخری رستہ- طوفانِ نوح سے بچنے کےلئے مجھے اسی جزیرے پہ اترنا تھا جہاں میرے قتل کی منادی ہو چکی تھی- موافقت کی کوئ صورت اسی عدالت سے نکل سکتی تھی جس کے پھانسی گھاٹ پہ میں تنہا کھڑا تھا-

شام 6 بجے میں گاؤں پہنچ گیا- اڈّے سے ٹیپ ریکارڈر اٹھایا ، سسرال جا کر عالیہ کو لیا اور رات 10 بجے واپس مُلّاں پور پہنچ گیا- یہ جانتے ہوئے بھی کہ سیلاب صرف میرے ہی گھر کی دیواریں گرانے کے درپے ہے میں خوف کی کھڑکیاں بند کر کے ، بے فکری کی چادر اوڑھ کے سو گیا-

اگلے روز کا سورج بلند ہوا تو میں مولوی نزیر کا دروازہ کھٹکا رہا تھا-

چھ سات سال کا ایک ننگ دھڑنگ بچّہ باہر نکلا- میں نے کہا ” پُتّر .. امام صاحب کو بُلا …!! ” وہ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا پھر اندر چلا گیا- دوبارہ آیا تو اپنے جیسے چار اور کو لے آیا- چاروں ٹک ٹک مجھے دیکھنے لگے- قد کاٹھ عمر شباہت ایک سی اور گُھورنے کا انداز بالکل مولوی نزیر جیسا-

میں نے تنگ آ کر دروازہ زور سے بجایا اور آواز لگائ ” امام صاحب … باہر آئیے گا ”

اندر سے کسی کرخت مستور نے کہا:
” کون ہے .. ؟؟ ”
میں نے کہا صلّوُ ہُوں … امام صاحب سے ملنا ہے .. ”
” گھر پہ نئیں ہیں …. !!! ”
“کہاں گئے ہیں … ؟؟؟ ”
” رائیوں کے ڈیرے پہ … !!!”

میں دروازے پہ کھڑا سوچنے لگا کہ ارائیوں کے ہاں کون سا ختم شریف ہو رہا ہے کہ مولوی صاحب سویرے سویرے ہی نکل لئے- فوتگی ہوتی تو اعلان ہوتا ، میلاد ، شبرات ، عرس ، گیارہویں خرچا مانگتی ہیں- پیاز کی فصل ابھی تیار نہ تھی ، اور جو اتری تھی ، چوھدری بیچ بٹا کے بیٹھے تھے-

سامنے والے گھر سے سلیمان قصائ سائیکل لے کر نکلا- میں نے پوچھا کہاں چلے ؟ وہ بولا ” ارائیوں کے ڈیرے پہ” اور کاٹھی پکڑ کے ہوا ہو گیا – میں نے بھاگتے ہوئے آواز دی ” ٹھہر جا مانی … مجھے بھی جانا ہے … ” وہ بولا ” چکّے میں ہوا کم ہے”- میں نے اُسے جا لیا اور پچھلی کاٹھی پہ گرتے ہوئے کہا ” اچھا میں ساہ روک کے بیٹھوں گا …. ”

نمبردار کے باغ تک پہنچے تو ڈھول شہنائ کی آواز کانوں تک پہنچی- حوصلہ ہوا کہ اچھا شگون ہے- تقریبِ شادی ہے- مولوی صاحب یقیناً اچھے موُڈ میں ہونگے- کھانا بھی کھا لونگا اور موقع پا کر بات بھی کر لونگا- کیا معلوم کوئ رستہ نکل ہی آئے-

موگھے کے پاس ارائیوں کی بارات مل گئ- ہر طرف دھول مٹّی کا راج تھا- سیکڑوں لوگ تھے- سجّے سنورے گھوڑے پر نو عمر دولھا سوار تھا-کمسن شہ بالے نے اسے پیچھے سے جکڑ رکھا تھا- خادُو میراثی اور دوسی مُسلّی ڈھول کے چمڑے پہ اپنا غصّہ اتار رہے تھے- شہنائ بجاتے استاد نذر کی رگیں باہر آ رہی تھیں- پوڈر سرخی میں لتھڑا ایک ادھیڑ عُمر کھُسرا پسینے سے شرابوُر دھریس ڈال رہا تھا-

گھڑی بھر کو یہ کان پھاڑ موسیقی تھمّی تو شرفاء ویل ودھائ کو آگے بڑھے- ایک ایک روپیہ ویل چڑھا کے یہ پانچ پانچ بار ہوکا دلواتے- سفید پوش چوّنیاں اٹھنیاں پھینکنے لگے اور بچّوں کا جمّ غفیر انہیں لوٹنے لگا- وہ دھینگا مشتی ہوئی کہ خدا کی پناہ- سامنے ڈیرے پر شامیانے نصب تھے- درجن بھر دیگوں میں شُپیتے چلائے جا رہے تھے-

ڈیرے کے قریب ہوئے تو آتش بازی شروع ہو گئ- چوھدریوں نے تھری ناٹ تھری کے راؤنڈ نکالے- گولے کی رسّی کو ماچس دکھا کر کھال میں پھینکا گیا- دھماکوں سے فضاء لرز اٹھی- یہ اعلان تھا کہ آج اس ڈیرے پر ایک مرد اور ایک عورت کی شادی ہے- آج کے بعد یہ میاں بیوی پکارے جائیں گے- میں نے سوچا کتنے لوگوں کی محنت صرف ہوتی ہے اس ایک شادی میں ، طلاق کے تین لفظ جس کا انت سنسکار کر دیتے ہیں-

اچانک میری نظر مولوی صاحب پر پڑی- وہ اونچی پگڑ باندھے تھڑے پر چوھدریوں کے شانہ بشانہ کھڑے تھے- چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا- ہاتھ میں دفترِ نکاح تھا- نیلے لٹھّے کے تہمند پر سفید کرتا خوب جچ رہا تھا- مجھے یقین ہو گیا کہ آج کا دن واقعی بڑا کرماں والا ہے-

اس روز اگر شُرلی نہ چلائ جاتی تو شاید میرا کام بن جاتا- مقدّر میں یہی لکھّا تھا- ہوا یوں کہ گولے پٹاخے والوں کی ایک شُرلی غلطی سے آسمان کی بجائے زمین پہ آ نکلی- گھوڑا خوف سے بدکا اور ٹیٹنے مارتا بھاگ کھڑا ہوا- ڈیرے پہ بندھے کتّوں نے جلتی پہ تیل ڈالا- شہہ بالہ گرا ، اسے معمولی چوٹ آئ- گھوڑا دولہے کو لیتا ہوا کماد کے کھیت میں جا گھُسّا- کچھ لوگ ہنسے ، باقی ڈھول شہنائ چمٹے شُپیتے چھوڑ کر کھیت کی طرف بھاگے- ہر طرف ہاہاکار مچ گئ-

بدقسمتی سے اس گھڑی مولوی صاحب کی نظر مجھ پہ پڑ گئ- وہ تھڑے پہ اکیلے رہ گئے تھے- پہلے ہی تناؤ میں تھے ، اب جو میں دکھائ دیا تو گھورتے ہوئے بولے:
“میں نحوست پہ یقین تو نہیں رکھتا تھا … مگر آج تجھے دیکھ کر خیال بدل گیا ہے … ”

میں نے کہا ” اس میں میرا کیا قصور امام صاحب … منحوس تو وہ ہیں جنہوں نے پٹاخے شرلیاں چلائیں”

وہ بولے ” جو شُرلی تو نے چھوڑی ہے وہ کم ہے ؟؟ سرعام طلاق اور سرعام رجوع – جب لوگ شریعت کا سرعام کھلواڑ کریں گے اور اس پر انہیں کوئ ندامت اور پریشانی بھی نہیں ہو گی تو قوم پر اس طرح کے عذاب تو آئیں گے-

میں نے کہا ” خدا کی قسم میں تو صرف آپ کو ملنے آیا تھا … اس لئے کہ اس معاملے کی کسی کو خبر نہیں .. سوائے آپ کے … اگر آپ میرا پردہ رکھ لیں … اور اسے اللہ پہ چھوڑ دیں تو میرا گھر بس جائے گا ”

وہ بولے ” تجھے کس نے کہا کہ کسی کو خبر نہیں …؟؟ جمعہ کو تُو پنڈ سے باھر تھا شاید …. میں نے تقریر کی ہے مسئلہء طلاق پہ …. تو ہی کہتا تھا ناں کہ مولوی لوگ طلاق کا مسئلہ بیان نہیں کرتے … چل خوش ہو جا … کھول کر بیان کر دیا … نام نئیں لیا تیرا پر لوگ گندم کھاتے ہیں … پِنڈ کے بچّے بچّے کو مالوم ہے کہ تو نے ووہٹی کو تین طلاق دی ہے … وہابیوں سے فتوی لے کر آیا ہے …. مطلقہ کو گھر میں وسا رکھا ہے … پُتّر اب تو پرھیں (جرگہ) ہی فیصلہ کرے گی تیرا ، ہمارے وَس سے تو بات باہر ہے”

مولوی صاحب کا بیان جاری تھا کہ کھیت کی جانب سے شوروغوغا ہوا- دولھا اور گھوڑا دونوں برامد ہو گئے تھے- دونوں بسلامت تھے- دولھے کو دوبارہ سہرا اوڑھایا جا رہا تھا- دَوسی اور خادُو ڈھول کا چمڑا کس رہے تھے- استاد نذر شہنائ تھام چکا تھا- کھُسرا دھریس مارنے کو تیّار تھا-

میں نے سلام کیا اور ٹوٹے قدموں سے واپس پِنڈ کی طرف چل دیا- شہنائ کی آواز اب بہت دُور سے آ رہی تھی ، جیسے بال کھولے کسی کی میّت پہ کوئ بین کرتا ہے-

کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح اپنے گھر کے دروازے پر پہنچا تو ایک اور مصیبت راستہ روکے کھڑی تھی-
دروازے پہ تالہ پڑا تھا-

اس نئ الجھن نے پریشانی کو سوا سیر کر دیا-

بے شمار واہمے مجھےجکڑنے لگے-ایسا پہلے کبھی نہ ہوا تھا کہ گھر کو باھر سے تالہ لگانا پڑے- الا یہ کہ ہمیں دوسرے گاؤں جانا ہوتا- گھر میں چوری ہونے کو تھا ہی کیا کہ تالے لگائے جاتے- عالیہ کو آس پڑوس جانا بھی ہوتا تو صرف لکڑی کا ہُڑکا لگاتی تھی- یہ اندر باھر دونوں طرف سے کھُل جاتا تھا-

میں پاگلوں کی طرح دروازے کی جھیت سے جھانکنے لگا- پھر آواز لگائ عالی …. دروازہ کھولو عالی … مگر یہ ایک بے وقوفانہ حرکت تھی … عالیہ اندر ہوتی تو باھر تالہ ہی کیوں لگا ہوتا؟

مُجھے چکّر آنے لگے اور میں دیوار کو تھامتا ہوا وہیں زمین پر بیٹھ گیا- یا خُدایا- عالیہ کہاں چلی گئ ؟ ایسے تو وہ کبھی نہ کرتی تھی- کیا وہ گھر چھوڑ کر چلی گئ؟ کیوں ؟ وہ بھی اس طرح اکیلی ؟ یا خدا رحم- اگر عالیہ نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا تو یقیناً میں برباد ہو جاؤں گا-

اپنی ہی تقدیر پر خود ماتم کرنے کے سوا کیا چارہ تھا- اپنی ہی لغزشوں کا ملال جگر کو تڑپانے لگا- آنے والے ہجر کی حبس سے دل گھبرانے لگا- موہوم امیدوں کے آسماں پر دُکھ کے سیاہ بادل چھائے تو آنکھوں کا ساون جی بھر کے برسا- میں گھٹنوں میں سر چھُپا کر ترس ترس کے رویا ، رو رو کے ترسا-

یہ سچ تھا کہ جرگہ کا فیصلہ میرے حق میں آنے کی امید نہیں تھی- مگر ابھی فیصلہ آیا بھی تو نہ تھا- میری مزاحمت ابھی باقی تھی- مجھے آخر دم تک لڑنا تھا- کیا معلوم عین وقت پر کامیابی مل جاتی ؟ ساتھ رہنے کی کوئ صورت پیدا ہو جاتی- امتحان کی گھڑی ختم ہو جاتی- عالیہ نے انتظار بھی نہ کیا ؟ مجھے چھوڑ کر چلی گئ ؟ آہ …. !!!

جانے کتنی دیر میں یونہی دیوار کے ساتھ سر ٹکائے بیٹھا رہا- رو رو کر دل کا بوجھ کسی قدر ہلکا ہوا تو کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا- چٹی مسیت سے ظہر کی اذان گونج رہی تھی- میں برسوں کے بیمار کی طرح آہستہ آہستہ مسجد کی جانب چل دیا-

یہاں کسی نے میری حالت پہ غور نہ کیا- میرے لئے تو جیسے پورا پِنڈ ہی اجنبی بن چکا تھا- نماز مولوی نزیر نے ہی پڑھائ- کوئ درجن بھر بوڑھے ، دو چار نوجوان اور نصف درجن بچّوں نے صف باندھی- نماز کے بعد مولوی صاحب نے چند مخصوص عربی دعائیں پڑھیں اور مونہہ پہ ہاتھ پھیر کر چلتے بنے- نمازی بھی جوتے سنبھالتے رخصت ہوئے- آنِ واحد میں مسجد خالی ہو گئ-

یہ اپنی عرضی پیش کرنے کا بہترین موقع تھا- میں اسے کسی صورت ضائع نہیں کرنا چاھتا تھا- چنانچہ ہاتھ اٹھا کے سر کو جُھکا کے رب سائیں کو پہلی بار چِٹھّی لکھنے کا ارادہ کیا:

” مولا سائیں … !!! آج پہلی بار تیرے حضور اپنی عرضی بھیج رہا ہوں- تو پاک ہے ، لجپال ہے ، گناہ گاروں خطاکاروں ، سب کا رب ہے- مانا کہ مولوی نزیر سے تیرے تعلقات زیادہ اچھے ہیں مگر میں بھی تیرا ہی بندہ ہوں- مسجد تیرا گھر ہے- ممبر تیرے خلیفہ کا تخت ہے- اس تخت پہ مولوی نزیر بیٹھا ہے تو کہیں مولوی بشیر – ایک مجھے گناہ گار کہ کر پیٹھ پہ تازیانے برساتا ہے تو دُوسرا ثواب کی بشارت دیتا ہے- ایک خدا ، ایک نبی ، ایک قران ہوتے ہوئے اتنا فرق ؟ ان دو مولویوں میں تو روزِ قیامت تک فیصلہ نہ ہو گا لیکن میرا کیا ہو گا ؟
مجھ بدحال پہ رحم کر- تو جانتا ہے کہ میں کس مشکل کا شکار ہوں- دکھ کے کس طوفان کا مجھے سامنا ہے- مجھے صحیح سلامت کنارے پہ لے آ میرے مولا- کسی تنکے کا ہی آسرا پیدا کر دے- کیا کروں ، کہاں جاؤں ؟ بجز تیرے کوئ مددگار نہیں- کوئ محرم راز نہیں جس کے سامنے دل کا بوجھ ہلکا کروں- دیوانوں کی طرح گلیوں میں گھوم پھر کر لوگوں سے کیسے پوچھوں کہ میری بیوی کہاں چلی گئ ؟ اپنا ہی تماشا لگے گا- لوگوں کے ٹھٹھّے سے مجھے بچا میرے مولا- تو بڑا رحیم و کریم ہے-

دعا کے بعد طبیعت کچھ ہلکی ہوئ- فیصلہ کیا کہ عالیہ دنیا کے کسی کونے میں بھی ہوئ ، ایک بار اسے ضرور ڈھونڈ نکالوں گا- انہی سوچوں میں ڈوبا ، خود سے باتیں کرتا ایک بار پھر اپنے گھر کے دروازے پہ جا کھڑا ہوا- گھڑی بھر یہاں لاچار کھڑا رہا- پھر اچانک نظر چٹخنی پر پڑی- دل خوشی سے دھڑکا- تالہ کھل چکا تھا- میرے مونہہ سے بے ساختہ نکلا … واہ صلّو ، توُ تو سچ میں سائیں بن گیا- رب نے سن لی تیری فریاد …… !!! ”

میں نے جلدی سے ہُڑکا کھولا اور دیوانوں کی طرح گھر میں داخل ہو گیا- صحن میں آ کے زور سے آواز دی … عالی کہاں ہو عالی … میری آواز سن کر وہ کمرے سے باھر نکلی- اس کا چہرہ کسی کملائے ہوئے پھول کی طرح لٹک رہا تھا ، نیم وا آنکھوں میں اجنبیّت کے سائے تھے- اس نے کچھ دیر مجھے دیکھا جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو پھر خاموشی سے واپس کمرے میں چلی گئ-

میں اس کے پیچھے پیچھے چلا آیا اور ہانپتے ہوئے پوچھا:

” تو کہاں چلی گئ تھی عالی … تالہ کیوں لگایا … کیوں پریشان کیا مجھے … کہاں تھی توُ… ؟؟ ”

اس نے نیم وا ہونٹوں سے کچھ کہنے کی کوشش کی پھر پُھوٹ پُھوٹ کر رو دی- میں خاموش بیٹھا اسے دیکھتا رہا- جب اچھی طرح دل کی بھڑاس نکال چکی تو بولی:

” اڈّے پہ گئ تھی میں … پِنڈ کی بَس پکڑنے … چابی دینے آئ ہوں تجھے .. مجھے ماپوں کے گھر جانا ہے صلّو .. اب تیرے ساتھ نہیں رہنا مجھے … پورے پِنڈ کو معلوم ہے کہ تو میرا سائیں نہیں رہا … تونے دھوکا دیا مجھے … میرے ماں پیو کو دھوکہ دیا … پنڈ کی مائیاں کہتی ہیں … تو طلاقن ہے … اپنے سائیں کو بھی گناہگار کر رہی ہے …. امام صاب کی بی بی بھی یہی کہتی ہے … اس سے تو اچھا تھا مجھے مار دیتا اپنے ہاتھوں سے .. سکون سے قبر میں جا کے تو پڑ جاتی …. !! ”

میں اس کے قریب بیٹھ گیا پھر بڑی ملائمت سے کہا:

“مت رو عالی … میں دنیا کے سب دکھ سہہ سکتا ہوں لیکن تیرے آنسو نہیں …. جھوٹ بولتے ہیں لوگ …. ہمارے بیچ کوئ طلاق نہیں ہوئ … ہے کوئ ثبوت ؟ کوئ کاغذ ، کوئ سند ، اشٹام ؟ کچھ نئیں … ہاں ساتھ رہنے کا ثبوت موجود ہے- ہمارا نکاح نامہ- مولوی بشیر کا فتوی بھی موجود ہے … بوہت بڑے عالم کا فتوی ہے … پکّی مُہر لگی ہے اس پہ …. لکھا ہے اس میں کہ ہمارے بیچ صرف ایک طلاق واقع ہوئ ہے … اور .. !!! ”

وہ بے یقینی سے مجھے دیکھتی ہوئ بولی :

“فتوی ہے تیرے پاس تو دکھا ناں امام صاب کو؟ چھپاتا کیوں ہے ؟ امام صاب کی بیوی سکینہ آئ تھی … کہ رہی تھی کہ توُ وہابیوں سے لے کے آیا ہے فتوی؟ اور وہابی تو …. سگی دادی نانی سے نکاح کا فتوی بھی دیتے ہیں … ”

میں کچھ دیر سر جھکائے سوچتا رہا پھر کہا :

” جھوٹ بولتے ہیں لوگ- آج تک کسی وہابی نے نانی دادی سے نکاح کیا ؟ سب باتیں بنا رکھی ہیں ان لوگوں نے ایک دوجے کو نیچا دکھانے کےلئے … تجھے بسانے کےلئے جو شرط مولوی نزیر نے رکھّی تھی وہ سناؤں تو تیرے ہوش اُڑ جائیں … مجبوراً لایا ہوں میں وہابیوں سے فتوی …. توُ رو مت … جب تک میں زندہ ہوں کوئ ہم کو جدا نئیں کر سکتا . … ”

میری باتوں سے اسے وقتی ڈھارس ضرور ملی ، لیکن بے یقینی کا بخار نہ اتر سکا- کچھ ہی دیر بعد جب وہ چولھانے میں میرے لئے چائے بنا رہی تھی – میں پیڑھا گھسیٹتے ہوئے اس کے قریب ہوا اور کہا:

” آج رب نے میری فریاد سن لی عالی .. یہ تالہ جو تو نے آج لگایا تھا کسی کا پِیو وی نہ کھول سکتا … ”

وہ دیگچی میں پوّا ہلاتے ہوئے بولی:

ایک بار اس گھر کو تالہ وج گیا ناں … قیامت تک نئیں کھُلے گا- توُ امام صاب سے بات کر – وہ راضی ہوئے تو ٹھیک ورنہ یاد رکھ- بے حیاء بن کے مجھے وی نئیں رہنا تیرے ساتھ”

میرے گلے میں ایک بار پھر گرہ سی پڑنے لگی-
اگلے روز عشاء کی اذان کے بعد وہ طوفان آ ہی گیا جس کا خطرہ تھا- پِنڈ کےچوکیدار نے اطلاع دی کہ نماز کے بعد مجھے “پرھیں” (جرگہ) کے سامنے پیش ہونا ہو گا- مولوی نزیر کی قیادت میں ایک پوری عدالت میرے خلاف بیٹھ چکی تھی- ایک ایسا جرگہ جس کا فیصلہ ازل سے ہی میرے خلاف لکھّا جا چُکا تھا-

نماز ہو چکی تو مجھے مسجد کے حجرے میں بلایا گیا- حُجرے میں مولوی نزیر کے علاوہ نمبردار اللہ یار ، سرُو سرگانا ، بالوُ ارائیں ، مہر خورشید اور گاما چوکیدار میرے منتظر تھے-

میں سلام کر کے خاموشی سے بیٹھ گیا- مولوی نزیر نے کسی سیشن جج کی طرح میرے خلاف دفعات پڑھ کر سنائیں:

” بھائیو … بات یہ ہے کہ یہ بندہ نام جس کا صلاح الدین ہے … مسجد کے کوارٹر میں رہتا ہے- اسلامی کیسٹ ہاؤس پہ بیٹھتا ہے- آپ سب اسے اچھی طراں جانتے ہو … آج کل یہ بندہ پورے پِنڈ کا دین ایمان بگاڑنے پہ تُلا ہے- اس نے پہلے ووہٹی کو طلاق دی … فیر مجھ سے مسئلہ دریافت کیا … یہ تو ہو گیا پہلا گُناہ … دُوجی چوّل اس نے یہ ماری کہ مجھ سے طلاق کی تصدیق کروا کے … پورا مسئلہ پوُچھ کے سمجھ کے مطلقہ کو گھر لے آیا … اسے کہتے ہیں رستہ پوُچھ کے کھڈّے میں گرنا … تِیسرا گُناہ … اپنے مسلک کے فتوے کو چھوڑ کے … وہابیوں کے پنڈ گیا … اور مولی بشیر سے اِک غلط فتوی لے کے آ گیا … چوتھا گُناہ … اب اسی مُطلقہ کو گھر میں بٹھا کے نہ صرف شرع کا مذاق اڑا رہا ہے … بلکہ زناء بالرضاء کا مرتکب بھی ہو رہا ہے ”

میں سر جھُکائے خاموشی سے سنتا رہا- مولوی نزیر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:

” اب ڈھٹائ ویکھو اس شخص کی … میں نے اسے خوفِ خدا دلانے … سمجھانے کی کوشش کی تو بجائے شرمندہ ہونے کے … کہنے لگا ووہٹی تو اب واپس نہیں جائے گی مولوی صاحب … مطلب چوری اور سینہ زوری …. اب سارا دِن اس عورت کے ساتھ کبھی اِدھر مٹک رہا ہے … کبھی اُدھر جا رہا ہے …. کوئ حیاء نئیں … کوئ خوفِ خدا نئیں … یا تو آپ لوگ اس بندے کو سمجھاّؤ … یا فیر …. میں ہی مسیت چھوڑ کے چلا جاتا ہوں … جب شرع کی کوئ عزّت ہی نئیں … تو امامت کس کام کی … بند کرو یہ مسیتیں … تالے لگاؤ مدرسوں کو ..!! ”
نمبردار صاحب نے کہا:

” ایک منٹ مولی صاب … کیوں وئ صلّو …. کیا مسئلہ ہے ؟؟ یار اچھّے خاصے عزّت دار بندے ہو … مسیت کے کوارٹر میں رہتے ہو … اسلامی کیسٹیں ، قیدے سپارے ویچتے ہو … اپنا نئیں تو ہماری ہی عزّت کا کچھ خیال کر لو … ھم دِھیوں بھینوں والے لوگ ہیں یار … !!! ”
میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ مولوی نزیر نے تاریخ کے اوراق پلٹنے شروع کر دئے :

” مسیت کے سامنے مسکواکیں بیچتا تھا یہ بندہ …. میں نے اسے اسلامی کیسٹ ہاؤس پہ بٹھایا …. یہ ووھٹی لے کے پِنڈ آیا … سَکّے چاچے نے عاق کر دِیا … سر چھپانے کی جاء نہ تھی …. مسیت کے کوارٹر میں جگہ دی اسے …. اور اب یہ فتوے دکھاتا ہے مُجھے ؟؟ …. وہ بھی مولی بشیر کے …. بتاؤ …. رہنا حنفیوں کے پِنڈ میں ، فتوے سلفیوں کے دکھانا …. ہے کوئ بات ہے کرن والی ؟؟ ”

میں نے کہا:

” سب سے پہلے میں آپ ہی کے پاس آیا تھا مولوی صاحب …. آپ نے کون سا رستہ دکھایا مُجھے ؟؟ حلالے کا ؟؟ ”

وہ بولے:

” تو اور کون سا رستہ دکھاتا ؟؟ اللہ کا قران کہتا ہے … جب تک مطلقہ دوجا نکاح نئیں کرے گی … طلاق دینے والے مرد کےلئے حلال نئیں ہو سکتی … اب لوگ اسے حلالہ کہتے ہیں تو میں کیا کروں؟ ”

اس پر سرگانے نے مفت مشورہ دیا:

” اپنا …. ارشاد شاہ صاحب حلالہ کرتے ہیں ناں … بتیس چک والے”

چوکیدار صاحب اور مہر خورشید نے “آہو آہو” کہ کر ان کی تصدیق کی مگر مولوی صاحب پھِر کوُد پڑے :

” لیکن شاہ صاحب … سات روز کا وعدہ کر کے … عورت کو ساٹھ روز تک گھر میں بھی رکھتے ہیں … وہ طیفا سنیار ہے ناں … سترہ چک والا .. اس کی بیوی تو اج تک واپس ای نئیں کی … ”

اس پر بالُو گُجّر نے دفاع کیا:

“جرنل ضیاء صاب وی 3 مہینے کےلئے آئے تھے … 77 سے سن 86 آ گیا ہے … ہالے تک بیٹھے ہیں … جیسا حاکم ویسی عوام … !!! ”

میں نے تڑپ کر کہا:

” نہیں کرانا مجھے حلالہ ولالہ … میں عالیہ کا نام بھی کسی اور کے ساتھ نئیں سننا چاھتا …. اسی لئے اپنے مسلک کا پگڑ اتار کر مولبی بشیر کے پاس گیا تھا .. کوٹاں والا …. آخر اس فتوے کو مان لینے میں مسئلہ کیا ہے ؟؟ ”

مولوی صاحب بولے:

” بہت وڈّا مسئلہ ہے پُتّر .. مسلک لگام کی طرح ہوتا ہے … لگام نکل جائے تو گھوڑا بھی اڑیل ہو جاتا ہے …. مالک کی پرواہ چھوڑ دیتا ہے … ہم تو فیر بھی انسان ہیں … اشرف المخلوقات ہیں … مسلمان ہیں … اہلِ سُنّت ہیں … حنفی ہیں … بریلوی ہیں … ہمارا ایک مسلک ہے …. ایک امام ہے …. مولی بشیر کا کون امام ہے ؟؟ ”

میں نے کہا:

” وہ خوُد امام ہے …. اک مینارہ مسجد میں … !! ”

اس پر مولوی صاحب تڑپ اُٹھے:

” امام یا پیش امام ؟؟ … پُتّر سَت مناظرے جیتے ہیں میں نے مولی بشیر سے .. ہر بار کنڈ لگائ اوس کھسّم کی … لیکن توُ نے … توُ نے میری کنڈ لگوا دِی اوس غیر مُقلّد کے آگے … !! ”

بالُو ارائیں نے تیل چھڑکا:

” صرف آپ کی نہیں مولی صاب …. پوُرے پِنڈ کی کنڈ لگوائ ہے اس نحش نے ”

میں نے کہا:

” یعنی آپ لوگ صرف اپنی کَنڈ بچانے کےلئے میرا گھر توڑنے چلے ہو … ؟؟ کمال ہے ؟؟ سوچو …. میں تو مرد ہوں … اوکھی سوکھی گزار لوں گا …. عالیہ کا کیا ہوگا ؟؟ غریب ماں باپ کی بیٹی ہے … مر جائیں گے وہ لوگ … اگر بوہت ہی بڑا گُناہ ہو گیا ہے تو مجھے سنگسار کر دو …. 80 دُرّے لگا لو … میں اف بھی نئیں کرونگا … لیکن میرے گناہ کی سزا اُس غریب کو مت دو … اس کے ماپے مر جائیں گے … وہ مر جائے گی …. اگر ایک فتوی لے ہی آیا ہوں تو مان لو اسے … !! ”

مولوی صاحب تاؤ کھا کر بولے:

“او پائ کیسے مان لیں …. جس بندے کا کوئ امام اِی نئیں …. کوئ آگا پیچھا نہیں … کیسے مان لیں اس کا فتوی ؟؟ کمال ہے وئ … !!!”

میں نے کہا:

” اگر اس کا کوئ امام نہیں تو آپ کا امام بھی صرف آپ کی ضِد ہے … اور اس ضد میں پِس رہے ہیں ہم غریب لوگ …. کہاں جائیں؟؟ … ہر رستے پر ایک کھڈّا کھود رکھا ہے …. پھر جب کوئ غریب اس کھڈّے میں گرتا ہے … تو بجائے اسے نکالنے کے … اوپر سے اور مٹّی ڈالنے لگتے ہو …. مانتا ہوں مجھ سے طلاق کا گناہ سرزد ہوا … یہ بھی مانتا ہوں کہ میں نے بارڈر پار جا کر دوسرے مسلک کا دروازہ کھٹکایا … میرا خیال تھا کہ میرا گھر بس جائے گا …. اللہ کے دین میں توبہ کا کوئ دروازہ کھُل جائے گا … مگر جب دروازہ کھُلا تو سامنے آپ ہی لوگ کھڑے تھے … ایک نیا کھڈّا کھود کر …. معاف کر دو بھائیو …. بخش دو مجھے …. تھک گیا ہوں میں بھاگ بھاگ کر …. ”

مہر خورشید نے کاروائ سمیٹے ہوئے ارشاد کیا:

” عالیہ کو اُس کے پِنڈ چھوڑ آؤ صلّو … نہ خود گنہگار ہو …. نہ ھم سب کو گنہگار کرو … یہی دین داری کا تقاضا ہے … اگر دین دار لوگ ہی شرع کا خیال نئیں کریں گے تو باقی پِنڈ والے تو دھوتی موڈھے پہ رکھ لیں گے … !!!”

مولوی صاحب بولے:

” اور اگر ووھٹی نئیں چھوڑنی …. فیر مسلک بدل لے …. کوٹاں والے جا کے غیر مُقلّد ہو جا … فیر بھلے داڑھی دُھنّی تک بڑھا … یا شلوار گھٹنوں تک چڑھا …. ہم نئیں پوُچھیں گے تجھے … اپنی مرضی کر … !! ”

میں نے جیب سے چابیوں کا گُچھّا نکال کر پھینکتے ہوئے کہا:

” یہ رہی کوارٹر اور دوکان کی چابی …. مسلک کی اجلی چادر پر لگا یہ داغ کل سویرے مِٹ جائے گا …. چھوڑ آؤں گا اس کرماں سڑی کو اس کے پِنڈ … اور واپس میں بھی نہیں آؤں گا

اس رات سردی قدرے کم تھی- آسمان صاف تھا اور چاند پورا چمک رہا تھا- میں نے چارپائیاں باھر صحن میں نکالیں اور انہیں ساتھ ساتھ جوڑ کے اوپر بڑی مچھردانی لگا دی- پھر ٹیپ ریکارڈر اور گانوں کی کیسٹیں اٹھا کے باہر لے آیا-

یہ سب انتظام جرگے کی تلخی مٹانے کےلئے تھا- کل کیا ہو گا یہ بھول کر میں تازہ دودھ لینے بخشو دودھی کے ہاں چلا آیا-
دودھ لے کے واپس آیا تو عالیہ مچھر دانی اتار رہی تھی- میں نے کہا :
” یہ کیا کر رہی ہو عالی- مچھر تنگ کریں گے”

اس نے اپنی چارپائ مجھ سے دور گھسیٹ لی اور بولی:
” آج سے ھم الگ الگ سوئیں گے صلّو …. جب تک امام صاحب اجازت نہ دیں گے … ہم الگ الگ ہی سوئیں گے … !!!”

میں ایک ٹھنڈی سانس لے کر چارپائ پہ جا گرا اور آسمان کے تارے گننے لگا- پھر ٹیپ ریکارڈر اٹھا کر اپنے سینے پہ رکھا اور اس کے بٹنوں سے کھیلنے لگا-

ھم دونوں الگ الگ چارپائیوں پہ لیٹے اپنی اپنی سوچ کے دھاروں میں بہے جا رہے تھے- میرے کانوں میں مولوی بشیر سلفی کے الفاظ گونج رہے تھے:

” دیکھ صلاح الدین …. رب تعالی کا فرمان ہے کہ بیوی تم سے بغاوت کر کے کسی اور سے یارانہ قائم کر لے تو اسے تنبہہ کرو … پھر بھی نہ مانے تو سختی کرو … پھر بھی نہ سنے تو بستر الگ کر لو … پھر بھی وسیبا نہ ہو تو دونوں خاندانوں سے ایک ایک شخص صلح صفائ کےلئے آگے بڑھے … جہاں تک ممکن ہو تصفیے کی کوشش کرے …. پھر بھی بات نہ بنے تو مرد صرف ایک طلاق دے …. وہ بھی اس وقت جب عورت حیض و نفاس سے پاک حالت میں ہو … پھر جب دوبارہ پاک ہو تو بہتر ہے رجوع کر لے … اگر بات نہ بنے تو دوسری طلاق دے … پھر ایک حیض تک انتظار کرے … اس کے بعد یا تو احسن طریقے سے رجوع کر لے یا اچھے طریقے سے جدا کر دے- طلاق طلاق کے تین فائرکر کے عورت کو گھر سے بے دخل کر دینا جہلاء کا طریقہ ہے- ھم کیسے مسلمان ہیں کہ پہلے بنا سوچے سمجھے طلاق دیتے ہیں پھر خالی بستر پہ تڑپنے لگتے ہیں ”

عالیہ کے ساتھ گزارے ہوئے خوبصورت لمحات ایک فلم کی صورت میرے دماغ کی اسکرین پہ چلنے لگے- کتنی پرسکون زندگی تھی- ھم دونوں کا بس پہ ساتھ ساتھ بیٹھ کے پنڈ دھوبیاں جانا- وہاں سے مکئ کی چھلیاں گنے اور مالٹے لے کر آنا- دن میں کئ بار دکان کا شٹر گرا کے میرا گھر میں چلے آنا- کھٹّی لسّی کے ساتھ رات کی بچی تندور کی روٹی کھانا- عالیہ کا کوئلوں پہ بھُنّے بینگن اور کچّے تربوز کا بھُرتہ بنانا اور ہمارا مل جل کے کھانا-

چھوٹی عید پر ہم امام بخش ترکھان کے ہاں سے سیویوں والی مشین لے کے آئے تھے- کتنے مزے کی سوّیاں بنی تھیں- روئ کے سیزن میں عالیہ نے مہر محمد کے ہاں کپاس کی چنائ کی تھی- بیس روپے کی پھُٹّی بیچ کر وہ کتنی خوش تھی- اس روز رات دیر تک وہ ان پیسوں کو خرچ کرنے کے منصوبے بناتی رہی-

جس روز میں سوکھی لکڑیاں کاٹنے کو سائیوں والے کیکر پہ چڑھا تھا ، وہ نیچے کھڑی کتنا ڈر رہی تھی ، میں اسے مزید ڈرانے کےلئے ٹہنے کو زور زور سے ہلا رہا تھا- اس وقت ہمارا ویاہ نیا نیا تھا- کتنی حسین خوشیاں تھیں ، کتنی مختصر خوشیاں تھیں-

میں نے ٹیپ کا بٹن دبایا تو نورجہاں کی پرسوز آواز ماحول کی خامشی کو درد سے بھرنے لگی-

بے بسوں پر یہ ستم
خوب زمانے نے کیا
کھیل کھیلا تھا محبّت کا
ادھورا ہی رہا
ہائے تقدیر کہ
تقدیر سے پورا نہ ہوا
ایسے آنی تھی جدائ
مجھے معلوم نہ تھا
آج کی رات
سازِ دلِ پُردرد نہ چھیڑ
آج کی رات …. !!!

اب ہیں ارمانوں پہ چھائے
ہوئے بادل کالے
پھوٹ کر رسنے لگے ہیں
مرے دل کے چھالے
آنکھ بھر آئ
چھلکنے کو ہیں اب یہ پیالے
مسکرائیں گے مرے
حال پہ دنیا والے
آج کی رات
سازِ دلِ پردرد نہ چھیڑ
آج کی رات …. !!!

جوں جوں رات ڈھل رہی تھی ، ہجر کا خوف دماغ کو نئے منصوبوں پہ قائل کر رہا تھا- ضمیر کی آنکھ بچا کے دل و دماغ نئے ارادوں کے تانے بانے بُن رہے تھے- مدفون امیدوں کی قبر کشائ کر کے ان میں نئے آسروں کی روح پھونکی جا رہی تھی-جس حکیم نے یہ ٹوٹا جوڑ باندھا تھا اسی سے شفاء کی کوئ امید رکھّی جا سکتی تھی- میں بے تابی سے صبحِ صادق کا انتظار کرنے لگا-

سورج نے کنّی نکالی تو میں دوسی مُسلّی کے ہاں چلا گیا- اس سے ریڑھی کے معاملات طے کئے- گھر واپس آیا تو چائے اور پراٹھوں کی مہک سے آنگن دہک رہا تھا-

عالیہ سوکھی لکڑیاں توڑ مروڑ کے چولھے میں ڈال رہی تھی- سفید دھویں میں چھلکتا اس کا سُتا ہوا چہرہ رات بھر کے جگراتے کی گواہی دے رہا تھا- میرے پیالے میں چائے انڈیلتے ہوئے وہ بولی:

” تو آج جائے گا ناں مولبی صاب کے پاس؟ … کیا پتّہ مان ہی جائیں؟”

میں نے چائے کی تلخی زبان پہ محسوس کرتے ہوئےکہا:

” مولبی صاب تو قیامت تک نئیں مانیں گے … کل ان کی طرف سے پکّی ناں ہو گئ ہے … بلکہ پورے پِنڈ کی طرف سے ناں ہو گئی ہے … مُلاں پُور کے خُدا ، کوٹاں والے خُداؤں کا فتوی ماننے سے انکاری ہیں- ان کا فیصلہ ہے کہ سورج نکلتے ہی ہم ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں … لیکن تو فکر نہ کر … ہم ہونگے نئیں .. !!”

وہ کچھ دیر حیرت اور تاسف سے مجھے دیکھتی رہی پھر روہانسی ہو کر بولی :

” سب کچھ ملُوم ہونے کے باوجود تو گناہ کو تیار بیٹھا ہے؟ خُدا کا خوف کر …. کیوں رب سائیں کی نراضگی مول لیتا ہے؟ … اس کی بارگاہ کا رستہ بند ہو گیا تو کدھر جائیں گے ھم ؟؟”

میں نے کہا:

” تیرا کیا خیال ہے؟ اس کی بارگاہ میں جانے کا صرف ایک ہی رستہ ہے؟ … وہی جس پہ مولوی نزیر کھڑا ہے؟؟ نئیں عالی … اور بھی ہیں رستے … سًنّی ، شیعہ ، وہابی ، دیوبندی … ہر رستے پہ ایک مولبی کھڑا ہے … تا کہ بندے کو اس کی بارگاہ تک چھوڑ کے آئے … خدا ایک ہی ہے … رستے الگ الگ ہیں … ہم کوئ سَوکھا رستہ پھڑ لیتے ہیں … !!! ”

وہ دھواں دھواں چہرے سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی ” تیری باتیں میری سمجھ میں نئیں آتیں .. ڈرنے لگی ہوں میں .. خود بھی کافر ہو گا اور مجھے وی کرائے گا … !! ”

میں نے کہا ” میں وی ڈرنے لگا ہوں عالی … کہیں تیری محبّت میں پاگل ہو کے سائیں نہ بن جاؤں … دیکھ جب کوئ سائیں بن جاتا ہے ناں … تو اس کے دل سے عورت کی محّبت مٹ جاتی ہے …. وہ سچّے محبوب کا عاشق بن جاتا ہے ….”

وہ بولی ” تو بھلے کُش وی بن جا پر مجھے چھڈ کے آ واپس … نئیں رہنا اب اس پِنڈ میں … رب وی نراض اور جگ وی …!!”

میں نے کہا ” میں دوسی مُسلّی کو بول آیا ہوں- وہ اپنی منجیاں ، ڈبّے ، بکسے دھوبیاں پہنچا دے گا … میں آج ہی کوٹاں والا جاؤں گا … مولبی بشیر سے ملنے … اسے کہوں گا کہ فتوی دیا ہے تو اب گھر وی بسا کے دے … کوئ کاروبار دلا دے … کیسٹوں والی دکان ہی کھول کے دے دے … فیر ہم دونوں کوٹاں والا چلے جائیں گے … نیا پِنڈ … نیا گھر … نئ دوکان … وہاں جگ وی راضی ہو گا …. اور رب وی …!!”

عالیہ نے کوئ جواب نہ دیا اور خاموشی سے چولھے کی راکھ کریدنے لگی- میری طرح شاید وہ بھی راکھ سے امید کی کوی چنگاری ہی ڈھونڈ رہی تھی-
میں اسی روز عالیہ کو لیکر پِنڈ دھوبیاں چلا گیا- عالیہ کے گھر والوں نے بڑی حیرت سے ہمارا استقبال کیا- سوائے خاموشی کے ہمارے پاس کوئ عذر نہ تھا- دوپہر تک دوسی گھر کا سامان بھی لے آیا- حالات ایسے تھے کہ کسی کو کچھ بتانا بھی مشکل تھا اور چھپانا بھی-

میں نے عالیہ کو حوصلہ دیا کہ ” کوٹاں والا ” پِنڈ جا رہا ہوں- اللہ نے چاہا تو گھر اور کاروبار دونوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا- پھر ہم بھی وہیں شفٹ ہو جائیں گے- تو نے کسی کو کچھ نئیں بتانا … ان شاءاللہ شام تک خوش خبری سناؤں گا تجھے …. ”

میں نے اڈے پہ جا کے ماموں کانجن کی بس پکڑی اور دو گھنٹے بعد کوٹاں والا جا اترا- پنڈ میں کوئ جاننے والا تو تھا نہیں ، سیدھا اک مینارہ مسجد جا پہنچا- گیٹ پر بھاری بھر کم تالہ لٹک رہا تھا- میں نے جھِیت سے اندر جھانکنے کی کوشش کی تو پیچھے سے آواز آئ:

” پائ … استنجہ خانہ دوسری طرف ہے … !!!”

میں فوراً پلٹا اور مسجد کے پیچھے سے ہوتا ہوا بازار کی طرف نکل گیا- اکا دکا دکانیں کھُلی تھیں- گلیوں میں آوارہ گردی کے سوا کوئ چارہ نہ تھا- ظہر کی نماز سے پہلے مسجد کھلنے کے امکانات صفر تھے اور نماز میں ابھی تین گھنٹے باقی تھے-

کچھ دیر بازار میں مٹر گشت کے بعد ایک شناسا چہرہ نظر آ ہی گیا- مولوی شریف سلفی- کمالیہ کے ایک مناظرے میں اس سے ملاقات ہوئ تھی-

شریف بڑے تپاک سے مِلا- دکان سے اٹھ کر مجھ سے بغل گیر ہوا- اور چائے وغیرہ کا آرڈر کیا- بازار میں اس کی اسلامی کیسٹوں اور کتابوں کی دکان تھی- ساتھ میں ٹوپی ، تسبیح ، اجوہ ، کلونجی، شہد ، سرمہ اور عطر بھی سجا رکھا تھا- کافی بڑی دکان تھی-

شریف بڑا ہی گپ باز مولوی تھا- کچھ دیر ادھر ادھر کی ہانکنے کے بعد کہنے لگا :

” خیر تو ہے ؟ اج سویرے سویرے؟ … مطبل کوٹاں والا میں کیا کر رہا ہے تو ؟”

میں نے دکان کے سامنے کرسی پہ ڈھیر ہوتے ہوئے کہا:

” فضیلة الشیخ جناب بشیر سلفی مد ظلہ سے ملنے آیا تھا- مسیت ہی بند ہے تمہاری”

” خیریت ؟ … کوئ ریکارڈنگ شیکارڈنگ ہے ؟ ٹیپ کیسٹ کدھر ہے تیری …؟؟ ”

میں نے ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا ” بس یار …. مقدر کی کیسٹ ہی الجھ گئ ہے اپنی … گھر اجاڑ کے بیٹھا ہوں … رب ہی کوئ آسرا کرے …”

وہ معنی خیز نظروں سے مجھے گھُورتے ہوئے بولا:

” خیر ہے ؟ .. مطبل …. کوئ طلاق شلاق کا کیس تو نئیں ہے ….؟؟ ”

میں نے کہا: “ہاں یار … طلاق کا ہی کیس ہے … لیکن کیس بگڑ گیا ہے … کچھ میرےپِنڈ کے مولوی نے بگاڑا …. کچھ تیرے پِنڈ کے مولوی نے … اب نہ ادھر کا ہوں نہ اُدھر کا … !!!”

وہ میرے پاس بیٹھتے ہوئے بولا:

” بات کیا یے ؟ صاف صاف بتا”

میں نے چائے کی پیالی رکھتے ہوئے کہا:

” غُصّے اور غلط فہمی میں طلاق دے بیٹھا ہوں اپنی ووہٹی کو … ہفتہ پہلے … شیخ بشیر صاحب سے فتوی لیکر گیا تھا کہ صرف ایک طلاق واقع ہوئ ہے … امید تھی گھر بس جائے گا … لیکن ابھی تک در بدر پھرتا ہوں ..”

وہ آنکھ مارتے ہوئے بولا :
“مطبل … لڑکی والے نئیں مان رہے یا …. لڑکے والے ؟؟ ”

میں نے کہا ” پنڈ کا مولوی نہیں مان رہا ….. باقی تو سارا جگ راضی ہے … !!”

وہ ایک قہقہہ لگا کے بولا :

” اِک لطیفہ ہے کہ جنگل میں گیدڑ کو اخبار کا ٹکڑا مل گیا …. اس نے تمام گیدڑوں میں جا کے اعلان کیا کہ مبارک ہو سجنو … آج سے ہمیں پِنڈ میں داخلے کا پرمٹ مل گیا ہے … میرے پیچھے پیچھے قطار بنا کے چلے آؤ … تو جناب گیدڑوں کا غول اس کے پیچھے چل پڑا- اب جو گاؤں کے قریب ہوئے تو لوگوں نے اُٹھا لئے سوٹے … یہ ویکھ کے گیدڑ واپس بھاگا …. سجنوں نے کہا استاد بھاگتا کیوں ہے ؟؟ پرمٹ دکھا ناں … کہنے لگا بے وقوفو … یہ سب انگوٹھا چھاپ ہیں … ان پڑھ جاھل ہیں … مطبل .. پڑھا لکھا تو ان میں ہے کوئ نئیں … کس کو دکھاؤں پرمٹ … ؟؟ تیرے ساتھ بھی وُہی ہوئ ہے … گیدڑ والی … مطبل … جاہل کیا جانیں شیخ بشیر کے فتووں کو … خیر تو فکر نہ کر … میرے پاس مسئلہ تین طلاق پر مستند کتابیں موجود ہیں …. گارنٹی دیتا ہوں- اللہ قسم ایسے ایسے دلائل ہیں کہ تیرے مولبی کی ماں ہی مر جائے گی … !!”

میں نے کہا:

” دیکھ شرِیف- مجھے مولوی کی ماں نہیں مارنی- میں تو پہلے ہی پنڈ سے بھاگ چکا ہوں- اب گیدڑ کہو یا شیر- مجھ میں اس مولبی کا مقابلہ کرنے کی ہمّت نہیں”

وہ بولا ” ہمّت نئیں تو فیر کرا لے حلالہ … کر دے اپنے مولبی کی چاہ پوُری … او وِیر … جب تک کلمہء حق لے کے باطل کے سامنے کھڑے نئیں ہو گے ناں … یونہی خوار ہوتے رہو گے- اچھا اگر توُ خود نئیں بول سکتا ناں … شیخ بشیر سلفی کو لے جا … مناظرہ کرا لے اپنے مولبی سے … مطبل کیسٹ وی ریکارڈ ہو جائے گی … اور تیرے مولبی کا ریکارڈ وی وَج جائے گا … !!”

میں نے کہا:

” دس سال ہو گئے مناظروں کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے … آج تک میں نے کسی مولوی کا ریکارڈ وجتے نئیں دیکھا- ہارے گا تو ریکارڈ وجّے گا ناں ؟؟ ریکارڈ تو ہمارا وجتا ہے … جیسے میرا وج رہا ہے … او بھائ … تو جلتی پہ تیل نہ ڈال … میرا گھر بسنے دے … میں سلفی مسلک اختیار کرنا چاھتا ہوں … اسی لئے آیا ہوں مولوی بشیر کے پاس”

اس کے چہرے پہ چمک بیدار ہوئ- وہ کرسی سے اٹھ کر میرے گلے لگ گیا اور کافی دیر تک میری پیٹھ تھپتھپاتا رہا- پھر چھوٹے کو آواز دی اور پیسے پکڑا کے کہا :
” شوکی … او سامنے جیدے کی دکان سے پاؤ جلیبی اور دو سیون اپ پھڑ کے لے آ … ”

میں نے کہا ” کیوں گلہ خراب کرتا ہے بھائ … رہنے دے … پوری بات تو سُن لے میری …. !!”

وہ میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے بولا:

” کُبڑے کو لت وجّی اور اس کا کُب نکل گیا … ماشاءاللہ … سینے میں ٹھنڈ ڈال دی یار توُنے … رب کا شکر ادا کر جس نے تجھے ھدایت بخشی … !!”

میں نے کہا :
“بس شکر ہے اس کی ذات کا … اب اگر کوٹاں والا میں ایک چھوٹا سا گھر اور دوکان مل جائے تو پوری عمر شکر گزار رہونگا … مولوی صاب کا … !!! ”

وہ کرسی پہ بیٹھتے ہوئے بولا:

“پیسہ کتنا ہے تیرے پاس ؟؟”

میں کچھ دیر چُپ ساندھے انگلیوں کے پٹاخے نکالتا رہا پھر کہا:
” فی الحال تو جیب میں ساڑھے سات روپے کرایہ ہے واپسی کا”

اس نے ایک زور کا قہقہہ لگایا اور بولا:
” او ویر … میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ کاروبار کےلئے کتنا پیسہ ہے؟ مطبل جب تو نے گاؤں چھوڑ دیا تو جائیداد تو بیچی ہی ہو گی … چار پانچ لاکھ کا بندوبست کر .. میں دلا دیتا ہوں گھر بھی اور کاروبار بھی”

میں نے کہا ” گاؤں میں تو کوئ گھر نئیں تھا میرا- مسجد کے کوارٹر میں رہتا تھا- دکان بھی مسجد کی ہی تھی … اگر شیخ بشیر کچھ مدد سیوا کر دیں تو …. !!”

وہ میری بات کاٹ کے بولا:

” شیخ بشیر نے کون سی اسٹیٹ ایجنسی کھول رکھی ہے ؟؟ وہ تو خود مسجد کے کوارٹر میں رہتے ہیں- مسجد کی ہی ایک دکان میں پنسار کی ہٹّی کھول رکھّی ہے- کشتہ مل سکتا ہے تُجھے … گھر کہاں سے دیں گے وہ؟ … او ویر … ہر مہینے آٹھ دس کیس آتے ہیں ان کے پاس …. طلاقِ ثلاثہ کے …. طلاقوں پہ گھر ملنے لگیں ناں تو پورا پاکستان بڈھیوں کو طلاقیں دے کے کوٹاں والا آ کے بیٹھ جائے … مطبل … فیر … کوٹاں والا تو نہ ہوا … طلاقاں والا ہو گیا … !!! ”

اس کے چہرے سے دکانداروں والی مسکراہٹ غائب ہو گئ اور اجنبیّت در کر آئ گویا میں خواہ مخواہ اس کی دکان پہ آ بیٹھا ہوں- اس نے چھوٹے کو آواز دی:
” شوکی …. رہن دے جلیبی … ایویں بھائ کا گلہ خراب ہو گا”

اس کے بعد وہ دکان میں آنے والے ایک گاہک کی طرف متوجہ ہو گیا اور میں انگلیوں کے پٹاخے نکالتا رہ گیا-

سورج کافی چڑھ آیا تھا- بازار میں رش بڑھنے لگا- پھل سبزیوں والے اپنے اپنے پتھاروں پہ پانی چھڑکنے لگے- بچوں کی اسکول سے چھٹی کا وقت ہو چلا تھا- بازار میں ان کی کلکاریاں گونجنے لگیں- پکوڑے ، سموسے ، چاٹ والے ہاہاکار مچانے لگے- مولوی شریف اپنے گاہک کو گھیرنےکےلئے شہد اور کلونجی کے فضائل سنا رہا تھا- میں کرسی پہ ٹیک لگا کے اونگھنے لگا-

اِک مینارہ مسجد سے اللہ اکبر کی صدا گوُنجی تو میں کسی روزہ دار کی طرح تڑپ کر اٹھا- مولوی شریف گدّی پہ بیٹھا اوُنگھ رہا تھا- میں نے اسے جھنجھوڑ کے جگایا- آنکھیں ملتے ہوئے اس نے دستی گھڑی دیکھی اور اُٹھ کر دوکان کا شٹر گرانے لگا-

مسجد قریب ہونے کی وجہ سے کمسِن مؤذن کی تیکھی آواز کانوں کے پردے چِیر رہی تھی- مذاھب کے بیچ ضِد اور رَد کی جنگ کا ایک ہتھیار یہ بھی تھا کہ فرقہء مخالفہ کےکھانستے ہوئے بزرگ مؤذنوں کا مقابلہ کمسِن مؤذنوں سے کرایا جا رہا تھا-

ھم وضو کر کے مسجد کے کھلے صحن میں پہنچے- خاطر خواہ نمازی جمع تھے- مصلّہءامامت پر مولوی بشیر سلفی جلوہء افروز تھے- دیکھ کر طبیعت بحال ہوگئ کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی بہت ہوتا ہے-

جماعت کھڑی ہوئ تو کندھوں سے کندھے اور پاؤں سے پاؤں جُڑ گئے- خوش قسمتی سے درمیانی صف کے عین بیچ جگہ میّسر آئ- میں جو حالات کے دباؤ سے پہلے ہی پسا ہوا تھا ، صالحین کے دوطرفہ دباؤ سے مزید پِس کر عین الف ہو گیا-

طوِیل قیام ، لمبے رکوع ، دراز سجدوں اور فیاض جلسوں سے ہوتی ہوئ طویل نماز جانے کب جا کر تمام ہوئ- سلام کے بعد نمازی آہستہ آہستہ اُٹھ کے جانے لگے- میں دُعا کے انتظار میں انگلیوں کے پٹاخے نکال رہا تھا کہ مولوی شریف سر پہ آن کھڑا ہوا:

“چل بدعت چھوڑ اور امام صاب کے قریب ہو ….. !!! ”

مسجد میں دوچار نمازی ہی رہ گئے تھے- ایک بچّے نے حقّہ نماء مائک امام صاحب کے سامنے آن دھرا- میں صف پہ تقریباً گِھسٹتا ہوا قریب ہوا- ھم سے پہلے ایک شخص بکری کا مسئلہ پوچھ رہا تھا- اس کے ہاں جڑواں میمنوں کی پیدائش ہوئ تھی- مسئلہ یہ تھا کہ ایک میمنا مخنّث یعنی ہیجڑا معلوم ہوتا ہے- نہ بکری ہے نہ بکرا- اسے حلال کر کے گوشت صدقہ کیا جائے یا بیچ کر رقم مسجد کو دے دی جائے-

امام صاحب نے مائک سیدھا کیا- فلک بوس مینار کے سروں پر نصب جہازی سائز اسپیکرز کھڑکھڑا اُٹھّے- مقصود تھا کہ گاؤں کا ہر باشندہ مسئلے سے آگاہ ہو جائے- فرمایا جانور میں جنس کا تعیّن نہ ہو سکنا عیب شرعی ہے اور عیب شدہ جانور کی قربانی جائز نہیں- صدقے میں بھی احتمال ہے کہ جو چیز اللہ کی بارگاہ میں پیش کی جائے نقص سے آزاد ہو- بیچنے کا ارادہ ہو تو عیوب و صفات مشتری سے کھل کر بیان کی جاویں کہ لاعلمی میں قربانی یا صدقہ نہ کر بیٹھے … ”

میں جو بڑی دیر سے صبر کئے بیٹھا تھا بلاوجہ بول اُٹھا:

“کیوں نہ اس بکرے کو ناچنا سکھا کر سرکس والوں کو بیچ دیا جائے …. انسانوں کے ساتھ بھی تو ہم یہی کرتے ہیں … !!””

سائل اور مسؤول دونوں نےچونک کر مجھے دیکھا- مولوی بشیر نے اسپیکر بند کرتے ہوئے کہا ” توُ کون ہے بھائ ؟

میں نے کہا ” انسانوں کی بستی کا عیب شدّہ جانور- نہ قربانی لائق ہوں نہ صدقہ کے- آپ کے پاس آیا ہوں- کسی کشتے کی تلاش میں … !!”

اس سے پہلے کہ کوئ کھلواڑ ہوتا مولوی شریف کھسک کر آگے ہوا ، مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور گویا ہوا:

“یہ صلاح الدین ہے امام صاحب- مُلّاں پُور سے آیا ہے وِچارہ- عورت کو طلاق دے بیٹھا ہے- آپ سے فتوی لیکر گیا تھا اب اس کے پِنڈ والے مان نہیں رہے”

“اچھا اچھا … ” مولوی بشیر نے مجھے پہچانتے ہوئے کہا- ” ظاہر ہے پِنڈ والے کیسے مانیں گے ؟ اور منوانے کی ضرورت بھی کیا ہے ؟ چُپ کر کے بی بی کے ساتھ رہ لے- یہاں کیا لینے آیا ہے ؟”

مولوی شریف بولا:

“یہ سلفی مسلک اپنانا چاھتا ہے- اللہ نے ھدایت دے دی ہے”

فرمانے لگے : ” اچھا؟؟ ماشاءاللہ بھائ سبحان اللہ- ھدایت تو رب کی طرف سے ہے- البتہ کبھی کوئ حادثہ بھی ھدایت کا بہانہ بن ہی جاتا ہے- مبارک ہو”

میں نے کہا ” خیر مبارک- اس حادثے نے سچ میں میری زندگی بدل دی ہے- آپ کے مبارک ہاتھ پہ سلفی مسلک قبول کرنا چاھتا ہوں- داڑھی بھی بڑھانے کا ارادہ ہے اور ان شاءاللہ کل سے پاجامہ بھی کٹوا دوں گا- بس یہاں اس پِنڈ میں ٹھکانہ اور کاروبار مِل جائے … بس –

انہوں نے پہلے میری طرف دیکھا پھر مولوی شریف کی طرف- پھر بولے:

” کون سا کاروبار کرتے ہو ؟ ”

میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ شریف بول پڑا:

“مُلّاں پور والی مسجد مارکیٹ میں کیسٹوں کی دکان کرتا تھا یہ- مسجد کے ہی کوارٹر میں رہتا تھا- وہاں کے مولوی نے آپ کا فتوی دیکھ کر بے دخل کر دیا ہے- اب مارا مارا پھرتا ہے … ”

میں نے کہا:

“حضرت کاروبار ٹھکانہ سب برباد ہو گیا ہے- بالکل قلاش ہوں- بیوی کو اس کے سسرال چھوڑ کے یہاں آیا ہوں- بس سر چھپانے کو جگہ چاھئے اور ساتھ کوئ چھوٹی سی دُکان- باقی کام میں خود سنبھال لونگا … ان شاءاللہ قسطوں میں رقم لوٹا دونگا … !!”

وہ داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے:

” دیکھو بیٹا جی- ھم تو خود مسجد کے کوارٹر میں رہتے ہیں اور مسجد کی ہی ایک دکان میں پنسار کی ہٹّی چلاتے ہیں- ایسا کوئ وعدہ ہم نہیں کر سکتے- ویسے بھی مذھب کے بدلے گھر اورکاروبار دلانا قادیانیوں کا شیوہ ہے اور توُ جانتا ہی ہے کہ وہ جھوُٹے اور مُرتد ہیں”

میں نے تڑپ کر کہا ” تو کیا سچے مذھب میں ایک بے آسرے کو چھت دینے کا کوئ رواج نہیں ؟ ایک غریب کو حلال روزگار دلانے کا کوئ وسیلہ نہیں ؟ ”

وہ کچھ گڑبڑائے پھر فوراً ہی سنبھل کر بولے:

“نہیں صلاح الدین بیٹے … یہ بات نہیں ہے- میرا مطبل یہ ہے کہ بیٹھے بٹھائے گھر اور کاروبار کون دیتا ہے؟ وہی دے گا ناں جسے غرض ہو گی- سچے دین میں داخلے کےلئے شرائط نہیں رکھی جاتیں- انعامی ٹوکن تو جعلی کمپنیاں دیتی ہیں ناں- بہرحال تو پریشان نہ ہو- جلد یا بدیر اللہ کوئ رستہ ضرور نکالے گا- اس کی رحمت سے مایوس مت ہو”

اس کے بعد وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولے ” یہ اقبال سلفی کدھر چلا گیا ؟ ذرا بُلانا اس کو”

ایک چھوٹا سا لڑکا جو صحن میں کوُد رہا تھا مسجد کے اندر بھاگ گیا- کچھ ہی دیر بعد لوٹا تو ایک لمبے تڑنگے مولوی کو لے آیا- امام صاحب نے کہا:

“اقبال ، یہ نوجوان اللہ کے فضل سے سلفی مسلک قبولنا چاھتا ہے- اسے مولانا سیالکوٹی کی صلواة الرسول اور مولانا چنیوٹی کی حاشئے والی تفسیر کا ایک سیٹ دے دو- اس کے علاوہ مسئلہ طلاق پر جو میں نے دو کتابچے لکھے ہیں وہ … اور میرے خطبہء جمعہ کی چار پانچ کیسٹیں بھی نکال لانا …. خصوصاً امین بالجہر اور فاتحہ خلف الامام والی .. !! ”

اقبال آرڈر لے کر مسجد کے کتب خانے کی طرف بھاگا- میں نے مایوسی سے کہا:

“تو اب میرے لئے کیا حُکم ہے ؟ ”

وہ جھٹ بولے :

“واپس اپنے پِنڈ جاؤ- حق سچ کی تبلیغ کرو- دیکھو دین میں تکلیفیں تو آتی ہی رہتی ہیں- یہی ایمان کی جانچ ہے- ان تکلیفوں کا مقابلہ کرو- حق پہ ڈٹ جاؤ ”

میں نے کہا ” گاؤں سے تو بے دخل کیا جا چُکا- دھوبیاں پِنڈ میں پڑا ہوں”

وہ بولے:

“اچھا … وہ شبیرشاہ والا پِنڈ ؟ وہاں تو محنت کی بڑی سخت ضرورت ہے- شبیر بدعتی کا موُل اکھاڑنا تو بہت ضروری ہے- لیکن پہلے توُ اپنے گھر والوں پر محنت کر- یہ بہت اھم ہے- تیرا ایمان دیکھ کر ان کا دل ضرور پگھلے گا- یہ دھن ، دولت ، مال ، دنیا ، ان کی کوئ حیثیّت نہیں بیٹا- سب دھوکے کا مال ہے- اصل چیز ھدایت ہے- جو رب کی طرف سے ہے- چراغ جل اٹھے تو اندھیرے خودبخود بھاگ اٹھتے ہیں- کیا پتا تیری وجہ سے ایک دن مُلاں پور بھی سلفی پور بن جائے”

میں کتابوں اور کیسٹوں کی ایک بھاری گھٹڑی سر پہ اٹھائے کوٹاں والا اڈّہ پہ کھڑا تھا- بس کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا …

مولوی بشیر نے میرا بوجھ کیا اٹھانا تھا ، اُلٹا اپنا بوجھ میرے سر پہ آن دھرا- اس وقت یہی بوجھ مجھے ہلکان کئے ہوئے تھا- اس کے مسلک کا ایجنٹ بن کر اب مجھے پنڈ پِنڈ پھرنا تھا- یقیناً یہ بھڑوں کے چھتے میں بار بار پتھّر پھینکنے والی بات تھی-

استاد نے بدلے میں کوئ رعایت بھی نہ دی تھی- نہ کوئ تنخواہ مقرّر ہوئ نہ کمیشن- ہاں مرنے کے بعد محل اور حور کا وعدہ ضرور تھا- میں اڈّے پہ کھڑا سوچ رہا تھا کہ جو شخص دنیا میں مجھے ایک گھر نہ دلا سکا ، میری کھوئ ہوئ بیوی نہ لوٹا سکا اس سے موت کے بعد محل اور حور کی امید رکھنا یقیناً رِسک والی بات ہے-

اس بار نہ تو مولوی صاحب نے چائے پانی کا پوچھا ، نہ ہی اڈے تک چھوڑنے آئے- انہیں کسی جلسے میں جانے کی جلدی تھی یا شاید وہ ہچکچا رہے تھے کہ ڈوبتے کو اُنگلی پکڑائ تو ہاتھ پکڑ لے گا- اگرچہ میرا ان کےلئے مستقل بوجھ بننے کا کوئ ارادہ نہ تھا مگر خطرہ مول لینے کو وہ بھی تیار نہ تھے-

رہا مولوی شریف ، وہ تو پہلے ہی طویلے کی بلاء مولوی بشیر کے سر ڈال کر جان چھڑا چکا تھا- چائے البتہ اس نے ضرور پلائ تھی- میں بھی اپنی پریشانیوں میں الجھا یہ بھول گیا کہ سوائے چائے کی پیالی کے صبح سے اندر کچھ گیا ہی نہیں-

اڈّے پر ایک ریڑھی والا پکوڑے تل رہا تھا- خوشبو نتھنوں سے ٹکرا کر حلق میں جا اتری- پیٹ میں بھوک کا طوفان اٹھا تو ہاتھ خودبخود جیب میں چلا گیا- کُل ساڑھے سات روپے زرِ نقد ہاتھ آیا- بمشکل بس کا کرایہ تھا- خالی پیٹ سفر کیسے کٹے گا ؟ بھوک کی بے تابی مجھے آہستہ آہستہ ریڑھی والے کے پاس کھینچ لے آئ-

میں اس کے پیچھے جا کر تیل میں تلتے ہوئے پکوڑوں کو دیکھنے لگا- وہ شخص چھاننی سے انہیں الٹ پلٹ رہا تھا- ساتھ ساتھ وہ کبھی ہوائ چولھے کو پمپ مارتا ، کبھی سفید مُولیوں کو کدّوکش کرتا اور کبھی مٹّی کی ھانڈی میں لکڑی کی ڈوئ چلانے لگتا ، جس میں پودینے کی سبز چٹنی تیار ہو رہی تھی-

آس پاس کوئ گاہک موجود نہ تھا- موقع غنیمت جان کر میں قریب ہوا- گھٹڑی بنچ پہ رکھی اور اس بھائ کے کان میں کہا:

” بھائ مسافر ہوں- پیسے نہیں ییں- ایک پلیٹ پکوڑوں کی مل جائے گی ؟”

وہ یکدم پلٹا جیسے بچھّو نے کاٹ لیا ہو ، پھر ناگواری سے بولا:
” ابھی نکالے بھی نہیں ، اور مُفت خورے پہلے ہی آگئے”

میں نے گٹھڑی کھولی- پھر ایک کیسٹ نکال کر اسے دکھائ اور کہا:

” بھائ میں مفت خورہ نہیں ہوں- کیسٹوں کا کاروبار ہے- آج دھندہ نہیں ہوا- تُم یہ کیسٹ رکھ لو- بالکل اصلی TDK کی ہے- بازار میں 15 سے کم نہ ملے گی-

اس نے کیسٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور بولا ” اس کا کیا کروں ؟؟”

میں نے کہا: ” اس میں مولوی صاحب کی تقریر ہے- سنو گے تو یقیناً ثواب پاؤ گے”

وہ لاپرواہی سے بولا: ” کسی ٹیپ والےکو دو ، میرے پاس تو ریڈیو ہے”

میں نے کہا ” اچھا چلو … تُم کسی ٹیپ والے کو بیچ دینا- دس روپے تک نکل ہی جائے گی- مجھے بس ایک پکوڑوں کی پلیٹ دے دو- چٹنی ذرا کم ڈالنا …. !!!”

وہ کیسٹ ہاتھ میں پکڑے سوچ و بچار کرنے لگا- میں اس کی مذھبی غیرت جگانے کے واسطے بولا ” دیکھو بھائ- سوچو مت- مولانا صاحب کا بیان ہے- دین ایمان کا مسئلہ ہے … ٹھکراؤ گے تو گناہ ہو گا … !!”

یہ خفیہ سودا شاید کسی انجام تک پہنچ ہی جاتا لیکن اچانک ایک مولوی پکوڑوں کی ساندھ لئے سر پہ آن کھڑا ہوا-

” ذرا مجھے دکھانا حضرت- کون سے مولانا کا بیان ہے ..؟؟”

پکوڑے والے نے جھٹ کیسٹ اس مولوی کو تھما دی- کیسٹ دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ کچھ متغیّر ہوا ، اور وہ بولا:

” کہاں سے ملی تمہیں یہ کیسٹ؟”

میں نے کہا : ” دُکان ہے اپنی- اسلامی کسیٹیں بیچتا ہوں- اور بھی ہیں میرے پاس- چاھئیں آپ کو ؟؟ ”

وہ ناک سکوڑ کے بولا ” قیمت کیا ہے اس کی ؟”

میں نے کہا ” بس … پکوڑے کھلا دیجئے … ایک پلیٹ … !!!”

وہ تاؤ کھا کے بولا:

انتہائ شرم کی بات ہے- شیخ بشیر سلفی کا بیان جو اک مینارہ مسجد سے فی سبیل اللہ ملتا ہے- بیچتے پھرتے ہو تُم ؟ پکوڑوں کے عوَض ؟؟ وہ بھی کوٹاں والا اڈّے پہ ؟

میں نے کہا ” آرام سے بھائ- یہ میرا اور اس ریہڑی والے کا معاملہ ہے- تُم کیوں بیچ میں ٹانگ اڑاتے ہو ؟”

وہ طیش میں آ کے بولا:

“شیخ کے شاگروں کو پتا چل جائے تو چوک میں جوتے ماریں تُجھے …. معلوم ہے تمہیں کیا رتبہ ہے شیخ کا اور کیا قدر ہے اس کیسٹ کی ؟؟ جاھلِ مُطلِق … !!”

میں نے کہا: ” حضرت جو کیسٹ ایک غریب کا پیٹ نہ بھر سکے ، جس کے عوض دو پکوڑے نہ آ سکیں ، کیا قدر ہو گی اس کی؟ ”

اس کا موُڈ خراب ہوا اور وہ تندی سے بولا:
” کس مسلک سے ہو ؟ دیوبندی ، بریلوی ، یا شِیعہ ؟؟ ”
میں نے کہا ” بھوُکا ہوں اور مسلک میرا پکوڑا ہے- اور آپ کا ؟”

وہ ہاتھ نچا کے بولا: ” میں بدعتیوں کے مونہہ نئیں لگتا- اور تُم تو شکل سے ہی جاسوس لگتے ہو-”

میں نے کہا:

” سچ کہا- میں جاسوس ہوں- دِلّی سے آیا ہوں کوٹاں والا پہ بم گرانے … برزنیف نے بھیجا ہے مُجھے جو ببرک کارمل کے ساتھ مِل کر تمہارے پِنڈ پہ قبضہ کرنا چاھتا ہے”

اس پر وہ تلملا اٹھا اور پکوڑوں والی چھاننی تیل سے نکالتے ہوئے بولا ” دفع ہوتے ہو یا کھولوں سر … لعین کہیں کا”

میں بچنے کو پیچھا ہٹا اور تھوڑا پرے جا کر کہا:

” سُنو- یہ دھن ، دولت ، مال ، دنیا، سموسہ ، پکوڑا ، چٹنی ، پودینہ سب دھوکہ ہے- فانی دنیا پہ کیا اترانا؟ اصل چیز تو ھدایت ہے- اس کی فکر کرو”

وہ بولا: “یہ تُم کہ رہے ہو ؟ جس کا اپنا کوئ دین ایمان نہیں”

میں نے کہا: “میں نہیں کہ رہا- مولوی بشیر صاحب نے فرمایا ہے اس کیسٹ میں- میرے پاس دھن نہیں تو پکوڑوں کو ترستا ہوں- تمارے پاس ھدایت ہے مگر بھوکے کو کھلانے سے عاجز ہو- ھم دونوں کنگلے ہیں بھائ- کنگلا کنگلے سے کیا لڑے گا ؟”

وہ ہاتھ میں چھاننی پکڑے ششدر مجھے دیکھنے لگا- اتنے میں بس آ گئ- کنڈکٹر “موٹی ککّر ، موٹی کِکّر” کی صدا لگانے لگا- میں بھاگ کر بس میں سوار ہو گیا اور کتابوں کیسٹوں کی گھٹڑی وہیں پڑی رہ گئ-

بس پر چڑھتے ہی کنڈیکٹر نے مجھے پچھلی سیٹ کی طرف کھسکا دیا- چار پانچ مسافر وہاں پہلے ہی براجمان تھے- انہوں نے مجھے کونے کی طرف دھکیلا اور یُوں میں کنارے لگتا لگتا شیشے والی سیٹ تک پہنچ گیا- نشست ملی تو میں سر ٹکائے ، آنکھیں موندے اب تک پیش آنے والے واقعات کا ادراک کرنے لگا-

دنیا ایک لگے بندھے نظام پہ چل رہی تھی اور اس نظام میں میری حیثیّت محض ایک بے کار پرزے کی سی تھی- کارآمد بننے کےلئے مجھے کسی اصلاح کار کی تلاش تھی- اب تک جو اصلاح کار میّسر آئے تھے وہ یا تو میری مجبوریاں سمجھنے سے قاصر تھے یا ان مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے کام کا پرزہ بنانا چاھتے تھے-

میں خیالات کے جزیرے پر خالی شکم اٹھائے پھرتا تھا کہ پکوڑوں کی دلفریب خوشبو ایک بار پھر نتھنوں سے ٹکرائ- شاید بس میں کوئ پکوڑے بیچنے والا آیا تھا یا کوئ مُسافر پیٹ کاجہنم بھر رہا تھا-

میں نے خواہشات کے گھوڑے کو لگام دینے کےلئے مونہہ پہ رومال رکھ لیا- اچانک ہی کسی نے کہنی مار کے مجھے متوّجہ کیا- آنکھ کھولی تو ایک ملنگ مجھے اخبار میں لپٹے ہوئے پکوڑے پیش کر رہا تھا-

اس کی سیاہ و سفید زلفیں کسی مخمور سانپ کی طرح بل کھاتی تھیں- اس کے گلے میں رنگ برنگی مالائیں تھیں اور ہاتھ میں قسم قسم کے کڑّے اور مُندریاں- نجانے وہ کہاں سے بس میں سوار ہوا اور میرے ساتھ آ کے بیٹھ گیا- اس کے پاس پکوڑے تھے اور وہ میری تواضع کا طالب تھا-

میں نے مروّتاً انکار کیا تو اس کے چہرے پہ جلال کے آثار نمایاں ہوئے- کہنے لگا:

” مولا پنجتن پاک کا صدقہ ہے- ٹھکرا نئیں …. کھا لے .. !!!”

اس دوران کنڈکٹر سر پہ آن کھڑا ہوا اور کرایہ مانگنے لگا- میں نے اسے سات روپے پکڑانا چاھے تو ملنگ غضب ناک ہوگیا- پھر کنڈکٹر کو ڈانٹ کے کہا:

” سخی جیون شاہ کے غلاموں سے کرایہ مانگتا ہے؟ شرم کر- پرسوں ہی بنگلہ گوگیرہ پہ بس اُلٹی ہے ، مِنکا ٹوٹا ہے کنڈکٹر کا- پتا ہے کیوں ؟ اس بدبخت نے ایک حُسینی قلندر سے کرایہ مانگا تھا- محض چار پیسوں کی وجہ سے اپنا ایمان خراب نہ کر- جان بھی جائے گی اور ایمان بھی”

کنڈکٹر نے بحث کی تو وہ بولا:

” پًتّر یہ دھن مال ، روپیہ ، پیسہ سب ادھر ہی رہ جانا ہے- اصل چیز ایمان ہے- اور جس کا ولیوں پر ایمان نئیں ناں ، اس کا فیر مِنکا ہی ٹوٹتا ہے- چل اب واپس کر پیسے- یہ شخص فقیروں کی پناہ میں ہے …. !!! ”

بالاخر کنڈکٹر سہم گیا اور چپ چاپ سات روپے مجھے لوٹا دئے- پکوڑوں سے انکار کی اب کوئ صورت نہ تھی- میں بسم اللہ پڑھ کے سخیوں کا دستر خوان اجاڑنے لگا- ملنگ میری پیٹھ ٹھونک کر بولا :

” غم نہ لگا- سب ٹھیک ہو جائے گا …. سخی جیون شاہ کو سب خبر ہے … ھم آتے نہیں … بھیجے جاتے ہیں … ماموں کانجن میں تھے تو اشارہ ہوا کہ … وابیوں کے اڈّے پہ ہمارا ایک غلام پریشان کھڑا ہے …. وہ بھوکا ہے … دیکھ کیسے پہنچے ہیں ہم ؟؟”

مجھ پہ اس فقیر کی دھاک بیٹھ چکی تھی- میں اس نگاہ کرم پہ فخر کرنے لگا جو سخی لجپال نے مجھ پر فرمائ تھی-

میں نے کہا ” بے شک رب تعالی ہی محتاجوں غریبوں مسکینوں کا والی ہے … وَلی قلندر فقیر سب اسی کی ڈیوٹی کرتے ہیں … تا کہ مجبوروں بے کسوں کی مدد کریں … میں واقعی بوہت بھوکا تھا … بہت مزے کے ہیں پکوڑے … میرا نام صلاح الدین ہے … میں شاہ عنایت لجپال کا غُلام ہوں … ان کی تربت گِدڑ پنڈی کی طرف ہے … !!!”

اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا:

” شاہ عنایت ؟؟ مِل چکے ہیں ہم شاہ عنایت سے … خواجہ خضر کے ساتھ آیا تھا … ہمارے پاس … کہتا تھا سخی جیون شاہ کی سفارش کرا دو …. اڑھائ سو سال سے ولی کے مقام پہ کھڑا ہے وِچارہ …. ولی سے آگے قُطب ہے …. قطب سے آگے خواجہ …. خواجہ سے آگے غوث … غوث سے آگے قلندر- اڑھائ ہزار سال لگتے ہیں قلندر بنتے ہوئے …. کوئ کوئ بنتا ہے … اسی لئے تو اڑھائ قلندر سارے جگ پہ حکومت کرتے ہیں …. !!”

آگلی سیٹ پہ بیٹھا ایک مسافر بڑی دلچسپی سے ملنگ کی گفتگو سن رہا تھا- مُڑ کر کہنے لگا:

” بابا جی …. پاکستان میں تو جنرل ضیاء حکومت کرتا ہے- کیا وہ بھی قلندر ہے ؟”

ملنگ اس کی گدّی پہ دھول جما کے بولا ” وہ وہابڑا کہاں سے قلندر ہو گیا ؟ میں روحانی دنیا کی بات کرتا ہوں اور تو پاکستانی دنیا میں دھکّے کھاتا ہے”

کھڑکی سے آنے والی ٹھنڈی ہوا کا اثر تھا یا اس فقیر کی مخمور باتوں کا نشہ ، مجھ پہ سرور طاری ہوا- میں نے جماہی لی تو وہ سیاہ پوش بولا:
” آسمان پہ بادل چھا چکے ہیں- جھڑی لگنے کو ہے- تجھے نیند آ رہی ہے ؟ چل اُٹھ- سیر کو چلتے ہیں”

یکایک بس کی چھت ہوا میں اڑ گئ- باہر سے تیز ہوا ، کسی آندھی کی طرح اندر آنے لگی- مسافر خوفزدہ ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگے- اس بزرگ نے میرا ہاتھ زور سے پکڑا اور مُجھے ساتھ لئے یکلخت ہوا میں اڑ گیا- مجھ پر حیرت و وہشت کا غلبہ طاری ہوا- ہم آسمان کی وسعتوں میں پہنچے تو آہستہ آہستہ میرا خوف دور ہوا اور مستی و سرشاری غالب ہوتی چلی گئ-

ھم نیلے آسماں پہ کسی پنچھی کی طرح پرواز کر رہے تھے- میں اس فقیر کے کندھوں پہ سوار تھا- سفید روئ جیسے بادل میرے پاؤں چھو رہے تھے- سورج ، چاند ، ستارے کھلونوں کی طرح میرے چہار سو بکھرے تھے-

نجانے کتنی دیر ہم محوِ پرواز رہے- بالاخر وہ بزرگ ایک خوب صورت مرغزار میں جا اترے- یہاں دِیر ، چیڑ ، بیار اور چنار کے اونچے پیڑ تھے اور ہر طرف سبزہ ہی سبزہ – قریب ہی ایک صاف ستھری نیلگوں جھیل تھی جس کے کنارے پہ ایک سجی سجائ کشتی کھڑی تھی-

اس ملنگ نے جھیل کے دوسری طرف ایک خوبصورت سفید محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

“وہ رہا تیرا گھر …. وہاں عالیہ تیری منتظر ہے …. تیرے دکھ ختم ہوئے اور ہماری ڈیوٹی بھی …. جا … جاکے کشتی میں بیٹھ … چپّو پکڑ اور چلاتا جا … تو پُہنچ اپنی دلربا کے پاس ھم چلتے ہیں اپنے بابا کے پاس … پنج پنج نعرہ پنجتنی دم دم نعرہ حیدری- یا علی … !!!”

اس کے بعد وہ ملنگ نیلے آسمان کی طرف پرواز کر گیا- میرے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی- اک عجب سحر انگیز ویرانہ تھا- بارش کی ہلکی ہلکی پھوار اور مست ہوا میں جھومتے سرسبز درختوں کی بہار- جنگل میں ناچتے مور اور جھیل کے کناروں پہ اچھلتے پانی کا شور-

میں کشتی کے پاس آیا- اس پر ایک مخملی گاؤ تکیہ دھرّا تھا- میں نے سوار ہو کر چپّو سنبھالے اور کشتی کو جھیل میں اتار لیا- ایک ماہر پیراک ہونے کے سبب مجھے گہرے پانیوں سے کوئ خوف نہ تھا-

کشتی عین منجدھار میں تھی کہ موسم اچانک خراب ہونے لگا- بادلوں کی گڑگڑاھٹ اور تیز ہواؤں کا شور برپا ہوا- جھیل کے پانی میں طلاطم بپا ہوا اور کشتی بری طرح لڑکھڑانے لگی- میں نے سخی لجپال کا نعرہ لگایا اور پوری قوّت سے کشتی کو سنبھالنے کی کوشش کی- بالاخر وہ میرے قابو سے باھر ہوتی گئ اور اچانک ہی الٹ گئ-

اب میں جھیل کے ٹھنڈے پانی میں تیر رہا تھا- چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا- ایک ماہر تیراک ہونے کے باوجود میرے ہاتھ پاؤں شل ہونے لگے- جسم کی طاقت جواب دینے لگی- پھر ہلکی بارش شروع ہو گئ اور میں جھیل کی سطح پر چت لیٹ گیا- اچانک وہی ملنگ آسمان پہ ظاہر ہوئے اور آواز دی :
“جاگ بھئ جاگ … اُٹھ … ہوش میں آ … کب تک بے ہوش رہیگا ”

آنکھ کھُلی تو نہ جنگل تھا ، نہ سبزہ ، نہ جھیل تھی ، نہ کشتی- میں بان کی چارپائ پہ چت لیٹا ہوا تھا- چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا- ایک ہیولہ مجھ پہ جھُکا ہوا تھا اور میرے چہرے پہ پانی کے چھینٹے مارتے ہوئے پکار رہا تھا ….
“جاگ بھئ جاگ … اُٹھ … ہوش میں آ … کب تک بے ہوش رہیگا”

میں نے کہا ” ملنگ بابا … مجھے کنارے لگا دو … !!! ”

وہ ہیولہ تیزی سے پیچھے ہٹّا- پھر اس کی آواز گونجی”غلام رسول اُستاد جلدی آ … بندے کو ہوش آ گیا ہے”

ایک شخص لالٹین لیکر بھاگتا ہوا ادھر آیا- مٹّی کے تیل کی بو میرے نتھنوں سے ٹکرائ اور آنکھیں روشنی سے چندھیانے لگیں-

وہ شخص بڑبڑایا ” شکر ہے یار- ہوش آ گئ اسے- میں تو ڈر رہا تھا کہ پولیس کیس ہی نہ بن جائے- جب سے سالا مارشل لاء آیا ہے ، پولیس والے وی بگھیاڑ بن گئے ہیں- سلیمان تو سامنے ہوٹل سے دودھ کا گلاس لیکر آ پُتّر …. چل چھیتی کر … دوکان وی بند کرنی ہے …. !!”

میں نے کہا “کون ہو تُم لوگ ؟ اور ملنگ بابا کدھر ہیں؟”
ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا- پھر ان میں سے ایک جس کا نام غلام رسول تھا کہنے لگا:
“کون سا ملنگ بابا ؟ ہم نے تو کوئ ملنگ نئیں دیکھا”
دوسرا شخص بولا:
“ضرور اسے کسی ملنگ نے نشّے والی چیز کھلائ ہے- کیا کھایا تھا تونے ؟ کچھ یاد ہے ؟؟”
میں نے کہا “پکوڑے …. !!! ”

کچھ ہی دیر میں سلیمان دودھ کا گلاس لئے آگیا- میں چارپائ پہ بیٹھ کے گرم گرم دودھ پینے لگا- ہم ایک چھپّر کے نیچے تھے- سرکنڈے والی چھت سے ٹپ ٹپ گرتا پانی کچھ دیر پہلے برسنے والی شدید بارش کی گواہی دے رہا تھا-

غلام رسول بولا:
“کدھر کا رہنے والا ہے تو ؟ کچھ یاد ہے ؟”
میں نے کہا ” موٹی کِکّر”
وہ بولا ” شکر کر- کنڈکٹر نیک نیّت تھا- موٹی ککّر پہ ہی اتارا تجھے- ورنہ تیری آنکھ تو فیصلا باد جا کے کھلنی تھی- پِنڈ کون سا ہے تیرا ؟؟”
میں نے کہا “دھوبیاں والا … !!”
اس نے سلیمان سے پوچھا یہ دھوبیاں والا کدھر ہے ؟
سلیمان بولا : “اودھر نہر والی سائیڈ پہ ہے- چار پنچ میل کا فاصلہ ہے- ریہڑی پہ چھوڑ آئیں گے اسے …. ”
غلام رسول میرے پاس گیا اور بولا:
“اچھا یہ بتا … حلیہ یاد ہے کچھ اس ملنگ کا”
میں نے کہا ” حلیہ پوچھ کے کیا کرو گے- ہاں اتنا یاد ہے کہ بڑا ہی نیک دل انسان تھا … میرے خالی پیٹ کی فکر تو تھی اسے ”

وہ بولا: ” اللہ معاف کرے- فقیروں کے روپ میں کیسے کیسے شیطان پھرتے ہیں- اپنی جیبیں دیکھ لے پُتّر- نقصان تو نئیں ہوا ؟”
میں نے جیب ٹٹولتے ہوئے کہا:

” کوئ نقصان نئیں ہوا … سات روپے تھے … کنڈکٹر کی بجائے ملنگ لے گیا …. سیر بھی تو کر آیا ہوں … آسمانوں کی … کاغان ناران پتہ نئیں کیا کیا دکھایا اس نے … ”

وہ بولا ” آہو آہو … ست روپے میں تو بندہ کمالیہ نئیں جا سکتا … تو ست آسمان پھِر آیا ہے … چل اُٹھ ریڑھی آ رہی ہے … تجھے دھوبیاں چھڈ کے آتے ہیں”

میں نے اٹھتے ہوئے کہا:

” آپ لوگوں کی مہربانی- اب میں ٹھیک ہوں … تم لوگ مزید تکلیف نہ کرو … میں خود ہی چلا جاؤں گا اپنے پِنڈ … رستہ یاد ہے مجھے”
تاریکی کا ایک طویل سفر طے کر کے رات کسی پہر میں دھوبیاں والا پہنچا- تیسری یا چوتھی بار بوُہا کھٹکانے پر چاچا لطیف کی آواز آئ:
” کون ہے .. !!”
میں نے کہا : ” میں ہوں چاچا … جلدی بوہا کھول … باھر بہت سردی ہے”

کچھ دیر کی کھٹ پٹ کے بعد بالاخر دروازہ کھل ہی گیا- چاچا کُنڈا کھول کےخاموشی سے واپس پلٹ گیا- میں نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ بند کیا- کمرے میں آیا تو چاچا رضائ میں گُھس کر ریڈیو سن رہا تھا – مجھ سے خیر خبر دریافت کرنے کی بجائے وہ بی بی سی لندن پہ عالمی خبریں سننے میں مصروف ہو گیا-

ریڈیو پہ حالاتِ حاضرہ کا پروگرام “سیربین” چل رہا تھا- وہی باسی ترباسی خبریں جو روز سنتے تھے- کابل میں روسی فوج کے مظالم ، پاکستان کا احتجاج- روسی طیّاروں کی پاکستانی فضائ خلاف ورزی ، پاکستان کا احتجاج ، فلسطینیوں پہ اسرائیل کے مظالم ، پاکستان کا احتجاج

میں کچھ دیر تو منجی پہ ٹانگیں لٹکائے خبریں سنتا رہا- بالاخر میسنی سی صورت بنا کے کہا:

“چاچا روٹی نئیں کھائ میں نے … بھوک لگی ہے !!”

اس نے ریڈیو کی آواز دھیمی کی اور اٹھ کے باہر چلا گیا- میں منجی پہ چوکڑی مار کے کھانے کے انتظار میں بیٹھ گیا-
تھوڑی دیر بعد وہ مکئ کی اُبلی ہوئ ایک چھلّی لے آیا جس سے ٹھنڈا پانی رس رہا تھا-

” فی الحال یہ تُکّا کھا لے … روٹی ٹُکّر نئیں ہے … تھوڑا لوُن وی لگا لیناں … نئیں تو پیٹ میں واء کرے گی … !!”

اس کے بعد وہ ریڈیو کی آواز اونچی کر کے بیٹھ گیا جہاں رضا علی عابدی کشمیر میں بھارتی مظالم کا احوال بیان کر رہے تھے- منگل کو پاکستان بھر میں یومِ کشمیر منایا جا رہا تھا-

چاچے نے ریڈیو کی آواز دھیمی کرتے ہوئے کہا:
” ویکھ لینا …. افغانستان فتح کر کے جنرل ضیاء کشمیر وی آزاد کرائے گا …. فیر رب نے چاہا تو مسلمانوں کا ایک ہی وڈّا سارا مُلک بن جائے گا … !!”

میں نے جل بھُن کے کہا:

” کھائیں گے کیا؟ … تُکّا؟ … اپنا روٹی ٹُکّر پورا نئیں ہوتا … اتنے بڑے ٹبّر کو کون سنبھالے گا ؟؟ ”

خبریں ختم ہوئیں تو چاچے نے ریڈیو بند کرکے مخملی کور میں لپیٹا اور صندوق پہ رکھ دیا- پھر بڑی نقاہت سے چلتا ہوا میرے پاس آیا اور بولا:

” شُکّر کر تُکّا وی مِل رہا ہے- پیٹی سے رضائ نکال اور سو جا- آج اس گھر میں تیری آخری رات ہے-سویرے سویرے ٹُکّر کھا کے تِتّر ہو جا …!!”

میں نے کہا ” چلا جاؤں گا عالی کو لے کے … رب کی زمین بوہت وڈّی ہے !!”

وہ کھانس کے بولا:

” عالی سے اب تیرا کیا رشتہ ہے ؟ بوہت کالک مل دی تو نے ہمارے مونہہ پہ …. اب کنارہ کر … !!”

میں نے کہا ” خیر تو ہے چاچا ، کیسی باتیں کر رہا ہے ؟”

وہ بولا:

“وہی کہ رہا ہوں جو سچ ہے- آج شبیرشاہ صاب آئے تھے- ہماری مسیت کے امام – بوہت عالم فاضل بندہ ہے- پوری رپورٹ مل چکی ہے اسے تیری- کہ رہا تھا طلاق مُڑ نئیں سکتی پاویں بندہ انھے کھوُہ میں الٹا وی لٹک جائے- یہ جو تو پنڈوں قصبوں میں شدائیوں کی طرح مارا مارا پھرتا ہے ناں ، مفت کی بدنامی کما رہا ہے- نہ آپ گندا ہو ، نہ ہمیں گندا کر- چلا جا … اور فیر ادھر کا مونہہ نئیں کرنا …”

میں نے کہا :

” شبیر شاہ نے دیر کردی چاچا- ایک دن پہلے آ جاتا تو بھلے توڑ دیتا میرا گھر- اب کچھ نئیں وگاڑ سکتا- سلفی ہو گیا ہوں میں … !!!”

چاچا کچھ دیر ہونقوں کی طرح میرا مونہہ دیکھتا رہا ، پھر بولا:
” کیا مطبل … یہ ایلفی کیا ہوتا ہے؟”

میں نے کہا:
“سلفی … مطلب وہابی- آج پیشی کی نماز کے بعد میں نے اک مینارہ مسجد ، کوٹاں والا کے امام کے ہاتھ پہ وہابیّت قبول فرما لی ہے”

وہ حیرانگی سے بولا: ” یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟”

میں نے کہا: ” وہابی بننے کےلئے کون سا نواں شناختی کارڈ بنوانا پڑتا ہے چاچا؟ دُھنّی کی بجائے چھاتی پہ ہاتھ باندھ لو … بندہ وہابی ہو جاتا ہے”

وہ تلملا کر بولا:
“تو بھلے سِکھ بن جا ، عالی نئیں ملنی تُجھے- سوچنا وی نئیں- ہماری دِھی یتیم نئیں ، سائیں کھسموں والی ہے- فیصلہ وہی ہو گا جو صبح شاہ صاحب کریں گے”
یہ کہ کر چاچے نے لالٹین بجھا دی-

اگلے روز صبح سویرے ہی شاہ صاحب آن دھمکے- ان کےلئے رنگیلی چارپائ بچھائ گئ- پیٹی سے نیا تکیہ نکالا گیا- پراٹھے ، دہی ، اچار اور انڈوں کا ناشتہ تیار کیا گیا- مجھے پانی تک نہ پوچھا گیا-

شاہ صاحب ناشتہ تناول فرما چکے تو میرا بلاوا آ گیا- میں آنکھیں ملتا ہوا باہر آیا اور سلام کر کے سامنے منجی پہ بیٹھ گیا-

وہ بولے:
” صلاح الدین- تو نے بقائمی ہوش و حواس اپنی ووہٹی کو طلاق دی ہے یا کسی نے تجھے ایسا کرنے پہ مجبور کیا ؟”

میں نے کہا:
“غُصّے نے مجبور کیا تھا- بعد میں پچھتاوہ ہوا … ”

وہ سر ہلا کر بولے :

” طلاق ہمیشہ غُصّے میں ہی دی جاتی ہے وِیرے … ہنسی خوشی کون دیتا ہے؟ … ہم انگریز تھوڑی ہیں؟ …. وہ لمبردار کا بیٹا بتا رہا تھا کہ ولائت میں … لڑکا لڑکی اک دوجے سے بیزار ہو جائیں تو … ہنسی خوشی بریک اپ کر لیتے ہیں … ہم تو مسلمان ہیں وِیرے … طلاق ہو گئ تو قِصّہ ختم … طلاق دے کے ووہٹی کے ساتھ رہنا …. وہ بھی اس کے پیکے جا کے … ایس سے وڈّی بے غیرتی کوئ نئیں …. باقی تو آپ سمجھدار ہے … !!!”

میں نے کہا:
“میں صلاح الدین سلفی ، مذھب اسلام ، مسلک اہلحدیث ایک محفل میں دی گئ تین طلاق کو ایک ہی شمار کرتا ہوں … میں نے اپنی ووہٹی سے رجوع کر لیا ہے … اب کرو بات .. !!!”

یہ سن کر شاہ صاحب کرسی سے یوں اٹھے گویا کرنٹ لگ گیا ہو- چہرے پہ حیرت اور غُصّے کے آثار نمایاں ہوئے ، پھر طنزیہ مسکراہٹ سے کہا:

” اچھا …. تو اب وکٹورین ہو گیا ہے توُ … مطبل … ﺁﻝِ ﻭﮐﭩﻮﺭﯾﮧ .. جن ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺣﻼﻝ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ حلال ہے …. مطبل …. گوبر ، ﭘﯿﭗ ﺗﮭُﻮﮎ سب حلال …. ﻧﺎﭘﺎﮎ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ جائز …. ﺍﻧﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ جائز … ناخن پالش میں وضو جائز … ٹوپی کے بغیر نماز جائز … وِیرے جب سب کچھ جائز ہو گیا تو طلاق کس کھیت کی موُلی ہے …. ؟؟ مطبل بندہ ﺻﺒﺢ ﺷﺎﻡ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻃﻼﻕ کھڑکاتا ﭘﮭﺮﮮ ﺍﻭﺭ گھڑی گھڑی ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮتا رہے تو ﺑﯿﻮﯼ حلال ہو گئ ….؟؟”

میں نے کہا:

” گھڑی گھڑی کون کھڑکاتا ہے ؟ کوئ پاگل ہے جو کھڑکائے ؟ .. کہانیاں بنا رکھّی ہیں سب نے …. ہر فرقہ دوجے کو ملکہ وکٹوریا کا ایجنٹ کہتا ہے …. تا کہ اصلی ایجنٹ پکڑا نہ جائے …. ادھر کا بندہ ادھر چھال نہ مار سکے … کَڑُکّی میں پھنسا کے رکھّا ہوا ہے سب کو … پر میں نے مار دی ہے چھال … کر لو جو کرنا ہے …. آج سے میں سلفی ہوں ..!!”

وہ بولے: ” چلو کوئ بات نئیں … وہابی ہی سہی پر وہابی تو نکاح کےلئے ولی کی شرط رکھتے ہیں …. اور لڑکی کا ولی چاچا لطیف ہے … کیوں چاچا؟ … ٹورے گا اپنی دِھی کو اس واہبی کے ساتھ ؟؟”

چاچا لطیف نے خاموشی سے انکار میں سر ہلا دیا-

میں نے کہا ” کیسے نئیں ٹورے گا ؟ …. میں اپنی ووہٹی خود لے کے جاؤں گا …. میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی ؟”

یہ کہ کر میں عالیہ کے کمرے کی طرف بڑھا تو چاچا لطیف میرا رستہ روک کر کھڑا ہو گیا :

” گھر کا دروازہ اودھر ہے- نکل جا ابھی اور اسی وقت … خبردار جو میری بیٹی کے قریب بھی پھٹکا … !!”

میں نے جزبات پہ قابو رکھتے ہوئے کہا :
” ٹھیک ہے چاچا- چلا جاتا ہوں- سمجھ گیا ہوں میں سارا کھیل- لیکن یاد رکھ … پچھتائے گا تُو اس فیصلے پہ … اور یہ مولوی وی پچھتائے گا …. تَپ چڑھے گا اسے اور منجی پہ سُک سُک کے تِیلا ہو گا … یاد رکھ لینا … !!! ”

اس کے بعد میں وہاں ایک پل بھی نہ رُکا اور خاموشی سے باھر نکل گیا-

میں اپنی دھُن میں سڑک کنارے چلا جا رہا تھا- دِل غم سے تار تار تھا ، اور آنکھ اشکبار-

عالیہ کےلئے مزید لڑنے کی اب مجھ میں سکت نہ تھی- معاملہ مسلک کی ناک کا تھا اور میں ناک پہ لگا وہ داغ تھا جسے مٹانے کو ہر صاحبِ ایمان کمربستہ ہو چکا تھا-
میری کشتی کے پتوار ٹوٹ چکے تھے اور وہ کھلے سمندر میں ڈوب رہی تھی- عالیہ اور میں اب الگ الگ تختوں پہ تھے- مجھے خود کو ڈوبنے سے بچانا تھا- مجھے جلد از جلد اس بھنور سے دور جانا تھا-

بانسوں والے جنگل کے پاس تھا کہ بس کا ہارن سنائ دیا- گِدڑ پِنڈی جانیوالی بس تھی- میں نے ہاتھ کا اشارہ کیا- بس رکی اور میں جست لگا کے سوار ہو گیا-

مجھے مستاں والے دربار پہ جانا تھا- سر چھپانے کو اب وہی ایک ٹھکانہ تھا- انسانوں کی بستی میں اب میری کوئ حیثیّت نہ تھی- دربار پہ ہی رزق روٹی کا حیلہ بن سکتا تھا- اس وقت پیٹ کا تن ڈھانپنے سے زیادہ مجھے کوئ مشکل درپیش نہ تھی-

بس کوئ ڈیڑھ دو میل ہی چلی تھی کہ کنڈکٹر کرایہ مانگنے کو چکّر لگانے لگا- میرے پاس غم کے سوا کوئ دولت نہ تھی- کنڈکٹر “بغیر ٹکٹ ، بغیر ٹکٹ” کی صدا لگاتا رہا اور میں آنکھیں موندے ، سیٹ سے پشت لگائے خاموش بیٹھا رہا-

یوں کوئ چار پانچ کلومیٹر کا سفر طے ہو گیا- بالاخر اس نے میرا کندھا تھپتھپایا اور بولا:
“توُں کِتّھے جاناں ؟؟”

میں نے ہڑبڑا کر کہا ” گِدڑ پِنڈی”
وہ بولا ” کرایہ …؟؟”
کہا ” ملنگ ہوں … مستاں والے دربار پہ جا رہا ہوں .. !!! ”
بس کے شور میں شاید وہ میری بات سمجھ نہ سکا اور بولا:
” گدڑ پنڈی کے پنج روپے … !!”

اب میں نے ذرا اونچی آواز میں کہا “نہیں ہیں میرے پاس پنج روپے ….!!”
وہ تاؤ کھا کر بولا: ” فیر دس دے دے …. !!”
میں نے کہا ” نئیں ہیں ….. !!”
وہ دانت نکوس کر بولا: “پیسے نئیں ہیں تو بس میں امب لینے کو بیٹھا ہے- چَل اتر … !!”

میں نے آنکھیں نکال کے کہا:

“ملنگوں سے کرایہ مانگتا ہے؟ شرم کر- پرسوں ہی بنگلہ گوگیرہ پہ بس اُلٹی ہے ، مِنکا ٹوٹا ہے کنڈکٹر کا- اس بدبخت نے بھی کرایہ مانگا تھا ایک ملنگ سے- چار پیسوں کی وجہ سے ایمان خراب نہ کر- جان بھی جائے گی اور ایمان بھی”

وہ گالی دے کر بولا:
“ویکھے ہیں تیرے جیسے کَن ٹُٹٌے ملنگ …. کرایہ دے نئیں تو اٹھا کے باھر پھینکوں گا”

وار خالی جاتا دیکھ کر میں نے کہا:
“پًتّر یہ دھن مال ، روپیہ ، پیسہ سب ادھر ہی رہ جائے گا- ایمان کی فکر کر- جس کا فقیروں پر ایمان نئیں ناں اس کا بیڑہ غرق ہے”

اس نے دروازہ بجا کر آواز لگائ “استاد بس روک”- کچھ ہی دیر میں بس ایک جھٹکے سے رک گئ-

” چل اُٹھ … تیرے وڈّے فقیر کی ایسی تیسی” اس نے بازو سے پکڑ کے مجھے سیٹ سے اٹھایا-
میں بھی جلال میں آ گیا اور کہا:

“فقیر کو ذلیل کرتا ہے- بس الٹے گی تیری ، مِنکا ٹوٹے گا تیرا … ”

سواریاں بڑے مزے سے یہ تماشا دیکھ رہی تھیں- کوئ میرے حق میں نہ بولا- کنڈکٹر مجھے دھکے دیتا ہوا دروازے تک لے گیا اور بولا ” کاواں دے آکھے ڈنگر نئیں مردے … چل دفع ہو ..!!! ”

میں بس سے اتر آیا اور کہا ” فقیر کو دھکّا دیا توُ نے …. آج سلامت گھر نئیں پہنچے گا تو … منکا ٹوٹے گا …. !!”
اس نے آگے بڑھ کر میرا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑا اور کہا :

“تیرا مِنکا تو میں ابھی توڑتا ہوں … ٹھہر جا … وڈّا آیا لنگ فقیر …. !!”

اس نے مجھے زور کا دھکّا دیا اور میں کچّے پر اوندھے مُونہہ گر پڑا- وہ مجھے ٹھڈّے مارتے ہوئے گالیاں دینے لگا-
سواریاں شیشے کھول کر اس منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھیں- مجال ہے کوئ اس ظلم پر ایک لفظ بھی بولتا- یہ وہی لوگ تھے جو ضیاء الحق کی ٹکٹکی دیکھنے بڑے شوق سے شہر جایا کرتے تھے-

شور سن کر ڈرائیور بھی بس سے اتر آیا- وہ ایک ٹھگنے قد کا بھاری بھر کم شخص تھا- اس نے کہا:
“او شوکی … کیا ہوا ؟؟ کیوں مارتے ہو اسے؟”

کنڈکٹر بولا “استاد ایک تو کرایہ نئیں دیتا الٹا بکواس کرتا ہے- بس الٹے گی تیری مِنکا ٹوٹے گا تیرا- چرس پی کے فقیر بنا پھرتا ہے … !!! ”

ڈرائیور بولا: “او چھڈ یار .. دفع کر شِدائ کو … ہم پہلے ہی لیٹ ہو رہے ہیں … !!”

کنڈکٹر مجھے وہیں چھوڑ کر بس پہ سوار ہو گیا- بس مجھ پہ کالا دھواں چھوڑتی چل پڑی اور میں گرد و غبار میں لپٹا کراہتا رہ گیا-

کچھ دیر تو یونہی خاک میں لت پت پڑا رہا- کہنی سے خون رس رہا تھا ، گردن بھی چھِل گئ تھی اور وکھیوں میں بھی درد ہو رہا تھا- بالاخر ہمّت کر کے گردن سہلاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا-
قریب ہی ایک کھالے میں پانی بہہ رہا تھا- میں نے ہاتھ مونہہ دھویا اور وہیں بنیرے پہ بیٹھ کر سستانے لگا-

طبیعت بحال ہو چکی تو ایک بار پھر سڑک کے کنارے کنارے چلنے لگا- کچھ آگے جا کر اینٹوں کا ایک بھٹّہ نظر آیا- اس کی چمنی سے سفید دھواں نکل رہا تھا- میں سڑک چھوڑ کر بھٹّے کی طرف روانہ ہو گیا-

سورج کافی نکل آیا تھا- صبح سے کچھ کھایا پیا بھی نہ تھا- بھوک اور پیاس ستانے لگی تھی- سوچا بھٹّے پہ جا کے پانی وغیرہ پی لوں گا- شاید کچھ تازہ باسی روٹی بھی مل جائے اور پیٹ کا سامان ہو جائے- پٹھان لوگ بڑے مہمان نواز ہوتے ہیں-

وہاں پہنچا تو ایک سرخ و سفید پٹھان چارپائ پہ لیٹا نظر آیا اس کی بھاری بھر کم مونچھیں دور سے ہی تاؤ کھا رہی تھیں- حلیے سے وہ بھٹّے کا مالک معلوم ہوتا تھا-

مجھے آتا دیکھ کر اس نے پگڑی سر پہ دھری اور چارپائ سے اٹھ کر مسکراتے ہوئے”سنگے حال دے” کہا- میں نے بھی بادلِ نخواستہ “خیر دے” کہا اور جبری مسکراہٹ چہرے پہ سجا کے مصافحہ کیا-

میں بیٹھ چکا تو خان نے پاس پڑی ہوئ کاپی پنسل اٹھائ اور پوچھا “اینٹ چاھئے یا ٹائل؟؟’
میں نے کہا ” کچھ نئیں چاھئے خان صاحب- مسافر ہوں- کچھ دیر آرام کو آیا ہوں”

وہ بولا : ” تمارا خون کیوں نکلتا ہے ؟”
میں نے کہا ” بس سے اترنے لگا تو گر گیا- معمولی رگڑ آئ ہے- اگر تھوڑا پانی مل جائے تو مہربانی ہو گی … ”

وہ اٹھا اور سامنے پڑے گھڑے سے پانی کی بٹھلی لا کر مجھے پیش کی- میں نے بسم اللہ پڑھ کر پانی پیا- اس نے پوُچھا ” اور کوئ خدمت ؟؟ ”
میں نے کہا ” بھوکا ہوں … کھانے کو کچھ مِل جائے تو احسان مند رہونگا … اور دُعا دوں گا”
اس نے ادھر ادھر دیکھا- پھر دُور کھیلتے نصف درجن بالکوں میں سے ایک کو پشتو میں آواز لگائ “عبدل رحمانا .. دلتا راشہ !!!”

ایک بچّہ جو نو دس برس کا تھا ننگے پاؤں بھاگتا ہوا آیا- خان نے پشتو میں اس سے کُچھ کہا- بچے نے کن اکھیوں سے مجھے دیکھا پھر خان سے کچھ کہا اور جھُگیوں کی طرف دوڑ لگا دی-

اس دوران سامنے پکّی سڑک سے دو موٹر سائیکل سوار بھٹّے کی طرف آتے دکھائ دئے- شاید اینٹوں کے خریدار تھے- تھوڑی دیر میں ہی وہ سر پہ آن پہنچے- چہروں مہروں سے وہ بھی پٹھان دکھائ دیتے تھے-

ان دونوں میں سے ایک نے بھٹّے والے کو پشتو میں کچھ بتایا- کوئ پریشانی والی بات لگتی تھی- بھٹّے والا “وائے خُدائے پاکا …” کہتا ہوا جلدی سے اُٹھا اور جھُگیوں کی سمت بھاگ کھڑا ہوا-

بھٹّے پہ کام کرنے والے دو اور پٹھان بھی اس طرف دوڑے چلے آئے- پھر یہ سب اونچی اونچی آواز میں بحث کرنے لگے- میں ان کی گفتگو سمجھنے سے قاصر تھا-

تھوڑی ہی دیر میں بھٹّے کا مالک ٹریکٹر ٹرالی لئے نمودار ہوا- پھر سب لوگ اس میں بیٹھ کر تیز رفتاری سے سڑک کی طرف نکل گئے-

مجھے شک ہوا کہ شاید کوئ جھگڑا ہوا ہے- افغان جنگ کی وجہ سے پٹھانوں کی بڑی تعداد پاکستان ہجرت کر رہی تھی- ان میں ہر قبیل کے لوگ تھے- متموّل پٹھان لکڑی اور بھٹّے کا کاروبار کرتے تھے اور غریب غرباء بیلچوں سے مٹّی کی دیواریں تھاپتے تھے- نوآباد پٹھانوں اور مقامی لوگوں میں بحث اور تلخ کلامی معمول کی بات تھی-

کچھ ہی دیر میں بالکا باجرے کی نصف روٹی اور گڑ کی ڈلّی لے آیا- میں نے اس خوان نعمت پر رب کا شکر ادا کیا- کھانا کھا کر نکلنے ہی لگا تھا کہ جھگیوں کی طرف سے ایک بزرگ پٹھان آتا دکھائ دیا-

یونہی تجسّس ہوا کہ اس سے جھگڑے کی بابت دریافت کر لوں- اس باریش نے مجھ سے مصافحہ کیا- وہ اردو جانتا تھا- اس نے مجھ سے حال احوال پوچھا اور کاپی پنسل سنبھال کے چارپائ پہ بیٹھ گیا-

میں نے کہا “خان بابا ، یہ سب لوگ ٹرالی پہ بیٹھ کے کِدھر گیا ہے ؟ کوئ لڑائ جھگڑا ہوا ہے ؟؟”
اس نے جیب سے ایک چمکتی ہوئ گول ڈبیا نکالی- اس سے چٹکی بھر نسوار نکال کے ہونٹوں تلے دبائ اور ڈبیا کے شیشے میں جھانکتے ہوئے بولا:

” نئیں خوچہ … وہ لوگ بتاتا ہے کہ اودھر سڑک پہ کوئ بس الٹا ہے …. کنڈکٹر اوس بس کا مر گیا ہے …. اس کا زخمی لوگ اودر پڑا ہے …. کابل خان اسی کو اٹھانے گیا ہے … بس خدائے پاک رحم کرے … !!!”

میرا دِل زور سے دھڑکا اور جسم میں سردی کی لہر دوڑ گیٰٰ-
اس بات میں کوئ ابہام نہ تھا کہ کون سی بس الٹی ہے- بھٹّے پہ آئے ہوئے مجھے بمشکل دس منٹ ہوئے تھے- اس دوران سڑک سے ایک ہی بس گزری تھی- وہی جس کے کنڈکٹر نے مجھے خاک آلود کیا تھا- ڈرائیور نے شِدائ کہا تھا اور سواریوں نے تماشا دیکھا تھا-

یا خدایا یہ کیا ہو گیا ؟ آج تک کوئ دعا قبول نہیں ہوئ اور بدعا اتنا جلدی ؟؟ میں تو مارا گیا- میری نحوست اب دوسروں کا خون بھی پینے لگی؟ الہی سب کو محفوظ رکھنا- میں نے کسی کو بد دُعا نہیں دی- قصور میرا تھا جو بغیر کرایہ کے بس میں جا گھُسا تھا- اوپر سے کنڈکٹر کو تڑی بھی لگانے لگا- کنڈکٹر بیچارے کا کیا قصور؟ “یا اللہ یہ خبر جھوُٹی ہو … سب کا بھلا سب کی خیر” میرے مونہہ سے نکلا اور میں نے بھٹّے سے کھسکنے میں ہی عافیّت جانی-

ہر حادثہ اتفاقیہ نہیں ہوتا- لوگ اتفاقات پہ کم ہی یقین رکھتے ہیں- حادثے کی جڑ تلاش کرتے ہیں اور یہ جڑ ہمیشہ روحانی ہوتی ہے- میں نے سوچا کہ جب بھی اس حادثے کا ذکر ہو گا میری بد دُعا کا ذکر ضرور ہو گا- بات مولویوں تک پہنچے گی اور میں منحوس قرار دے دیا جاؤں گا- فتوی آ جائے گا کہ دعائیں رد ہو جائیں اور بد دعائیں قبول ہونے لگیں تو بندے کو اعمال کی فکر کرنی چاھئے-

میرے لئے اب یہاں خطرہ ہی خطرہ تھا- اگر میرا سامنا اس بس کے کسی مسافر سے ہو گیا تو وہ یقیناً مجھے منحوس ہی سمجھے گا- منحوس کو کون مونہہ لگاتا ہے ؟ کابل خان کو معلوم ہو گیا کہ اس کے بھٹّے پہ بیٹھا شخص سند یافتہ منحوس ہے تو یقیناً مجھے پھٹکار دے گا- گاؤں گاؤں میری نحوست کا چرچا ہو گا اور لوگ مجھ سے کنارہ کرنے لگیں گے- اگر واقعی ایسا ہو گیا تو مجھے روٹی کے بھی لالے پڑ جائیں گے جو اس وقت میری سب سے بڑی ضرورت تھی-

انہی سوچوں میں گُم میں کچّی سڑک پہ اکیلا چلا جا رہا تھا- ظہر کا وقت ہو چلا تھا- دور ایک کسان کا ڈیرہ نظر آیا- میں نماز پڑھنے کو اس طرف ہو لیا-

دو کّتّے بھونکتے ہوئے میری طرف لپکے- کسان جو ایک بچھڑے کے پیچھے بھاگ رہا تھا ، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے میری طرف آیا- اس نے کُتّوں کو جھڑکا اور مجھ سے ہاتھ ملا کر خیریت اور آمد کا مقصد دریافت کیا-

میں نے کہا مسافر ہوں اور نماز پڑھنی ہے- وہ اچھا آدمی تھا- پہلے نلکے پہ مُجھے وضو کرایا پھر حویلی سے کھجّی کے پتّوں کا بنا ہوا مصّلہ اٹھا لایا- میں نماز کےلئے کھڑا ہوا اور خُدا کے نام زبانِ حال سے درد کی چٹّھی لکھنی شروع کی-

رب سائیں- میں اپنی ہر مشکل کی فریاد تجھ سے ہی کرتا ہوں- تو حاکم ہے اور مجھ پہ قدرت رکھتا ہے- عزت اور ذلت تیرے ہاتھ ہے- اس روز تو نے اس جیب کترے ملنگ کو عزّت دی اور مجھے لٹوا دیا – تیری مرضی- آج جب میں خود ملنگ بنا تو اسی کنڈکٹر کے ہاتھوں پٹوا دیا – تیری مرضی- میری اکلوتی بیوی مجھ سے چھِین کر مولوی شبیر شاہ کو دے دی ، جس کے پاس پہلے ہی دو بیویاں ہیں- تیری مرضی- میری دعائیں رد کر دیتا ہے اور بد دعائیں سن لیتا ہے- تیری مرضی- میری کیا مجال کہ شکوہ کروں- لیکن میری وجہ سے تو نے پوری بس الٹا دی اس پہ میں احتجاج کرتا ہوں- تجھے تیری خدائ کا واسطہ میری نحوست ، میرے شر سے اپنی مخلوق کو محفوظ رکھ- بھلے وہ مجھے ایذاء دیں یا جان کے دشمن بن جائیں- میں نے سب کو معاف کیا-

نماز پڑھ کر مصلّہ سمیٹنے لگا تو وہ کسان قریب ہوا- کہنے لگا صوفی صاحب میری ایک بھینس بیمار ہے- صبح سے جُگالی نہیں کر رہی- مرچوں والا پیڑا بھی کھلایا ہے- ٹھیک نہیں ہو رہی- کوئ دم چھو ہی کر دیو-

میں خاموشی سے چلتا ہوا بھینس کے قریب آیا- بسم اللہ پڑھ کر اس کی پیٹھ تھپتھپائ- پھر اس کا کان پکڑ کر کہا:

“جُگالی کیا کرو رانی- جنرل ضیاء کا آرڈر ہے ، جو بھینس جگالی نہیں کرے گی ، اسے ٹکٹکی پہ باندھ کے کوڑے مارے جائیں گے … !!! ”

کسان بصد احترام کھڑا رہا- وہ بیچارہ مجھے سچ مچ صوفی سمجھ رہا تھا-

میں نے کہا:

“کتنا پانی ملاتے ہو اس کےدودھ میں”

وہ ڈرتے ہوئے بولا ” میرا نوکر ملاتا ہے جی- اب جھڑک دوں گا”

میں نے کہا ” ڈالا کرو- بے شک بالٹیاں بھر بھر کے ڈالو مگر سرکاری کھال کا گدلا پانی مت ڈالو- لوگ بیمار ہوتے ہیں- نلکے کا صاف پانی ڈالا کرو- بنی اسرائیل پہ لاکھوں پیغمبر اترے ، ہم پہ مارشل لاء اترتے ہیں- نہ وہ سُدھرے ، نہ ہمارا ارادہ ہے”

وہ بولا ” اب نئیں ڈالوں گا جی- میں توبہ کرتا ہوں- آپ ذرا توُت کے نیچے آرام کریں- میں دودھ لے کے آتا ہوں … !!”

میں توُت کے نیچے منجی پہ لیٹ گیا- تھکا ہوا تو تھا ہی گھڑی بھر میں آنکھ لگ گئ- خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک خلقِ کثیر میرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے- ہر کوئ کہ رہا ہے کہ بڑا پہنچا ہوا فقیر ہے- اس نے پوری بس الٹا دی ہے- ڈرو اس سے … رب کے ساتھ اس کی لائین سیٹ ہے-

آنکھ کھُل گئ مگر آوازیں مسلسل آتی رہیں- میں حیران ہوا کہ خواب کے اندر خواب دیکھ رہا ہوں یا حقیقت کے اندر خواب ؟”

کلمہ پڑھ کر اٹھ بیٹھا- کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے چارپائ پہ کسان اور کابل خان پٹھان بیٹھے ہیں- ان کے ساتھ تیسرا وہی ٹھگنے قد کا ڈرائیور ہے جس کی بس اُلٹی تھی- اس کے سر پہ پٹّی بندھی ہے اور کپڑے خون آلود ہیں- شرمندگی اور خجالت اس کے چہرے سے ٹپک رہی ہے-

میں ہونقوں کی طرح انہیں دیکھنے لگا-
خان بولا ” لگتا ہے بابا جی جاگ گیا ہے … ”

میں نے ادھر ادھر دیکھا- کس بابا کی بات کر رہے ہیں ؟ یہاں تو میرے سوا کوئ نہیں- پھر وہ تینوں میری طرف بڑھے- قریب آکر کسان بڑے ادب سے بولا:
“بابا جی اجازت ہو تو ہم آپ کے قدموں میں بیٹھ جائیں ؟”

میں نے بمشکل تھوک نگلتے ہوئے کہا:
“میرے پاؤں پہ کیوں بیٹھتے ہو؟ چارپائ گھسیٹ لو …. اور یہ بابا کس کو کہ رہے ہو ؟؟ ”

اچانک وہ ٹھِگنا ڈرائیور قریب ہوا اور میرے گھُٹنے پکڑ کر رونے لگا- میں نے کہا “چھوڑ اُستاد … کیا کرتا ہے؟ میرا گوڈا پہلے ہی زخمی ہے- پیچھے ہٹ ”

یہ سن کر کابل خان بڑی لجاجت سے بولا ” تم کو خدائے پاک کا واسطہ بابا جی ، اس کو ماف کر دیو- بوہت پریشان ہے”

میں نے کہا:
“معاف کر دیا … اب جاؤ … !!! ”

ڈرائیور ہچکیاں لیتا ہوا بولا:
“ہمیں آپ کی گستاخی کی بہت بڑی سزا ملی باباجی … ہم برباد ہو گئے بابا جی … !!”

میں نے کہا:
“کون بابا جی ؟ میں کوئ بابا شابا نہیں ہوں- تمہاری بربادی سے میرا کیا واسطہ ؟ ضرور تمہیں کوئ غلط فہمی ہوئ ہے ….!! ”

وہ عورتوں کی طرح بین کرتے ہوئے بولا :

“ہائے … بوہت سمجھایا تھا جی اس شِدائ کو …مت لڑ فقیر سے … بات ہی نئیں مانی اس نے میری … مل گیا ناں نتیجہ … خود بھی برباد ہوا مجھے بھی کر گیا … نوّے موڑ پر بس اُلٹ گئ … وہ بدنصیب چھت پہ چڑھ رہا تھا ….. سواریوں سے کرایہ لینے … سواریوں کو تو چھوٹی موٹی سٹ وَجّی … مِنکا ٹوٹ گیا اس کا …. شوکی کا منکا ٹوٹ گیا ہائے بابا جی … منکا ٹوٹ گیا شوکی کا …. ہائے … !! ”

میں کچھ دیر مبہوت بیٹھا اسے دیکھتا رہا گویا بدن سے ساری طاقت کسی نے نچوڑ لی ہو- پھر کہا ” میں کسی شوکی کو نہیں جانتا … پتا نئیں کیا کہ رہے ہو تُم … میں نے کوئ بس نئیں الٹائ …. !!”

ڈرائیور گھڑی بھر کو چُپ ہوا- پھر جیب سے پھولا ہوا بٹوہ نکالا اور سو کا نوٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے ، آنسو صاف کرتا ہوا بولا:
” یہ نذرانہ رکھیں جی … بس آپ ہمیں معاف کر دیں … !!”
میں نے کہا:
“کس چیز کا نزرانہ؟ بس اُلٹانے کا ؟ میں نے نئیں الٹائ تیری بس … تو نے ضرور کوئ غلط موڑ کاٹا ہو گا …. !!”

وہ بولا:
” غریب بندہ ہوں جی … گڈّی تھانے چلی گئ تو برباد ہو جاؤں گا … دعا کر دو … پلس ، کچہری سے بچ جاؤں …. کس کس کو سمجھاؤں گا کہ بابا کی بد دعا لگی ہے ..!!”

مجھے غصّہ آ گیا اور کہا :

” گڈّی میری بد دعا سے نہیں ، تیری بے احتیاطی سے اُلٹی ہے- اندھا دھند چلاتے ہو- چلتی بس میں کنڈکٹر کو چھت پہ چڑھاتے ہو ، پھر جب کوئ مر جاتا ہے تو بابے کے متھّے لگا دیتے ہو ؟ نئیں چاھیں مجھے یہ پیسے ..!!”

وہ دوبارہ رونے لگا- میں پہلے ہی عاجز آ چکا تھا ، ہاتھ جوڑ کے کہا:

” استاد جی … خدا کا واسطہ یہ ڈرامہ بند کرو … جاؤ ادھر سے اور خبردار جو پولیس والوں سے میرا ذکر بھی کیا- میں پہلے ہی مشکلات میں گھِرا ہوں- اوپر سے ایک نئ مصیبت ڈال رہے ہو …”

وہ خاموشی سے اٹھا اور دور جا کر منجے پہ بیٹھ گیا- اتنے میں کسان کا نوکر پیالے میں دودھ لے آیا اور باادب کھڑا ہو گیا- میں نے اٹھتے ہوئے کہا “مجھے کوئ دودھ شودھ نئیں پینا … نہ ہی میں کوئ بابا ہوں … ہٹو آگے سے … جانے دو مجھے … !! ”

اس پر کسان آگے کو جھکا اور میرے گھٹنے پکڑ لئے ” بابا جی ، ہم سے کیوں ناراض ہیں … ؟”

مجھے شدید کوفت ہو رہی تھی- جھنجھلا کر کہا:

“چھوڑو یار … کیا بابا بابا لگا رکھّی ہے … نہیں ہوں میں بابا- مُلّا پور کا کمہار ہوں … پہلے ہی بدنام ہوں … ہزار مسئلوں میں پھنسا ہوں …. تمہارے مسئلے کیا حل کروں گا؟ … جان چھوڑو میری .. تمہاری طرح کا انسان ہوں میں- خود غرض ، لالچی ، بے وقوف … !!! ”

وہ بولا:” اللہ کے ولیوں کا پردہ کبھی کبھی فاش ہو ہی جاتا ہے- آپ بھلے مکر کرتے پھریں- ہم نے پہچان لیا آپ کو- آپ کے دم سے میری بھینس ٹھیک ہو گئ ہے- چارہ بھی کھایا ہے ، جگالی بھی کی ہے اور اڑھائ سیر دودھ بھی دیا ہے- میں کیسے مان لوں کہ آپ فقیر نئیں ہو- خدا کےلئے دودھ پی لو- پہلی بار کسی کو خالص پلا رہا ہوں … !!”

میں اس افتاد سے گھبرا اُٹھا اور یکایک ایک سمت دوڑ لگا دی- وہ منتیں کرتے ہوئے میرے ساتھ ساتھ بھاگے- بگلے اُڑے … کھیت میں چگتی مُرغیاں کٹاک کٹاک کر کے بھاگیں … کُتّوں نے بھونکاڑ مچا دی اور کِلوّں پہ بندھے جانور ڈکرانے لگے- غرض کہ ڈیرے پہ ایک ہڑبونگ سی مچ گئ

کہاں تک بھاگتا- بالاخر تھک ہار کے ایک پرالی میں بیٹھ گیا- وہ تینوں چوکڑی مار کے میرے سامنے آن بیٹھے-
میں نے زچ ہو کے کہا:
” بھائیو … سچ سچ بتاؤ … تم چاھتے کیا ہو؟”

کسان بولا : “ہم صرف آپ کی خدمت سیوا کرنا چاھتے ہیں … خدا قسم اور کوئ ارادہ نہیں”

اب پیر بننے کے سوا کوئ چارہ نہ تھا- میں نے کہا:

” غلطی کوتاہی معاف سجنو … دراصل نئ نئ فقیری ملی ہے … وہ بھی لاتیں اور گھسّن کھانے کے بعد … بار بار جلال اُٹھتا ہے … سمجھ نئیں آتی کیا کروں؟ … اگر خدمت ہی کرنی ہے تو میرے زخموں کےلئے تھوڑی ہلدی منگوا دو … اور گرم گرم دودھ پلا دو … روٹی شوٹی تیّار کرو … اب کیا بھگا بھگا کے مارو گے؟ تھوڑا آرام بھی کرنے دو … تھک گیا ہوں میں … اتنی بھاری بس کو اُلٹانا کوئ آسان کام ہے ؟؟ بڑے بڑے پِیروں کی چُک نکل جاتی ہے …. میں تو فیر وی … ماڑا سا اِک فقیر ہوں …!!”مُلاّں پوُر کا سائیں 25– ظفرجی

اس بات میں کوئ ابہام نہ تھا کہ کون سی بس الٹی ہے- بھٹّے پہ آئے ہوئے مجھے بمشکل دس منٹ ہوئے تھے- اس دوران سڑک سے ایک ہی بس گزری تھی- وہی جس کے کنڈکٹر نے مجھے خاک آلود کیا تھا- ڈرائیور نے شِدائ کہا تھا اور سواریوں نے تماشا دیکھا تھا-

یا خدایا یہ کیا ہو گیا ؟ آج تک کوئ دعا قبول نہیں ہوئ اور بدعا اتنا جلدی ؟؟ میں تو مارا گیا- میری نحوست اب دوسروں کا خون بھی پینے لگی؟ الہی سب کو محفوظ رکھنا- میں نے کسی کو بد دُعا نہیں دی- قصور میرا تھا جو بغیر کرایہ کے بس میں جا گھُسا تھا- اوپر سے کنڈکٹر کو تڑی بھی لگانے لگا- کنڈکٹر بیچارے کا کیا قصور؟ “یا اللہ یہ خبر جھوُٹی ہو … سب کا بھلا سب کی خیر” میرے مونہہ سے نکلا اور میں نے بھٹّے سے کھسکنے میں ہی عافیّت جانی-

ہر حادثہ اتفاقیہ نہیں ہوتا- لوگ اتفاقات پہ کم ہی یقین رکھتے ہیں- حادثے کی جڑ تلاش کرتے ہیں اور یہ جڑ ہمیشہ روحانی ہوتی ہے- میں نے سوچا کہ جب بھی اس حادثے کا ذکر ہو گا میری بد دُعا کا ذکر ضرور ہو گا- بات مولویوں تک پہنچے گی اور میں منحوس قرار دے دیا جاؤں گا- فتوی آ جائے گا کہ دعائیں رد ہو جائیں اور بد دعائیں قبول ہونے لگیں تو بندے کو اعمال کی فکر کرنی چاھئے-

میرے لئے اب یہاں خطرہ ہی خطرہ تھا- اگر میرا سامنا اس بس کے کسی مسافر سے ہو گیا تو وہ یقیناً مجھے منحوس ہی سمجھے گا- منحوس کو کون مونہہ لگاتا ہے ؟ کابل خان کو معلوم ہو گیا کہ اس کے بھٹّے پہ بیٹھا شخص سند یافتہ منحوس ہے تو یقیناً مجھے پھٹکار دے گا- گاؤں گاؤں میری نحوست کا چرچا ہو گا اور لوگ مجھ سے کنارہ کرنے لگیں گے- اگر واقعی ایسا ہو گیا تو مجھے روٹی کے بھی لالے پڑ جائیں گے جو اس وقت میری سب سے بڑی ضرورت تھی-

انہی سوچوں میں گُم میں کچّی سڑک پہ اکیلا چلا جا رہا تھا- ظہر کا وقت ہو چلا تھا- دور ایک کسان کا ڈیرہ نظر آیا- میں نماز پڑھنے کو اس طرف ہو لیا-

دو کّتّے بھونکتے ہوئے میری طرف لپکے- کسان جو ایک بچھڑے کے پیچھے بھاگ رہا تھا ، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے میری طرف آیا- اس نے کُتّوں کو جھڑکا اور مجھ سے ہاتھ ملا کر خیریت اور آمد کا مقصد دریافت کیا-

میں نے کہا مسافر ہوں اور نماز پڑھنی ہے- وہ اچھا آدمی تھا- پہلے نلکے پہ مُجھے وضو کرایا پھر حویلی سے کھجّی کے پتّوں کا بنا ہوا مصّلہ اٹھا لایا- میں نماز کےلئے کھڑا ہوا اور خُدا کے نام زبانِ حال سے درد کی چٹّھی لکھنی شروع کی-

رب سائیں- میں اپنی ہر مشکل کی فریاد تجھ سے ہی کرتا ہوں- تو حاکم ہے اور مجھ پہ قدرت رکھتا ہے- عزت اور ذلت تیرے ہاتھ ہے- اس روز تو نے اس جیب کترے ملنگ کو عزّت دی اور مجھے لٹوا دیا – تیری مرضی- آج جب میں خود ملنگ بنا تو اسی کنڈکٹر کے ہاتھوں پٹوا دیا – تیری مرضی- میری اکلوتی بیوی مجھ سے چھِین کر مولوی شبیر شاہ کو دے دی ، جس کے پاس پہلے ہی دو بیویاں ہیں- تیری مرضی- میری دعائیں رد کر دیتا ہے اور بد دعائیں سن لیتا ہے- تیری مرضی- میری کیا مجال کہ شکوہ کروں- لیکن میری وجہ سے تو نے پوری بس الٹا دی اس پہ میں احتجاج کرتا ہوں- تجھے تیری خدائ کا واسطہ میری نحوست ، میرے شر سے اپنی مخلوق کو محفوظ رکھ- بھلے وہ مجھے ایذاء دیں یا جان کے دشمن بن جائیں- میں نے سب کو معاف کیا-

نماز پڑھ کر مصلّہ سمیٹنے لگا تو وہ کسان قریب ہوا- کہنے لگا صوفی صاحب میری ایک بھینس بیمار ہے- صبح سے جُگالی نہیں کر رہی- مرچوں والا پیڑا بھی کھلایا ہے- ٹھیک نہیں ہو رہی- کوئ دم چھو ہی کر دیو-

میں خاموشی سے چلتا ہوا بھینس کے قریب آیا- بسم اللہ پڑھ کر اس کی پیٹھ تھپتھپائ- پھر اس کا کان پکڑ کر کہا:

“جُگالی کیا کرو رانی- جنرل ضیاء کا آرڈر ہے ، جو بھینس جگالی نہیں کرے گی ، اسے ٹکٹکی پہ باندھ کے کوڑے مارے جائیں گے … !!! ”

کسان بصد احترام کھڑا رہا- وہ بیچارہ مجھے سچ مچ صوفی سمجھ رہا تھا-

میں نے کہا:

“کتنا پانی ملاتے ہو اس کےدودھ میں”

وہ ڈرتے ہوئے بولا ” میرا نوکر ملاتا ہے جی- اب جھڑک دوں گا”

میں نے کہا ” ڈالا کرو- بے شک بالٹیاں بھر بھر کے ڈالو مگر سرکاری کھال کا گدلا پانی مت ڈالو- لوگ بیمار ہوتے ہیں- نلکے کا صاف پانی ڈالا کرو- بنی اسرائیل پہ لاکھوں پیغمبر اترے ، ہم پہ مارشل لاء اترتے ہیں- نہ وہ سُدھرے ، نہ ہمارا ارادہ ہے”

وہ بولا ” اب نئیں ڈالوں گا جی- میں توبہ کرتا ہوں- آپ ذرا توُت کے نیچے آرام کریں- میں دودھ لے کے آتا ہوں … !!”

میں توُت کے نیچے منجی پہ لیٹ گیا- تھکا ہوا تو تھا ہی گھڑی بھر میں آنکھ لگ گئ- خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک خلقِ کثیر میرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے- ہر کوئ کہ رہا ہے کہ بڑا پہنچا ہوا فقیر ہے- اس نے پوری بس الٹا دی ہے- ڈرو اس سے … رب کے ساتھ اس کی لائین سیٹ ہے-

آنکھ کھُل گئ مگر آوازیں مسلسل آتی رہیں- میں حیران ہوا کہ خواب کے اندر خواب دیکھ رہا ہوں یا حقیقت کے اندر خواب ؟”

کلمہ پڑھ کر اٹھ بیٹھا- کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے چارپائ پہ کسان اور کابل خان پٹھان بیٹھے ہیں- ان کے ساتھ تیسرا وہی ٹھگنے قد کا ڈرائیور ہے جس کی بس اُلٹی تھی- اس کے سر پہ پٹّی بندھی ہے اور کپڑے خون آلود ہیں- شرمندگی اور خجالت اس کے چہرے سے ٹپک رہی ہے-

میں ہونقوں کی طرح انہیں دیکھنے لگا-
خان بولا ” لگتا ہے بابا جی جاگ گیا ہے … ”

میں نے ادھر ادھر دیکھا- کس بابا کی بات کر رہے ہیں ؟ یہاں تو میرے سوا کوئ نہیں- پھر وہ تینوں میری طرف بڑھے- قریب آکر کسان بڑے ادب سے بولا:
“بابا جی اجازت ہو تو ہم آپ کے قدموں میں بیٹھ جائیں ؟”

میں نے بمشکل تھوک نگلتے ہوئے کہا:
“میرے پاؤں پہ کیوں بیٹھتے ہو؟ چارپائ گھسیٹ لو …. اور یہ بابا کس کو کہ رہے ہو ؟؟ ”

اچانک وہ ٹھِگنا ڈرائیور قریب ہوا اور میرے گھُٹنے پکڑ کر رونے لگا- میں نے کہا “چھوڑ اُستاد … کیا کرتا ہے؟ میرا گوڈا پہلے ہی زخمی ہے- پیچھے ہٹ ”

یہ سن کر کابل خان بڑی لجاجت سے بولا ” تم کو خدائے پاک کا واسطہ بابا جی ، اس کو ماف کر دیو- بوہت پریشان ہے”

میں نے کہا:
“معاف کر دیا … اب جاؤ … !!! ”

ڈرائیور ہچکیاں لیتا ہوا بولا:
“ہمیں آپ کی گستاخی کی بہت بڑی سزا ملی باباجی … ہم برباد ہو گئے بابا جی … !!”

میں نے کہا:
“کون بابا جی ؟ میں کوئ بابا شابا نہیں ہوں- تمہاری بربادی سے میرا کیا واسطہ ؟ ضرور تمہیں کوئ غلط فہمی ہوئ ہے ….!! ”

وہ عورتوں کی طرح بین کرتے ہوئے بولا :

“ہائے … بوہت سمجھایا تھا جی اس شِدائ کو …مت لڑ فقیر سے … بات ہی نئیں مانی اس نے میری … مل گیا ناں نتیجہ … خود بھی برباد ہوا مجھے بھی کر گیا … نوّے موڑ پر بس اُلٹ گئ … وہ بدنصیب چھت پہ چڑھ رہا تھا ….. سواریوں سے کرایہ لینے … سواریوں کو تو چھوٹی موٹی سٹ وَجّی … مِنکا ٹوٹ گیا اس کا …. شوکی کا منکا ٹوٹ گیا ہائے بابا جی … منکا ٹوٹ گیا شوکی کا …. ہائے … !! ”

میں کچھ دیر مبہوت بیٹھا اسے دیکھتا رہا گویا بدن سے ساری طاقت کسی نے نچوڑ لی ہو- پھر کہا ” میں کسی شوکی کو نہیں جانتا … پتا نئیں کیا کہ رہے ہو تُم … میں نے کوئ بس نئیں الٹائ …. !!”

ڈرائیور گھڑی بھر کو چُپ ہوا- پھر جیب سے پھولا ہوا بٹوہ نکالا اور سو کا نوٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے ، آنسو صاف کرتا ہوا بولا:
” یہ نذرانہ رکھیں جی … بس آپ ہمیں معاف کر دیں … !!”
میں نے کہا:
“کس چیز کا نزرانہ؟ بس اُلٹانے کا ؟ میں نے نئیں الٹائ تیری بس … تو نے ضرور کوئ غلط موڑ کاٹا ہو گا …. !!”

وہ بولا:
” غریب بندہ ہوں جی … گڈّی تھانے چلی گئ تو برباد ہو جاؤں گا … دعا کر دو … پلس ، کچہری سے بچ جاؤں …. کس کس کو سمجھاؤں گا کہ بابا کی بد دعا لگی ہے ..!!”

مجھے غصّہ آ گیا اور کہا :

” گڈّی میری بد دعا سے نہیں ، تیری بے احتیاطی سے اُلٹی ہے- اندھا دھند چلاتے ہو- چلتی بس میں کنڈکٹر کو چھت پہ چڑھاتے ہو ، پھر جب کوئ مر جاتا ہے تو بابے کے متھّے لگا دیتے ہو ؟ نئیں چاھیں مجھے یہ پیسے ..!!”

وہ دوبارہ رونے لگا- میں پہلے ہی عاجز آ چکا تھا ، ہاتھ جوڑ کے کہا:

” استاد جی … خدا کا واسطہ یہ ڈرامہ بند کرو … جاؤ ادھر سے اور خبردار جو پولیس والوں سے میرا ذکر بھی کیا- میں پہلے ہی مشکلات میں گھِرا ہوں- اوپر سے ایک نئ مصیبت ڈال رہے ہو …”

وہ خاموشی سے اٹھا اور دور جا کر منجے پہ بیٹھ گیا- اتنے میں کسان کا نوکر پیالے میں دودھ لے آیا اور باادب کھڑا ہو گیا- میں نے اٹھتے ہوئے کہا “مجھے کوئ دودھ شودھ نئیں پینا … نہ ہی میں کوئ بابا ہوں … ہٹو آگے سے … جانے دو مجھے … !! ”

اس پر کسان آگے کو جھکا اور میرے گھٹنے پکڑ لئے ” بابا جی ، ہم سے کیوں ناراض ہیں … ؟”

مجھے شدید کوفت ہو رہی تھی- جھنجھلا کر کہا:

“چھوڑو یار … کیا بابا بابا لگا رکھّی ہے … نہیں ہوں میں بابا- مُلّا پور کا کمہار ہوں … پہلے ہی بدنام ہوں … ہزار مسئلوں میں پھنسا ہوں …. تمہارے مسئلے کیا حل کروں گا؟ … جان چھوڑو میری .. تمہاری طرح کا انسان ہوں میں- خود غرض ، لالچی ، بے وقوف … !!! ”

وہ بولا:” اللہ کے ولیوں کا پردہ کبھی کبھی فاش ہو ہی جاتا ہے- آپ بھلے مکر کرتے پھریں- ہم نے پہچان لیا آپ کو- آپ کے دم سے میری بھینس ٹھیک ہو گئ ہے- چارہ بھی کھایا ہے ، جگالی بھی کی ہے اور اڑھائ سیر دودھ بھی دیا ہے- میں کیسے مان لوں کہ آپ فقیر نئیں ہو- خدا کےلئے دودھ پی لو- پہلی بار کسی کو خالص پلا رہا ہوں … !!”

میں اس افتاد سے گھبرا اُٹھا اور یکایک ایک سمت دوڑ لگا دی- وہ منتیں کرتے ہوئے میرے ساتھ ساتھ بھاگے- بگلے اُڑے … کھیت میں چگتی مُرغیاں کٹاک کٹاک کر کے بھاگیں … کُتّوں نے بھونکاڑ مچا دی اور کِلوّں پہ بندھے جانور ڈکرانے لگے- غرض کہ ڈیرے پہ ایک ہڑبونگ سی مچ گئ

کہاں تک بھاگتا- بالاخر تھک ہار کے ایک پرالی میں بیٹھ گیا- وہ تینوں چوکڑی مار کے میرے سامنے آن بیٹھے-
میں نے زچ ہو کے کہا:
” بھائیو … سچ سچ بتاؤ … تم چاھتے کیا ہو؟”

کسان بولا : “ہم صرف آپ کی خدمت سیوا کرنا چاھتے ہیں … خدا قسم اور کوئ ارادہ نہیں”

اب پیر بننے کے سوا کوئ چارہ نہ تھا- میں نے کہا:

” غلطی کوتاہی معاف سجنو … دراصل نئ نئ فقیری ملی ہے … وہ بھی لاتیں اور گھسّن کھانے کے بعد … بار بار جلال اُٹھتا ہے … سمجھ نئیں آتی کیا کروں؟ … اگر خدمت ہی کرنی ہے تو میرے زخموں کےلئے تھوڑی ہلدی منگوا دو … اور گرم گرم دودھ پلا دو … روٹی شوٹی تیّار کرو … اب کیا بھگا بھگا کے مارو گے؟ تھوڑا آرام بھی کرنے دو … تھک گیا ہوں میں … اتنی بھاری بس کو اُلٹانا کوئ آسان کام ہے ؟؟ بڑے بڑے پِیروں کی چُک نکل جاتی ہے …. میں تو فیر وی … ماڑا سا اِک فقیر ہوں۔۔۔۔۔۔۔!

دیسی مُرغ کی کڑاھی ، خالص گُڑ کا مکھڈّی حلوہ ، آم کا اچار ، نیاز بوُ کی چٹنی ، دہی کا رائتہ ، کٹّے ہوئے پیاز ٹماٹر ، تندور کی گرم گرم روٹیاں-
یہ تمام سوغات ایک بڑے میز پہ سجا کر نور محمد کسان میرے سرھانے کھڑا تھا-

میں نے کہا ” نوُر محمّد ، بیٹھ جا یار …. کھا لے کھانا … کوئ عذاب نئیں آئے گا تجھ پہ … میں اجازت دے رہا ہوں ناں …!!”

مگر ایک مُرِید کا اتنا حوصلہ کہاں کہ “پیر سائیں” کے ساتھ ایک میز پہ بیٹھ سکتا- یہ عمل تو سخت بے ادبی شمار ہوتا ہے- چنانچہ وہ کسی مُغل درباری کی طرح ادب سے ہاتھ باندھے ہماری روٹیاں ہی گنتا رہا-

رہے ہم ، تو چونکہ مُدّت بعد ایسا شاھی کھانا نصیب ہوا تھا ، بمشکل انصاف کے تقاضے پورے کرتے رہے- چار دن کی پِیری تھی- کاٹھ کی ھنڈیا کب تک چڑھتی- ملاّں پور کے خداؤں کو خبر ہوتی کہ صلّو کمہار ، حالات کی سوُلی پہ لِیرولِیر ہونے کی بجائے پِیر فقیر بنا پھرتا ہے تو یقیناً فتنہ سمجھ کر میری سرکوبی کو نکلتے-

میں نے سب کچھ رب کے سپرد کر دیا تھا- وقت وقت کی بات ہے- پہلے ہوائیں مخالف چل رہی تھیں اب موافق چل پڑی تھیں- ہوائیں کون چلاتا ہے ؟ وہی جو بارش برساتا ہے- کب تک موافق چلیں گی؟ اسی کو خبر تھی-

کھانے سے فارغ ہوا تو میں نے نور محمّد سے کہا:
“مُصلّہ نکالو اور باہر پرالی میں بچھا دو …. !!”

وہ بولا :
“باہر تو بہت سردی ہے جی- کورا ککّر جم رہا ہے- یہیں کوٹھے میں نماز پڑھ لیں …. ”
میں نے کہا ” نہیں- مُجھے رب سائیں کے نام ایک ضروری چٹّھی لکھنی ہے …. !!”

اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں :
” چِٹّھی ؟ رب سائیں کو؟ سچ مُچ ؟ پیر صیب … ہمارا بھی سلام لکھئے گا … اور … تین بیٹیاں ہیں میری … ایک بیٹے کا سوال تو کر دِیجئے گا …. !!”

میں نے کہا ” اور کُچھ ؟”

کہنے لگا:

” بھینس میری مسلسل کٹّے دے رہی ہے …. ایک کٹّی کا سوال بھی کر دیجئے گا ..”

میں نے کہا ” اپنے لئے بیٹا اور بھینس کےلئے کٹّی؟ یہ تو کھُلا تضاد ہے نور محمد ؟”

وہ سادگی سے بولا ” کٹّی بڑی ہو کے بھینس بنے گی جی … اپنے کِلّے پہ رہے گی …. بیٹی تو پرایا مال ہوتی ہے ناں جی …. !!”

مُصلّے پہ کھڑا ہی ہوا تھا کہ اس کی آواز آئ :
” یہ بھی لکھ دیجئے گا کہ مولا … اس وار پیاز کو چوکھا ریٹ لگانا !!”

میں نے کہا ” بے فکر رہ .. جب تک کرسی پہ ارائیں بیٹھا ہے پیاز کو کچھ نئیں ہوتا … اب جا اور مجھے نماز پڑھنے دے ..”

سردی سے کپکپاتے میں نے سچّے بادشاہ کی بارگاہ میں دوسری چٹّھی بھیجی :

“رب سائیں … قسم تیری .. لاڈ کیا تھا ہم نے …. بس یونہی لاڈ پیار میں صبح شکوہ نکل گیا زبان سے …. ناراض تو نہیں ہو گئے ہو … اتنی عنایات ؟ اتنا رزق ؟ پورا جگ جہان الٹو گے کیا ؟ مجھے لگتا ہے ناراض ہو … ورنہ صلّو کی اتنی ٹہل سیوا نہ ہوتی … کیوں مرواتے ہو سائیں … تو جانتا ہے ناں کہ پیر بننے کےلئے پیر کا بیٹا ہونا ضروری ہے … کم سے کم سیّد تو ہو … کمہار ہو کر پِیر کہلانا تو پیری کو لاگ لگانے والی بات ہے … بڑی ظالم قوم کے آگے ڈال دیا سائیں … کھلایا پلایا سب نکال لیتی ہے … ان کے ہاتھوں مروا نئیں دینا میرے سوھنیاں ربّا … باقی نور محمّد سلام کہتا ہے … وہ اپنے لئے بیٹا اور بھینس کےلئے کٹّی مانگ رہا ہے ..اللہ تو بیٹیوں کے نصیب اچھے کر دے تاکہ لوگ تجھ سے تیری رحمت بیٹیاں مانگیں ۔۔۔۔۔
پھر جسے جو چاہے دے … وہ راضی رہیں گے …
باقی یہاں سب خیریت ہے …
فقط تیرا ایک عاجز بندہ … !! ”

رات بھرنور محمد اپنی جد اولاد کی مجھ سے جھاڑ پھونک کراتا رہا- بوڑھی اماں کو دم کرایا کہ گھٹنوں کی تکلیف دور ہو – بچّوں کو خسرہ چیچک پولیو سے حفاظت کے پھُوکے مروائے- بکری کو ہاتھ پھروایا کہ گابھن نکلے- اصیل کُکّڑ کو دم کرایا کہ لڑائ میں فتح یاب ہو- سویرے سویرے کپاس کے گرد پھیرا لگوایا کہ جھاڑ چوکھا آئے- ان کےلئے میں بیک وقت بڑوں ، بچوں اور ڈنگروں کا ڈاکٹر بھی تھا اور ماہرِ زراعت بھی- جب دم کر کر کے بے دم ہوا تو بستر پہ جا گرا-

صبح سورج نکلتے ہی فضاء کابل خان کے روسی ٹریکٹر کے شور سے گونج اُٹھی- وہ قضاء بن کے سر پہ آن کھڑا ہوا:
” تُم نے بوہت خدمت خاطر کر لیا نور محمد- اب پیر صیب کو امارے حوالے کرو”

میں نے کہا ” خان صیب- اب ہمیں اجازت دو- فقیروں کو ایک جگہ زیادہ ٹکنے کی اجازت نہیں ہوتی .. !!!”

“ماڑا کیسے جانے دے ؟ ھم ناشتہ تیار کر کے بیٹھا ہے- چلو امارے ساتھ- ٹریکٹر پہ بیٹھو ..!!”

چاروناچار مجھے ایک بار پھر بھٹّے پہ آنا پڑا-

چھپری کے نیچے میرے لئے نوار والی چارپائ بچھائ گئ- بھٹّہ مزدوروں نے وضو کر کے مجھ سے ہاتھ ملایا اور میری طرف پیٹھ نہ ہونے کے خوف سے الٹے قدموں واپس پلٹے-

خان ناشتہ لینے گیا تو میں نے گھڑی بھر خود کو آزاد محسوس کیا- چارپائ سے اٹھ کر گردوپیش کا جائزہ لینے لگا- اس دوران اچانک کہیں سے اینٹیں گرنے کی آواز آئ- کچھ مزدور اس طرف بھاگے- میں بھی تجسّس کے مارے اس طرف چلا گیا-

کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مریل سا گدھّا ، اینٹوں کے ڈھیر تلے دبا پڑا ہے- شاید ضرورت سے زیادہ وزن نہ سہہ سکا تھا اور گر گیا- مزدور ڈنڈے مار مار کر اسے اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے-

میرا دل پسیج گیا- آخر کو ذات کا کمہار تھا-میں نے کہا:
“ٹھہر جاؤ- کیوں ظلم کرتے ہو بے زبان پہ- پہلے اینٹیں تو ہٹاؤ”

مزدوروں نے میری بات سن کر گدھے پر سے اینٹیں ہٹانی شروع کیں- بیچارہ بمشکل ٹانگوں پہ کھڑا ہوا- اس کی پیٹھ پر ایک گندا سا ٹاٹ دھرا تھا- میں نے ہٹایا تو پوری کمر زخموں سے چُور تھی-

میں نے کہا ” اس کو چھوڑ دو- زخمی ہے بے چارہ- سامان اٹھانے کے قابل نہیں رہا .. ”

وہ پیچھے ہٹ گئے- میں نے اسے رسی سے کھینچا ، ایک مزدور نے دھکّا لگایا اور ہم اسے سائے تلے لے آئے- کابل خان میز پر ناشتہ لگا رہا تھا-
میں نے کہا:

“ہم ناشتہ بعد میں کریں گے- پہلے اس لاچار کا علاج ہو گا- گھر سے تھوڑی ہلدی اور تیل لے کر آؤ- اور کپڑا بھی- اس کی مرہم پٹّی بہت ضروری ہے”

وہ بھاگ کر گیا اور کچھ ہی دیر میں سب سامان لے آیا- میں نے بالٹی میں پانی منگوا کر اس کے زخموں کو دھویا اور کمر پر ہلدی اور تیل کا لیپ لگا کر پٹی کر دی- پھر کھالے پہ جا کے اس بے زبان کو پانی پلایا اور وہیں گھاس پر چھوڑ دیا-
پھر کابل خان سے کہا:

” یہ پیر سائیں کا کھوتا ہے- اس کی خدمت تم پہ فرض ہے- آئیندہ اس پر سامان مت دھونا- آج سے اسے ریٹائر سمجھا جائے …. ”

ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا تھا اور خان بار بار اس پر سے مکھیاں ہٹا رہا تھا- بکرے کا سالن ، انڈے ، دہی ، قہوہ اور تندوری پراٹھوں کی فراوانی تھی- جب سیر ہو چکا تو چائے کی چسکی لیتے ہوئے خان سے کہا:
“اب جس جس کو دم کرانا ہے جلدی لے آ- ہمیں گِدڑ پنڈی جانا ہے”

وہ مغموم ہو کر بولا ” دس بیٹا تھا ہمارا- پانچ روس کی بمباری سے مر گیا- پانچ باقی ہے- وہ سب ٹھیک ہے- ایک امارہ بیٹی ہے- اس کو دورہ پڑتا ہے- ادھر ادھر سے بوہت دم کروایا سب کہتا ہے جن آیا ہوا ہے- تم کو جنّات کا دم آتا ہے ؟؟”

مجھے چائے پیتے پیتے اتھرو آ گیا- پھر کھانس کر کہا:

“چھوٹے موٹے جنّات کا دم تو آتا ہے … وڈّے جنّات کا دم وڈّے پِیر صاب کرتے ہیں … مزار پہ آ جانا …..!!”

وہ بولا ” چھوٹا بچی ہے تو جن بھی تو چھوٹا ہو گا پیر صیب … تم ہی دم کر دو …!!”

اب فرار کی کوئ راہ نہ تھی- میں نے کہا :
“اچھا ٹھیک ہے … دیکھتے ہیں”

خان مجھے جھگیوں کی طرف لے گیا- پھر ایک جھُگّی کے سامنے مجھے کھڑا کر کے اندر گیا ، پردہ کرایا اور آواز دی:
“پیر صیب …اندر آ جاؤ لاکا ..!!

میں اندر گیا تو سات آٹھ سال کی ایک بچّی گدے پہ بے سُدھ لیٹی تھی- میں اس کے قریب دو زانو ہو بیٹھا- آنکھیں بند کر کے الحمد شریف پڑھی- پھر چہار قُل شریف پڑھنے لگا-

یکایک یوں لگا جیسے کسی کالے ناگ نے مجھ پہ حملہ کیا ہو- میں تڑپ کر پیچھے ہٹّا- دل زور سے دھڑکا- گلہ خشک ہونے لگا- بمشکل خود کو سنبھالا اور دوبارہ چہار قُل پڑھنے کی کوشش کی مگر گلے سے آواز نہ نکل سکی- بس قُل قُل ہی کرتا رہ گیا-

اچانک ایک خوفناک صورت ظاہر ہوئ- میں نے ایسی کریہہ مخلوق پہلے کبھی نہ دیکھی تھی- میری سٹّی گُم ہو گئ- گھڑی بھر تو حواس معطّل رہے پھر بمشکل مونہہ سے نکلا :
” یہ کیا بلاء ہے بھئ ….؟؟”

وہ عفریت کسی درندے کی طرح غرایا اور انتہائ مکروہ آواز میں بولا:

” توُ کیا بلاء ہے بھائ …؟؟”

میرے مونہہ سے نکلا:
” مم … میں … پیر صلاح الدین … نئیں نئیں … صلّو کمہار ہوں ….تت .. توُ .. کیا جِن ہے؟؟”

وہ غُرایا:
” سُودی جِن ہوں میں- سود خوروں کو چمٹتا ہوں- کس لئے آئے ہو … ؟؟ ”

میں نے کہا:
” بب … بس ویسے ہی … ادھر سے گزر رہا تھا … سس … سوچا … آ .. آپ کا دیدار کر لوں … بب .. بس ٹھیک ہے … تم آرام کرو …. مم میں چلتا ہوں … اللہ حافظ.!!”

عفریت غائب ہوگیا اور میں بے سدھ ہو کر کرسی پہ گر پڑا-

خان نے پوچھا: “ہاں لاکا پیر صیب … کیا بولتی ہے جِن ؟”

میں نے کہا :
“خان صاب … وہ فرما رہے ہیں کہ میں سُودی جِن ہوں .. سود خوروں کو چمٹتا ہوں- آپ سود کھاتے ہو تو چھوڑ دو- میرے بس سے تو اب بات باہر ہے … !!”

وہ بولا : ” خوچہ تُم کیسا پِیر ہے ؟؟ بات کرو اس سے کہ سوُد ھم کھاتا ہے … کاکی کو کیوں چمٹتا ہے ؟؟ …. اس معصوم کا کیا قصور ؟ … بولو بولو … لاکا بولو ..!!”

آگے کنواں پیچھے کھائ- پیچھے پٹھان آگے جِن- مرتا کیا نہ کرتا مجبوراً پھر جِن کو حاضر کیا- اس کی منحوس صورت ظاہر ہوئ اور وہ غُرّایا:
“پھرآ گئے ہو …؟؟”

اس بار میرا اعتماد کچھ بحال تھا- میں نے کہا:
” جج … جی … جِن بھائ … خان صاحب فرما رہے ہیں کہ بچّی کا کیا قصُور ہے … وہ تو معصوم ہے ؟؟”
وہ نتھنے پھُلا کر بولا:
“تو بچّی کو چھوڑ کر خان کو چمٹ جاؤں ؟”

میں فوراً خان کی طرف پلٹا اور کہا:
“خان صاب …اب دو جواب- جن صاب پوچھ رہے ہیں کہ بچّی کو چھوڑ کر آپ کو چمٹ جاؤں … ؟؟”

خان آنکھیں نکال کے بولا:

” خدائے پاک کا خوف کرو پیر صیب … تم ہمارے ساتھ ہو یا جِن کے ساتھ … لاکا سمجھاؤ اس کو کہ روس نے افغان پہ حملہ کیا … ہمارا گھر برباد ہوا … کاروبار تباہ ہوا … لٹا پٹا یہاں آیا …. تین بینکوں سے سود پہ پیسہ اُٹھایا … تب یہ بھٹہ بنایا …. روز مزدور قرض مانگنے کو آ جاتا ہے …. کسی کا ماں بیمار ہے …. کسی کا بہن کا شادی …. انکار کرو تو کام چھوڑ کے بیٹھ جاتا ہے …. اب سود کا پیسہ مفت میں کیسے لٹائے ؟؟ اسے سمجھاؤ ماڑا … عقل کا بات کرے … ہمارا مجبوری سمجھے …. بینک والوں کو کیوں نئیں چمٹتا؟ … ساری دنیا کو وہی سُود دیتا ہے ؟؟ ”

خان کا بیان سُن کے میں ایک بار پھر جِن کی طرف متوجہ ہوا- وہ غائب ہو چکا تھا- میں نے ایک بار پھر چہار قل پڑھا- اس بار وہ کافی دیر سے آیا اور بولا:
“معاف کرنا میں غسل خانے میں تھا … ہاں بولو … کیا کہتے ہو … ؟؟”

میں نے کہا:
” خان صاحب فرماتے ہیں کہ وہ مجبور ہیں- تم بینک والوں کو جا کر چمٹو … ساری دنیا کو وہی سود دیتے ہیں … !!! ”

اس کا موڈ سخت خراب ہوا اور وہ غُرّا کر بولا:

” ہم بھی مجبور ہیں- بینک والوں کو چمٹیں گے تو وہ کہیں گے کہ اسٹیٹ بینک کو چمٹو …. اسٹیٹ بینک کہے گا ورلڈ بینک کو چمٹو … ورلڈ بینک کہے گا یہود کو چمٹو …. ہمارے پاس پاکستان کا ویزہ ہے .. اسرائیل کا نہیں …. !!!”

جن غائب ہوا تو میری طبیعت سخت متلانے لگی- پھر زور کی ابکائ آئ- کابل خان بھاگ کر بالٹی اٹھا لایا-
میں نے کہا ” نلکے پہ چلو فوراً ، مجھے اُلٹیاں کرنی ہیں”

جو کچھ کھایا پیا تھا ، سب باھر آ گیا- ذرا حواس درست ہوئے تو وضو کیا اور خان سے کہا:

“اچھی خاصی مست زندگی گزار رہا تھا میں … تم لوگوں نے پکڑ دھکڑ کے پیر بنا دیا … جانے کس کس بلاء سے لڑاؤ گے …. سُودی جنّ سے مقابلہ کراتے ہو ؟ جنرل ضیاء نئیں کر پایا …. میں کس کھیت کی موُلی ہوں … سب جنّوں کا باپ ہے یہ …. قیامت کے روز جب انسان اور جنّات تھر تھر کانپ رہے ہونگے ، یہ منحوس وہاں بھی سودخور کو چمٹا ہو گا … !!”

“تو اب اس کا کیا کریں ؟” خان نے مسلسل نلکا چلاتے ہوئے پوچھا-

” کرنا کیا ہے ؟ سوُد کھانا چھوڑ دو ، میں نے اگر تیرا ناشتہ نہ کیا ہوتا تو کم از کم سر اٹھا کے بات تو کرتا اس جِن سے- جو خود سوُدی پراٹھے ڈکار کے بیٹھا ہو ، کیا مقابلہ کرے گا سوُدی جِن کا- نکال دیا ناں سب کُچھ”

اس دوران بھٹّے پہ کچھ گدھا گاڑیاں آئیں- ایک ریڑھی پہ ملاں پور کا بالو ارائیں بیٹھا ہوا تھا- مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پہ غصّے اور نفرت کے آثار پیدا ہوئے-

دور سے ہی بولا:
“تو کدھر پھرتا ہے منحوس طلاقی ؟ اس دن تو ہمیں نصیحت کر رہا تھا کہ زوجہ کی فوتگی پہ مولوی کا بیان رکھوایا کریں … اب خود طلاق دے کے پھرتا ہے ؟”

میں تو جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں- خان بھی پریشان ہو گیا اور بولا :
” لاکا پیر صیب … یہ کیا بات کرتا ہے ؟”
میں نے کہا:
“ٹھیک کہتا ہے …. میں نے اس کی ہمشیرہ کو طلاق دی ہے … اس لئے غُصے میں ہے … مجھے اب نکلنے دو … ”
اسی دوران گدڑ پنڈی والی بس کا ہارن سنائ دیا- میں سڑک کی طرف بھاگا- اس بار جیب میں کرائے سے کچھ زیادہ ہی تھا-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج رنگ ہے …. ری ماں
رنگ ہے ری … !!
میرے خواجہ کے گھر …
رنگ ہے ری …
رنگ ہے ری میرے …
محبوب کے گھر رنگ ہے ری … !!

مستاں والی سرکار کا دربار میری زندگی کا اگلا پڑاؤ تھا- یہاں سکُون ہی سکون تھا- کسی کو کسی سے کوئ خار ، کوئ عار نہ تھی- کون ہو تُم ، کہاں سے آئے ہو اور کب تک یہاں قیام فرمانے کا ارادہ ہے ، کوئ پوچھنے والا نہ تھا-

یہاں بس پیٹ پوجا تھی اور کوئ کم دوجا نہ تھا- وقت بے وقت کوئ نہ کوئ دیگ اترتی رہتی- خوان پکتے رہتے- میٹھے چاول ، سلونے چاول ، دال چاول ، چنا چاول ، بکرا چاول ، مرغ چاول اور ذائقہ بدلنے کو بھنڈارہ- پھُلیاں ، ریوڑیاں ، بتاشے-
غرض کہ رزق ملنے لگا رنگت بدل بدل کے-

لنگر میں ہر سو “حق اللہ” کی صدا گونجتی تھیں- یہاں تک کہ درویش روٹی مانگتے ہوئے بھی “حق اللہ روٹی” کا نعرہ لگاتے- لیکن سب سے زیادہ نعرہ “حق اللہ بھنڈارہ” کا لگتا یا پھر حق اللہ بوٹی-

بھنڈارہ اس دربار کا مخصوص پکوان تھا- ہر شخص اپنی استعطاعت کے مطابق چنے ، سبزی ، پھل ، پیاز ، ٹماٹر غرض کے جو کچھ میسر ہوتا ، لنگر کی دیگوں میں آن ڈالتا- یہ ملغوبہ دیسی و نباتاتی تیلوں اور الم بلم مصالحوں میں پک کے تیار ہوتا تو بھنڈارہ کہلاتا-

دربار پہ نت نئے لوگ ملتے- نت نئے پھول چڑھتے- شادی پر دولھا کو مزار کی سلامی کرائ جاتی اور پیدائش پہ بچے کی جھنڈ منڈائ جاتی- کوئ لِٹ کٹانے آتا ، کوئ یار مَنانے- کچھ نزر نیاز لٹاتے ، کچھ منّت پوری کرنے آتے ، ملنگوں کے کاسے روز ہی بھر جاتے-

ملنگ کی بھی ایک اپنی دنیا ہوتی ہے- وہ نزر و نیاز پہ جیتا ہے- اسے ہر گھڑی پیری کا زعم اور چوُری کی فکر ہوتی ہے- وہ دنیا کو ہمیشہ مرید کی نظر سے دیکھتا ہے-میں نے یہاں رنگ برنگے ملنگ دیکھے- ایک سے بڑھ کے ایک یہاں پیری کا دعویدار تھا- غرض کہ پیر زیادہ تھے اور مُرید کم-

کچھ مست ملنگ تھے- یہ اپنی دنیا میں مست رہتے اور ہر وقت کچھ نہ کچھ بڑبڑاتے رہتے- پرائز بانڈ اور پرچی جوا والے ان کی بڑبڑاھٹ سے لکی نمبر نکالا کرتے تھے-

ایک ملنگ الیکٹریشن تھا- مزار پہ پانی والی موٹر چلاتا تھا- لوگ اسے بجلی والا بابا کہتے تھے- بہت سوں کے نزدیک وہ “کرنی والا” تھا یعنی اس کی ہر دعا مقبول تھی- ان دنوں ملک میں ایک نئ افتاد آن پڑی “لوڈشیڈنگ”-

ریڈیو پہ بتاتے تھے کہ ڈیموں میں پانی کم ہو گیا ہے- ملک میں بجلی چوری بڑھ گئ ہے- اب روزانہ بجلی جایا کرے گی- شام ہوتے ہی مزار پہ اندھیرا چھانے لگا-
میں نے ایک روز بجلی والے بابا کی خدمت میں ڈیڑھ بتاشہ شیرینی لوڈ شیڈنگ کا ختم چڑھایا- بابا کے چہرے پہ جلال آیا- بڑی طویل دعا فرمائ-
آج تک قبولیّت کا منتظر ہوں-

دھویں والا ملنگ بھی کافی مقبول تھا- یہ سگریٹ پی کر دھواں نکالتا تھا- اس دھویں میں عاشق کو معشوق کی تصویر نظر آتی تھی- یہاں عاشقوں کا ہجوم لگا رہتا-
ایک روز دو عاشق آپس میں دست و گریبان ہو گئے- ان میں سے ایک نے بابے کو بھی دھو ڈالا- کہتے ہیں بابا نے ایک عاشق کو دوسرے کی بہن کی تصویر دکھا دی تھی- تکوینی نظام کی گڑبڑ تھی یا سوچی سمجھی سازش- بہرحال بڑا ہی غیرت والا زمانہ تھا-

ایک “پروفیسر ملنگ” بھی تھے- لوگ بتاتے تھے کہ سائنس کے ستھ سولہ جماعت پڑھے ہیں- نوکری نہ ملنے پہ ملنگ بن گئے تھے- یہ پیالے میں دودھ یا سادہ پانی لئے پھرتے اور اس میں انگلی ڈال کے باہر چھڑکتے – اکثر انگریزی میں بات کرتے اور ہر کسی کو ” بلڈی سالا” کہتے تھے- ان کا یہ قول مجھے بڑی مشکل سے یاد ہوا:

” ٹُو بلڈّی ہائیڈروجن ، وَن سالا آکسیجن مل کے واٹر بنا سالا ، واٹر آگ بجھاتا ہے ، ٹوُ آکسیجن ، ٹُو ہائیڈروجن سے ہم بنا سالا ، ہم آگ لگاتا ہے … !!! ”

“جانی ملنگ” یہاں کا واحد صاف ستھرا ملنگ تھا- وہ بائیس تیئس برس کا جوان تھا- ماں باپ فوت ہو چکے تھے- بھائیوں نے گھر سے نکال رکھا تھا- اس کی سب سے اچھی عادت پانچ وقت کی نماز تھی- وہ مزار سے ملحقہ مسجد میں رہتا تھا اور بیّک وقت امام بھی تھا اور خادم مسجد بھی-

میں نے بھی مسجد میں ہی ڈیرہ لگا لیا- ہفتہ بعد دربار کے متولی پیر سجاد شاہ مسجد میں تشریف لائے تو میری وضع قطع دیکھ کر امامت مجھے سونپ دی- اس طرح جانی اور میرا رشتہ امام اور خادم مسجد کا ہو گیا-

تین مہینے پلک جھپکتے میں گزر گئے- میں کئ ملنگوں کے حلقوں میں بیٹھا مگر جلد ہی طبیعت سیر ہو گئ- یہ بیزاری جانی نے پیدا کی- وہ ملنگوں کی کئ خفیہ عادتوں سے واقف تھا- فاضل شاہ کے سوا وہ کسی کو کامل نہ مانتا تھا-

پیر فاضل شاہ کا یہاں بہت شہرہ تھا- ان کے آستانے پہ منگل بدھ کو رش رہتا- لوگ انہیں جنات اسپیشلسٹ مانتے تھے- ان کے پاس مؤکلات کی فوج تھی- لوگ ان کا نام بڑے احترام سے لیتے تھے- جانی بتاتا تھا کہ وہ پیر فاضل شاہ سے جنّات کا عمل سیکھنا چاھتا ہے جبکہ شاہ جی فی الحال اسے اذن دینے سے قاصر تھے- مجھے بھی جنّات نکالنے بہت شوق تھا- ابھی تک میری “جن” سے صرف ایک ہی ملاقات ہوئ تھی ، پٹھان کے بھٹّے پہ اور یہ ملاقات بے نتیجہ رہی تھی-

جانی اور مُجھ میں بہت سی قدریں مشترک تھیں- ہم دونوں بے گھر تھے- نمازی تھے اور اللہ کی باتیں کرتے تھے- نہ تو ھم کسی کے مرید تھے نہ پیر- اگر کچھ فرق تھا تو بس یہ کہ جانی کو فقیر بننے کا شوق تھا اور میں مریدوں سے پیچھا چھوٹنے پہ رب تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا تھا-

مزار پہ ہر گھڑی ہجوم رہتا جبکہ مسجد اکثر خالی ہی رہتی- جانی پانچ وقت اذان دیتا اور میں امامت کراتا- نماز اکثر ہم دونوں اکیلے ہی پڑھتے- کیا ہوا جو کبھی دو چار زائر رستہ بھول کے چلے آئے ورنہ مسجد ایک حسین ویرانے سے کم نہ تھی-

میرے پاس پہننے کو صرف ایک ہی لباس تھا- میں اسے ہر تیسرے روز دھونے کا عادی تھا- خوش قسمتی سے جانی کے پاس دو قمیضیں تھیں- سوموار اور جمعرات کو مجھے اس سے ایک قمیض ادھار مانگنا پڑتی ، جسے پہن کے میں اپنا لباس دھو لیتا تھا- ایک روز جب ہم قمیضیں بدل رہے تھے میں نے جانی کی پیٹھ پہ پرانے زخموں کے نشان دیکھے-

میں نے کہا ” یہ کیا ہوا جانی؟ ”
وہ ہنس کے بولا ” ماتم کے نشان ہیں”

میں خاموش ہو گیا- مُجھے کسی کے مسلک سے کوئ غرض نہ تھی- وہ رب سے محبّت کرتا تھا یہی اس کے بلند فطرت ہونے کی نشانی تھی- سچی بات تو یہ کہ جس رب کو میں چٹّھیاں لکھتا تھا وہ مسلک بیزار تھا اور منافرت کی بجائے مذھبی موافقت کو پسند کرتا تھا-

جمعرات کا دن یہاں خاص عید کا دن ہوتا- اس روز خوب چڑھاوے چڑھتے اور ملنگوں کی عید ہوتی- جمعرات کی شب قوالی کا پروگرام ہوتا- دور دراز گاؤں پنڈوں سے زائرین ٹرالیوں ویگنوں پہ بیٹھ کے آتے- رات بھر چائے اور میٹھے دودھ کے دیگچے ابلتے- مٹھائیاں تقسیم ہوتیں- ملنگ ، فقیر ، مست الست ، دنیا کا ہر غم بھول کر اس رات خوب ناچتے-

اس شب میں اور جانی لنگر خانے سے دودھ کے پیالے بھر کے قوالی سننے جا رہے تھے-
محفل جوبن پہ تھی- سازندے طبلے اور ہارمونیم پر موسیقی کی دھُنیں بکھیر رہے تھے- قوال کلام خُسروُ کی پُرسوز تان لگائے ہوئے تھے- عاشقان پیسے لٹا رہے تھے اور ملنگ وجد میں ناچ رہے تھے-

آج رنگ ہے …. ری ماں
رنگ ہے ری … !!
میرے خواجہ کے گھر …
رنگ ہے ری …
رنگ ہے ری میرے …
محبوب کے گھر رنگ ہے ری … !!

رنگ و نور کی اس محفل میں میری نظر بدرنگ ہُوئ اور بہکتی بہکتی کہیں دوُر چلی گئ- ملنگ کی نظر پاک ہوتی ہے- وہ پرکشش چہروں میں جلوہء ذات دیکھتا ہے- مگر میں ملنگ نہیں ، دِل کے ہاتھوں “تنگ” تھا- سو میں نے فراغی سے دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا- میرے پاس اگر تھوڑی بہت کوئ فقیری تھی ، تو اس شب ہوا ہو گئ – میرا دِل حُسن کے خالق کو چھوڑ کر اس کی حسین مخلوق کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا-

وہ سترہ اٹھارہ سال کی ایک خوبصورت دوشیزہ تھی- سانولی رنگت ، کتابی چہرہ ، کونج سی گردن ، کمان بھنویں- کان میں سونے کی بالی ، ناک میں کوکے کی ڈالی- اس کا پورا جسم ایک سیاہ چادر میں لِپٹا ہوا تھا- گلے میں چاندی کی زنجیر تھی اور وہ بے ہوش تھی-

اس کا سر ایک بوڑھی امّاں کی گود میں تھا- ساتھ ایک سفید ریش بزرگ تھا جو کافی پریشان دکھائ دیتا تھا- لوگ کہ رہے تھے کہ لڑکی پہ جِن آیا ہوا ہے- کچھ ملنگ ادھر گھیرا ڈال کے کھڑے تھے- میں نے دودھ کا پیالہ جانی کو پکڑایا اور وہیں کھڑا ہو گیا-

کسی ملنگ نے جا کر پیر فاضل شاہ کو خبر دی- وہ مزار کے پچھلے احاطے میں واقع ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے- شاہ جی ہانپتے ہوئے آئے- پہلے ملنگوں کو ڈانٹا کہ پیچھے ہٹ جاؤ- تماشہ نہیں ہے- پھر اس مرمر کی مورت کے پاس دوزانو ہو بیٹھے-

آج رنگ ہے …
ری ماں … رنگ ہے …

قوالوں کا جوش عروج پہ تھا-
شاہ جی اس دوشیزہ کی چوُڑیوں بھری کلائ اپنے کھردرے ہاتھوں میں تھام کر آنکھیں بند کئے منتر پڑھ رہے تھے-

ایک رقابت سی میرے دل میں پیدا ہوئ- دل یاس کے دریا میں غوطے کھانے لگا- کاش میں نے بھی جنات نکالنے کا کوئ عمل سیکھا ہوتا- آج شاہ جی کی جگہ میں بیٹھا ہوتا- اس خوبصورت پرّی کی خاطر جِنّات کے لشکروں سے ٹکرا جاتا- ذریّتِ ابلیس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا- کوہ قاف سے جنّاتی علم اتار کے بنی آدم کا جھنڈا لہرا دیتا- بن قاسم بن کر حوّا کی اس بیٹی کو آزاد کراتا ، پھر فرہاد بن کر اس خوبصورت بُت کا اسیر بن جاتا- کاش میں بھی ایسا کوئ عمل جانتا-

کچھ ہی دیر میں اس مہوِش نے آنکھیں کھول دیں اور انگڑائ لے کر یوں بیدار ہُوئ گویا صبح کا سوُرج طکوع ہو گیا ہو- پھر حیرت سے مجمع کو دیکھا- بوڑھی مائ نے آنسو صاف کرتے ہوئے بیٹی کو گلے لگایا- چادر کے پلّو سے کچھ مڑے تڑے نوٹ نکال کر شاہ جی کی نزر کئے- شاہ جی نے پیسے جیب میں رکھّے اور کھُرّے کی طرف چلے گئے- ملنگوں نے آگے بڑھ کر ہاتھ دُھلائے-

بے شمار سوالات میرے دِل میں پیدا ہونے لگے ؟ آخر یہ جِن انسان میں داخل کہاں سے ہوتا ہے ؟ وہ کیسا عمل ہے جس سے جِن باہر آ جاتا ہے- جِن آخر دکھائ کیوں نہیں دیتا ؟ آج تک کسی عامل نے جِن کو کان سے پکڑ کے باھر کیوں نہیں نکالا ؟ اپنی بد اعمالیوں پہ کسی جِن نے کبھی معافی کیوں نہ مانگی؟ جسے چمٹا تھا اس کے پاؤں کیوں نہ پکڑے کہ بی بی آئندہ نئیں چمٹوں گا ؟ کبھی عوام کے سامنے توبہ تائب کیوں نہ ہوا کہ میں آج سے ایک شریف جن بن کے زندگی گزاروں گا ؟

یہ کیسا جِن ہے جو کسی غاصب کرایہ دار کی طرح زبردستی قلبوت پہ قبضہ کرتا ہے پھر عامل کے عمل سے خاموشی سے رخصت بھی ہو جاتا ہے؟ یہ ہمیشہ غریب کو ہی کیوں چمٹتا ہے ؟ کسی افسر کسی رئیس کو کیوں نہیں چمٹتا ؟ بے شمار سوالات سانپ بن کر میرے ذہن میں کلبلانے لگے-

وہ ماہ رُخ اپنے ماپوں کے ساتھ مزار کی سلامی کو چل دی- اس کی چال میں ایک وقار اور متانت تھی- میں کسی دیوانے کی طرح پیچھے ہو لیا- وہ مرقد شریف پہ قدم بوسی و دست بوسی میں مشغول ہو گئ اور میں کچھ دور ایک ستون کی آڑھ میں رب سائیں کو چٹھّی لکھنے بیٹھ گیا:

” تیرے خزانوں میں ایسی کروڑوں ہونگی رب سائیں – بس ایک یہ دلا دے- اور کچھ نئیں مانگتا- حوّا کی بیٹی ہے ، میں آدم کا بیٹا- “جِن” سے زیادہ میرا حق بنتا ہے- اب کی بار سنبھال کے رکھوں گا سائیاں- بس اب انکار نئیں کرنا- تیری اس خوبصورت عنایت کا منتظر رہوں گا-
فقط دِل کے ہاتھوں مجبور
تیرا اِک بندہ … !!”

سلامی کے بعد یہ لوگ واپس پلٹے تو میں ستون کی آڑ میں کھڑا ہو کر تکنے لگا- وہ مسکرا کر اپنی ماں سے کچھ بات کر رہی تھی- لمحہ بھر کو اس کی نظر مُجھ پر پڑی- اس کی مسکراہٹ تھم گئ- شاید وہ مجھے کوئ بھوت پریت سمجھی تھی- بکھرے ہوئے بال ، بے ترتیب داڑھی ، پرانا لباس – میں کسی بھوت سے کم تو نہ تھا- مجھے اپنا خیال رکھّے ہوئے مہینوں ہو چکے تھے-

وہ لوگ دربار سے نکل کر بیرونی سیڑھیوں کی طرف چلے اور میں دربار کی کھڑکی سے جھانکنے لگا- باہر کا موسم بدل چکا تھا- بادل آ چکے تھے- اُجلے فرش پر ہلکی ہلکی بوندیں پڑ رہی تھیں- ان بوندوں نے قوالوں کا جوش اور بڑھا دیا تھا:

بوندا برسے ری …
بوندا برسے
خواجگان کے دربارن میں
بوُندا برسے ری
بوُندا برسے …
سب سکھیّن کے …
پاس ہے پِیّا …
مورا مَن پِیا ملن کو ترسے
آج رنگ ہے ری ماں …
رنگ ہے ری …
میرے محبوب کے …
گھر رنگ ہے ری …

رات نصف سے اوپر تھی
مسجد کی گھڑی کی مُسلسل ٹک ٹک نے میری نیند اڑا رکھّی تھی یا شاید میں اس انمول گھڑی کے سحر میں گرفتار تھا، جب حُسن تجّلی بن کر من کی سوُکھی زمین پہ چمکا تھا-
آسیب زدہ حُسن *
جو خوابیدہ تھا …. !!
جس کا آسیب شاہ جی کے وظیفے کے سامنے ریت کی دیوار تھا …
حُسن جو ہوش میں آنے سے پہلے ہی ہوش اڑا دینے پہ قادر تھا …

مجمع کی طرف اٹھتی اس کی نگاہِ حیرت کہ گویا قاتل اپنے مقتول کو ڈھونڈ رہا ہو … !!!

لوح مزار پہ اس کے والہانہ بوسے گویا وصل کی شب دلھن اپنے محبوب کو چومتی ہو … !!!

مرقد سے پلٹ کر جب وہ مسکرائ تھی تو بجلی کتنے زور سے چمکی تھی … !!!

ستون کے پیچھے جھانکتے فقیر کو دیکھ کے جب وہ ہراساں ہوئ تھی تو بادل کتنے زور سے گرجا تھا … *

ہم دونوں مست ملنگ مسجد کے صحن میں گھاس کی صفیں بچھائے لیٹے تھے- بارش تھم چکی تھی اور موسم بڑا خوشگوار ہو چلا تھا-

میں نے کروٹ لیکر جانی کو دیکھا- وہ بھی شاید میری طرح آسمان کے تارے ہی گن رہا تھا-

میں نے کہا “جانی ؟ … جاگ رہا ہے ناں …. ؟”
اس نے چونک کر مجھے دیکھا پھر ہلکی سی “ہوُں” کی-
میں نے کہا ” یار تُو نے کبھی …. محبّت … وغیرہ … کی ہے ؟”
وہ کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا:
“امام صاحب ..خیر تو ہے ؟؟ ”
میں اٹھ کے بیٹھ گیا اور کہا:
” امام نہیں ، پیش امام ہوں میں … کل سے تو بن جانا … میری بات کا جواب دے …. ”
” ہاں کی ہے … پھِر … ؟؟
” اچھا …. کس سے ؟؟ ”
“اپنے بابا جی سے !!” وہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا-

میں کچھ دیر اندھیرے میں اسے گھورتا رہا ، پھر کہا :
” یقیناً … تمہارے بابا بھی بہت محبّت کرتے ہونگے تم سے”

“ہاں … بہت زیادہ” وہ بولا- “سب بھائیوں سے زیادہ … جب چھوٹا تھا تو کندھے پہ بٹھا کر مجلس لے جاتے ،کبھی امام بارگاہ …. چاندی کی زنجیر بنوا کے دی تھی مجھے … چھوٹی چھوٹی کَڑیاں تھیں جس میں …. تب میں چھ سال کا تھا- پانچ سال لگے مجھے یہ جاننے میں کہ عزادار اصلی چھریوں سے اصلی خُون بہاتے ہیں … عجیب بات ہے ناں .. پھر ایک دن میں نے بابا کو خون میں لت پت دیکھا … بالکل اصلی خون میں … جب ایک گولی ان کے سینے کو چھید کے گزری- تب میں گیارہ برس کا تھا … اس روز مجھے عِلم ہوا کہ زمین پر ہمارے علاوہ اور بھی مسلمان بستے ہیں … وہ ہمیں کافر سمجھتے ہیں اور ہم انہیں …. انہیں بھی اپنی سچّائ پہ اتنا ہی یقین ہے جتنا ہمیں- اسی سچائ کو ثابت کرنے کےلئے وہ ہمیں مارتے ہیں اور ہم انہیں …. ہماری طرح وہ بھی اپنے مقتولوں کو شہید کہتے ہیں … دس برس تک یہ سوال میرے ذھن سے چپکا رہا کہ آخر خدا کس کے ساتھ ہے ؟ ہمارے یا اُن کے؟ بے شمار سوالات وسوسے بن کر دل میں کلبلانے لگے- بہت استغفار کیا مگر سوالوں نے پیچھا نہ چھوڑا- کتابوں پہ کتابیں جمع ہوتی گئیں اور کیسٹوں پہ کیسٹیں- مگر سوالات بڑھتے ہی چلے گئے- لوگ کہتے مجلس بگڑ گئ ہے اس کی- ایمان خراب ہو گیا ہے- گستاخ ہوتا جا رہا ہے- پھر ایک روز نکال دیا گیا گھر سے- کتابوں سمیت- علم کی گٹھڑی سر پہ دھرے کب تک بھاگتا- کب تک سوالوں کا وزن سہتا- ایک روز کتابیں پھینکیں نہر میں اور یہاں چلا آیا- علموں بس کریں او یار- اکو الف تیرے درکار- اسی ایک الف کی تلاش میں یہاں پڑا ہوں- تُم کیسے پڑے ہو یہاں ؟ ”

میں نے کہا ” اسی طرح … جیسے تُم پڑے ہو … ایک جیسی کہانی ہے اپنی … بس فرق ہے تو اتنا کہ کہ تو نے کتابیں نہر میں پھینکیں اور میں نے پکوڑوں کی دکان پہ … چل چھوڑ یار … اور سنا کیا حال چال ہے … بابا کے سوا اور کس سے محبت کی ہے تو نے … ؟؟ ”

وہ بولا ” یہ آدھی رات کو محبت کہاں سے یاد آ گئ … ؟”
میں نے کہا ” بات یہ ہے جانی کہ آج میں سخت کافر ہو گیا ہوں”
وہ بولا ” استغفراللہ … یہ کیا بات ہوئ ”
میں نے کہا ” بس- ہو گیا ہوں ناں یار-

سخت کافر تھا جس نے پہلے میر
مذھبِ عشق اختیار کیا

مُجھے عِشق ہو گیا ہے یار- جانتے ہو ناں … آج شاہ جی نے ایک لڑکی کا جِن اتارا ہے … بس یوں سمجھو … وہ جِن وہاں سے اُتر کے مُجھ پہ چڑھ گیا ”

وہ جھَٹ اُٹھ بیٹھا-
“واقعی ؟ صُبح شاہ جی سے دم کرا لینا … ان کا وظیفہ کبھی خالی نہیں جاتا”
میں نے کہا ” او پگلے … یہ وظیفہ خور نہیں، آدم خور جِن ہے- انسان کو کھا جاتا ہے یہ …
عشق ہے یہ … مجھے اس لڑکی سے عِشق ہو گیا ہے یار … سمجھا کہ نئیں …. ؟”

وہ کچھ دیر مجھے یوں گھورتا رہا گویا میری ذہنی حالت پہ شک کر رہا ہو ، پھر بولا ” یہ تو بہت بری بات ہے امام صاحب … ”

میں نے جھنجھلا کر کہا “ارے بس کر یار … کل سے امامت توُ کرا لینا …. مجھے تو بس اس لڑکی کا نام ، پتّہ ، گوت سب درکار ہے- شادی شدہ ہے ، منگنی شُدہ یا کنواری ، جن کب سے آ رہا ہے ، کہاں سے آ رہا ، کیوں آ رہا ہے سب معلومات چاھئیں مجھے ، اور یہ سب تو لا کے دے گا مجھے ، کل شام تک – سمجھا کہ نہیں …؟؟ ”

جانی نے میری بات کا کوئ جواب نہ دیا اور کروٹ بدل کے سو گیا-

فجر کی امامت مزار پہ آئے کسی زائر نے کرائ- میں ، جانی اور شادا ملنگ مقتدی تھے- نماز کے بعد آخری بار جانی مجھے مسجد کے کونے میں تلاوت کرتا ہوا نظر آیا- وہ ان دنوں ہلکا پھلکا حافظ بننے کی کوشش کر رہا تھا-

میں نے سارا دن خود کو معمولات میں مشغول رکھّا- مسجد کی صفائ کی- غُسل خانے صاف کئے- کتابوں والی شیلف کو جھاڑا- پودوں کو پانی لگایا اور تھک ہار کے بے حال ہوا تو مسجد کے باھر گھاس پہ جا کے لیٹ گیا-

بدقسمتی سے پروفیسر ملنگ بھی گھومتا گھماتا ادھر آ نکلا- میں نے اپنے تئیں اس بلاء سے جان چھڑانے کی پوری کوشش کی مگر وہ نہ ٹلا- ہاتھ میں پانی کا پیالہ اٹھائے ، الم بلم انگریزی بولنے لگا-
پھر مجھ سے کہنے لگا ” مسٹر مولبی- ایک سو چھ عنصر ہے سالا اس ورلڈ میں ، ایک سے بڑھ کے ایک سولِڈ- لیکن آج تک کوئ عنصر چرس کا مُقابلہ نئیں کر سکا”
میں خاموشی سے اُٹھا اور اندر چلا گیا-

ظہر کے بعد بھی جانی نظر نہ آیا تو تشویش ہونے لگی- پھر خیال آیا کہ شاید میرے کام سے نکل گیا ہو- یہ میری خوش فہمی بھی ہو سکتی تھی کیونکہ کبھی کبھار وہ کمالیہ بھی چلا جاتا تھا- وہاں اس کا کوئ رشتہ دار اس کی مالی مدد کرتا تھا-

عصر کے بعد میں مسجد سے نکلا تو سارے ملنگ صحنِ مزار کی طرف بھاگتے نظر آئے- میں بھی ادھر کو بھاگا کہ شاید کچھ نیا دیکھنے کو ملے- دیکھا تو وہاں ایک تونگر مکھانے بانٹ رہا ہے اور ملنگ تبرّک لوُٹنے کو ایک دوسرے کے اوپر گرے جا رہے ہیں- یہ تونگر کوئ اور نہیں جانی تھا-

میری جان میں جان آئ- ملنگوں کے دھکّے کھاتا ہوا بمشکل اس کے قریب ہوا- اس نے مکھانوں کی مُٹھ میری طرف بڑھائ- میں اس کا ہاتھ جھٹک کے بولا ” نئیں چاہئے مکھانے ، چل میرے ساتھ”

اس کے ہاتھ سے شاپر چھُٹا تو ملنگ چِیل کوّوں کی طرح ہمارے اوپر جھپٹے- بمشکل میں نیچے سے نِکلا اور جانی کا ہاتھ پکڑ کے اسے گھسیٹ کے باھر لایا- اس کی قمیض کے بٹن ٹوٹ چکے تھے- وہ ناراض ہو کر بولا ” کچھ تو خیال کرو امام صاحب- فقیر لوگ ہیں- ناراض ہو جائیں گے”

میں نے کہا ” پورا پاکستان مل کر بھی ان فقیروں کو راضی نہیں کر سکتا- ملنگ کا پیٹ اور عاشق کا دِل کبھی بھرا ہے؟ ”

پھِر اسے لئے مزار کی چھوٹی دیوار پہ جا بیٹھا اور کہا:
” بتا ، کیا رپورٹ ہے ..؟”
وہ بولا ” لڑکی کا نام رُخسانہ ہے ، پِنڈ نوُری سہاگ ….”
میں نے بے تابی سے کہا:
“واہ … ماشاءاللہ … اور کوئ شادی ..منگنی … وغیرہ …”
بولا: ” کنواری ہے- منگنی ٹوُٹ چُکی … دو بار … وجہ ہے جِنّ … اور جِن بڑا ظالم ہے”
میں نے کہا ” اور کچھ؟ .. جِنّ کے بارے میں ؟؟”
بولا ” مزار کے بھنگی بھی جانتے ہیں اس جِن کے بارے میں- سال بھر سے تو آ رہا ہے – مہینے میں ایک دو بار ضرور آتا ہے- پرکاش نام یے اُس کا … ہندُو ہے”
” ہِندو جِن ؟؟ … اور آتا کہاں سے ہے ؟ نئ دِلّی سے ؟ ”
“آپ مذاق کر رہے ہو … کہاں سے آئے گا ؟ … ظاہر ہے کوہِ قاف سے ہی آتا ہو گا- شاہ جی فرماتے ہیں کہ سارے جِنّات کوہِ قاف پہ رہتے ہیں”

میں نے کہا ” مُجھے جنّوں سے پیار ہو چلا ہے یار- کتنے اچھے لوگ ہیں- ہندو ، مُسلم ، سِکھ ، عیسائ سب پیار محبّت سے رہتے ہیں …کوہِ قاف پہ – امن امان سے… ایک ہم ہیں کہ آتش فشاں بنا رکھا ہے اس زمین کو … خیر چھوڑ …. تو نے بہت بڑا کام کیا جانی- جب بھی دوستی کی تاریخ لکھّی جائے گی ، تیرا نام سنہری حروُف سے جگمگائے گا- تو واقعی دِلّوں کا جانی ہے- چل تیرا ماتھا چوُم لوں”

لیکن اس کی نوبت نہ آ سکی- وہ خاموشی سے اُٹھا اور سر جھُکائے مسجد کی طرف چل دیا- شاید ناراض ہو گیا تھا-

عشق میں سب سے زیادہ نامہ بر تڑپاتے ہیں- ہمراز اذیّت دیتے ہیں- بعد دفعہ تو ان کے نخرے محبوب سے بھی بڑھ جاتے ہیں- جانی بھی یہی کر رہا تھا- مجھے شب سے پہلے پہلے اسے منانا تھا- ابھی تو دلبر جانی سے بہت کام لینے تھے-

اس رات دھویں والے بابا کے پاس خوب رونق میلہ تھا- جوان منچلے بابا کو سگریٹ سلگا کے دیتے- وہ کَش لگا کر مونہہ اوپر اُٹھاتا ، دھویں کے مرغوُلے اُڑاتا ، جھوُمتا اور بڑبڑاتا:

” حُسن کی سوغات ہے- واہ کیا بات ہے- پھُول ہے یا کلی ہے- موتئے کی ڈلی ہے”

اس پہ محفل ہائے ہائے پٌکار اُٹھتی اور خوب قہقہے گونجتے- پھر کوئ اور منچلا سِگریٹ بڑھاتا اور کہتا ” بابا میری محبوبہ کی بھی فوٹو دکھا ناں … !!”
بابا سگریٹ سوُنگھ کے مال کا معیار جانچتا اور کہتا-
“چھوٹا ایمبیسی؟ پُتّر اس کے دھُواں میں تو چُڑیل بھی نہ دِکھّے ، گولڈ لیف لا …. گولڈ لِیف .. !! ”
فضاء قہقہوں سے گوُنج رہی تھی اور میں مجمع سے کافی دُور تھڑے کی منڈیر پہ اُداس بیٹھا تھا-

اتنے میں جانی آتا دکھائ دیا- عصر سے اب تک وہ مجھ سے خفا ہی چلا آتا تھا- کچھ دیر وہ دھویں والے بابا کا رونق میلہ دیکھتا رہا پھر میری طرف چلا آیا-
” امام صاب ؟ بابا سے دور کیوں بیٹھے ہو ؟ آپ بھی سگریٹ سلگا کے دو ناں .. ”
میں نے کہا :
من میں بسی ہے صورتِ یار
جب بھی چاہا دیکھ لی

وہ بولا ” واہ واہ … دربار پہ ایک ملنگ شاعر کی کمّی تھی ، پوری ہو گئ …. کل سے آپ بھی رونق میلہ لگا لینا… ماشاءاللہ”

میں نے اٹھ کے اسے گلے لگایا اور کہا:
“ہماری رونق تو تجھ سے ہے دلبر جانی ، شکر ہے تُو راضی تو ہوا ورنہ تیری جُدائ میں بھی شعر کہنا پڑتے- سُن آج کے بعد مجھے امام صاب نہیں … سائیں صلّو کہنا … ورنہ لوگ کہیں گے کہ کیسا زمانہ آ گیا ہے … مسجدوں کے پیش امام بھی عشق لڑانے لگے ہیں- ایویں خواہ مخواہ بات چل پڑے گی … چل اب باھر چلتے ہیں- کھلے ماحول میں- کچھ دِل کا حال سنانا ہے تجھے … !!! ”

ھم باتیں کرتے ہوئے مزار سے باہر نکل آئے- ایک کچّی سڑک مزار کی ملحقہ دیوار سے الگ ہوتی تھی- اس طرف آبادی کم تھی اور کھیت زیادہ- گندم کی بجائ کےلئے زمین تیّار ہو رہی تھی- خالی کھیت دونوں طرف وسیع میدان کی صورت پھیلے ہوئے تھے- چاند کی چاندنی نے ماحول کو خوابناک بنا رکھا تھا-

ہم سڑک پہ چہل قدمی کرتے ہوئے کافی دوُر نکل گئے-

میں نے کہا ” جانی- میرے دِل میں ایک خیال آیا ہے یار- وعدہ کر- مذاق نہیں اڑائے گا میرا ؟”
وہ بولا ” ٹھیک ہے سائیں بتاؤ ؟”
میں نے کہا ” پہلے یہ بتا کہ نوُری سہاگ پِنڈ یہاں سے کتنی دوُر ہے”

وہ چلتے چلتے اچانک رُک گیا اور مُجھے گھورتے ہوئے بولا ” بس کرو سائیں جی- آپ نوُری سُہاگ جاؤ گے ؟ اس لڑکی سے مِلنے ؟”
میں نے کہا ” تو اس میں کیا برائ ہے؟ دم کرنے تو جا سکتا ہوں ناں ؟ ”

اس نے ایک طویل قہقہہ لگایا اور بولا:
” دَم شم کا خیال بھی دِل سے نکال دو سائیں- جِن کا مقابلہ کر سکتے ہو آپ ؟؟ … وہ بھی بغیر نوُری عِلم کے؟؟ میرا مشورہ تو یہ ہے کہ صبح شاہ جی سے ملو- کچھ روز ان کی ٹہل سیوا کرو- وہ جنّات کی تسخیر کے تمام علوم سے واقف ہیں- بس ان کو راضی کر لو فیر سمجھو ستّے خیراں- ورنہ کھوتا کھوُہ میں- ایویں خواہ مخواہ کسی مصیبت میں پھنس جاؤ گے”

میں نے کہا ” چھوڑ شاہ جی کو یار- دیکھ جانی ..!! اپنا عقیدہ تو یہ ہے کہ جِن کبھی بھی انسان سے طاقتور نئیں ہو سکتا- نہ ہی ان میں عقل ہم سے زیادہ ہے- جنّات کسی قابل ہوتے تو خُدا ان سے حکومت چھین کے انسانوں کو کیوں دیتا؟ جِگرا ہونا چاھئے یار- ایمان یہاں سینے میں ہے- دیکھ چُکا ہوں میں جِنّات کو- یہاں آنے سے پہلے ، ایک چھوٹی بچّی کا جِن اتارا تھا میں”

وہ حیرت سے بولا ” واقعی ؟؟”

میں نے کہا ” بس اترتے اترتے رہ گیا- اس روز اگر میں نے پراٹھے نہ کھائے ہوتے ناں ، پٹخ کے رکھ دیتا سالے کو- سُودی جِن تھا وہ اور میں نے سود والے پراٹھے کھا رکھّے تھے- بچ گیا کافر- جِن تو نہ اترا پر جھاکا اتر گیا ہے میرا .!!”

وہ ایک بار پھِر ہنسا اور بولا:

“چھ ماہ سے مِنّت کر رہا ہوں شاہ جی کی- نوری علم سکھا دیں- آج تک اذن نہیں مِلا-آپ بغیر نوری علم کے جا رہے ہو جِن اتارنے ؟ وہ بھی ایک ہِندو جِن؟ بلّے وئ بلّے …”

میں نے لہر میں آ کےکہا:
“افسوس تو اس بات کا ہے جانی کہ ہم نے ہندوؤں سے تو آزادی حاصل کر لی ، پر ھندو جنّات سے پیچھا نہ چھُڑا سکے- یعنی مُسلم جنّات … مل جل کر بھی ….. جناح جیسا ایک لیڈر پیدا کر نہ سکے؟؟ یہ تو کارکردگی ہے ان کی اور ایک ہم ہیں کہ انہیں سر پہ چڑھا رکھّا ہے؟ عاملوں کا دھندہ ہے – ورنہ قرانِ پاک گھر میں پڑھا جائے تو ہندو جنّات رام رام کرتے ہوئے بھاگیں- دیکھ لینا- رُخسانہ کا جِن میں ہی اتاروں گا- ان شاءاللہ ….. بلکہ بارڈر بھی پار کرا کے آؤنگا .. اس کافر کو … !!!”

وہ بولا:
“شوق سے اتاریں جناب- آزادی دلائیں اس بے چاری کو- نوری سہاگ یہاں سے زیادہ سے زیادہ چھ کلومیٹر دور ہے- پُل باگڑ سے تانگہ مِل جائے گا- ڈیڑھ روپیہ کرایہ ہے … تو ….. کب جا رہے ہو جِن اتارنے ؟ میں بھی چلوں ساتھ ؟”

میں نے کہا ” نہیں جانی- تُم کل شہر جاؤ گے- کچھ سامان منگوانا ہے- میرے پاس کچھ روپے پڑے ہیں- یہاں آنے سے پہلے ایک کسان نے دئے تھے- اس کی بھینس بیمار تھی- میں نے فاتحہ پڑھ کے دم کیا تو ٹھیک ہو گئ- خیر اللہ نے ٹھیک کیا مگر اس نے پیر مان لیا مُجھے- میری دعوت کی اور نزرانہ بھی دیا- صبح یہ پیسے خرچ کرنے ہیں”

وہ مسکرایا اور میرے بال کھینچ کر بولا ” کل منگل ہے- دربار پہ نائ آئے گا- اپنا حلیہ بھی درست کروا لینا- جِن بڑا بھائ سمجھ کے جپھّی نہ لگا لے آپ کو …. اچھا تو کیا کیا سامان منگوانا ہے ؟؟”

دوسرے دِن شام کو جانی لدا پھندا واپس آیا- وہ سارا سامان لے آیا تھا- اس میں میرے لئے ملیشیا کا ایک سیاہ کرتا ، مدنی رومال ، پنج سورہ ، تسبیح ، عِطّر اور سُرمہ تھا- اس کے علاوہ چاندی کی ایک چھاپ اور سنہرے رنگ کی ایک زنانہ گھڑی بھی تھی جو میں نے خصوصی طور پہ منگوائ تھی جِن اتارنے کےلئے-

رات دیر گئے تک میں ان چیزوں کو برابر دم کرتا رہا-

اگلے روز جانی مجھے پُل باگڑ تک چھوڑنے آیا- تانگے پہ بیٹھتے ہوئے اس نے جیب سے ایک رقعہ نکال کے مجھے دیا اور کہا:
“گاؤں پہنچ کے سیدھا چوک پر اترنا- اُلٹے ہاتھ پہ حُسینی محلہ ہے- وہاں کاظم شاہ کا گھر پوچھ لینا- یہ رقعہ انہیں دینا ہے- وہ آپ کا کام کافی آسان کر دیں گے”

تانگہ کھچّا کھچ بھرا ہوا تھا- پچھلی سیٹ پہ تین موٹی خواتین تھیں جن کی گود میں میں صحت مند بچّے بھی تھے- اگلی سیٹ کی سواریاں میری طرح ستم رسیدہ تھیں-کوچوان وزن برابر کرنے کو تانگے کے بم پہ بیٹھا اور سرکتا سرکتا گھوڑے کے کان تک پہنچ گیا مگر نوری سہاگ تک تانگے کا توازن درست نہ ہو سکا –

چوک پہ اتر کر میں نے کاظم شاہ کا گھر تلاش کیا- دستک دی تو بیس پچیس برس کا ایک نوجوان باہر آیا-
میں نے سلام کیا اور کہا:
“کاظم شاہ کو بلائیے گا ”
اس نے ایک اچٹتی نظر مجھ پہ ڈالی اور رُکھائ سے بولا ” میں ہی کاظم شاہ ہوں- فرمائیے”
میں نے کہا ” سائیں مستاں کے دربار سے آیا ہوں- یہ رقعہ بھیجا ہے جانی نے … آپ کےلئے”
وہ رقعہ پڑھنے لگا- اس دوران دو چار بار اس نے کن اکھیوں سے مجھے بھی دیکھا-

بالاخر اس کے چہرے پہ مسکراہٹ ابھری- رقعہ چوم کر آنکھوں سے لگایا اور آگے بڑھ کر مجھے گلے لگا لیا-
“ساجد عباس کا مہمان ہمارے سر آنکھوں پر- کیسا ہے ساجد ؟”
میں نے کہا ” کون ساجِد ؟”
بولا ” وہی دشمنِ جاں جو آج کل اوروں کا جانی بنا پھرتا ہے .. آپ اندر تشریف لائیے ناں …. !!”

کاظم شاہ کا وسیع ڈرائینگ روم تزئین و آرائش کا خوب صورت شاھکار تھا- دیوار پر غازی عباس کا سیاہ علم اور سنہری فریم میں سجی دو شاخہ حیدری تلوار- میز پر برقی قمقموں سے جگمگاتا مزارِ امام اور پانچ گلابوں والا نفیس پھول دان – غرض کہ ہر چیز روائتی مذھب پرستی کی بہترین فنکارانہ مثال تھی-

اس نے خاطر تواضع میں کوئ کسر نہ چھوڑی- چائے ، بسکٹ ، کیک ، ابلے ہوئے انڈے-
ساتھ وہ بار بار اس “ساجد ” کی تعریف بھی کر رہا تھا جسے کئ ماہ سے میں جانی کے نام سے جانتا تھا-

کہنے لگا:
“ساجد اور میں ایک ساتھ پڑھے تھے …. ایک ہی کلاس تھی … اس جیسا ذہین کوئ نہ تھا … بالاخر وہی ذہانت لے ڈوُبی اسے … دیکھو اپنا اصول تو یہ ہے کہ اپنا مسلک چھوڑو ناں …. دوسروں کے مسلک کو چھیڑو ناں …. اسی میں عافیّت ہے … لیکن ساجد بیچارہ عقلِ کُل تھا … اسی لئے مار کھا گیا … اویوں خواہ مخواہ گہرائ تک سوچتا تھا … فضول سوال اٹھاتا تھا … انہی سوالوں کے بوجھ تلے بالاخر ڈوب گیا …. بڑے نقصان کا سودا کیا اس نے … اچھی خاصی جائیداد تھی اس کے ابّا کی … بڑے آرام سکون سے زندگی گزار سکتا تھا …. اب پڑا ہے وہاں دربار پہ … جوگی بن کے … فائدہ کیا ہوا …؟؟ جائیداد سے بھی محروم ہوا اور رشتوں سے بھی … خیر اس کی قسمت … آپ یہ بسکٹ لیں ناں … !!”

ظہر کے بعد وہ میرے ساتھ چلا- کچھ گلیاں ناپنے کے بعد کاظم شاہ نے بالاخر ایک بڑے گھر کا دروازہ کھٹکایا – اس کی دیواریں پختہ اور مزیّن تھیں- چھت پہ ایک چوبارہ بھی تھا- میرا دل زور سے دھڑکا ” مولا سائیں … عِزّت رکھنا اور رسوائ سے بچانا- بڑی امید لے کر آیا ہوں”

دروازہ اسی بزرگ نے کھولا جو اس روز مزار پہ رخسانہ کے ساتھ آیا تھا- کاظم شاہ نے اسے سلام کیا اور نسبتاً اونچی آواز میں کہا:

“چاچا رمضان – سائیں صلّوُ تشریف لائے ہیں … مستاں والے دربار سے … تانو باجی کو دم کرنے کےلئے … ”

بزرگ نے حیرت سے مجھے دیکھا پھر پُوچھا:
“پیر فاضِل شاہ سرکار نے بھیجا ہے آپ کو …؟؟ ”
میں نے کہا ” جی .. جی ..!! ”
وہ جلدی میں دروازہ کھلا چھوڑ کے اندر بھاگا- پھر تھوڑی دیر بعد ہانپتا ہوا واپس آیا اور کہا:
” آ جاؤ سرکار .. !!”
میں نے شکر گزار نظروں سے کاظم شاہ کی طرف دیکھا- وہ بولا:
“ٹھیک ہے سائیں جی … اپنے جانی کو میرا سلام دیجئے گا … اور ہو سکے تو واپسی پر میری طرف چکّر ضرور لگائیے گا … !!”

کاظم شاہ رخصت ہو گیا اور میں “رحمت کے دروازے کھلنے” کی دعا کرتا ہوا اندر داخل ہو گیا-

مکینوں کی نفاست اور خوشحالی کا اندازہ گھر کی خوب صورتی اور وسعت سے بخوُبی لگایا جا سکتا تھا-

کشادہ صحن ، منقش دیواریں ، کمروں کے آگے مغلیہ طرز کے برامدے ، تزئین و آرائش جن کی پرانی مگر باکمال- چھت پہ بُرجوں والا جنگلہ ، سفیدی جس کی کہیں کہیں سے کھُرچ چُکی تھی ، مگر دیدہ زیب- وسیع و عریض صحن جس میں کچھ نوکرانیاں اناج کی صفائ میں مصروف تھیں- ایک طرف پُختہ شیڈ جس کے نیچے کھڑا ٹریکٹر ، گو خاک آلود تھا مگر تھا فیئٹ 86 –

تھڑے پر دو رنگین چارپائیاں بچھی تھیں- ساتھ دو موُڑھے تھے اور چند کُرسیاں -چاچا رمضان مجھے وہاں بٹھا کے اندر برامدے میں چلا گیا- چودہ پندرہ سال کا ایک لڑکا جو حُلیے سے نوکر معلوم ہوتا تھا ، اسٹیل کے جگ میں پانی لے آیا- میں نے حلق تر کیا اور دھڑکتے دل سے آنے والے لمحات کا انتظار کرنے لگا-

کوئ دس مِنٹ بعد چاچا رمضان برامدے سے نکلا- ان کے پیچھے چالیس پچاس برس کی ایک خوش پوش خاتون تھیں ، شاید لڑکی کی اماّں تھیں- ان کے پیچھے وہ “دھڑکن” چلی آتی تھی جو کئ روز سے میرے سینے میں دھڑک رہی تھی- میں نے ہتھیلیوں پہ پسینہ محسوس کیا اور مارے عقیدت کے اٹھ کھڑا ہوا-

فلیٹ کی طوطیا قمیض ، سلک کی شلوار پہ کریب کا کامنی دوپٹّہ اوڑھے وہ میرے سامنے آن کھڑی ہوئ- میں نے وارفتگی سے اسے دیکھا- اس نے حیاء سے نظریں جھکا لیں اور کلائی میں کھنکھناتی سبز چوُڑیوں سے کھیلنے لگی-

” “تُسی بیٹھو ناں سائیں سرکار” چاچا رمضان کی آواز نے مجھے چونکا دیا-
میں نے کہا ” ہاں ہاں بیٹھو بیٹھو …… !!” اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا- پھر جیب سے پنج سورہ نکال کر کسی ماہر عامل کی طرح اوراق پلٹنے لگا-

اس دوران برامدے سے ستّر اسّی برس کی ایک مائ لاٹھی ٹیکتی ہوئ برامد ہوئ- سر اُٹھا کے چشمہ درست کیا- ہماری طرف دیکھا ، پھر دونوں ہاتھ آسمان کی طرف جوڑ کے بڑبڑائ ” کرم میرے مولا کرم … ”
یہ وہی بوڑھی اماّں تھی جو اس روز مزار پہ نظر آئ تھیں-

میں نے اپنا اعتماد بحال کرتے ہوئے کہا ” ان شاءاللہ مولا کرم کرے گا- سختی مصیبت ٹل جائے گی- تُم لوگوں کا دُکھ ، درد ، رنج الم ، اب سب ختم ہو جائے گا- ان شاءاللہ…. !!”

“ان شاءاللہ” چاچے رمضان نے پرامید نظروں سے میری تائید کی- “ہماری ایک ہی دِھی رانی ہے سائیں سرکار … چوّی کِلّے زمین کا مالک ہوں … سو سجّن سو دُشمن ….. رب جانے کس نحش نے زھر گھول دی اس کی حیاتی میں …. اس بچّی پہ کالا کلام ہے ، جنّات ہیں یا جادُو ، رب سچّا ای جانڑیں جی ….!!”

“ٹھہرو سائیں سرکار میں بتاتی ہوں …” مائ لاٹھی ٹیکتی ہوئی ہماری طرف آئ- اس کا لہجہ کاٹ دار تھا-
“وہ بدمعاش ہے ناں .. کیا نام ہے اس کا … ھاشم … اس لعنتی نے توِیت کئے ہیں میری دِھی پہ … مولا برباد کرے …!!”

“او بس کر ماں … ” رمضان نے مائ کو ٹوکا- ” ہاشم کو کیا پڑی کہ توِیت کرے ؟”
” لو کر لؤو گَل … اور کِس نے کئے ہیں توِیت ؟؟”
“ناں تو امّاں … سلطان کا نام کیوں نئیں لیتی؟ وہ زیادہ سکّا ہے تیرا …. اس کو رب کیوں نہ برباد کرے” رخسانہ کی ماں بھی میدان میں کود پڑی-

مائ نے عینک کا شیشہ درست کر کے مد مقابل کو گھُورا اور بولی:
“سلطان وچارے نے کیا کِیا ہے ؟ وہ نمانڑاں تو پنج ویلے کا نمازی ہے- دُکھ سُکھ میں بھاگا پھرتا ہے- ست نسلیں برباد ہوں ھاشم کی- وہی نحش اس کے پیچھے پڑا ہے- مولا قہر نازل کرے اس کے لگ لگیروں پہ …. ” مائ باقاعدہ دامن اٹھا کر بد دعائیں دینے لگی-

” ست نسلیں برباد ہوں سلطان کی …. کوڑھ نکلے اس کی پِیڑھی کو … ذلیل ہو کر مریں اس کے اگلے پِچھلے …. اب پڑی ہے سینے میں ٹھنڈ …؟؟ ”

حالات بتا رہے تھے کہ ننھیال ، ددھیال میں رشتے کی جنگ ہے اور جِنّ اس جنگ سے پورا فائدہ اٹھا رہا ہے- اس سے پہلے کہ ساس بہو میں تلوار چلتی ، میں پنج سورة کی ڈھال لے کر میدان میں کود پڑا اور نعرہ لگایا:
“چُپ .. !! چُپ ہو جاؤ سب …!! حاضری کا ٹائم ہے …. !!”

اس پہ دونوں فریق خاموش ہو گئے- نسخہ کارگر دیکھ کے میں نے کہا:
“اب سب لوگ جاؤ یہاں سے- جا کے اپنے اپنے کام دھندے نبیڑو-مجھے اپنا کام کرنے دو- جِن کی حاضری کا ٹیم ہے- یہ نہ ہو کہ ادھر سے اترے اور ادھر کسی پہ چڑھ جائے … جاؤ سب … !!”

یہ سنتے ہی مائ بڑبڑاتی ہوئ چل دی کہ میری تو کوئ سنتا ہی نئیں ہے- چاچا رمضان نے کہا:
“شمیم .. تو جا کے چاہ بنا ناں … سائیں سرکار واسطے .. اور سُن دو دیسی انڈے وی ابال لینا …”
یہ کہ کر چاچا اناج صاف کرنے والیوں کی طرف چلا گیا اور رخسانہ کی ماں بڑبڑاتی ہوئ چولھے کی طرف –

صحن میں اب میں اور رخسانہ ہی رہ گئے تھے- میں نے اپنے لہجے میں دنیا بھر کی محبتیں سمیٹتے ہوئے کہا:
“رُخسانہ ….. !!”
” جج … جی .. !!” وہ چونک کر بولی-
میں نے دھڑکتے دِل پہ قابو پاتے ہوئے کہا:

“دیکھو جو کچھ پریشانی دِل میں ہے …. اسے نکال کے بالکل پرسکون ہو جاؤ … سُنو .. تُم حاکم ہو … امّاں حوّا کی بیٹی ہو … جنّات کی حکومت ختم کر کے ہی رب تعالی نے آدم اور حوّا کو زمین پر بھیجا تھا … انسان جنّ کے مقابلے میں کمزور نہیں ، طاقتور ہے … ہمّت کرو … جب تک تُم خود ہمّت نئیں کرو گی اور خود کو کمزور ، بے بس سمجھتی رہو گی … جِن تم پہ برابر حکومت کرتا رہے گا … !!”

وہ بڑی دلچسپی سے میری باتیں سن رہی تھی- شاید ایسی بات مجھ سے پہلے کسی عامل نے اس سے نہ کہی تھیں- میں نے کہا:

“یہاں کوئ نہیں ہے- پہلے مجھے صاف صاف بتاؤ ، تُم کس کو پسند کرتی ہو ؟ تمہارے دِل میں کون ہے ؟ ہاشم یا سُلطان”

اس نے چونک کے مُجھے دیکھا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا
” کوئ نئیں جی … !!”
“اور کوئ شخص؟ جسے تُم پسند کرتی ہو ؟ میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ جو کوئ بھی ہوا ، جہاں بھی ہوا ، اسے تمہارے قدموں میں لا پھینکوں گا- ہے کوئ …؟؟”

اس نے ایک بار پھِر نفی میں سر ہلایا اور انتہائ مدھم آواز میں کہا ” کوئ نئیں جی … !!”

میں نے اطمینان کی ایک گہری سانس لی اور کہا:
“اب سکون سے بیٹھو ، میں پانی دم کرتا ہوں …”

میں نے جگ سے ایک گلاس پانی بھرا پھر اس میں انگلیاں ڈبو کر آیت الکرسی پڑھنے لگا- مجھے جِن حاضر کرنے کا کوئ خاص تجربہ نہیں تھا لیکن کسی زمانے میں ایک صوفی کو ایسا کرتے دیکھا تھا- اسی کا جو ہلکا پھلکا نقش میرے ذہن میں موجود تھا ، میں وہی دوہرانے لگا تھا-

پانی دم ہو چکا تو میں نے گلاس سے ہاتھ نکالا اور رخسانہ کے چہرے پہ انگلیوں سے چِھینٹا مارا-
وہ ہونٹ جھینپ کر ،آنکھیں بند کئے ، سہم کے پِیچھے ہٹی- میرا دِل زور سے دھڑکا- پانی کے متبرک قطرے اس کے خوبصورت گالوں کا طواف کرتے ہوئے کریب کے کامنی دوپٹّے میں جذب ہو رہے تھے- گویا گلابوں سے ڈھلکتی صبح دم کی شبنم-

مجھے یاد آیا کہ یہ دلکش نظارہ میں پہلے بھی کہیں دیکھ چُکا ہوں … کہاں ؟ چوھدری رب نواز کے ٹیوب ویل پہ-

ہماری شادی کا تیسرا دن تھا- میں اور عالیہ گاؤں سے باہر کھیتوں میں گھوم رہے تھے- ہم نے بشیر جٹ کے گنّے توڑے اور ٹیوب ویل پہ آ کر چُوپنے لگنے- میں ٹیوب ویل کے حوض میں انگلیاں ڈبو کر عالیہ کے چہرے پہ چھینٹے مارنے لگا اور وہ ہونٹ بھینچ کر آنکھیں بند کئے یوں ہی پیچھے ہٹّی تھی-

نجانے وہ مقدّر کے کس جزیرے پہ اتر گئ- میں تو حسرت کے ایک ایسے لق و دق صحرا میں آ نکلا تھا جہاں سراب کو دریا سمجھ کر اس میں اتر جانا تھا- فریب کو محبّت سمجھ کر گلے لگانا تھا- خواب کو حقیقت سمجھ کر دیکھتے جانا تھا-

میں گلاس میں ہاتھ ڈالے نجانے کِس تخیّل میں گُم تھا کہ چاچے رمضان کی للکار سُنائ دی :

“اوئے اوئے اوئے … او پھڑو اس اونترے نُوں … !!

میں نے چونک کے پیچھے دیکھا تو ایک لحیم شحیم سیاہ بکرا میری طرف دوڑا چلا آتا تھا- اس سے پہلے کہ میں سنبھلتا ، اس نے زور سے میری کُرسی کو ٹکّر آن ماری-

میں کمر سہلاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا-

“او ماف کرنا سائیں سرکار .. یہ اونتری نسل کا بد نسلا … مہمان ویکھ کے ہی بھوُتِر جاتا ہے … میں باندھ کے آتا ہوں جی اسے !!”

چاچا رمضان بکرے کو کان سے پکڑے گھسیٹتا ہوا لے گیا-
میں اپنی سانسیں بحال کرتا ہوا کرسی پہ ڈھیر ہو گیا- اس دوران کہیں سے “کھی کھی ” کی آواز آئ- مریضہ پہ نگاہ فرمائ تو وہ دوپٹّے میں مونہہ چھپائے قہقہہ روکنے کی ناکام کوشش فرما رہی تھیں-

میں اپنی سُبکی پہ پردہ ڈالنے کو ایک دم سنجیدہ ہوا اور جلدی سے پنج سورة کھول کر بیٹھ گیا:

” ہنسئے مَت- کلامِ الہی ہے- اب جو کچھ میں پڑھتا جاؤں … پیچھے پیچھے دہراتی جاؤ …!! ”

اس کے بعد میں کسی خوش الحان قاری کی طرح رُک رُک کے سورة الناس پڑھنے لگا- رخسانہ بالترتیب میرے ساتھ ساتھ پڑھتی رہی- بالکل ریڈیو پاکستان کے “آئیے قران مجید پڑھیں” پروگرام والا منظر تھا- اس کی قراءت مجھ سے کافی بہتر تھی- شاید مدرسہ پڑھ رکھّا تھا یا کوئ استاد اچھا ملا تھا- اب ہر کسی کو مولوی نزیر تو نہیں ملتا ناں-

میں کبھی کبھی آنکھ کھول کے اس کا پرسکون چہرہ دیکھ لیتا- بالکل امن امان ، سکون اور شانتی- جِنّ شاید سالانہ چھُٹّی منانے کوہِ قاف گیا ہوا تھا-

عمل مکمل ہوا تو میں نے کہا:

” مبارک ہو- اس وقت کوئ جِن ، بھوت ، پریت ، پرّی ، چُڑیل، دیو تمہارے اندر نہیں ہے- اور نہ ہی ان شاءاللہ آئیندہ پھٹکے گا …”

اس کے بعد میں نے جیب ٹٹولی اور سنہرے رنگ کی گھڑی نکال کر اس پہ دو چار پھونکھیں ماریں اور کہا:
” اسے پہن لیجئے … !!”

اس کے چہرے پہ ہلکا سا تبسّم نمودار ہوا اور وہ بولی ” یہ کِس لئے جی …. ؟”
میں نے کہا ” دم کی ہوئ گھڑی ہے- اس سے تمہاری حفاظت ہو گی- جنّات اس کی ٹِک ٹک سے دور بھاگیں گے- لاؤ میں پہنا دوں ….. !!”

اس کی مُسکراہٹ بڑھ گئ اور موتیوں جیسے دانت صاف نظر آنے لگے- واقعی وہ پرّی تھی اور جِن بے وقوف نہیں تھا جو اس پہ سوار تھا- اس کی بیلنے بیلی کلائ میں گھڑی پہنا کر میں نے جیب سے چاندی کی چھاپ نکالی اور کہا:

” یہ بھی تمہارے لئے ہے ، لیکن اگلی بار … ابھی اس پہ کلام پڑھنا ہے- جِن اب تُم سے ایسے دوُر بھاگیں گے جیسے … دھوئیں سے مچھّر بھاگتا ہے … !!”

وہ کھِلکھلا کے ہنسی ، گویا جلترنگ بج اُٹھی ہو- پھر آنچل دانتوں میں دبا کر اسے کاٹنے لگی-

اپنا بچا کھچا ایمان سلامت رکھنے کو میں نےآنکھیں بند کر لیں اور کُرسی سے ٹیک لگا کے چہار قُل پڑھنے لگا- بس یہی ایک کلام مجھے آتا تھا- پھر کن اکھیوں سے اس پہ کُچھ پھونکیں ماریں اور اُٹھ کھڑا ہوا- یوں لگ رہا تھا گویا جہان فتح کر لیا ہو-

بیٹھک میں چائے اور دیسی انڈوں کی سوغات میرا انتظار کر رہی تھی- کھا پی کے فارغ ہوا تو چاچے رمضان نے سو روپے کا کڑک نوٹ مجھے پیش کیا-

میں نے کہا ” نہیں لوں گا- آج تک عامل آپ سے لیتے آئے ہیں ، میں کُچھ دے کے جا رہا ہوں- وہ عامل تھے ، میں سائیں ہوں- عامل جنّات پالتا ہے اور سائیں نکالتا ہے …. !!!”

رات دس بجے میں مستاں والا دربار پہ پہنچا- دربار کی چہل پہل پہلے سے سوا تھی- کسی رئیس زائر نے منّت پوری کرنے کے واسطے برقی قمقمے لگوائے تھے- قوالی بھی ہو رہی تھی- خُسرو کے کلام پہ قوالوں اور ملنگوں نے خوب دھوُم مچا رکھی تھی-

چھاپ تِلک سب چھین .. لی رے موسے نیناں مِلائ کے

بات اگھم کہ دی …. نی رے
موسے نیناں مِلائ کے

دِل کی دھڑکنیں بے قابو ہونے لگیں- مزار کے دروازے پہ تھا کہ خادوُ ملنگ جھانجھریں لئے قوالی کو جاتا نظر آیا- وہ دھمال ڈالنے والا مست ملنگ تھا-

میں نے کہا ” خادو ایک جھانجھر مجھے بھی .. آج میں بھی دھمال ڈالوں گا … !!”

اس نے حیرت سےمجھے دیکھا اور کہا ” امام صاب آپ بھی؟ نہ کریں جی … !!”
میں نے اس سے جھانجھر چھینتے ہوئے کہا “جو ثواب تجھے ملتا ہے آج مجھے بھی چاھئے … ”

بل بل جاﺅں میں
تورے رنگ رَجِیوا … !!
بل بل جاؤں میں
تورے رنگ رَجِیوا ….. !!!
اپنی سی رَنگ لی … نی رے
موسے نیناں ملائ کے

میں اکھاڑے میں کوُدا تو ملنگوں کی چیخیں نکل گئیں- امام عاشق بن جائیں تو زمانے کی یونہی چیخیں نکلتی ہیں-ان پگلوں کو کیا خبر کہ کون کتنا مست ہوا پھرتا ہے … !!

پریم گلی کا مدھُوا پلائ کے
مدھوا … پِلائ کے ..
مدھوا … پِلائ کے …
متواری کر لی ….. نی رے
موسے نیناں ملائ کے

کچھ روز بعد ایک عجب پراسرار واقعہ رونماء ہوا-

میں معمول کے مطابق مسجد کے صحن میں سویا ہوا تھا- نجانے شب کا کون سا پَہر تھا کہ اچانک کچھ کنکر کہیں سے آ کر میری پیٹھ پہ لگے- میں ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا-

مسجد کے گیٹ کا بلب جل رہا تھا- چاند بھی پورا نکلا ہوا تھا-اور صحن میں خوب روشنی تھی- مجھے فرش پہ موٹی بجری جیسی کئ کنکریاں پڑی نظر آئیں- شاید انہی میں سے کچھ مجھے بھی لگی تھی-

کون ہو سکتا ہے ؟ میں نے فوراً جانی کی طرف دیکھا- وہ مُجھ سے کچھ دور صف پہ بے سُدھ سویا پڑا تھا- میں نے اسے جگانا چاہا پھر یہ سوچ کر باز رہا کہ وہ فوراً یہ قضیہ جنّات کے سر تھوپ دے گا اور الٹا مجھے ہی کوسے گا-

میں اُٹھ کر مسجد کے دروازے تک گیا- دروازہ اچھّی طرح بند تھا- پھر چار دیواری کے قریب جا کر باھر کی طرف جھانکنے لگا- میرا خیال تھا کہ کنکر اِسی طرف سے پھینکےگئے ہیں- ادھر خالی کھیت تھے- دور دور تک مجھے کچھ بھی نظر نہ آیا-

میں واپس پلٹ ہی رہا تھا کہ مسجد کے صحن میں ایک چھوکرا کھڑا دکھائ دیا- اس نے سفید لباس پہن رکھّا تھا اور اس کا سفید چہرہ چاندنی میں دور سے جگمگا رہا تھا- وہ دونوں ہاتھ کولھوں پہ ٹکائے میری طرف دیکھ رہا تھا-

میں سمجھا مزار پہ آیا ہوا کوئ زائر ہے- آواز دی:
“کون ہو ؟”
وہ خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا- میں صحن کی طرف چلتا چلتا اس کے بالکل قریب پہنچ گیا- اچانک ہی باہر سے کنکریوں کی اور باڑھ آئ- ان میں سے کچھ مجھے لگیں اور کچھ مسجد کے پکّے صحن میں گریں- اس کے بعد تو گویا بارش ہی شروع ہو گئ-

یوں لگ رہا تھا جیسےکئ لوگ مٹھیاں بھر بھر کے بجری اندر پھینک رہے ہیں- میں کنکریوں سے بچنے کےلئے ادھر ادھر بھاگنے لگا- مسجد کے پکّے فرش پہ بارش جیسا ارتعاش پیدا ہو رہا تھا-

پھر کنکریوں کی بارش اچانک تھم گئ- میں نے سامنے دیکھا تو مسجد کا صحن خالی تھا- وہ لڑکا غائب ہو چکا تھا-

میں واپس پلٹا اور دروازے کی طرف بھاگتے ہوئے چلایا ” کون ہے ؟؟ کون پتّھر پھینکتا ہے .. ؟؟”

مسجد کا دروازہ کھولا تو باھر کوئ نہ تھا- کچھ فاصلے پہ پیپل کا ایک بڑا پیڑ تھا- اس کے نیچے دن کو ملنگ بیٹھا کرتے تھے- وہاں سفید کپڑوں میں ملبوس کوئ شخص بیٹھا نظر آیا-

میں نے چلا کر کہا ” کون ہو ؟ کیوں مارتے ہو پتّھر” مگر اس نے کوئ جواب نہ دیا-

میں نے خیال کیا کہ شاید کچھ شرارتی لڑکے ہیں جو مجھے تنگ کرنا چاھتے ہیں- مسجد کا مرکزی دروازہ بند کرنے کو ہم ایک بڑی دوشاخہ لکڑی لگاتے تھے- میں نے وہ نکالی اور ڈانگ کی طرح کھٹکاتا ہوا پیپل کی طرف بڑھا- ساتھ ساتھ اونچی آواز میں اسے دھمکانے کو کہا ” اپنے پیو کے پُتّر ہو تو وہیں کھڑے رہنا ٹھہر ..!! ابھی سکھاتا ہوں تجھے سبق ..!!”

پیپل کے نیچے خوب اندھیرا تھا- میں وہاں پہنچا تو وہ لڑکا پھر غائب ہو چکا تھا-
میں اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا- دفعتاً کسی نے میری گردن پہ زور کی چپت رسید کی اور میں کلبلا اُٹھا- پھر کسی اُلّو کے چیخنے کی آواز آئ- میں گردن سہلاتا ہوا ادھر ادھر دیکھنے لگا- پیپل کے اس پیڑ پہ رات کو عموماً الّوؤں کا بسیرا ہوتا تھا جو ہر آئے گئے کو چپّت ضرور لگایا کرتے تھے-

میں نے خیال کیا کہ شاید وہ لڑکا بھاگ گیا ہے یا کہیں چھپ گیا ہے- اسے ڈھونڈنا فضول تھا- میں واپسی کے ارادے سے مُڑا ہی تھا کہ اچانک نظر صحنِ مزار کی طرف اٹھ گئ- خوف کی ایک لہر میرے جسم میں پیدا ہوئ اور رونگٹے کھڑے ہو گئے-
صحن کے عین بیچ وہی سفید کپڑوں والا لڑکا اکڑوں بیٹھا ہوا تھا- وہ مجھ سے تقریباً سو قدموں کے فاصلے پہ تھا-

میں نے کانپتی آواز میں کہا:

“کون ہو ؟ کیا کر رہے ہو ادھر ؟” مگر اس نے کوئ جواب نہ دیا- میں پیپل کے نیچے کھڑا اسے غور سے دیکھنے لگا- فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے میں یہ جاننے سے قاصر تھا کہ وہ وہاں کیا کر رہا ہے-

پھر وہ آہستہ آہستہ اٹھنے لگا اور اس کا قدوقامت بڑھتا ہی چلا گیا- میں نے اپنی زندگی میں اتنا طویل قامت شخص کبھی نہ دیکھا تھا- وہ صحنِ مزار میں کھڑا مجھ سے بے نیاز آسمان کی طرف دیکھنے لگا-

میں دوشاخہ ہاتھ میں تھامے اسے برابر دیکھتا رہا- پھر اچانک ہی وہ میری طرف چل پڑا- اس کی چال بڑی عجیب تھی جیسے کوئ لنگڑا کر چلتا ہے- چلنے کی دوران بھی اس کی نگاہ برابر آسمان کی طرف اٹھی ہوئ تھی-

مجھے شدید خوف محسوس ہوا اور میں دل ہی دل میں قل شریف پڑھنے لگا- وہ شخص برابر میری طرف چلا آ رہا تھا- لنگڑاتے ہوئے وہ اپنا ایک پاؤں زور سے فرش پہ مارتا- پھر سیدھا ہوتا اور دوسرا پاؤں مارتا- اس کے قدموں کی چاپ گھوڑے کی ٹک ٹک جیسی تھی-

دوشاخہ ڈنڈے پہ میری گرفت مظبوط ہوتی گئ- وہ شخص مجھ سے تقریباً دس قدم کے فاصلے پہ آ کر رُک گیا- اب اس کا چہرہ کسی قدر صاف اور واضح نظر آ رہا تھا- اس کی داڑھی بالکل صاف تھی اور بال لمبے اور گھنگھریالے- میں نے اس پہلے اسے کبھی مزار پہ نہ دیکھا تھا- وہ چاند کی طرف دیکھتے ہوئے مسلسل مسکرا رہا تھا-

میں نے ہمّت کر کے پوچھا:
“کون ہو تُم ؟

وہ میرے سوال سے بے نیاز یونہی مونہہ اٹھائے چاند کو دیکھتا برابر مسکراتا رہا- پھر اسی حالت میں وہ لنگڑاتا ہوا پیچھے مُڑا اور واپس چل دیا- میں نے سکون کی سانس لی اور خاموشی سے اسے جاتا ہوا دیکھنے لگا-

مزار کے مرکزی دروازے تک پہنچنے میں اسے کافی وقت لگا- بالاخر وہ گیٹ کھول کے باھر نکل گیا- میرا حلق خوف کے مارے خشک ہو رہا تھا- “مجھے یہاں نہیں آنا چاھئے تھا- مجھے فوراً واپس مسجد جانا چاھئے”
یہ سوچ کر میں دو شاخے کو گھسیٹتا ہوا واپس مسجد کی طرف چل دیا-

ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ اچانک پیچھے سے دھپ دھپ کی آواز آئ- فوراً مُڑ کے دیکھا تو وہی پراسرار شخص پوری رفتار سے میری طرف بھاگا چلا آ رہا ہے-
خوف کی لہر میرے پورے جسم میں بجلی کی طرح دوڑ گئ اور میں سرپٹ مسجد کی طرف بھاگا- دروازہ بند کرتے ہوئے میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو وہاں کوئ نہ تھا-

صحن میں آکر میں نے صف اٹھائ اور جانی کے برابر بچھا کے لیٹ گیا- میری سانس دھوکنی کی طرح چل رہی تھی- زندگی میں کبھی ایسی خوفناک صورتحال سے واسطہ نہ پڑا تھا- اس حالت میں نیند کہاں آنی تھی- میں اونچی آواز میں آیت الکرسی پڑھنے لگا- پھر جو قرانی سورتیں یاد تھیں سب پڑھ ڈالیں- آہستہ آہستہ میرا خوف دور ہوا- یونہی رات گزر گئ اور جانی نے اُٹھ کر صبح کی اذان دے دی-

فجر کی نماز میں کچھ زائر بھی چلے آئے اور اچھی خاصی صف بن گئ- تکبیر ہو رہی تھی کہ میں نے فاضل شاہ کو آتے دیکھا- اس سے پہلے وہ مسجد میں کبھی نہ آئے تھے- وہ اپنے حجرے سے بہت کم باہر نکلتے تھے-

نماز کے بعد حسبِ روایت میں نے دعا کرائ- اس کے بعد نمازی ایک ایک کر کے نکلتے گئے مگر فاضل شاہ وہیں بیٹھا رہا- جانی نے کتابوں والی الماری سے قرانِ پاک نکالا اور کونے میں بیٹھ کر تلاوت کرنے لگا- میں اٹھ کر باہر صحن میں چلا آیا-

میرے دماغ پر رات والے واقعے کا اثر تھا- صحن میں آ کر ادھر ادھر دیکھا مگر وہ کنکریاں کہیں نظر نہ آئیں جو رات کو ماری گئ تھیں- مجھے خیال ہوا کہ شاید جانی نے صفائ وغیرہ کر دی ہے- انہی خیالوں میں منہمک تھا کہ اچانک کندھے پہ کسی کا بھاری ہاتھ محسوس ہوا-

چونک کر پیچھے دیکھا تو شاہ جی کھڑے مسکرا رہے تھے- میں نے ایک گہری سانس لی اور ساختہ کہا :

” آپ نے تو ڈرا ہی دیا شاہ جی !!”

وہ میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولے “اللہ سے ڈرنے والوں کو کسی سے کیا ڈرنا ؟ ہاں نیّت میں فتور ہو تو ضرور ڈرنا چاھئے .. سمجھا کہ نئیں ؟”

میں سمجھی ناسمجھی میں انہیں دیکھتا رہا- وہ برابر میری آنکھوں میں جھانک رہے تھے- موضوع بدلنے کو میں نے کہا ” آپ نے آج بڑی شفقت فرمائ ، جانی بتا رہا تھا کہ آپ جنڈیالی بنگلہ گئے ہوئے ہیں- منگل کو آئیں گے واپس …؟”

وہ مسکراتے ہوئے بولے:
“ہاں ارادہ تو منگل تک کا ہی تھا مگر مزار کی ہوا خراب ہو رہی تھی- جلدی واپس آنا پڑا- کچھ لوگ کچھ نہ ہو کر بھی خود کو بہت کچھ سمجھنے لگے ہیں- حالانکہ بجلی کی تاروں اور عاملوں کے اسراروں میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاھئے … سمجھا کہ نئیں ؟ ”

میں نے کہا ” نئیں سمجھا- آپ کس کی بات کر رہے ہیں”

وہ بولے ” اسی کی …. جو نُوری سہاگ گیا تھا … ملنگ بن کے … سمجھا کہ نئیں ؟”

میں نے کہا ” سمجھ گیا … میں ہی گیا تھا نوُری سہاگ .. اس لڑکی کو دم کرنے … کیا میں نے غلط کیا ….؟؟”

وہ بولے:

” نیتوں کا حال تو خدا ہی جانتا ہے … لیکن یہ بات ہر کوئ جانتا ہے کہ استاد کے بغیر کوئ بھی کام کنارے نئیں لگتا- نیم حکیم خطرہء جان .. چار سورتیں پڑھ کے جِن اتارنے کا خیال ایسا ہی ہے کہ کوئ اناڑی محض سفر کی دعا پڑھ کے گڈّی چلانا شروع کر دے- سمجھا کہ نئیں ؟ خود بھی مرے گا ، اوروں کو بھی مروائے گا- مانتا ہوں چڑھتی جوانی ہے ، عورت کو دیکھ کے من مچلتا ہے مگر جنّات کے ساتھ پنگا .. بالکل نہیں .. سمجھا کہ نئیں …؟”

یہ کہ کر انہوں نے میری پیٹھ تھپتھپائ اور چل دئے-

میں نے آوز دی:

“شاہ جی … جنّات انسان سے زیادہ طاقتور نہیں … میں آدم کا بیٹا ہوں … میرے پاس اللہ کا قران ہے … آپ مت ڈرائیے مُجھے اس مخلوق سے ….. !!!”

انہوں نے پلٹ کے مجھے دیکھا اور سر ہلاتے ہوئے بولے:

” بڑی ظالم مخلوق ہے بیٹا … بچ جاؤ … اور اس لڑکی کا خیال بھی دِل سے نکال دو ورنہ …. چین سے سو نئیں سکو گے- بیٹا تٌم نے جِنّات کا صرف نام سنا ہے …. ہم نے عمر گزاری ہے ان کے ساتھ … سمجھا کہ نئیں ؟”

میں نے کہا:
“سن رکھّا ہے میں نے جنّات کا نام … قران میں … آگ سے بنی ہوئ ایک مخلوق … جو ناکام ہو چکی تھی خلافت کا بوجھ اٹھانے سے … تب خالق نے مجھے پیدا کیا … مٹّی سے … میں لوہا نہیں جو آگ سے پگھل جاؤں …. !!”

وہ کچھ دیر خاموشی سے مجھے دیکھتے رہے- پھر چلتے ہوئے قریب آئے اور میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے بولے:

“جنّات کی سب سے بے ضرر قسم چھلاوہ ہے … ایک امرد جِن … ایک لونڈا … عامل لوگ جِس سے دِل بہلاتے ہیں … اور جس نے رات بھر تُجھے سانڈ کی طرح بھگایا ہے ناں … وہ چھلاوہ ہی تھا- سمجھا کہ نئیں ….. ؟؟ ”

میری زبان پہ چُپ کا تالہ پڑ گیا اور میں پھٹّی پھٹّی نظروں سے شاہ جی کو دیکھنے لگا-

شاہ جی کی دھمکی کے بعد میں کسی قدر محتاط ہو گیا اور کسی بھی ہنگامی صُورت حال سے نمٹنے کےلئے خود کو روحانی طور پر تیّار کرنے لگا- جنّات سے اب کسی بھی وقت مڈبھیڑ ہو سکتی تھی- اس صورت میں واحد ہتھیار قرانِ مجید تھا- میں نے حفظ کا ارادہ کیا اور جانی کی طرح صبح و شام کلامِ پاک سینے میں جمع کرنے لگا-

ایک روز عصر کے بعد مسجد کے صحن میں تلاوت کر رہا تھا کہ شادا ملنگ بھاگتا ہوا آیا- اس نے بتایا کہ مزار سے باہر کوئ شخص میری “زیارت” کو آیا بے-

میں نے کہا “زیارت ؟ کون آیا ہے؟ میری تو یہاں کسی سے واقفیّت بھی نہیں؟ اور وہ اندر کیوں نہیں آ رہا …؟”
وہ بولا ” وہ اندر آنے سے انکاری ہے جی … اور ہر آئے گئے کی منّت سماجت کر رہا ہے کہ سائیں کو باہر بلوا دیجئے …”

میں نے کہا: “ٹھہرو ارشاد … تُم میرے ساتھ آنا … ”

میں نے قرانِ مجید الماری میں رکھّا اور شادے کو ساتھ لئے مزار کے مرکزی دروازے پر پہنچا- باہر سڑک کے دونوں طرف پتھارے والوں کا رش تھا-

سڑک کے اس پار کُچھ فاصلے پر ایک شخص اسکوٹر پر بیٹھا ہوا نظر آیا- وہ گیٹ کی طرف نظریں جمائے بیٹھا تھا گویا شدّت سے کسی کا منتظر ہو- ہمیں آتا دیکھ کر اس نے اسکوٹر اسٹینڈ پہ کھڑی کی اور ہماری طرف چلا آیا-

سفید شلوار اور بوسکی کی قمیض میں ملبوس اس شخص کی عمر چھبیس ستائس کے لگ بھگ تھی- سفید رنگت ، چوڑے چکلے شانے ، گھنگریالے بال اور بڑی نفاست سے تراشی ہوئ خوب صورت مونچھیں-

قریب آ کر وہ “سائیں جی سائیں جی …” کہتا ہوا جھکتا ہی چلا گیا- میں نے بمشکل اسے سیدھا کیا اور کہا ” کیا کر رہے ہو بھائ؟”

وہ میرا ہاتھ چومتے ہوئے بولا آپ اللہ والے ہو جی- دلوں کے حال جانتے ہو- دکھ تو یہ ہے کہ بڑی دیر سے مِلے ہو-

میں نے حیرت سے کہا :
تُم ہمیں کیسے جانتے ہو؟ کوئ کام ہے ہم سے ؟
وہ بولا “میرا نام سلطان ہے جی- کُکّڑ ہٹّہ سے آیا ہوں- اس کُڑی کا منگیتر ہوں جسے آپ دم کرنے نوری سہاگ گئے تھے …”

میں یوُں پیچھے ہٹا گویا سانپ نے ڈس لیا ہو- پھر شادے کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا اور اس شخص سے کہا:

” اس لڑکی کا خیال بھی دل سے نکال دو سلطان …. وہ تجھ سے محبّت نہیں کرتی …. دوسرا اس پہ جِن آتا ہے اور جنّات کے ساتھ پنگا …. بالکل ٹھیک نہیں … !!!”

وہ لاپرواہی سے بولا ” مجھے جنّوں بھوتوں سے مت ڈرائیں سائیں جی … میں جان تلی پہ رکھ کے پھرتا ہوں …!!”

میں نے کہا ” تم نے جن بھوت کا صرف نام سُنا ہے … ھم نے عُمر گزاری ہے ….. ابھی ابھی شاہ جی کے پاس سے ہو کر آیا ہوں …. ایک وفد آیا ہوا ہے وہاں جنّات کا …. کہتے ہیں بیروزگار ہیں ، کام دھندہ کوئ نئیں … ہمیں کسی پہ چڑھا دیجئے … کیوں اپنی جان کے دشمن بنتے ہو- جِن ، بھوت آسیب اور مارشل لاء … ایک بار چڑھ جائیں تو اترتے آرام سے ہی ہیں …. !!!”

وہ بولا ” بس کریں سائیں جی- جانتا ہوں میں شاہ جی کو- کئ گھر اجاڑے ہیں اس شیطان نے – وہی تو سارے فساد کی جڑ ہے- آپ سچّے فقیر ہو- بس دو منٹ میرے ساتھ اسکوٹر پہ بیٹھو- نہر کنارے چلتے ہیں- ایک بار میرا دکھڑا سن لیجئے- فیر کبھی بوُتھا نئیں دکھاؤں گا آپ کو … چلئے میرے ساتھ ”

میں اس غرض سے کہ شاید اس بلاء سے جان چھوُٹ جائے اور شاہ جی کے بارے میں بھی کچھ خبر مل جائے اس کے ساتھ موٹر سائیکل پہ بیٹھ گیا- ہم گِدڑ پِنڈی سے ہوتے ہوئے سیدھا نہر پر جا نکلے- یہاں کچّی اینٹوں اور مٹّی سے بنا ایک سادہ سا دھابہ تھا جس کے اوپر سرکنڈے کا چھپر بنا ہوا تھا-
نہر کنارے لکڑی کے ٹوٹے پھوٹے بنج لگے ہوئے تھے ، ہم وہاں جا بیٹھے-

چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے سلطان نے کہا:

“رخسانہ میرے چچا کی بیٹی ہے سائیں جی- میں آٹھویں جماعت میں تھا کہ اس سے محبّت کرنے لگا- وہ بھی مجھے پسند کرتی تھی- میں آئے روز کسی نہ کسی بہانے چاچا کے پِنڈ آتا رہتا کہ اسے دیکھ سکوں- ہماری محبّت کسی سے ڈھکّی چھپّی نہ تھی- ہم دونوں کے خاندان اس رشتے پر مکمّل راضی تھے-

بدقسمتی تب شروع ہوئ جب رخسانہ کی خالہ مجھ سے پہلے اپنے بیٹے ھاشم کا رشتہ لیکر چاچے رمضان کے بوُہے پہ پہنچ گئ- انہوں نے کوئ جواب نہ دیا- میں نے صورت حال دیکھ کر اپنی ماں سے کہا جلدی کر امّاں- شکرے منڈلانے لگے ہیں- یہ نہ ہو کہ رشتہ لے اڑیں- امّاں تو پہلے ہی راضی تھی- جس روز اماّں اور بہنیں مٹھائ کے ٹوکرے لے کر رخسانہ کے گھر گئے میں بہت خوش تھا- پھر اچانک میری خوشیوں کو جیسے آگ لگ گئ- گلی میں کھیلنے والا ایک چھوٹا سا بچّہ ہمارے گھر آیا اور مجھے ایک رقعہ دے گیا- اسے یہ رقعہ گلی سے گزرنے والے کسی شخص نے دیا تھا- میں نے فوراً کھول کے پڑھا اس میں لکھا تھا:

“سُنا ہے آج تمہاری منگنی ہے- ہمّت ہے تو کر کے دکھا دو …!!
فقط تمہارا بدخواہ ”

میں اس پیغام کو بالکل نہ سمجھ سکا اور اسے کسی یار بیلی کا مذاق سمجھ کر ہنس کے پھاڑ دیا- مجھے اپنی محبّت پہ سو فیصد یقین تھا- رخسانہ اور میں نے ساتھ مرنے جینے کی قسمیں کھا رکھّی تھیں-

شام کو جب گھر والے واپس آئے تو سخت پریشان تھے- میں نے پوچھا خیر تو ہے ؟ کہنے لگے خیر نہیں ہے- رشتے سے صاف انکار ہو گیا ہے اور انکار رخسانہ نے کیا ہے- ہماری اچھی خاصی سبکی ہوئ ہے- اب ھم قیامت تک اس دروازے پہ کبھی نہ جائیں گے-

میرے ہوش اڑ گئے- کچھ سمجھ نئیں آ رہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے- رخسانہ نے آخر ایسا کیوں کِیا ؟ پوچھنے کی بھی ہمّت نہ تھی کہ ان لوگوں کا موڈ سخت برھم تھا- پھر اچانک مجھے اس رقعے کا خیال آیا- آخر کون ہے یہ شخص اور میری بربادی کے پیچھے کیوں پڑا ہے ؟ اس رشتے میں روڑے کیوں اٹکا رہا ہے؟ میں جتنا سوچتا اتنی ہی گُتّھی الجھتی جاتی- رات تڑپتے پھڑکتے گزر گئی- اگلے روز صبح سویرے میں چاچا کے پنڈ نوری سہاگ جا پہنچا-

دروازہ چاچی نے کھولا-
کہنے لگی اندر آنے کا کوئ فائدہ نئیں- رخسانہ نے انکار کر دیا ہے اب کیاچاھتے ہو ؟ میں چاچی کو دھکیلتا ہوا سیدھا اندر گیا- رخسانہ برامدے میں کھڑی تھی- میں نے اسے جا پکڑا اور اسکے شانے جھنجھوڑ کے کہا ” تُم نے کیا کِیا رخسانہ ؟ کیا تمہیں مجھ سے محبّت نئیں ؟”

وہ بولی ” کیا کہ رہے ہو ؟ مجھے تم سے کبھی محبّت تھی ہی نہیں- ہاں نفرت ضرور ہے- دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ شور کر کے محلّہ اکٹھا کر لونگی”

میں حیران پریشان اسے دیکھتا ہی رہ گیا- کچھ سمجھ نئیں آ رہا تھا کہ کیا کروں- پاؤں پٹختا ہوا وہاں سے نکلا اور واپس گھر آگیا- دروازہ کھولنے لگا تو چوکاٹھ کی درز میں ایک اور رقعہ پھنسا ہوا تھا- میں نے جلدی جلدی کھول کے پڑھا لکھا تھا:

“اب ٹکریں مارنے کا کوئ فائدہ نہیں- رخسانہ کو بھول جاؤ اب وہ تمہیں کبھی نہیں مل سکتی”

میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا کہ آخر یہ شخص ہے کون اور چاھتا کیا ہے؟ کہیں ہاشم تو نہیں؟ لیکن وہ اس طرح کیوں کر رہا ہے؟ کھُل کے سامنے کیوں نہیں آتا؟
اگلے روز میں ھاشم سے ملنے پُل باگڑ جا پہنچا-

ھاشم بڑے تپاک سے ملا- میں نے اسے پوری کہانی سنائ اور کہا ھاشم بھائ- پیچھے سے وار مت کرو- آخر تم چاھتے کیا ہو ؟
وہ بولا خدا کی قسم بھائ میرا اس قصّے میں کوئ کردار نہیں- نہ ہی رخسانہ سے مجھے کوئ لگاؤ ہے- میری ماں خود ہی رشتہ لے کر گئ تھی- انکار ہوا تو بیٹھ گئ- نہ تو میں نے اپنی خوشی سے اماں کو بھیجا تھا نہ ہی انکار سے کوئ پریشانی ہوئ ہے-

میں نے اپنی ٹوہ جاری رکھّی- کئ روز کی بھاگ دوڑ کے بعد اتنا معلوم ہو سکا کہ رخسانہ اپنے پنڈ کی ایک عورت شاھینہ بی بی کے ہاں سلائ سیکھنے جاتی ہے- شاھینہ کا مزار پہ بہت آنا جانا ہے- وہ شاہ جی سے تویت دھاگہ بھی لیتی ہے- اسی نے رخسانہ کو تویت پلائے ہیں یا کوئ جِن بھوت چڑھوایا ہے-

شاھینہ سے ملنا بیکار تھا- میں سیدھا مزار پہ گیا اور شاہ جی سے مِلا- بیس روپے نزرانہ چڑھایا اور مسئلہ ان کے سامنے رکھّا-
انہوں نے ماش کی ثابت دال کو دھواں دکھایا اور جنتر منتر پڑھنے کے بعد کہا:
” لڑکی پہ جِنّ ہے- نام اس کا پرکاش ہے- یہ جِن کس نے چڑھایا رب جانتا ہے- اتارنا ہے تو بات کرو- پندرہ ہزار لگیں گے- سمجھا کہ نہیں؟”

میں نے مالٹوں کا باغ اونے پونے داموں بیچا- شاہ جی کو پندرہ ہزار دیا- اسی شام جِن اتر گیا اور رخسانہ کی ماں ہمارے گھر بھاگی چلی آئ- گزشتہ رویّے کی معافی مانگی اور منگنی کےلئے ہاں کر دی- ھم لوگ ایک پھر مٹھائیوں کے ٹوکرے لیکر پہنچے- سُوٹ کپڑے دئے ، انگوٹھی پہنائ ،منگنی ہو گئ- شادی کےلئے دو ماہ بعد کی تاریخ مقرّر ہو گئ-

ابھی دو ہفتے ہی گزرے تھے کہ جِن پھِر آ گیا- سب کپڑا لتّھا جو دیا تھا ، اسے آگ لگا دی- انگوٹھی کو تندور میں پھینکا- میں بھاگتا ہوا شاہ جی کے پاس گیا اور جِن کی شکایت کی- انہوں نے ایک بار پھر ثابت ماش ابالی اور تنتر منتر پڑھ کر بولے:
“رولا ہو گیا بھائ … وہی پرکاش ہے … اب کی بار کسی نے 20 ہزار دیکر چڑھایا ہے- اتارنے کے پچاس ہونگے اور جلا کر راکھ کرنے کا ایک لاکھ- سمجھا کہ نئیں ..؟”

باغ تو پہلے ہی بک چُکا تھا ، لے دے کے ٹریکٹر ہی بچا تھا- میں اس کا سودا کرنے لگا تو ابّا جی درمیان میں آ گئے- بولے نہ کر پُتّر ہم سہُو ، سرگانڑوں ، جٹّوں ، ارائیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں … جنّات کا نہیں … نہ یہ بندوق سے ڈرتے ہیں نہ پولیس سے- چنگے سے چنگا وکیل بھی ان کا مندا نئیں کر سکتا- بھول جا رخسانہ کو- خود بھی اجڑو گے اور ہمیں بھی اجاڑو گے-

بس سائیں جی وہ دن اور آج کا دن ، میں رخسانہ کےلئے بس تڑپ ہی رہا ہوں – اب اس پہ ہر مہینے جِن آتا ہے- دورے پڑتے ہیں- بے ہوش ہو جاتی ہے- مزار پہ لاتے ہیں تو جِن اتر جاتا ہے- گھر جاتے ہیں تو فیر چڑھ جاتا ہے- کل ہی چاچا رمضان نے آپ کے بارے میں بتایا کہ بڑے پہنچے ہوئے فقیر آئے ہیں- رخسانہ کو جب سے دم کیا ہے بھلی چنگی ہو گئ ہے- ہر وقت آپ کی مالا جپتی ہے- آپ کی دم کی ہوئ گھڑی بڑی سنبھال کے رکھتی ہے- فقیروں کا رب داتا ہے- پورا جگ تمہارے آسن کے نیچے ہے- اللہ والیو … اب جِن اتار دیا ہے تو اس کا دِل بھی سیدھا کر دو … وہ منگنی کےلئے ہاں کر دے … 15 سال سے تڑپ رہا ہوں- شاید ہماری بھی کشتی کنارے لگ جائے-

چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی اور میرا جسم بھی- میں نے کہا:

“جِن کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں سلطان … نہ محبّت میں دھوکے کا ڈر نہ محبوب کی بے وفائ کا اندیشہ … جسے چاھتے ہیں چمٹ جاتے ہیں … اسے اپنا اسیر کر لیتے ہیں … ایک ہم بدنصیب ہیں … محبّت کرتے ہیں … دل و جان لٹاتے ہیں … محبوب کےلئے اپنا سکون غارت کرتے ہیں … اور نتیجہ …؟؟ صفر بٹا صفر …. بہرحال تو فکر نہ کر … میں رب سائیں کو لکھ دُوں گا چٹّھی …. ہو جائے گا تیرا کام ….. !!”

اپریل کی دھوپ جی کو جلانے لگی تھی- میں مزار سے متصل ایک دیوار کے سائے میں اداس بیٹھا تھا- اس روز جمعرات تھی اور مزار پہ زائرین کا ہجوم- کوئ زائر چاولوں کی ایک تھیلی میرے پاس چھوڑ گیا تھا جسے چکھنے کی بھی نوبت نہ آ سکی- بھوُک تو گویا مجھ سے روٹھ ہی چُکی تھی-

میں نے رب سائیں کے نام کئ چٹھیاں لکھیں اور لکھ کے پھاڑ دیں- کئ حاجات لب پہ آتے آتے دم توڑ گئیں- کوئ بھی حرف ، حرفِ دُعا نہ بن سکا- میری ہر دُعا میری اپنی خواہشات سے ٹکرا رہی تھی یا کسی اور کی قضاء بن رہی تھی- کیا کہتا ؟ کیا مانگتا ؟ اس کی بارگاہ میں خواہشات سے بھرا دامن پیش کرتا یا امید سے بھرا دل لئے چپ چاپ بیٹھا رہتا ؟

ایک سایہ میرا اوپر آن کھڑا ہوا- نہ تو مجھے کسی کا انتظار تھا نہ ہی مجھے کوئ ملنے کو بے تاب ہوا پھرتا تھا – میں آنے والے سے بے نیاز اپنے ہاتھوں کی لکیروںمیں کھویا رہا-

” صلّو ؟ یہ تُو ہے صلّو؟ … توُ یہاں کیا کر رہا ہے … ؟”

میں نے نظر آٹھا کر مخاطب کو دیکھا- کچھ دیر اس کے حیرت زدہ چہرے کو پہچانتا رہا- پھر نرمی سے کہا ” کون صلّو ؟؟”

” او یار کیا ہو گیا تُجھے؟ میں چوھدری صادق ہوں یار- صادق سیکلوں والا- بھول گیا توُ ..؟”

میں نے بے زاری سے کہا ” صادق ؟ کون صادق؟ میں کسی صادق کو نئیں جانتا”

” او یار توُ تو سچ مچ ملنگ بن گیا” وہ میرے سامنے اکڑوں بیٹھتے ہوئے بولا- “قسمے وئ بڑی مشکل سے ڈھونڈا تجھے- تیرا تو انجر پنجر ہی ڈھِیلا ہو گیا یار ؟”

میں نے کسی بیمار کی طرح اسے دیکھا اور کہا ” تُجھے بھُلیکھا ہوا ہے وِیر- میں وہ نئیں جو توُ سمجھا ہے- جا چلا جا … بابے کی تُربت اُس طرف ہے- نذر نیاز چڑھا اور جا … ”

” بلّے وئ …” وہ ڈھٹائ سے میرے قریب دیوار سے ٹیک لگا کے بیٹھتے ہوئے بولا “ہم سجّن تھے یار … بیلی تھے … تیرے کام نہ آ سکے تو کیا ہوا … تیرے ساتھ تو چلے تھے ناں کچھ دن .. اب خُدا سے لین سیٹ ہو گئ تو ہمیں بھول گیا ہے …؟”

میں نے ایک پھیکی مسکراہٹ سے اسے دیکھا اور کہا:
“میری کسی سے لائین سیٹ نئیں ہے وِیر- نہ خدا سے ، نہ اس کے بندوں سے- بے شمار ملنگ اُدھر پھرتے ہیں- سب کی لائنیں سیٹ ہیں- ان کے پاس جا- میرے پاس کچھ نہیں ہے … میں بس اس کا بندہ ہوں …”

” او یار وہ تو ٹھیک پر خدا کے بندوں کو تو ماف کر دے … عرش تک آہ گئ ہے تیری … پھٹّے چُک دئے تُو نے تو مولبی کے …!!”

“کیا ہوا ہے … ؟؟”

“اور یار ہونا کیا ہے ؟ .. وہ اپنے پِنڈ والا مولبی شبیر شاہ ہے ناں … اس کو تیری آہ لگ گئ ہے یار … چھ مہینوں سے منجی پہ پڑا ہے … سُک سُک کے تِیلا ہو گیا وچارہ …. جب سے عالیہ کو ویاہ کے لایا ہے سُکھ کا ساہ نئیں لیا اس نے … تو ان دونوں کو ماف کردے یار … خُدا کےلئے ماف کر دے … !!!”

میں اچانک اٹھ کھڑا ہوا اور کہا :
“معاف کر دیا میں نے … سب کو ماف کر دیا … اب تو بھی مُجھے معاف کر …. جا کسی اور کو جا کے یہ کہانیاں سُنا … جان چھڈ میری ….”

اس نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا اور اُٹھ کھڑا ہوا-اس کی آنکھوں میں نمّی تھی اور وہ پہلے سے بہت بدلا ہوا دکھائ دیتا تھا- کچھ دیر مجھے لجاجت سے دیکھنے کے بعد وہ دونوں ہاتھ جوڑ کے بولا:

” ماف کرو سائیں … ناراض نہ ہو .. ہنسی خوشی وداع کرو … میں غریب بندہ ہوں … بس میری غلطیاں ماف کر دیناں .. اچھا چلتا ہوں … رب راکھا ”

وہ عقیدت سے الٹے پاؤں واپس ہوا اور چل دیا- میں خاموشی سے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ لوگوں کی بھیڑ میں گُم ہو گیا-

شب کو قوالی تھی اور میں شورو ہنگامے سے دور ایک خالی تھڑے پر دل کے چراغ جلائے بیٹھا تھا- جانی مجھے ڈھونڈتا ہوا ادھر آنکلا
” سائیں … توُ ادھر بیٹھا ہے … بڑی مست قوالی چل رہی ہے یار … آج تو خلیفہ پیر سجاد شاہ صاحب بھی بیٹھے ہیں … بڑا ماحول ہے یار …. آج ناچے گا نہیں …؟”

میں نے کہا ” جتنا ناچنا تھا ناچ چُکا جانی ، اب صرف تڑپنا رہ گیا ہے … تڑپ رہا ہوں”

وہ میرے پاس بیٹھ کے کچھ دیر سوچتا رہا پھر میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے بولا:
” کیوں تڑپتے ہو سائیں ؟ یاد آ رہی ہے کسی کی ؟ ”

میں نے کہا ” نہیں … !!”

” کب جا رہو اسے چھاپ پہنانے ؟”

میں نے کہا:
“دِل کو ہر غیر کی چھاپ سے خالی کر رہا ہوں جانی- رب سائیں کی جگہ بنا رہا ہوں- آج کی رات بڑی بھاری ہے مُجھ پہ ”

“کیوں ؟ … کیا ہوا ؟”

” بس یار …. بہت کچھ مانگنا ہے مالک سے … وہ سب کُچھ … جس کےلئے دل راضی نہیں ہے”

” کیا مانگ رہے ہو؟ ہمیں بھی تو بتاؤ …؟”

” کچھ خاص نہیں یار … بس یہ کہ آٹھ ماہ پہلے جو شخص میری بیوی ہتھیا کے لے گیا تھا … رب سائیں اسے اچھا کر دے … سنا ہے بیمار ہے وہ …. !!”

جانی حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے بولا:
“تمہاری بیوی بھی ہے سائیں ؟

میں نے ایک ٹھنڈی سانس لیکر کہا :
“ہے نہیں … تھی … طلاق دے بیٹھا تھا غریب کو … غلطی سے … سخت پچھتاوہ ہوا … ادھر ادھر بھاگا … مولبیوں کے پاس … کبھی مُلاّں پور … کبھی کوٹاں والا .. سلفیوں نے فتوی دیا کہ بسا لو … ایک طلاق واقع ہوئ ہے …میرے پِنڈ کا مولبی اکڑ گیا کہ چھوڑ دو … حرام ہو گئ تیرے واسطے … میں سسرال کے پنڈ جا بیٹھا … وہاں مولوی شبیر شاہ پیچھے پڑ گیا … بولا چھوڑ دے … حرام ہو چکی … پھر اس کے باپ کو درغلایا … اور اپنے لئے حلال کر لی … مجھے پنڈ سے بے دخل کرا دیا … میں نے بددعا دی تھی اسے کہ تو بستر پہ تڑپ تڑپ کے مرے گا … وہ قبول ہو گئ یار … دیکھ مولا سائیں کے رنگ … اب پھر اسے چٹّھی لکھوں گا کہ مولا سائیں اسے اچھا کر دے … دوسری دعا رُخسانہ کےلئے کرنی ہے … کبھی ہم اسے اپنے لئے مانگ رہے تھے اب سلطان کےلئے مانگیں گے ….. وہی سچّا پیار کرتا ہے اس سے … ہمارے لئے تو وہ محض ایک دیوانے کا خواب تھی … سراب تھی …. دل سے نکال باہر کریں گے آج اسے …. !!”

وہ میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولا:
“تجھے کسی کو دل سے نکالنے کی ضرورت نئیں سائیں- آج کے بعد تیری ہر چاھت پوری ہو گی”

میں نے چونک کر اسے دیکھا اور کہا “وہ کیسے ؟”

وہ میرے قریب ہوتے ہوئے کان میں بولا ” ایک راز کی خبر دیتا ہوں سائیں- کسی سے ذکر نہ کرنا- بس یوں سمجھ کہ کام بن گیا تیرا ..”

میں نے کہا ” کیسی خبر ؟”

وہ جیب سے پنج سوُرہ نکالتے ہوئے بولا ” پہلے قران پہ وعدہ کر- کسی سے اس بارے بات نئیں کرے گا”

” لے رکھ دیا ہاتھ … بات کیا ہے ؟” میں نے بے تابی سے پوچھا-

” مُجھے اذن مِل گیا ہے سائیں- شاہ جی نے نوری علم سیکھنے کا اذن دے دیا ہے- ہم جا رہے ہیں منگل کو …. راوی کے اُس پار .. ایک ویران کُھوہ پر … شاہ جی کہ رہے تھے کہ کالے کھوہ پہ چالیس روز کا عمل ہو گا”

” کالا کھوُہ ؟ کون سا عمل ؟”

“جنّات مسخّر کرنے کا عمل … بس ایک بار مجھے نوری علم سیکھ لینے دے … پھر وہ سب کچھ ہو گا جو تُو چاہے گا …. نوری علم سیکھ کر ہم رخسانہ کے جِنّ کو مسخّر کر لیں گے … پھر جِن ہو گا میرے ہاتھ میں اور رُخسانہ کا ہاتھ … تیرے ہاتھ میں … !! ”

” توُ بوہت غلط کر رہا ہے جانی” میں نے اُٹھتے ہوئے کہا ” تُو شاہ جی کو نہیں جانتا … اسی نے جِن مسلّط کیا ہے رخسانہ پر … اور اس جِن کو بھگایا ہے میں نے … سائیں صلّو نے …. رب کے پاک کلام سے … رُخسانہ جِن سے آزاد ہو چکی جانی … میں مانگوں گا اسے …. رب سائیں سے سلطان کےلئے … !!”

” بھوُل ہے تمہاری سائیں… ” جانی بھی اٹھ کھڑا ہوا- ” تمہیں شاید ساری کہانی کا عِلم نہیں … رخسانہ کا ایک اور عاشق بھی ہے … ھاشم … ھاشم کی ماں نے ہی جن چڑھوایا تھا اس پہ … اپنے کنگن شاہ جی کے پاس گروی رکھوا کے … وہ کبھی ہار نہیں مانے گی … نوری عِلم کے بغیر یہ جِن کبھی نہیں اترے گا … ”

“غلط کہ رہے ہو جانی- انسان جِنّات سے زیادہ طاقتور ہے”

” انسان سانپ سے بھی زیادہ طاقتور ہے سائیں … مگر وہی سانپ اسے ڈس کے مار دیتا ہے- انسان نے ساری آفتوں پہ علم و ہُنر کے ذریعے ہی قابو پایا ہے ، اور جنّات پہ قابو پانے کےلئے نوری علم سیکھنا ضروری ہے … تو بے فکر ہو جا … بس ایک بار مُجھے یہ عِلم سیکھ لینے دے … پھر دیکھ ہم کیا تماشا کرتے ہیں …”

“تماشہ ؟؟ ” میں نے تلخی سے کہا- “وہی تماشا جو شاہ جی نے لگا رکھّا ہے؟ … پیسے لے کے جنّات چڑھانا …. مزید پیسے لے کے اتار دینا ؟ … خدا کی مخلوق کو تنگ کرے گا تو ؟ اللہ کے بندوں کو ایسے کام زیب نہیں دیتے جانی … یہ جادو ، ٹونہ ، سحر ، فریب … سب شیطانی ہتھکنڈے ہیں … خدا کےلئے اس گندے تالاب میں مت اُتر جانی … پچھتائے گا … !!!”

وہ میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے بولا:

“اللہ کے بندے ہی گندگی دور کرتے ہیں سائیں … جب تک اس تالاب میں اتریں گے نہیں انسانوں کو آزاد کیسے کرائیں گے … بڑے بڑے مولوی ، عالم فاضل عاجز ہو جاتے ہیں جنّات کے ہاتھوں … کیوں؟ اس لئے کہ وہ نوری علم نہیں جانتے … ہم علم کا مثبت استعمال کریں گے … لوگوں کو جِنّات سے چھٹکارہ دلائیں گے … تو میرےلئے دُعا کرنا یار … چل اب مسجد چل … عشاء کا وقت ہو رہا ہے”

میں خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑا- جانی سے بحث فضول تھی- وہ ذھن بنا چکا تھا- مجھے صرف اس کی کامیابی کےلئے دعا کرنی تھی-

تیسرے روز جانی اور فاضل شاہ روُحانی چِلّے کےلئے کالا کھوہ چلے گئے- میں نے نفس کشی کےلئے تین روزے رکھّے اور خواہشات کا دامن جھاڑ کے رب سائیں سے لو لگا کے بیٹھ گیا-

جانی کا جانا میرے لئے مستقل دردِ سر بن گیا- مسجد کے بے شمار کام میرے ذمّہ ہو گئے- صفائ ستھرائ ، پانی ، بجلی ، اذان ، اقامت سب کچھ وہی کرتا چلا آیا تھا- خاص موقعوں پہ محافل بھی وہی منعقد کراتا تھا- میں صرف امامت کراتا تھا- اب یہ سب کچھ میرے سر آن پڑا- یوں میری صبح شام بھاگتے گزرنے لگی-

فجر کے بعد اشراق تک حفظ کی تیّاری ، اس کے بعد مسجد کی صفائ ، دوپہر کو ٹینکیوں میں پانی بھرنا ، سہ پہر لنگر کی تقسیم ، ظہر کے بعد گھنٹہ بھر آرام اور پھر حفظ کا دور- شام کو پھر لنگر کی تقسیم- عشاء کے بعد میں تھک ہار کے مسجد کی صف پہ آن گرتا-

بالاخر ایک روز میں سورة بقرہ حفظ کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا- یہ میرے روحانی سفر کی پہلی کامیابی تھی- میں روحانی طور پر خود کو بہت طاقتور محسوس کرنے لگا- میں پراعتماد تھا کہ اگر اس بار چھلاوہ سامنے آ گیا تو اسے سانڈ کی طرح بھگانے کی باری میری ہو گی-

ایک روز لنگر کی تقسیم کے دوران کچھ ایسے زائرین سے ملاقات ہو گئ جو سرائیکی بولتے تھے- یہ ڈیرہ غازی خان سے آئے تھے اور بڑے خلوص والے لوگ تھے- میں چاولوں کا تھال لیکر وہیں ان کے پاس جا بیٹھا-

ان کا ایک ساتھی بیمار تھا- یہ اسی کو لے کر یہاں آئے تھے- وہ فرش پہ چادر تانے ہائے ہائے کر رہا تھا- میں نے پُوچھا اسے کیا ہوا ہے؟ ان میں سے ایک زائر جو کافی بزرگ معلوم ہوتا تھا کہنے لگا یہ میرا بیٹا ہے سائیں- اس کے سر میں ہر وقت درد رہتا ہے-

مجھے بڑا دُکھ ہوا- اس روز سے اس مریض کا درد گویا میرا دردِ سر بن گیا- میں روز اس کا سر دباتا ، مُٹھّی بھرتا اور رب تعالی سے اس کی صحت کی دعا کرتا- وہ لوگ ہفتہ بھر مزار پہ معتکف رہے-

ایک روز میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اس بیمار شخص کو فاتحہ پڑھ کے دم کر رہا ہوں- اس کی کنپٹیوں کو انگلیوں سے دباتا ہوں تو اس کے کانوں سے پیپ نکلتی ہے-

اگلے روز لنگر بانٹنے لگا تو وہ زائرین نظر نہ آئے- مجھے خیال ہوا کہ شاید چلے گئے ہیں- پھر رات والا خواب یاد آ گیا- میں نے شادے ملنگ سے ان کی بابت دریافت کیا تو وہ بولا:
” سامنے مسافر خانے میں ٹھہرے تھے- شاید چلے گئے ہوں- جا کر معلوم کر لو”

مسافر خانے پہنچا تو وہ لوگ سامان باندھ رہے تھے- اس بزرگ سے ملاقات ہو گئ- میں نے بیمار کا حال دریافت تو کہنے لگا رات بڑی مشکل گزری ہے سائیں- پیر سجاد شاہ کا دم کیا ہوا نمک سات روز تک چکھایا ہے ، مزار کی خاک بھی چٹوائ ہے ، مگر آرام نہیں آیا- ہم لوگ تو بڑی آس لیکر آئے تھے- نامراد واپس جا رہے ہیں-

میں نے کہا ایک لمحے کو ٹھہرو- مجھے رات کو رب سائیں کی ایک چٹّھی آئ ہے- اس نے ایک دم لکھ بھیجا ہے- اگر اجازت ہو تو میں وہ دم کروں؟ امید ہے شفاء ہو جائے گی- وہ کچھ دیر بے یقینی سے مجھے دیکھتا رہا پھر میرا ہاتھ پکڑ کے مریض کے پاس لے گیا- اس کی حالت بہت خراب تھی اور وہ سر پہ کئ کپڑے لپیٹے ہائے ہائے کر رہا تھا-

میں نے کہا: “اس کے سر سے کپڑے اتار دو- رب نے چاہا تو یہ ضرور ٹھیک ہو جائے گا”
پھر بسم اللہ پڑھ کے اس کے سرہانے بیٹھ گیا اور جس طرح خواب میں دیکھا تھا ، سورة فاتحہ پڑھتے ہوئے اس کی کنپٹیاں ملنے لگا-

ابھی تیسرا ہی دور فاتحہ کا ہوا تھا کہ مریض نے آنکھیں کھول دیں کہنے لگا ” مولا سائیں کا واسطہ اسی طراں دم کرتے رہو .. مجھے سکون آ رہا ہے ….”

میں اسے مسلسل دم کرتا رہا یہاں تک کہ اس کی ہائے ہائے بند ہو گئ اور وہ پرسکون نیند سو گیا- میں نے اس کے والد سے کہا اسے سونے دو- جب تک خود نہ جاگے مت جگانا- جب جاگ جائے تو اسے لے کر خاموشی سے گھر چلے جانا- یہاں مزار پہ اس بات کا تذکرہ بالکل نہ کرنا-

دم کر کے میں مسجد چلا آیا اور نوافل پڑھ کر اس مریض کی صحت یابی کےلئے دُعا کرنے لگا- مجھے امید تھی کہ مولا سائیں اسے ضرور شفاء دے گا-
اس کے بعد میری ان لوگوں سے ملاقات نہ ہو سکی- شاید وہ چلے گئے تھے-

اس بات کو تین ہفتے گزر گئے- ایک روز عصر کے وقت مسجد کی ٹینکی میں پانی بھر رہا تھا کہ شادا ملنگ بھاگتا ہوا اندر آیا اور ہانپتا ہوا بولا ” تیرےمُرید آئے ہیں سائیں … پورے مزار پہ دھُم پڑ گئ ہے تیری …. !!”

میں نے حیرت سے اسے دیکھا اور کہا:
“میرے مُرید؟ کہاں سے …؟؟”
وہ بولا ” سائیں آپ تو بڑے پہنچے ہوئے نکلے ….. ہمیں تو خبر ہی نہ تھی- نواب رئیس آئے ہیں ڈیرہ غازی خان سے …!!”

میں نے کہا ” میں تو کسی نواب کو نہیں جانتا … ”

“وہ بھی نئیں جانتے تھے … تیرا نام بھی مالوم نہ تھا … پر جو حلیہ بتاتے ہیں .. وہ تیرا ہی ہے … مزار پہ سب سے پتلا اور کمزور ملنگ کون ہے … تیرے سوا ….؟؟ ”

اسی دوران ملنگوں اور زائرین کا ایک جمِّ غفیر مسجد کے صحن میں چلا آیا- سب بڑے اشتیاق سے مجھے دیکھنے لگے- ساتھ ہی وہ بزرگ بھی تھا جس کے بیٹے کو اس روز میں نے دم کیا تھا- وہ جوتے اتار کر سیدھا میری طرف آیا اور قدموں میں جھُک گیا-

میں نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا ” کیا ہوا ہے؟ کیسا ہے تمہارا بیٹا ؟”
کہنے لگا ” آپ کی نظر کرم سے بالکل ٹھیک ہو گیا سائیں- سارے ٹیسٹ ٹھیک آئے ہیں- مسجد سے باہر کھڑا ہے ، اجازت ہو تو پاؤں چومنے کو اندر آئے؟”

میں نے کہا ” نظرِ کرم تو رب سائیں کی ہے ، بندہ صرف بہانہ ہے ، پاؤں چٹوانے کو یہاں بے شمار پھرتے ہیں- میں تو انسانوں کو گلے لگاتا ہوں … !!”

ایک ملنگ بھاگ کے باھر گیا اور اس نوجوان کو اندر لے آیا- وہ خوش باش بھلا چنگا تھا- میں نے اسے گلے لگایا اور دعا دی- وہ بزرگ بولا ” سالوں سے در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے- ڈاکٹر بتاتے تھے کہ سر میں رسولی ہے- آپریشن کرواتے تو بچنے کی امید نہ تھی- آپ نے تو جیسے آگ پہ پانی ڈال دیا- رحمت کا فرشتہ ثابت ہوئے ہو سائیں- آج سے نوکر ہوں آپ کا- بتائیے کیا خدمت کروں ….؟؟”

میں نے کہا ” شفاء دینے والی ذات رب تعالی کی ہے- میں نے آپ کا درد محسوس کیا اس نے رستہ سجھا دیا- مجھے کسی خدمت کی ضرورت نہیں- ہاں مسجد کی صفائ میں کچھ مدد کر سکتے ہیں تو کر دو …”

میرے بولنے کی دیر تھی کہ نواب کے ساتھ آئے ہوئے نوکر جھاڑو پہ ٹوٹ پڑے- ایک ہی جھاڑو تھی ، تنکا تنکا ہو کے رہ گئ- باقیوں نے کندھوں سے چادریں ، سروں سے پگڑیاں اتاریں اور صفائ میں جُت گئے- میں نواب کے ساتھ مسجد کے صحن میں جا بیٹھا-

اسی اثناء میں پیر سجاد علی شاہ صاحب جو مزار کے متوّلی اور گدّی نشین تھے مسجد میں تشریف لائے- اس سے پہلے وہ کبھی ادھر نہ آئے تھے- سب ملنگ زائر ان کے احترام میں باادب کھڑے ہو گئے- میں نے بھی اُٹھ کے ہاتھ ملایا-
وہ بولے:
“امام صاحب ذرا اندر تشریف لائیے گا ایک ضروری بات کرنی ہے”

میں نواب کو صحن میں چھوڑ کے پِیر صاحب کے ساتھ کمرہء مسجد میں چلا آیا- انہوں نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے گلے لگایا اور بولے:
“بڑا نصیبوں والا ہے تو … اتنا جلد فقیر بن گیا … دیکھ لے سائیں مستاں والے کا فیض …. !!”

میں نے کہا ” مہربانی ہے رب سائیں کی … فیض کے سب خزانوں کا وہی مالک ہے ”

بولے: ” بڑا شکار مارا ہے تو نے … اس نواب کو خالی مت جانے دینا … پنج ہزار سالانہ سے کم نئیں مُکانا … !!”

میں نے کہا ” پانچ ہزار ؟ وہ کس لئے پِیر جی ؟؟”

کہنے لگے ” بہت بڑی اسامی ہے .. ایک ہی بیٹا ہے اس کا … .. بابا مستاں کی نذرِ کرم سے ٹھیک ہوا ہے … بابا کا حصّہ ضرور نکالنا ”

میں نے کہا ” نہ تو اسے مستاں والا نے ٹھیک کیا ہے نہ میں نے … وہ اللہ کے فضل سے ٹھیک ہوا ہے- نہ تو مجھے روپوں کی کوئ حاجت ہے نہ اس فوت شدہ بزرگ کو … نواب اپنی خوشی سے کچھ صدقہ کرنا چاھے تو ٹھیک – میں تو ایک پائ نہ لوں گا”

وہ بگڑ کر بولے:
“کیا وابیوں جیسی بات کرتا ہے .. بے ادباں نہ سار ادب دی گئے ادباں تھیں وانجے ھُو …. جس نے فقیری عطا کی اس کی کوئ قدر نئیں …؟؟ جس کا فیض ہے اس کا کوئ حصّہ نئیں؟؟ … ادب سیکھ ادب ..!! ”

میں حیرت سے پیر صاحب کا مونہہ دیکھنے لگا- وہ مُندریوں بھرا ہاتھ میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے بولے:

“نئ نئ فقیری کا نشّہ برا ہوتا ہے- ہوش میں رہ- کسی غلط فہمی میں نہ رہنا- پنج ہزار چاھئے … سالانہ … ایک پائ بھی کم ہوئ تو اینٹیں سریا سیمنٹ آج ہی منگوا کے تیرا مزار بنا دوں گا … زندہ پِیر کی نسبت فوت شُدّہ کی زیادہ قدر ہوتی ہے یہاں … !! ”

خوف سے میرا گلہ خشک ہونے لگا- اس دوران کچھ زائر مسجد کے اندر چلے آئے- شاہ جی نے ان کے سامنے میرا کندھا تھپتھپایا اور ہنس کے گلے لگا لیا- اس کے بعد وہ میرا ہاتھ پکڑے مسکراتے ہوئے مسجد سے باھر آئے- ملنگوں نے جھٌک جھُک کر ہمارے گھُٹنے چھوئے- کسی کو میرا سُتا ہوا چہرہ نظر نہ آیا- ہر کوئ میری کرامت پہ صدقے واری جاتا تھا ، جبکہ میں اس وقت کو ملامت کرتا تھا جب اس مزار پہ بوریا نشین ہوا تھا-

نواب سے دس ہزار ہاتھ آئے- یہ اس دور کی بہت بڑی رقم تھی- اس سے گاؤں میں ایک گھر بنایا جا سکتا تھا- شادی کی جا سکتی تھی- دوکان بنائ جا سکتی تھی مگر میں نے کچھ نہ رکھا- سوائے پچاس روپے چندہ برائے مسجد کے- سب کا سب پِیر صاحب کو بھجوا دیا- بیک مُشت- مجھے اپنا مزار بنوانے کی کوئ جلدی نہ تھی-

جانی کو چِلّے پہ گئے ایک ماہ ہو چکا تھا- ایک روز مغرب کے بعد مسجد سے نکلا تو عامل فاضل شاہ نظر آ گئے- میں نے سلام کیا مگر وہ نظرانداز کرتے ہوئے اپنے حجرے کی طرف بڑھ گئے- ان کے پیچھے ان کا نوکر بخشو بھی تھا-

مجھے حیرت ہوئ کہ چِلّے میں ابھی کئ دن باقی ہیں اور شاہ جی واپس بھی آ گئے- جانی کیوں نہیں آیا؟ میں نے بخشو کو آواز دی اور پوچھا
“شاہ جی واپس آگئے؟”
“ہاں آ گئے … کیوں؟؟ ”
میں جانی کے بارے میں پوچھنے ہی لگا تھا کہ پنج سورة پہ کیا ہوا وعدہ یاد آ گیا- اس راز کو دِل میں ہی رکھنا مناسب تھا-
میں نے کہا ” کچھ نئیں … ویسے ہی پوچھ رہا تھا”

مجھے خود ہی جانی کو تلاش کرنا تھا- اسے سنانے کو میرے پاس بہت سی خبریں تھیں اور اس سے بہت کچھ سننا بھی تھا-

میں نے جانی کی تلاش میں مزار کا چپّہ چپّہ چھان مارا- لنگر پہ تلاش کیا ، سرائے میں ڈھونڈا ، ملنگوں سے پوچھا ، فقیروں سے دریافت کیا مگر کوئ سُراغ نہ مِل سکا-

بالاخر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا- میں نے عامل فاضل شاہ جی سے ملنے کا ارادہ کیا اور ایک روز عصر کی نماز کے بعد سب کام دھندے چھوڑ کے ان کے حجرے کی طرف چلا آیا-

مزار کی پچھلی دیوار سے منسلک کمروں کی ایک چھوٹی سی قطار تھی- یہاں چھوٹی چھوٹی کوٹھڑیاں بنی ہوئ تھیں- ان میں سے کچھ تو خالی تھیں جن پہ بھاری بھر کم تالے پڑے ہوئے تھے- دو کوٹھڑیوں میں مزار کا راشن ، دیگیں برتن اور تمبو قنات وغیرہ رکھے جاتے تھے- ایک کمرہ بخشوُ کے زیر استعمال تھا- یہ قطار آگے جا کر دائیں طرف مڑ جاتی تھی یہاں ایک بڑا کمرہ شاہ جی کے زیرِ قبضہ تھا- اس کے ساتھ ایک کھلا ورانڈہ بنا ہوا تھا جسے دیوان کہتے تھے- یہاں ان کے ملاقاتی اور سائلین وغیرہ آ کر بیٹھتے تھے-

میں دیوان کے پاس جا کھڑا ہوا- اس روز منگل تھا اور ورانڈہ عورتیں مردوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا- بخشو سائلین کو باری باری اندر حجرے میں بھیج رہا تھا- شاہ جی ایک ایک سائل سے ملاقات کر کے تعویز دھاگے پکڑا رہے تھے-

میں کچھ دیر وہاں کھڑا یہ سوچتا رہا کہ بات کروں یا نہ کروں- جانی کی فکر بھی تھی اور رازداری کے اس وعدے کا بھی پاس تھا جو قران پہ حلف اٹھا کے کیا گیا تھا-

بخشو کی نظر مجھ پہ پڑی تو بولا “امام صاب .. خیریت؟”
میں گڑبڑا گیا اور کہا:
“بس ویسے ہی آیا تھا … برکت کےلئے … !!”
وہ بولا “آج تو شاہ جی بہت مصروف ہیں … پھر کسی روز چکّر لگا لیجئے گا ”
میں نے اثبات میں سر ہلایا اور خاموشی سے واپس لوٹ آیا-

اسی طرح ایک اور ہفتہ بیت گیا اور جانی کی کوئ خیر خبر نہ مِل سکی-

کچھ روز بعد لنگرخانے میں بھنڈارہ بانٹ رہا تھا کہ بخشو بھاگتا ہوا میرے پاس آیا اور بولا ” سائیں جی آپ کو شاہ جی سرکار بُلا رہے ہیں … حُجرے میں .. جلدی آئیے … !! ”

مجھے خوشگوار حیرت ہوئ اور دِل تیزی سے دھڑکا- ایک موہوم سی امید پیدا ہوئ کہ شاید جانی کا کوئ سراغ مل جائے- میں نے بھنڈارے کا تھال شادے کو پکڑایا اور بخشو کے پیچھے پیچھے چل پڑا-

شاہ جی کے حجرے کے سامنے پہنچ کر بخشو نے اچانک بریک لگائ اور میرے کان میں کہا :

” آپ تو نصیبوں والے ہیں جی … آج شاہ جی کسی سے نہیں مِل رہے … سائلین کو بھی واپس کر دیا ہے … آپ کی بڑی تعریف فرما رہے تھے … ذرا خیال سے جائیے گا … آگے جنّات ہیں …!!”

وہ چَلا گیا تو میں نے ڈرتے ڈرتے دستک دی- کچھ ہی دیر میں دروازہ چرچرا کر کھُلا اور شاہ جی نے سر باہر نکالا- مجھے دیکھ کر چہرے پہ خلافِ توقع مسکراہٹ ابھری البتہ ہونٹوں پہ ذِکرِ خفی جاری رہا- سر ہلا کے اندر آنے کا خفیف سا اشارہ کیا- پھر خاموشی سے میرا ہاتھ پکڑے اندر لے گئے-

حجرے میں روشنی بہت کم تھی- میں اندھوں کی طرح اندھیرے میں دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگا- ایک ایک قدم اٹھانا دوبھر ہو رہا تھا- ایک عجیب سی ناگوار بوُ اندر پھیلی ہوئ تھی-
ایک طرف سرخ دبیز قالین بچھا تھا جس پہ سرخ غلاف والے چار گاؤ تکئے دھرے تھے-

انہوں نے قالین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خفیف سی آواز میں فرمایا:

” بیٹھئے بیٹھئے … !!”

میں قالین پہ گاؤ تکیہ کا سہارا لیکر بیٹھ گیا- آنکھیں کچھ دیکھنے کے قابل ہوئیں تو ماحول کا جائزہ لینے لگا- بڑی ہی پراسرار جگہ تھی- شاہ جی آلتی پالتی مارے سر جھکائے ذکر فرما رہے تھے- ساتھ ہی لکڑی کی تپائ تھی جس پہ ایک عدد چراغ ، کسی پرندے کے پَر ، انسانی بالوں کی ایک گٹّھی اور کسی جانور کی ھڈّی پڑی تھی- ایک طرف بوسیدہ کتابوں اور کاپیوں کا ڈھیر لگا تھا- میری نظر قرانِ مجید کے کٹّے پھٹّے نسخوں پہ جم گئ جو عام کتابوں کے ساتھ بڑی لاپرواہی سے قالین پہ رکھّے ہوئے تھے-

اچانک شاہ جی نے کھانس کر مجھے متوجّہ کیا اور چہرے پہ ایک مسکراہٹ سجا کے بولے:
” آپ تو عید کا چاند ہو گئے امام صاحب ….. نظر ہی نہیں آتے آج کل ؟”

میں نے چونک کر کہا:
” جج … جی یہیں ہوتا ہوں … مسجد میں ہی …. آپ نے اس دن کے بعد … کبھی رونق ہی نہیں بخشی …!! ”

انہوں نے کاپی پہ کچھ لکھتے ہوئے سر اٹھایا اور بڑی لگاوٹ سے بولے:

“بس جی .. کیا کریں؟ … خلقِ خدا کی خدمت میں وقت ہی کہاں ملتا ہے … جسے دیکھو کوئ نہ کوئ درد اٹھائے پھرتا ہے- دنیا دکھوں کا گھر ہے … کس کس کا غم دور کریں؟ .. بس جو ڈیوٹی مالک نے لگائ ہے ، نبھا رہے ہیں … ہاں جب وقت ہوتا ہے تو یہیں مُصلّہ بچھا کر اس سے دل کے تار جوڑ لیتے ہیں”

شاہ جی کی باتیں بڑی زاھدانہ اور صوُفیانہ تھیں مگر میری طبیعت نجانے کیوں سخت مکدّر ہونے لگی- دیوار پہ لٹکی اُلّو کی ایک حنوط شدہ لاش مجھے مسلسل گھور رہی تھی- ساتھ کسی جانور کی کھال کا تازہ ٹکڑا لٹکا تھا جو پورے کمرے میں تعفن پھیلا رہا تھا-

اچانک شاہ جی کی آواز آئ:
” تمہارا وہ دوست …جانی … بڑا نصیبوں والا نکلا … رب کی بڑی رحمت ہوئ اس پر … آج کل جنڈیالی بنگلہ گیا ہوا ہے … نوری علم سیکھنے …. میرے استاد سے … رب نے چاہا تو ایک دن ہیرا بن کے لوٹے گا … ”

میں نے کچھ کہنا چاھا ، پھر کچھ سوچ کر چُپ ہو گیا- شاہ جی کچھ دیر میرے چہرے کے تاثرات پڑھتے رہے پِھر بولے:

” تم بھی بڑے کرماں والے ہو … نماز ، قران ، ذِکر ، عبادت … ہر کسی کو کہاں نصیب ہوتی ہے … بس ایک کمّی ہے … روحانّیت کی … وہ بھی پوری ہو سکتی ہے اگر نوُری علم سیکھ لو تو … کیا خیال ہے ؟”

میں نے کہا ” خیال تو نیک ہے … میں نے حفظِ قران کا ارادہ کر لیا ہے …. کوئ عالم میّسر ہوا تو ترجمہ تفسیر بھی سیکھ لوں گا … میرے نزدیک تو یہی نوری عِلم ہے … قران پاک سے بڑھ کر بھلا کیا نوُر ہو گا … اس میں ہر بلاء کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے …..!!! ”

” بے شک … !! ” انہوں نے زور سے میری تائید کی” قران ہر مصیبت ، ہر تکلیف ، ہر بلا کا توڑ ہے … لیکن مقابلہ کیسے کرنا ہے .. توڑ کیسے کرنا ہے … یہ سکھاتا ہے نوُری علم … نوری علم بھی درحقیقت قرانی علم ہی ہے … جس طرح قران کی تفسیر سیکھنے کےلئے عالموں کے پاس جاتے ہیں … اسی طرح قران کے روحانی فوائد جاننے کےلئے روحانی عامل کی شاگردی ضروری ہے …. یہ بھی ایک طرح کی تفسیر ہی ہے … لیکن ذرا مختلف قسم کی … اِس کا تعلق روح سے ہے … اور ہر اس چیز سے جو ہمیں نظر نہیں آتی … ”

یہ کہ کر اچانک وہ سیدھے ہوئے اور چونک کر چھت والے پنکھے کو دیکھنے لگے- میں نے بھی ان کی تقلید میں ادھر دیکھا- لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بجلی غائب تھی اور کمرے میں حبس بڑھ رہی تھی-
اچانک وہ زور سے گرجے:

” اُتر نیچے … اِبلیس کا بچّہ … اُتر … جلا کے راکھ کر دوں گا مردوُد … کتنی بار سمجھایا ہے کہ مہمان بیٹھا ہو تو شرارتیں مت کیا کرو … !!”

شاہ جی شاید “واپڈا جِن” پہ غُصّہ اتار رہے تھے ، مجھے تو وہاں کچھ نظر نہ آیا- ذرا خاموش ہوئے تو میں اٹھ کھڑا ہوا اور کہا:
“ظہر کا وقت ہو چلا ہے حضرت اجازت ہو تو میں چلوں ؟”

وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے- بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور بولے :

“میری باتوں پہ غور کرنا … اس میں تمہارا ہی بھلا ہے … لوگ سالوں ٹکریں مارتے ہیں اور میں اذن نہیں دیتا … مَن کالا ہو تو اذن کیسے دوں ؟ … تمہیں خود اذن دے رہا ہوں .. اس لئے کہ تُمارا من صاف ہے … تم ایک نیک سیرت اور صاف دل بندے ہو … روحانیت تمہارے درجات بڑھا دے گی … ابھی پتھّر ہو … نوری عِلم سیکھ کر پارس پتھّر ہو جاؤ گے … !!!”

میں کچھ دیر خاموش کھڑا رہا پھر بنا کچھ کہے باھر نکل آیا-

جانی کا چِلّہ پورا ہوگیا مگر وہ لوٹ کے نہ آیا- کہیں سے اس کی کوئ خیر خبر نہ مل سکی- اس کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکنا فضول تھا اور انتظار کے سوا اب کوئ چارہ نہ تھا-

ایک شب بارش خوب برسی اور ہر طرف جل تھل ہو گیا- نالے ، پرنالے سب بہہ نکلے- گرمی کا زور ٹوٹا اور ٹھنڈی ہوا چلنے لگی- دیکھتے ہی دیکھتے موسم خوشگوار ہو گیا- مسلسل بوندا باندی کی وجہ سے بجلی کا آنا جانا لگا ہوا تھا- میں نے کمرہء مسجد کی دونوں کھڑکیاں کھولیں اور صف پہ چادر بچھا کے سو گیا-

نصف شب اچانک میری آنکھ کھُل گئ- بجلی ابھی تک گئ ہوئ تھی اور ہر سُو گھپ اندھیرا تھا- آنکھ کھلنے کی وجہ غیر مُتوقع شور تھا- یوں لگ رہا تھا جیسے بہت سے لوگ آپس میں باتیں کر رہے ہوں یا کوئ بحث چل رہی ہو- ساتھ ساتھ کچھ لوگوں کے قہقہے بھی گونج رہے تھے- مجھے لگا کہ آوازیں باہر مسجد کے صحن سے آ رہی ہیں- سخت حیرت ہوئ کہ آخر نصف شب یہاں کون محفل جما کے بیٹھ گیا ہے؟

میں کلمہ پڑھتے ہوئے اٹھ بیٹھا- پھر بڑی مشکل سے مسجد کا دروازہ تلاش کیا اور باھر صحن میں آ گیا- یہاں ہر سو اندھیرے اور خاموشی کا راج تھا- دور دور تک کوئ نظر نہ آیا- میں نے معاملہ خواب سمجھ کے جھٹک دیا اور صحن میں کھڑے ہو کر تازہ ہوا کا لُطف لینے لگا-

اس کے بعد میں واپس اندر چلا آیا اور احتیاطاً کمرہء مسجد کا دروازہ کھُلا چھوڑ دیا- اب یہاں بھی مکمّل سکوت تھا- میں نے چادر آٹھا کر اچھی طرح جھاڑی اور دروازے کے قریب بچھا کر لیٹ گیا- ابھی کلمہ شریف کا ورد ہی کر رہا تھا کہ اچانک کسی کی سسکیوں کی آواز سنائ دی-

یہ سسکیاں کسی جوان لڑکی کی تھیں- پھر یوں لگا جیسے کسی نے روتے ہوئے مُجھے پکارا ہو … “سائیں جی …!!”
پھر اسی آواز میں زور کا قہقہہ گونجا- آواز مسجد کے اندر سے ہی آئ تھی- میرا دِل پہلی بار خوف سے دھڑک اُٹھا-

میں نے ہمّت جمع کر کے آواز لگائ ” کون ہے ؟” اس کے بعد قہقہے تھم گئے اور گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز آنے لگی- پھر اس آواز میں بے شمار گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں بھی شامل ہوتی گئیں گویا کوئ لشکر چلا آ رہا ہو- رفتہ رفتہ آوازیں بلند ہوتی گئیں اور مسجد کے درودیوار لرزنے لگے-

میں سمجھ گیا کہ جِنّات کا حملہ ہو چُکا ہے- کئ روز سے مجھے اسی شب کا انتظار تھا- میں خم ٹھونک کے مقابلے کےلئے اٹھ کھڑا ہوا- جنّات پر حضرتِ انسان کی برتری ثابت کرنے کےلئے میرے پاس یہی ایک موقع تھا- پہلا اور آخری موقع –

میں پورے عزم اور ارادے کے ساتھ اٹھا اور وضو کی نیّت سے باہر جانے لگا- مجھے یقین تھا کہ آج کی شب فتح و نصرت کا جھنڈا ان شاءاللہ میرے ہاتھ میں ہو گا-

اچانک ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا- کمرہء مسجد کا دروازہ زور سے بند ہوا تھا- میں نے بہتیرا زور لگایا مگر دروازہ نہ کھُل سکا- یوں لگ رہا تھا جیسے باہر سے بھی کوئ اندر کی طرف برابر زور لگا رہا ہو-

میں نے ہمّت نہ ہاری- آٹھ دس قدم پیچھے ہٹا- پھر دوڑتا ہوا آیا اور زور سے دروازے کو لات ماری- سال خوردہ دروازہ چوکاٹھ سمیت ٹوٹ کر دور جا پڑا- باہر کوئ نہ تھا-
میں بھاگ کر وضوخانے پہنچا- یہاں نالی میں بے شمار مینڈک ٹرٹرا رہے تھے- یا الہی یہ کہاں سے آ گئے؟ نل کھولنے کےلئے ٹوٹی پہ ہاتھ رکھّا تو وہاں پہلے ہی کسی کا ہاتھ رکھا ہوا تھا-

میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئ اور میں تڑپ کر دو قدم پیچھے ہٹا- وضو کا ارادہ ترک کیا اور بھاگ کر صحنِ مسجد میں چلا آیا- صحن کے عین وسط میں کوئ شخص سفید کفن جیسا لبادہ اوڑھے کھڑا تھا-

کون ہو ؟ کیا کررہے ہو؟ جیسے لایعنی سوالات کا وقت گزر چکا تھا- میں جنّات سے کسی قسم کے مذاکرات کا ارادہ نہ رکھتا تھا- بے ھنگم شور بڑھتا ہی جا رہا تھا- اچانک ہی نظر سوئے مزار اٹھ گئ- سامنے پیپل کے درخت کی طرف سے ہزاروں کا لشکر اس طرف چلا آتا تھا- بے شمار گھوڑے ، ہاتھی ، شیر ، چیتے اور کُتّے مسجد کی طرف بڑھ رہے تھے- گھڑ سواروں کی برہنہ تلواریں اندھیرے میں چمک رہی تھیں-

ہمّت ہارنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا- میں نے صحنِ مسجد میں کھڑے ہو کر اذان بلند کر دی- اللہ اکبر … اللہ اکبر کی صدا سے فضاء گونج اٹھی-
لشکر مسجد میں داخل ہوتے ہی تتّر بتّر ہونے لگا- ہاتھی گھوڑے کاغذی کھلونوں کی طرح ادھر ادھر بکھرنے لگے- شوروغُل بدستور جاری رہا اور میں اس ہنگام میں مسلسل اذان دیتا رہا-

اذان ختم ہوئ تو سر پہ پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ محسوس ہوئ-
سیاہ رنگ کی ہزاروں چمگادڑیں میرے سر پہ جنگی جہازوں کی طرح چکّر لگانے لگیں- گویا جنّات اپنی ہوائ فوج بھی میدان میں اتار لائے تھے-

میں نے ٹھنڈے فرش پہ تیّمم کیا اور نوافل کی نیّت باندھ لی- پھر بلند آواز سے قراءت کے ساتھ الحمد شریف پڑھنی شروع کی- اس کے بعد سورہء بقرہ کی پرسوز تلاوت کرتے ہوئے ماحول کو پاک کرنے لگا-

آہستہ آہستہ چمگادڑوں کی پھڑپھڑاہٹ کم ہوتی گئ اور فضاء میں سکوت چھاتا گیا- ڈیڑھ رکوع تلاوت کر چکا تو رب تعالی کے حضور رکوع میں جھک گیا-

نماز کے بعد میں صحنِ مزار پہ نظر ڈالی- ہر طرف مکمل امن و امان تھا- میں اٹھ کھڑا ہوا اور صحنِ مزار کے چکّر لگانے لگا-میرا اعتماد آسمان کی بلندیوں کو چھوُ رہا تھا- مجھے فخر ہو رہا تھا کہ میں رب تعالی کی احسن ترین مخلوق ابنِ آدم ہوں ، جو دوسری تمام مخلوقات پر حاوی ہے-

میں نے صدا لگائ:

“کہاں چلے گئے ہو …؟ آؤ نہ سامنے ..؟ لے آؤ اپنی تمام فوج … میں انتظار کر رہا ہوں تمہارا … اور ہونگے جو تمہارے سامنے لیٹ جاتے ہونگے … تم سے خوف کھاتے ہونگے … وہ اپنی حقیقت نہیں جانتے … میں جانتا ہوں … ابن آدم ہوں میں … جسے سجدہ کیا تھا تمام مخلوقات نے … الا ابلیس … تم اسی ابلیس کی اولاد ہو جسے قیامت تک کےلئے دھتکار دیا گیا … میں اسی آدم کی اولاد ہوں جسے اپنا خلیفہ بنایا رب تعالی نے …. تُم آج بھی اپنے تکبّر کے ساتھ اکیلے بھٹک رہے ہو … میں آج بھی اپنی عاجزی کے ساتھ اسی کے دربار میں کھڑا ہوں … تُم اس کے پجاری ہو جو راندہء درگاہ ہے … میں اس کا خلیفہ ہوں جو پورے جہان کا رب ہے … میں اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا … تٌم اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہو … اعوذ باللہ کے دو حرفوں سے ڈرتے ہو … اذان سے ڈرتے ہو … قران سے ڈرتے ہو … اور ان شاءاللہ قیامت تک ڈرتے رہو گے … !!”

میری صدا کا کوئ جواب نہ آیا- فبہت الّذی کفر- اس کے بعد میں نے بڑے آرام سے مسجد کا دروازہ کھولا اور اندر چلا آیا- اچانک بجلی آ گئ اور مسجد کے قمقمے روشن ہو گئے- ایک صف پہ مجھے تھوڑا خوُن پڑا نظر آیا- میں اسے اٹھا کے باہر لایا- وضو خانے میں پانی موجود تھا اور مینڈک غائب ہو چکے تھے- میں نے صف کو اچھی طرح دھویا اور باھر فرش پہ پھیلا دیا-

اس کے بعد میں نے کمرہء مسجد کے اندر چاروں کونوں میں اذان دی- پھر اطمینان سے چادر بچھائ اور آیت الکرسی پڑھ کر سو گیا- اس کے بعد کسی شیطان کی جراءت نہ ہوئ کہ وہ اس طرف جھانک کر بھی دیکھے-

اگلے روز نمازِ فجر میں شاہ جی بھی چلے آئے- اقامت سے پہلے ہماری نظریں چار ہوئیں- انہوں نے مسکرا کر سر ہلایا تو جواباً میں نے بھی ہلا دیا- نماز کے بعد باہر نکلتے ہوئے انہوں نے کمرہءمسجد کے ٹوُٹے ہوئے دروازے کو کچھ دیر غور سے دیکھا پھر خاموشی سے چلے گئے-

دو روز بعد عصر کی نماز کےلئے جماعت کھڑی ہو رہی تھی کہ شادے ملنگ نے بتایا کہ مسجد سے باھر وہی شخص کھڑا ہے جو اس روز آپ سے ملنے آیا تھا-
میں نے کہا ” کون ؟ سُلطان ؟ بلاؤ اسے ، باھر کیوں کھڑا ہے ؟”

وہ بھاگ کر سلطان کو بلا لایا- وہ بہت پریشان تھا- کہنے لگا ” امام صاحب ، ذرا دیر کو باہر آئیے گا … بہت ضروری بات کرنی ہے”
میں نے کہا “وضو کرو اور نماز پڑھو …”
وہ بولا “جی کپڑے پلیت ہیں”
میں نے کہا “اسی لئے بلائیں بھی چمٹتی ہیں تمہیں”

نماز کے بعد میں نے اسے بلایا پھر اس کا ہاتھ پکڑے مسجد کے باغیچے میں لے گیا اور کہا:
” معاف کرنا میں نے سخت بات کہ دی … نماز پڑھا کرو … جنّات کے خلاف ہمارے پاس یہی ایک قوّت ہے …اب جلدی بتاؤ مسئلہ کیا ہے …؟”
وہ بولا ” بہت بری خبر ہے جی .. رخسانہ پہ دوبارہ جن آ گیا ہے … اس نے آپ کی دم کی ہوئ گھڑی چولھے میں پھینک دی ہے … اس بار نئیں بچّے گی وہ … مر جائے گی … خدا کےلئے اسے بچا لیجئے … !!”

یہ سن کر مجھے شدید دھچکا لگا- میں نے کہا:
“کب سے ہوئ اس کی یہ حالت ؟ مجھے بتایا کیوں نہیں؟؟ ”

کہنے لگا ” کل شام سے جی … مجھے خود آج پتا چلا ہے .. اسے مزار پہ لیکر آ رہے ہیں جی … خدا کےلئے بچا لیجئے … !!”

میں نے کہا ” تم باہر جاؤ اور خبر رکھو … جب وہ لوگ آئیں تو فوراً مجھے اطلاع دینا … آج اس جِن کی شامت ضرور میرے ہاتھوں لکھّی ہے”

اس کے بعد میں تلاوت میں مشغول ہو گیا- کوئ پندرہ بیس منٹ بعد وہ ہانپتا ہوا آیا اور بولا ” وہ آ گئے جی جلدی نکلیں !!”

میں نے قران سمیٹ کر رحل میں رکھّا اور اس کے پیچھے پیچھے صحن مزار کی طرف بھاگا- وہاں ملنگوں فقیروں اور زائرین کا رش لگا تھا- کچھ ہی دیر میں سلطان واپس آتا دکھائ دیا:
“یہاں نئیں ہیں جی … اودھر گئے ہیں حجرے کی طرف …”

ہم واپس پلٹے اور حجرے کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے- دیوان میں عورتوں مردوں کا رش لگا تھا- ہم مردو زن سے ٹکراتے بھیڑ چیرتے ہوئے آگے بڑھے- رخسانہ فرش پہ لیٹی تھی- نظر پڑی تو دنگ رہ گیا- اس کی حالت واقعی بہت خراب تھی- ہاتھ پاؤں بری طرح مُڑ چکے تھے اور مونہہ سے کف بہہ رہا تھا-

میں اعوذ باللہ پڑھ کر اس کے قریب بیٹھنے ہی لگا تھا کہ ہٹو بچّو کا شور بلند ہوا اور فاضل شاہ بمعہ بخشُو آن دھمکے- پہلے مجھے ڈانٹا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ ، پھر ملنگوں فقیروں پہ رعب کیا کہ پیچھے ہٹ جاؤ ، جو آگے ہوا وہ راکھ کا ڈھیر بن جائے گا- میں خاموشی سے اٹھا اور پیچھے جا کھڑا ہوا-

شاہ جی رخسانہ کے پاس دوزانو ہو بیٹھے- پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر نجانے کس زبان کامنتر پڑھنے لگے-

جب منتر پڑھ پڑھ کے ہانپ چکے تو جِن کے ترلے واسطے شروع کر دئے:
” تجھے کالی کا واسطہ نکل جا … شمشانک کا واسطہ .. کملا کا واسطہ پدمنی کا واسطہ … لکشمی کا واسطہ … گنیش جی کا واسطہ … دیوتا ، سروپ، ہمادیو ارے تو جس کو بھی سویکار کرتا ہے نکل جا میرے بھائ …. !!”

میں سرکتا ہوا ان کے پِیچھے جا کھڑا ہوا اور کہا:

“ایک ہی خُدا ہے … سچا خدا … جس نے جن و انس کو تخلیق کیا .. اللہ پاک …. اس کا نام لو …. قران پڑھو شاہ جی قران … !!”

انہوں نے بِگڑ کر میری طرف دیکھا اور ہانپتے ہوئے بولے:

“تم چپ رہو ….. دور جا کے کھڑے ہو … ”

اسی دوران رخسانہ نے ایک زوردار انگڑائ لی اور بگڑی ہوئ صورت بنا کر میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“نکالو اسے … شیطان ہے یہ …. کافر ہے … اخ تھوُ …. !!”
اس کی آواز انتہائ بھدّی اور کرخت تھی-
میں آگے بڑھا اور کہا :
” ہاں ہاں میں کافر ہوں … انکار کرتا ہوں ان سب خداؤں کا جنہیں تُم پوجتے ہو …!!”

اس پر رخسانہ نے پھر شور کیا:
“نکال اس کافر کو ادھر سے …. جلدی کر …. ورنہ گلا دبا دونگا اس کا …. !! “”
یہ سنتے ہی شاہ جی اٹھ کھڑے ہوئے اور میرے سامنے ہاتھ جوڑ کے بولے:

“یہ کیا مولویوں کی طرح کافر کافر لگا رکھّی ہے ؟ کیوں اس کی جان کا دشمن ہوا ہے؟ قتل کر دے گا یہ اسے …مر جائے گی یہ لڑکی … دفع ہو جا ادھر سے … چلا جا …. !!”

میں چند قدم پیچھے ہٹا ، وہ رخسانہ کی طرف پلٹے اور کوئ نیا منتر پڑھنے لگے-

میں نے بھی بلند آواز سے اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھی اور پوری قراءت سے رب تعالی کا کلام پڑھنے لگا:

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ …… ”

اتنا پڑھنا تھا کہ رخسانہ چیخنے لگی پھر اچانک ساکت ہو گئ- شاہ جی یکایک اُٹھے اور کس کے ایک چپیڑ میرے مونہہ پہ ماری- میں پھرکی کی طرح گھوما اور لڑھکتا ہوا دور جا گرا-

وہ دھاڑے:
“لے جاؤ اس مردُود کو … جا کے بخشو کی کوٹھڑی میں بند کر دو … سارا عمل چوپٹ کر دیا … نحش نے ….!!”

ملنگ ، فقیر ، قلندر مجھ پہ ٹوٹ پڑے- جس کے ہاتھ جو آیا مجھے دے مارا- جب اچھی طرح دھو چکے تو ڈولی ڈنڈا کر کے بخشو کے کمرے میں لا پھینکا اور باھر سے تالہ لگا دیا-

نجانے کتنی دیر میں تنگ و تاریک کوٹھڑی کے ٹھنڈے فرش پہ بے سُدھ پڑا رہا- جسم کا رواں رواں درد سے بے حال تھا- ملنگوں فقیروں اور تلنگوں نے دِل کھول کے مُجھے پاؤں میں روندا تھا- حالانکہ کچھ روز پہلے یہی لوگ پِیر مان کر پَیر چُھو رہے تھے میرے-
عجب دورنگی ہے زمانے کی-

بالاخر کپڑے درست کرتا ، کراہتا ہوا اٹھ بیٹھا- نچلے ہونٹ سے معمولی سا خون رستا تھا، انگلی سے صاف کیا اور گردو پیش کا جائزہ لینے لگا- کوٹھڑی میں بخشُو کا مختصر سامان ، ایک چارپائ ، ایک ٹوٹی پھوٹی میز ، مٹّی کا گھڑا ، چند کپڑے اور ایک پرانا صندوق وغیرہ پڑا تھا- چھت پہ ایک زنگ خوردہ پنکھا لٹکا تھا-

برامدے کی طرف ایک پرانی سی کھڑکی کھلتی تھی- اس کے پَٹ وا کرنے کی کوشش کی مگر کھُل نہ سکی- پچھلی طرف دو روشن دان کھلے تھے مگر روشنی کا کوئ شائبہ تک نہ تھا- شاید سورج ڈوب چکا تھا- کسی نے مسجد میں اذان تک نہ دی تھی- میں نے گھڑے کے چلّو بھر پانی سے وضو کیا- وہیں کھڑے کھڑے اذان دی اور فرش پہ مغرب کی نیّت باندھ کے کھڑا ہو گیا-

نماز کے بعد میں چارپائ پہ لیٹ کر تسبیح رولنے لگا- کوئ گھنٹہ بھر بعد تالہ کھلنے کی آواز آئ- دروازے کے پٹ چرچرائے تو میں چارپائ پہ اٹھ کے بیٹھ گیا- آنے والے نے کمرے کا بلب روشن کیا تو معلوم ہوا کہ شاہ جی ہیں-

میرا دِل زور سے دھڑکا اور میں آنے والے طوفان کا مقابلہ کرنے کو چارپائ سے اٹھنے لگا- انہوں نے خلافِ توقّع انتہائ محبّت سے مسکرا کر مجھے دیکھا اور کہا:
” بیٹھو بیٹھو … زیادہ چوٹ تو نہیں آئ بیٹا …؟؟ ”

میں نے غصّے کا ایک تلخ گھونٹ بھرا اور خاموشی سے سامنے والی دیوار کو گھورنے لگا- وہ چارپائ پہ میرے بالکل قریب آن بیٹھے- کسی سستے بازاری عطّر کی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرانے لگی-

” معاف کر دینا بیٹا … ہم مجبوُر تھے … مجبوراً سختی کرنا پڑی … کیا کرتے … معاملہ ہی ایسا تھا … وہ ظالم اس بچّی کی جان لینے پہ تُلا تھا … تجھے دیکھ کے اور برھم ہو گیا … ہم نے جو بھی کیا … جیسا کیا … اس معصوم کی جان بچانے کے واسطے کیا … تم چاھو تو بدلہ لے سکتے ہو … ہمیں مار سکتے ہو … بھلے اُن سب کے سامنے مار لو … !! ”

میں نے کہا:
“میں کیوں ماروں گا آپ کو؟ آپ چاہو تو اور مار سکتے ہو… مجھے کوئ گلہ نہیں … لیکن میں غلط کو ہمیشہ غلط ہی کہوں گا… ایک کافر جِن کے سامنے آپ کا ترلے منتیں کرنا …. دیوی دیوتاؤں کے واسطے دینا … غلط ہے … زیب نہیں دیتا ایک مسلمان کو … کیا اللہ کا قران شیاطین کو بھگانے کےلئے کافی نہیں ہے؟”

وہ کُچھ دیر سر جھکائے سوچتے رہے ، پھر بولے:

” ٹھیک کہتے ہو … ہمیں بھی اچھے نہیں لگتے یہ منتر ونتر … لیکن کریں کیا؟ … کرنا پڑتا ہے … ایک ھندو جن … جو ہمارے رب … ہمارے قران کو مانتا ہی نہیں … اسے حیلے بہانوں سے ہی اتارنا پڑتا ہے … تُم کسی ہندو کو قران سنا کر مکان کا قبضہ چھڑوا سکتے ہو؟ مسلمان نہیں چھوڑتا کافر کیا چھوڑے گا … طاق پہ قران دھرا ہوتا ہے اور نیچے رشوت لے رہے ہوتے ہیں لوگ … قران پہ ہاتھ رکھ کے عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں دی جاتی ہیں … جب خود مسلمان ہی قدر نہیں کرتا تو کافر کیا کرے گا؟
خیر … اب یہ باتیں کرنے کا فائدہ؟ اب تو اس کی موت واقع ہو چُکی ..!!”

“کس کی …. ؟؟” میں نے چونک کر کہا-
“پرکاش کی … مر گیا وہ … کوئ بڑا ہی نچلی ذات کا ھندو جِن تھا … !!”

” اوہ … اچّھا …. کیا وہ … رب کا قران سن کر مرا …؟؟”

” نہیں بیٹا … یہ بہت ضدّی اور اڑیل مخلوق ہے … قران سن کر اور مشتعل ہوتی ہے… میں نے کچھ منتر وغیرہ پڑھے … اسے قابو کیا .. اور قتل کر دیا… خیر … جو ہوا سو ہوا … اب وہ لڑکی بالکل ٹھیک ہے … آزاد ہو چکی وہ اس عفریت سے … ہمیشہ کےلئے … میں نے اس کے ماں باپ سے کہ دیا کہ اس کا بیاہ کر دو … ایک لڑکے کو پسند کرتی ہے وہ … ہوش میں آتے ہی اسی کا نام لے رہی تھی ”

میں نے ایک ٹھنڈی سانس لیکر کہا:
” سلطان کا نام لیا ہو گا یقیناً … منگیتر ہے اس کا … !!”

“ارے نہیں نہیں … وہ لفنگا کہاں سے منگیتر ہو گیا اس کا .. بھولے مت بنو امام صاحب … وہ تمہارا نام لے رہی تھی ….!!”

” میرا نام ؟ وہ کیوں ؟” میں نے چونک کر پوچھا-

“یہ تو ھم نہیں جانتے ” وہ معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولے- “شاید دل کا دل سے کوئ رشتہ ہو … !!”

میں نے بے یقینی سے شاہ جی کو دیکھا اور کہا:
” میں آپ کی باتوں میں نہیں آؤں گا شاہ جی … نہ ہی مجھے اس لڑکی سے کچھ لگاؤ ہے … آپ کوئ اور بات کیجئے …!!”
وہ خاموش ہو گئے-

اس دوران بخشو اسٹیل کے تاش پہ دودھ کا گلاس سجائے دروازے پہ آن کھڑا ہوا-

شاہ جی نے سر کی جنبش سے اسے آنے کی اجازت دی- وہ گلاس میز پہ دھر کے جانے لگا تو بولے:
“بخشو … یہ بتاؤ کہ وہ لڑکی … جس کا ہم نے جِن اتارا ہے … کیا کہ رہی تھی؟ ….. ہوش میں آنے کے بعد کس کا نام لے رہی تھی؟”

بخشو نے فدویانہ سی صورت بنا کر کہا:
“آپ دونوں اللہ والے ہو جی … میری کیا مجال …!!”

“ہم حکم دے رہے ہیں تمہیں … بتاؤ … کس کا نام لے رہی تھی وہ لڑکی ؟” شاہ جی نے ڈانٹ کر کہا-

بخشو نے ایک نظر مجھ پہ ڈالی ، شاہ جی کو دیکھا اور زیرلب مسکرا کے بولا:
” سائیں جی کا نام لے رہی تھیں جی … بار بار …. !!”

دَھنَک دِھن دِھن … باہر طبلے پہ کسی قوال نے تاپ لگائ- میں نے رقص پہ آمادہ دل پہ قابو پاتے ہوئے کہا:

” میرا اس سے کوئ رشتہ نہیں شاہ جی …. وہ سلطان کی امانت ہے … وہی سچّا پیار کرتا ہے اس سے … ”

“سُلطان ؟ … وہ بدمعاش؟ جس نے مالٹوں کا باغ اونے پونے بیچ کر جادو کرایا اس پر؟ .. راجو بنگالی سے ؟ اسی سلطان کو تو بھگت رہی ہے وہ … سخت نفرت کرتی ہے وہ سلطان سے … اس بات کی گواہی پورا مزار دے سکتا ہے کہ اس لڑکی نے ہوش میں آتے ہی صرف ایک ہی نام لیا … سائیں صلّو … اور صلّو میرے خیال میں تیرا ہی نام ہے …!! ”

شاہ جی کی آواز اونچی ہوتی گئ میں کچھ دیر گم سم ان کی صورت دیکھتا رہا پھر کہا:

“خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا ….!!”

وہ مسکرائے اور بڑی شفقت سے میرا شانہ تھپتھپاتے ہوئے بولے:

” اعتبار تو کرنا ہی پڑے گا … دیکھ بیٹا … نیّتوں کا حال رب سچّا ہی جانتا ہے … لیکن ہم نے آج تک تیرے بارے میں کبھی بدگمانی نہیں کی … اس روز مسجد بھی صرف تجھے سمجھانے ہی آئے تھے … خدشہ تھا کہ تیرے دم درود کی وجہ سے وہ کافر جِن طیش میں آ کر اس لڑکی کو قتل نہ کر دے … ہمیں تیری نیّت پہ ذرا بھر شک نہ تھا … ہم جانتے تھے کہ تو سعادت مند ہے … متّقی اور پرہیزگار ہے … شاید اسی کا صلہ دیا تجھے رب سائیں نے … اس لڑکی کے معصوم دل میں تیری محبّت جگا کر … اب اس محبّت کی قدر کر … لاج رکھ اس کی … نیک کام میں دیر نہ کر … کیا پوری حیاتی مزار کی اس اجاڑ مسجد میں گزار دے گا ؟ … جو آنہ دوّانی چندہ آتا ہے وہ سجّاد شاہ کھا جاتا ہے … تجھے کیا ملتا ہے؟ مکھانے ؟ … دیکھ قسمت بار بار دروازے پہ دستک نئیں دیتی … چوبیس ایکڑ زمین کی مالکن ہے … خوبصورت ہے … جوان ہے … ماپے راضی ہیں اس کے … انہیں اپنی بیٹی کی زندگی چاھئے تھی مل گئ … ایک نیک سیرت جوائ چاھئے تیری صورت مِل جائے گا … میں نے مشورہ دیا ہے کہ جِن سے چھٹکارے کی ایک ہی صورت ہے … شادی کرا دو اس کی … سائیں سے … شریف ہے … نیک ہے … سعادت مند ہے … اللہ اللہ کرتا ہے …پوری عمر خدمت کرے گا تمہاری … وہ مان گئے ہیں …. شادی کا تمام خرچ میں اٹھاؤں گا … کپڑا لتھّا زیور بیور جو چاھئے دونگا … چل اُٹھ … دیوان میں بیٹھے ہیں وہ لوگ … اپنی ہونے والی سہاگن کو دیکھ لے ….!! ”

مجھ پر شادی مرگ کی کیفیّت طاری ہونے لگی- مسکراہٹ پھسل پھسل کر ہونٹوں سے عیاں ہونے لگی-

وہ اٹھے اور میرا ہاتھ پکڑے برامدے والی کھڑکی کی طرف لے آئے- میں نے پورا زور لگا کر سال خوردہ کھڑکی کھولنے کی کوشش کی- مقدر کی کھڑکی تھی، آسانی سے کیسے کھلتی؟ بالاخر دھول مٹّی اڑی اور ایک پٹ وا ہو ہی گیا-

سامنے ہی دیوان میں وہ پری پیکر اپنے ماپوں کے ساتھ بیٹھی ہنس کھیل رہی تھی- یوں لگ رہا تھا گویا جِن نے اسے چھوا تک نہیں- ہمیں کھڑکی سے جھانکتا دیکھ کر وہ تھوڑا سا شرمائ ، پھر حیاء سے چادر سمیٹی اور سرجھکا لیا- اس کی والدہ ہمیں دیکھ کر تشکّر سے مسکرائ اور دوپٹّہ درست کرنے لگی-

مزار پہ قوالی شروع ہو چکی تھی … اور میں پاؤں میں گھنگرو باندھنے کو بے تاب تھا-

خُسرو نجام کے
بل بل جائیے …
بل بل جائیے ….
بل بل جائیے …..
موہے سہاگن کی … نی رے … موسے نیناں ملائ کے … !!
چھاپ تلک سب چھین لی رے
موسے نیناں ملائ کے …

اس روز میں رات گئے تک شاہ جی کے حجرے میں بیٹھا رہا- اب مجھے اس حجرے سے کوئ خوف کوئ وہشت نہ تھی-

شاہ جی نے کہا:

” دیکھو بیٹا … رخسانہ کے ساتھ اب تو نے زندگی بتانی ہے … اس کی عزّت اور جائیداد کا خیال رکھنا ہے … ہاشم اور سلطان دونوں اس کے دشمن ہیں … اس کی جائیداد ہتھیانا چاھتے ہیں …. وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں … کسی بھی وقت کوئ نیا جِن مسلّط ہو سکتا ہے اس پر … اس لئے کہتا ہوں کہ نوری علم سیکھ کر جنات پہ حکمرانی کرو … یا پھر پوری حیاتی عاملوں کے پیچھے بھاگتے گزار دو … !!”

آج پہلی بار شاہ جی کی باتیں میرے دِل میں اتر رہی تھیں- انہوں نے کہا:

“جنّات پر کُلّی طور پہ قابو پانے اور اپنا مطیع بنانے کےلئے نوری علم سیکھنا لازم ہے …. اگر صرف قران سے جنّات مسخر ہو سکتے تو سو دو سو میں مہینہ بھر تراویح پڑھانے والے انھّے حافظوں پہ تو جِن عاشق ہوتے .. جنّات کے لشکر لئے پھرتے وہ …!!”

میں نے کہا:
“شاید آپ ٹھیک کہ رہے ہیں ..”

وہ چہرے پہ گہرا دُکھ سجا کر بولے:
” تیرا وہ دوست جانی … کہتا تھا نوری علم سیکھ کے مزار پہ واپس آؤں گا …. استاد کا دست و بازو بنوں گا …. نئیں آیا …. ویکھ لے …دھوکہ دے گیا … اب ست گھرہ میں اپنا آستانہ کھول کے بیٹھا ہے … بتا مجھے … اب کس کو سکھاؤں؟ … کس پہ اعتبار کروں؟ .. تو سیکھنے کو تیّار نئیں … اور کوئ نیک سیرت ملتا نہیں …. بڑی ذمّہ داری والا کام ہے بیٹا … !! ”

میں نے کہا ” میں تیّار ہوں شاہ جی … میں نوری علم سیکھوں گا … ان شاءاللہ ضرور سیکھوں گا … آپکا دست و بازو بنوں گا … آپ مجھ پہ اعتبار کر سکتے ہیں … بس یہ بتائیے کہ چلنا کب ہے ….؟؟”

کالے کھوُہ کا سفر نوری عِلم کی پہلی سیڑھی تھی- اپنی روانگی کو خفیہ رکھّنا ازحد ضروری تھا- چنانچہ شاہ جی شام کو ہی نکل کھڑے ہوئے اور میں عشاء کے بعد سامان باندھے چوروں کی طرح مزار سے باہر آیا-

پُل باگڑ پر وہ یکّہ لئے میرے منتظر کھڑے تھے- یکّہ بان ایک مقامی شخص تھا جو شاہ جی کا پرانا مرید چلا آتا تھا- ہم بیٹھ چکے تو اس نے گھوڑے پہ چھانٹا برسایا- یکّہ پکّی سڑک پہ بگٹٹ بھاگنے لگا- پتلی سی یہ سڑک نہر کنارے چلتی ہوئ راوی کے پتّن تک جاتی تھی-

ہمیں دریا پار کر کے جنگل کے بیچ ایک اجاڑ کنویں پہ جانا تھا- عامل لوگ اسے کالا کھوُہ کہتے تھے- شاہ جی کے بقول یہاں ہر چاند کی اِکیس تاریخ کو جنّات کا ایک خصوصی اجلاس ہوتا تھا جس میں بیروزگار جِنّات نئے عاملین کے سپرد کئے جاتے تھے- ہندو مسلم دونوں مذاھب کے جنّات اس اجلاس میں شریک ہوتے تھے-

عاملوں کی روایت کے تحت ہم میزبانوں کےلئے تحفے تحائف بھی لئے جا رہے تھے- ان میں مسلم جنّات کےلئے قران پاک اور حلال گوشت نیز ہندو جنّات کےلئے گوگل ، ماش کی دال ، انڈے ، سپاری، ناریل، زعفران، دھتورا، مور کے پر، آک کا پودا، کوّے کے سیدھے بازو کا پر، گیدڑ کی دم اور الو کی بیٹ خاص طور پر پیک کی گئ تھی- ان تمام چیزوں کو جمع کرنے میں ہمیں کئ روز لگے تھے-

اس روز سوموار تھا- اگلے روز یعنی منگل کے دن کسی بھی وقت یہ اجلاس شروع ہو سکتا تھا-
آل پاکستان ہندو مسلم جنّات کے اس اہم اجلاس میں بطور زیرِ تربیّت نوری عامل میرے انتخاب کا فیصلہ ہونا تھا-

یہ سفر میرے لئے بڑا اہم تھا- شاہ جی نے مجھے اس بات پہ قائل کر لیا تھا کہ مجھے جنّات کے ان رازوں سے واقف ہونا ہے جو عام لوگوں سے مخفی ہیں- مجھے عامل بن کر اس مخلوق پہ حکومت کرنی ہے-
یہ میری چالیس روزہ ریاضتوں کی پہلی رات تھی ، اور میں پرامید تھا کہ اس کے بعد ایک کامیاب اور پرلطف زندگی میری منتظر ہو گی-

کوئ گھنٹہ بھر کی مسافت کے بعد کوچوان نے سڑک چھوڑی اور ایک کچّے رستے کی طرف مڑ گیا- یہ رستہ کافی ناہموار تھا- نصف گھنٹہ مزید ہچکولے کھانے کے ہم ایک گھنّے جُھنڈ کے پاس جا رکے- جھاڑیوں کے پیچھے دریا کا پانی جھلملا رہا تھا-

کوچوان چھلانگ مار کے اترا اور گھوڑے کی لگام تھام لی- اس کے بعد ہم اترے- میں نے سامان کا بورا وغیرہ اتارا اور کندھے پہ رکھ لیا- شاہ جی نے یکّے والے کو بخشیش دیکر رخصت کیا- وہ نگاہوں سے اوجھل ہوا تو ہم خاردار جھاڑیوں سے ہوتے دریا کی سمت بڑھنے لگے-

جھُنڈ کے اس پار ریت کے ٹیلے تھے جو دریا کے ساتھ ساتھ چلتے تھے- ہم ایک ٹیلے پہ چڑھنے لگے- ساحل کی ٹھنڈی ریت ہماری جوتیوں میں بری طرح گھُسنے لگی- کچھ ہی دیر میں ہم ٹیلے کے عین اوپر پہنچ چکے تھے- دریا اب بالکل سامنے تھا- تیز ہوا اور دریائ لہروں کے شور کے سوا یہاں کوئ آواز نہ تھی- چاند ہماری بائیں جانب غروب ہونے جا رہا تھا اور اس کی چاندنی دریا کی لہروں پہ سنہرے نقوش بنا رہی تھی-

شاہ جی کچھ دیر ہاتھ باندھے خاموش کھڑے رہے پھر کہا:

” یہاں سے انسانوں کی عملداری ختم ہوئ اور جنّات کی شروع- اب جو کچھ بھی ہو گا تمہارے وہم و ادراک سے اوپر ہو گا- بس دیکھتے جاؤ- اور سنتے جاؤ- کوئ سوال نہیں – کوئ کلام نہیں-جو سنو اس پہ یقین رکھو جو دیکھو اسے برداشت کرو …. مجھ سے پانچ قدم پیچھے رہو … اور ہاتھ باندھے کھڑے رہو … !!”

اس کے بعد وہ عجیب سی زبان میں کوئ منتر پڑھنے لگے-

اس حال میں کئ ساعتیں گزر گئیں- شاہ جی برابر منتر جاپ رہے تھے- تیز ہوا ان کی داڑھی اور زلفوں کو ادھر ادھر اُڑا رہی تھیں-
میں پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا تھا- کبھی ایک ٹانگ پہ ، کبھی دوسری پہ ، کبھی جماہی لیتا تو کبھی ذہن بٹانے کو کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگتا-
نصف گھنٹہ کی مشقّت کے بعد بالاخر منتر تمام ہوا- شاہ جی مجھے وہیں رکے رہنے کا اشارہ کر کے پتن کی طرف بڑھ گئے-

اسی دوران سامنے سے ایک کشتی آتی دکھائ دی- میں برابر اسے دیکھنے لگا- وہ لحظہ بہ لحظہ قریب ہوتی جا رہی تھی- کوئ ملاح چپوؤں کی مدد سے اسے بہت تیز چلاتا آ رہا تھا-

کشتی پتّن پہ آئ تو مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا- اسے ایک خوش پوش عورت چلا رہی تھی- اس نے گہرا نیلا لباس زیب تن کر رکھا تھا- وہ زیورات سے لدی پھندی تھی جو چاندنی میں دور سے جگمگا رہے تھے-

شاہ جی پانی میں اترے اور گھٹنوں گھٹنوں چلتے کشتی کے قریب ہوئے- اس ملاحن کا ہاتھ پکڑا اور کشتی سے اترنے میں مدد کی- بالاخر وہ پانی سے باہر آئ اور دریا کے کنارے پہ آکر اپنی ساڑھی نچوڑنے لگی-

اتنی دور سے اس عورت کے خدوخال پوری طرح واضح تو نہ تھے لیکن ٹیلے پہ کھڑا میں یہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ یقیناً بہت خوبصورت ہے- وہ دراز قد تھی- اس کا لباس بھڑکیلا تھا اور نصف سے زیادہ پیٹ ننگا- کٹی ہوئ آستینوں سے اس کی گوری گوری باہیں جھلک رہی تھیں- سنہری زیور نے اس کے حسن کو دوبالا کر رکھا تھا-

دریا کے کنارے وہ شاہ جی سے خوب گلے ملی- میں کسی فلم کی طرح بڑی محویّت سے یہ نظارہ دیکھنے لگا- میرے دِل میں شدید حسرت پیدا ہونے لگی کہ قریب جا کر اس عورت کو دیکھوں-

کچھ دیر وہ دونوں آپس میں بات چیت کرتے رہے- دور ہونے کی وجہ سے میں ان کی گفتگو سننے سے قاصر تھا-
پھر شاہ جی نے میری طرف اشارہ کر کے اس عورت سے کوئ بات کی- اس نے بھی میری طرف دیکھا- پھر فضاء میں اس کے نقرئ قہقہے کی آواز گوُنجی- اس کے بعد شاہ جی نے اس حسینہ کو بازوؤں میں اٹھا لیا اور دریا میں اتر گئے- پھر بڑی محبّت سے اسے کشتی پہ سوار کرایا-
اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور آوازلگائ:
” آ جاؤ سائیں …..!!”

میں بھاگ کر ان کی سمّت گیا ، پھر شلوار خوب چڑھا کر ٹھنڈے پانی میں جا اترا اور کشتی کے قریب ہوا- یہ ایک چھوٹی سی کشتی تھی اور اس میں بیٹھنے کو تین چوڑے تختے لگے ہوئے تھے- شاہ جی نے مجھے پیچھے والے تختے پر بٹھایا اور خود اس عورت کے سامنے والے تختے پہ بیٹھ گئے- ملاحن نے چپّو سنبھالے اور کشتی چلا دی-

میں کچھ دیر دریائ لہروں کے حُسن سے خود کو بہلاتا رہا- میرا بچپن اسی دریا میں تیرتے ہوئے گزرا تھا- میں نے ہاتھ بڑھا کر چلّو بھر پانی پیا جو خوب میٹھا اور ٹھنڈا تھا- پھر اچانک میری نظر اس عورت پر پڑی اور پڑی ہی رہ گئی- میرا دِل اچھل کر حلق میں آ گیا-

وہ واقعی کوئ اور ہی مخلوق تھی- اس کی آنکھیں کوئلے کی طرح دھک رہی تھیں – آنکھوں کے گرد سیاہ رنگ کے گہرے حلقے تھے اور چہرے پہ برص کے لاتعداد سفید داغ- گویا گندھا ہوا آٹا مَلا ہو- اس کے سینے اور بازوؤں پر بھی چکنا آٹا ہی مَلا ہوا تھا- وہ ایک کریہہ صورت چڑیل تھی- اس کی حرکات کسی مُردے کی طرح تھیں اور وہ ایک طرف سر جھکائے کسی مشین کی طرح چپّو چلا رہی تھی-

مجھے پہ خوفِ خدا کا غلبہ ہوا- اور زیرِلب سورة الناس پڑھنے لگا- اچانک کشتی ڈگمگائ اور وہ عورت زور سے چیخی:
” چھوکرے کُوں ڈَک ….. کلام پڑھدا پئے ……. !!”
شاہ جی نے فوراً مُڑ کر مجھے گھورا اور تڑخ کر کہا:
“بند کر یہ کلام .. کشتی الٹ رہی ہے … کہا جو ہے خاموش ہو کے بیٹھو .. !!”
میں ڈانٹ سن کر فوراً چپ ہو گیا-

تقریباً دس منٹ بعد ہم بخیریت کنارے پہ جا لگے- شاہ جی نے مجھے کشتی سے اترنے کا اشارہ کیا- میں تھیلہ اٹھائے گھٹنوں گہرے پانی میں اترا اور شلوار بھگوتا ہوا قریب ہی ریتیلے کنارے پہ آن کھڑا ہوا-

شاہ جی نے اس چڑیل سے کہا:
“مُڑ کداں مِلسو …. ؟؟”
اس نے اپنی سانپ جیسے زلفوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
“تُساں وی تاں آؤ ناں کدی شجاع باد … !!”
وہ بولے “ٹائم کتّھاں ملدائے … !!”
خود کو مصروف ظاہر کرنے کےلئے میں دریا کنارے بورے کا مونہہ کھول کے بیٹھ گیا- مقصد ان دونوں بزرگوں کی بات چیت سننا تھا جو تیز ہوا کی وجہ سے کچھ واضح تو نہ تھی مگر میری دلچسپی کا ساماں ضرور کئے ہوئے تھی-

شاہ جی اسے اپنی مصروفیات کی روئیداد سنا رہے تھے اور وہ چڑیل کسی نخریلی محبوبہ کی طرح نئے نئے تقاضے کر رہی تھی- پِھر کسی لکشمن جِن کا ذکر ہوا جسے وفاق میں کوئ بڑا عہدہ چاہئے تھا- اس کےلئے شاہ جی کی سفارش درکار تھی-کسی لاجونتی کی بات ہوئ جو چناب سے اپنی ٹرانسفر راوی کروانا چاھتی تھی- جنّات کی بیروزگاری اور چڑیلوں میں طلاق کے بڑھتے ہوئے رجعان پر بھی بات ہوئ-

کچھ دیر کی فضول بات چیت کے بعد بالاخر شاہ جی نے اس بلاء کو جپھّا لگا لیا- یقیناً وہ ایک بلند حوصلہ عامل تھے جو بلاؤں کو جپھّا لگا سکتے تھے- خدا خدا کر کے وہ بلاء سر سے ٹلی اور کشتی چلاتی ہوئ نظروں سے اوجھل ہو گئ-

میں کنارے پہ منتظر کھڑا تھا- شاہ جی کپڑے نچوڑتے ہوئے میرے پاس آئے اور مجھے پیچھے پیچھے آنے کو کہا-

“دیکھو صلّو …. سمجھایا بھی ہے … یہاں کے قوانین کچھ اور ہیں … جب کلام پڑھنے کا کہا جائے تب پڑھو … خود سے کچھ نہ پڑھو … ورنہ عمل الٹ ہو جاتا ہے … ذرا سی غلطی کا نتیجہ یہاں موت ہے … !!!”

شاہ جی مجھے نصیحتیں کرتے رہے اور میں خاموشی سے ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا-

ہم ایک طویل پگڈنڈی کا سفر کر کے جنگل میں داخل ہو گئے- بیچ میں کہیں کہیں کھیت بھی تھے- مختلف پگڈنڈیوں سے ہوتے ہوئے بالاخر ہم ایک جھنڈ کے پاس جا رکے-
یہاں پیپل کے اونچے درختوں کے بیچ ایک پرانا کھوہ تھا- اس کے ساتھ سیمنٹ کا ایک پرانا حوض بھی بنا ہوا تھا- شاید کسی زمانے میں ٹیوب ویل وغیرہ کےلئے استعمال ہوتا ہو- ایک طرف پرانی پختہ اینٹوں کا بڑا سا ڈھیر بھی لگا ہوا تھا-

شاہ جی حوض پر بیٹھ گئے اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا- کچھ دیر ہمارے بیچ خاموشی کی چادر تنی رہی ، پھر وہ بولے:

“دیکھو صلاح الدین .. آج سے تم ایک نئ زندگی شروع کرنے والے ہو … تمہارا واسطہ اس قوم سے پڑنے والا جو انسان سے ہزاروں سال پہلے اس جہان میں اتاری گئ تھی … اندر سے یہ ہمارے کھلے دشمن ہیں … ہم سے بغض رکھتے ہیں … ہمارے اور ان کے بیچ پاک امریکہ جیسے تعلقات ہیں …. دونوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں … ظاہر ہے جو زیادہ طاقتور ہو گا … وہی زیادہ فوائد بھی سمیٹے گا … کمزور بس اپنی غرض پوری کرتا ہے …. یہ آگ سے بنے ہیں ، ہم مٹّی سے … یہ اڑ سکتے ہیں …. صورت بدل سکتے ہیں .. خود کو پوشیدہ رکھ سکتے ہیں .. آسمان سے خبریں لا سکتے ہیں …. انسانی دل و دماغ پہ حاوی ہو سکتے ہیں … ہم یہ سب نہیں کر سکتے… سمجھا کہ نہیں؟ ہم حیلے کے ذریعے ان سے کام لیتے ہیں … اور بدلے میں ان کے کچھ کام بھی کر دیتے ہیں … ان سے اچھّے تعلقات کےلئے بنیادی شرط ڈپلومیسی ہے- وہی ڈپلومیسی جو ہمارے حکمران طاقتور قوموں کے ساتھ اختیار کرتے ہیں سمجھا کہ نہیں؟ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں … انہیں خوش رکھنے کو اپنے عوام کا کچومر نکال دیتے ہیں … ان کی ثقافت کی حوصلہ افزائ کرتے ہیں … ان کی خاطر پرائ جنگ میں کود جاتے ہیں سمجھا کہ نہیں؟ جو حاکم ڈپلومیسی نہیں جانتا وہ ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے … یہی بات عامل پر بھی صادق آتی ہے … جو عامل ڈپلومیسی نہیں جانتا وہ جنّات کیا ، ایک شتونگڑا قابو نئیں کر سکتا سمجھا کہ نہیں؟ یہ ڈپلومیسی کیا ہے آؤ تمہیں سکھلاتا ہوں ..!!”

یہ کہ کر وہ اٹھے اور مجھے ساتھ لئے کنویں کی منڈیر پہ قبلہ رو جا کھڑے ہوئے- پھر صدا لگائ … ” بھوانی کی جے ہو … کالی کی جے ہو … لکشمی کی جے ہو !!”

اس کے ساتھ ہی آس پاس کے درختوں سے الوّوں کا شور بلند ہوا- جنگل سے گیدڑوں نے کوُکیں ماریں ، ہرطرف اک شور سا برپا ہو گیا- شاہ جی نے قمیض کا اگلا سرا اوپر اٹھا کر دانتوں میں دبایا ، شلوار کا ازاربند کھولا اور کنویں میں پیشاب کرنے لگے-

میں کراہت سے پیچھا ہٹا اور کہا ” کیا کرتے ہیں … اس طرف قبلہ شریف ہے … !!”
انہوں نے ہنستے ہوئے مجھے دیکھا اور دبی دبی آواز میں کہا:
“ڈپلومیسی …!!”
میں دل ہی دل میں استغفار پڑھتا ہوا واپس ہوا اور حوض پہ آ کر بیٹھ گیا-
کچھ ہی دیر میں وہ ازار بند باندھتے ہوئے پلٹے اور کہا:
“صلّو … وہ قران نکالنا تھیلے سے ….. جلدی …!!”

میں نے کہا ” آپ پہلے وضو تو کر لیں … ”
وہ تلخی سے بولے ” چھوڑ وضو شُضو کو … قران نکال قران … ”
میں نے تھیلے سے قران نکالا اور دونوں ہاتھوں سے سینے پہ چپکا کے کہا:
“میں پڑھتا ہوں جی … وضو سے ہوں میں …. !!”
وہ بولے ” بے وقوف … پڑھنا شڑنا نئیں ہے … پھاڑ کے کنویں میں …….. دو مُجھے .. !!”

” کبھی نہیں …!!” میں نے دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ” خدا کا خوف کرو شاہ جی … یہ کون سا نوری علم ہے؟ یہ تو شیطانی عمل ہے …؟؟ ”

” دیکھ ضِد نہ کر … ہم کچھ غلط نہیں کر رہے … یہاں ہر شخص شیطانی عمل ہی تو کر رہا ہے … کوئ رشوت دے کے … کوئ زنا کر کے … کوئ دوسروں کا حق مار کے … تھانوں ، کچہریوں ، دفتروں ، عدالتوں میں کیا ہو رہا ہے؟ شیطانی عمل …!!! لوگ اپنی غرض کےلئے کرتے ہیں … ہم خدمتِ خلق کےلئے کریں گے … توُ ڈر مت … کچھ نہیں ہونے والا … یہ سب نہ کریں گے … تو بہت کچھ ہو جائے گا … چل دیوی انتظار کر رہی ہے … شگن بڑا اچھا ہے … خراب نہ کر … دے مُجھے … اپنے ہاتھوں سے .. ایک ایک ورق پھاڑ کے … جلدی کر … ورنہ نقصان ہو جائیگا … گناہ نہیں ، ڈپلومیسی ہے یہ …. !! ”

میں دو قدم مزید پیچھے ہٹّا اور پورے عزم سے کہا:
” بھاڑ میں گئ تمہاری ڈپلومیسی کُچھ بھی ہو جائے … میں تمہیں قران کی ناموس خراب نہیں کرنے دوں گا … جا رہا ہوں میں یہاں سے … !!”

یہ کہ کر میں واپس مُڑا تو شاہ جی نے پیچھے سے میرا گریبان پکڑ لیا-
” کہاں جاتے ہو ؟ واپسی کا کوئ رستہ نہیں ہے … دو مُجھے یہ کتاب … !!”

میں نے اُس کے گھٹنے پہ زور سے پاؤں مارا ، وہ درد سے کلبلایا اور ایک زور کا گھونسا میرے سینے پہ رسید کیا- قران مجھ سے چھوُٹ کر دور جا گرا- میں نے گھٹنوں کے بل گھسٹ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی تو اس نے اپنا پاؤں میرے ہاتھ پہ رکھ دیا- میں درد سے تلملا اُٹھا اور دوسرا ہاتھ پوری قوّت سے اس کی پنڈلی پہ مارا- اس کا توازن بگڑا تو میں نے اٹھ کر قران اٹھانے کی کوشش کی-
اس نے زور کی لات ماری جو میری پسلی میں لگی اور میں لڑکھڑا کر اینٹوں کے ڈھیر پہ جا پڑا-

اگلے ہی لمحے وہ شیطان میرے سر پہ کھڑا تھا- اس کے ہاتھ میں بالشت بھر لمبا خنجر جگمگا رہا تھا- میں نے اٹھنے کی کوشش کی اور کراہتے ہوئے کہا :
“خدا کےلئے …. جانے دو مجھے … نہیں سیکھنا مجھے یہ عمل”

وہ خنجر لہرا کر بولا:

” مت سیکھ … ہم کسی اور کو سکھا دیں گے … اسی طرح ضِد کی تھی جانی نے بھی … کاٹ کے پھینک دیا تھا سالے کو اسی کالے کھوہ میں … بات نہیں مانو گے تو ٹوٹے کر کے تمہیں بھی بھوانی کی بھینٹ چڑھا دیں گے … ایمان کی بھینٹ نہ سہی جان کی بھینٹ تو چڑھا سکتے ہیں … دیکھ رہے ہو یہ خنجر …… !!!”

پیپل کے اونچے پیڑ سے اُلوؤں کا شور بلند ہوا تو وہ شیطان میرے سر سے ٹلا- میں نے بمشکل سر اٹھایا- وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر اندھیرے میں زمین پر جھُکا ہوا کچھ ٹٹول رہا تھا- شاید قران پاک تلاش کر رہا تھا-

میں نے پوری ہمّت جمع کر کے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا- کمر کے نچلے حصّے میں کسی اینٹ کی نوک بُری طرح چُبھی تھی- اس چوٹ نے نچلے دھڑ کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا-

اس نے قرانِ پاک اٹھایا اور حوض کی طرف بھاگا- میں سر اٹھائے اس خبیث کی حرکات دیکھتا رہا- اندھیرے میں کچھ واضح نہ تھا- پھر کاغذ پھاڑے جانے کی آواز سنائ دی- شاید وہ مردود قران پاک کے صفحات پھاڑ رہا تھا-

میں چلایا ” مت کرو ایسے … مت کرو …” لیکن وہ میری صدا سے غافل اپنے سفلی عمل میں مشغوُل رہا-

اس کے بعد وہ کنویں کی منڈیر پہ جا کھڑا ہوا- تاریکی میں صرف اس کا ہیولہ نظر آ رہا تھا- وہ بلند آواز سے منتر پڑھنے لگا- ساتھ ساتھ وہ ہاتھوں میں پکڑے متبرک صفحات پھاڑ پھاڑ کر کنویں میں پھینکتا جا رہا تھا-

میں نے ایک بار پھر اٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا- بمشکل چلا کے کہا ” خُدا کا خوف کرو … مت کرو ایسے … یہ اللہ کا کلام ہے … کچھ تو حیاء کرو … ” مگر اس نے کوئ توّجہ نہ کی اور برابر اپنے کام میں مشغول رہا … !!

مجھے اپنی موت کا یقین ہو چلا تھا- میں اس جاھل کے کسی کام کا نہ تھا- سوائے اس کے کہ دیوی کو خوش کرنے کےلئے میری بھینٹ چڑھا دی جاتی- مجھ سے پہلے وہ جانی کو اسی طرح شکار کر چکا تھا- مجھ پہ بے بسی کی کیفیّت طاری ہوئ اور میں حسرت سے تاروں بھرے آسمان کو دیکھنے لگا- مایوسی حد سے بڑھی تو رب سائیں کو آخری چٹھّی لکھنے بیٹھ گیا:

“واہ سائیں واہ … پھر مروا دیا ناں … مجھے اپنے پاس ہی بلا لے … گلے مل کے رو تو لوں تیرے … کچھ دل کی باتیں ہی کر ہوں … تجھ سے پوچھ تو لوں کہ باطل کو تو نے اتنا طاقتور کیوں بنایا اور حق کو اتنا کمزور کیوں ؟ … باطل اتنا چالاک کیوں ہے اور حق اتنا سادہ کیوں؟ … باطل کے ہاتھ لوہے جیسے سخت اور حق کا چہرہ شیشے جیسا نازک؟ ساری طاقت اپنے دشمن کو دے دی … اور جو تیرے سجن ہیں … یار ہیں … بیلی ہیں … شانوں پہ تیرا حکم ، تیری رضاء کا بوجھ اٹھائے ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں؟ … باطل جب چاھتا ہے ان پہ چڑھ دوڑتا ہے … انہیں چھید کے رکھ دیتا ہے اور وہ بے بس … بس تیرے نام پہ شہید ہو جاتے ہیں؟ یہی خلافت ہے؟ بس شہید ہونے کےلئے بنایا تھا مجھے اپنا خلیفہ؟ …. یہ کیسی خلافت ہے کہ شیطان کے ہاتھوں نِت پٹتا رہوں؟ … ٹکّے ٹکّے کے شتونگڑے مجھے گھسیٹتے پھریں؟ کیا صرف دھکّے کھانے کےلئے ہی بنایا تھا مجھے اپنا خلیفہ؟ آئے روز رسوا ہوتا ہوں، باطل کب رسواء ہو گا؟ اس کے چودہ طبق کب روشن ہوں گے؟ میرے تو کئ بار ہو چکے … کیا حق کو بھی سربلندی عطاء ہو گی یا اس کا سر ہمیشہ نیزے پر ہی بلند ہو گا؟ اگر میری قربانی ہی تیری منشاء ہے تو اپنے نام پہ قربان کر … دیوی کے چرنوں میں کیوں ڈالتا ہے؟ … کفر مجھ سے ہونا نہیں .. اور حق پہ اس ظالم نے جینے نہیں دینا … آہ … فرقہ پرستوں سے بچ کے بھاگا تھا مالک … توھم پرستوں کے ہاتھ چڑھ گیا ہوں … بچا میرے مولا …. بچا ..!!!”

میں کافی دیر رب سائیں سے شکوے شکایات کرتا رہا- بالاخر دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگا- میرا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا- کمر کا درد بھی ہلکا ہونے لگا اور جسم کی طاقت بھی بحال ہونے لگی- میں نے ٹانگوں کو ہلایا جلایا- ہاتھ ، گردن اور بازوؤں کو اچھی طرح ہلا جلا کر دیکھا- کوئ بڑی چوٹ نہ آئ تھی-

میں نے ہمّت کی اور اٹھ کے بیٹھ گیا- کالے کھوہ کی منڈیر پر کالے شاہ کا کالا منتر جاری تھا- میں نے سوچا میں کیوں چُپ رہوں- ابھی شہادت سے سرفراز تو نہیں ہوا- زندہ ہوں- جو دم باقی ہے اللہ کا کلام پڑھنے میں کیوں نہ گزار دوں-

میں نے اعوذو باللہِ من الشیطن الرجیم پڑھی اور بلند آواز میں سورہء بقرہ پڑھنے لگا …

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ

کالے شاہ اچانک خاموش ہوا- پھر مجھے غلیظ گالیاں دینے لگا- میں نے اس کی گالیوں کی پرواہ نہ کی اور تلاوت جاری رکھی-

وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ

وہ منتر چھوڑ کر گالیاں بکتا ہوا میری طرف بڑھا- قریب آکر اس نے خنجر نکالا- اب موت یقینی تھی- میں قربان گاہ پہ آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا-

اس نے جھُک کر مجھے بالوں سے پکڑا اور خنجر میرے ہونٹوں پہ پھیرتے ہوئے بولا:
“جانی کی آخری خواہش تھی کہ رخسانہ کی شادی سائیں صلّو سے ہو جائے .. بول … بول … اب صلّو کی آخری خواہش کیا ہے؟”

ایک ٹوٹی ہوئ اینٹ میرے ہاتھ آئ اور میں نے پوری قُوّت سے اس کی کنپٹی پہ دے ماری-

وہ بھونچکا کر بائیں جانب گرا- میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے ایک اور اینٹ اسے کس کے ماری جو اس کے پیٹ میں لگی- اس کے بعد میں کسی جوان کی طرح اٹھ کھڑا ہوا- وہ زمین پہ چت لیٹا ابھی تک مغلطات بک رہا تھا-

میں نے اسے زور کی ٹھوکر ماری اور ٹانگ سے پکڑ کے گھسیٹتا ہوا کنویں کی منڈیر تک لے آیا- اس کے مونہہ سے ڈکراتے ہوئے بیل جیسی آواز نکل رہی تھی- میں کچھ دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا- مجھ میں کسی انسان کو قتل کرنے کی ہمّت نہ تھی- بالاخر اسے وہیں چھوڑا اور اینٹوں کے ڈھیر کے پاس آن کھڑا ہو گیا-

وہ کچھ دیر بے حس و حرکت پڑا رہا پھر اٹھ کر بیٹھ گیا- کچھ دیر وہیں منڈیر پہ سر جھکائے بیٹھا رہا پھر ہمّت کر کے اٹھا اور کسی شرابی کی طرح لڑکھڑاتا ہوا میری طرف چلنے لگا-
اس نے نعرہ لگایا:
“جئے بھوانی ….. !!!”

میں نے ” اللہ اکبر” کا نعرہ لگایا اور ایک ثابت اینٹ اٹھا کر پوری قوّت سے اسے دے ماری- وہ لڑکھڑاتا ہوا پیچھے ہٹّا اور ایک دلدوز چیخ مارتا ہوا کالےکھوُہ میں جا گرا-

“جھماک” کی آواز آئ اور اِک تہلکہ سا مچ گیا- بے شمار چمگادڑیں کنویں سے پھڑاپھڑا کے نکلیں اور فضاء میں غائب ہو گئیں- بے شمار اُلّو شور کرتے ہوئے درختوں سے اڑے اور نامعلوم سمت پرواز کر گئے-

مجھ میں ایک عجب طاقت اور ولولہ جاگ اُٹھا تھا- میں اینٹیں اٹھا اٹھا کر کنویں میں پھینکنے لگا- ساتھ ساتھ سورۃ بقرہ بھی پڑھتا جا رہا تھا- ہر اینٹ پر کنویں سے دھماکے جیسی آوز آتی گویا بم پھٹ رہے ہوں- میں نے تلاوت جاری رکھی اور اینٹیں اٹھا اٹھا کر کنویں میں پھینکتا رہا-

جب خوب سنگ باری کر چکا تو کنویں کی منڈیر پہ کھڑے ہو کر کہا :
“بتاؤ …. طبیعت درست ہوئ یا اور پھینکوں؟ … بلاؤ ناں اپنی بھوانی کو …. آل پاکستان ھندو مُسلم جنّات؟ یہ ھندو کیا رہا ہے پاکستان میں؟ تمہارے باپ تو چلے گئے تھے سالوں پہلے …. تُم یہاں کیا کر رہے ہو؟ جاؤ ناں اپنے ہندوستان میں … وہاں جا کر سازشوں کے جال بنو …. عاملوں کی بیگار کیوں کرتے ہو؟ مُسلم جنّات کو بھی بگاڑ دیا ہے تم نے … تم کافروں کے ساتھ رہ کر یہ بھی کافر ہو گئے ہیں … نبی کا پڑھا ہوا کلمہ بھول گئے ہیں … کیا اثر لیا تھا تمہارے بزرگوں نے قرآن سن کر جس کا ذکر سورہء جن میں آیا ہے؟ کیا کہا تھا جا کر اپنی قوم سے تمہارے آباء نے … کچھ یاد ہے؟ یا بھول گئے سب کُچھ … خبردار … آج ہی یہ کنواں چھوڑ کر دفع ہو جاؤ … بارڈر پار چلے جاؤ … ورنہ اس کی منڈیر پہ بیٹھ کے پورا قران پڑھوں گا … روز دھواں نکالوں گا تمہارا …. ابنِ آدم ہوں میں … جسے روزِ ازل سے تم پہ فوقیّت حاصل ہے .. محمّد مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلّم کا اُمتّی ہوں … جن کے بعد کوئ نبی نہیں … کوئ رسول نہیں … لا الہ الا اللہ محمّد رسول اللہ”

ہر سو خاموشی چھا چکی تھی- میں واپس ہونے لگا تو حوض پہ کٹّا پھٹا قران نظر آیا- میں نے اٹھا کر چوُما اور آنکھوں سے لگا لیا- پھر اسے سینے سے لگائے تیز تیز چلتا ہوا ویران اور تاریک جنگل میں اتر گیا-

اکیسویں شب کا چاند تھک ہار کے غروب ہو چکا تھا- چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا- شیشم ، سفیدے اور کیکر کے طویل قامت درخت بھوتوں کی طرح مجھے گھیرے ہوئے تھے- میں چیچہ وطنی کے تاریک جنگل میں بھٹک رہا تھا-

آس پاس کوئ سڑک یا پگڈنڈی نہ تھی- اس حالت میں نہ تو سمت کا تعیّن ہو رہا تھا نہ ہی کسی منزل کا سراغ ہاتھ آ رہا تھا- پیاس سے میری حالت غیر ہو رہی تھی- پپڑی جمّے ہونٹوں پہ صرف ایک ہی دعا تھی:
“یا رب العالمین- اھدنا الصراط المستقیم”

دُور سے کہیں ریل گاڑی کی کوُک سنائ دی- پرسکوت ویرانے میں اس سے خوبصورت آواز کوئ نہ تھی- حوصلہ ہوا کہ اللہ کی زمین پر تنہا نہیں ہوں- بے شمار مسافر سوئے منزل جا رہے ہیں- میں بھی تو ایک مسافر ہی ہوں- برسوں سے بھٹکتا مسافر- رب تعالی جلد یا بدیر منزل تک ضرور پہنچائے گا-

کچھ ہی دیر میں ریل گاڑی کا شور سنائ دیا- گاڑی کافی دور سے گزری تھی- میں نے آواز کی سمت کان لگا دئے- پھر خوب جانچ کر اسی سمت قدم بڑھا دئے- کانٹے دار جھاڑیوں سے الجھتے الجھتے بالاخر ایک ٹوٹی پھوٹی پگڈنڈی میّسر آ ہی گئ- تاروں کی لو میں گرتا پڑتا اسی پر چلتا رہا-

کوئ نصف گھنٹہ چل چکا تو کسی بس یا ٹرک کا ہارن سنائ دیا- شاید سڑک بھی اسی طرف ہی تھی- درختوں پہ کال کلچھّی نے شور کیا اور گیدڑوں کا ایک غول اچانک ہی سامنے سے نکل کر دوسری طرف جھاڑیوں میں گم ہو گیا- مزید چلنے کی اب مجھ میں سکت نہ تھی- مایوس ہو کر بیٹھنے لگا تو ایک بار پھر ریل گاڑی کی کوک سنائ دی-

اس بار ٹرین زیادہ دور سے نہ گزری تھی- اندازاً نصف کلومیٹر کا فاصلہ تھا- میں نے دوبارہ ہمّت پکڑی – آہستہ آہستہ چلتا رہا- نصف گھنٹہ مزید چلنے کے بعد بالاخر اس ہولناک جنگل کا احتتام ہوا اور میں پٹڑی تک جا پہنچا-

پٹڑی کے ساتھ ساتھ پختہ سڑک چلتی تھی- شاید جی ٹی روڈ تھا- رات کے اس حصّے میں سڑک بھی بالکل سنسان پڑی تھی- میں نے سڑک پار کی تو گھنّے درختوں کے نیچے پانی کی جھلملاہٹ دکھائ دی- یہ نہری پانی کا ایک کھال تھا- میں اس کے کنارے پہ جا بیٹھا- پہلے وضو کیا پھر جی بھر کے گدلا پانی پیا ، اور رب تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا-

کچھ دیر سستانے کے بعد میں اٹھ کھڑا ہوا- جسم کی توّانائ کسی قدر بحال ہو چکی تھی- میں اللہ کا نام لے کر سڑک پر اندازاً مغرب کی سمت چل پڑا- تھوڑا آگے گیا تو بائیں طرف ایک پُلیا نظر آئ- یہاں سے ایک پختہ سولنگ جنوب کی طرف جا رہی تھی- میں نے وہی پکڑ لی اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے چلتا رہا- نجانے کتنی دیر یونہی چلتا رہا بالاخر وہ سولنگ ایک گاؤں میں داخل ہو گئ-

گاؤں میں ہر طرف خاموشی کا راج تھا- شب بھر بھونکنے والے کُتّے بھی تھک ہار کے سو چکے تھے- سولنگ ایک چوک پہ جا کر ختم ہو گئ- قریب ہی ایک مسجد تھی- اس کا مرکزی دروازہ بند پڑا تھا- فجر کی اذان میں شاید ابھی کچھ وقت باقی تھا-

میں نے لکڑی کے گیٹ کو ذرا سا دھکیلا تو وہ کھُلتا ہی چلا گیا- دل کو تسلّی ہوئ کہ ٹھکانہ تو میّسر آیا- صحن کا بلب روشن تھا اور ایک ضعیف العمر بابا وہاں تہجّد پڑھنے میں مشغول تھا-

میں قرانِ پاک رکھنے کو کوئ رحل وغیرہ تلاش کرنے لگا- جب کچھ میّسر نہ ہوا تو مصحف کو گود میں رکھ کے بیٹھ گیا- تھکاوٹ سے بدن چُور ہو رہا تھا- وہیں بیٹھے بیٹھے اشاروں سے دو نفل ادا کئے- پھر آنکھیں بند کر کے رب سائیں کو چٹّھی لکھنے لگا :

” تجھے چٹھیاں تو بوہت لکھیں رب سائیں … آج پہلی بار ایک پارسل بھیجنے کی جسارت کی ہے … اس پارسل میں ایک شاہ ہے … اور تو جانتا ہے یہ کتنا ظالم شاہ ہے … تو یہ بھی جانتا ہے کہ میرا اسے مارنے کا کوئ ارادہ نہ تھا … میں نے تو بس اپنی جان بچائ ہے … تیری حکمت ہے … کبھی چڑیوں کے پیچھے باز لگا دیتا ہے … کبھی چڑیوں کے ہاتھ باز مروا دیتا ہے … تیرا لاکھ لاکھ شکر کہ تو نے میری جان بچائ …. اور اس ظالم کو نیست و نابود کیا … جو یقیناً تیری زمین پر ایک بہت بڑا بوجھ تھا … میں پھر بھی استغفار کرتا ہوں اور اپنی تمام بری خواہشات اور شرور سے تیری پناہ چاھتا ہوں … اور ہر اس خیر کا طالب ہوں جو تو مجھے عطاء کرے … رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌا …!!”

اس کے بعد میں پرسکون ہو کر بیٹھ گیا اور آنکھیں موند لیں- ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کندھے پر کسی نے دستِ شفقت آن رکھّا- سر اٹھا کے دیکھا تو وہی تہجد گزار بابا میرے سر پہ کھڑا تھا-
کہنے لگا:

” چڑیوں کے ہاتھ صرف باز نئیں مرواتا … کبھی کبھی ہاتھی بھی مروا دیتا ہے”

میں نے چونک کر اسے دیکھا- اس کی عمر ستّر اسی برس کے قریب تھی- سفید براق داڑھی – سر پہ پرانا سا پٹکا- صاف ستھرا سفید کُرتا اور نیچے نیلے رنگ کی تہمند-

مجھ پہ خوف طاری ہو گیا- میں نے سہم کر کہا :
” آپ نے میری دعا سُن لی ؟”

وہ ہنس کر بولا :

” دعائیں تو رب تعالی ہی سنتا ہے … ہاں جب تیری چٹّھی وہاں پہنچی تو ہم بھی اس کی بارگاہ میں کھڑے تھے … !!”

میں نے کہا:
” پھر تو یقیناً آپ اللہ کے ولی ہیں …!!”

وہ میرے پاس بیٹھتے ہوئے بولا:

” میں تو نوکر ہوں اس کا … اگر تو راوی پار سے آیا ہے تو تیرے لئے بھی ایک نوکری ہے … !!”

میں نے حیرت سے پوچھا:
“نوکری ؟ کیسی نوکری …؟؟”

وہ ہنس کر بولا:
“اسی کی نوکری … جسے تو چٹھیاں لکھتا ہے…. پہلا عاشق دیکھا ہے ، محبوب پاس ہے اور پھر بھی چٹّھیاں لکھتا جا رہا ہے ….. !!”

میں نے کہا ” کیا کروں بابا … جب بہت ہی مایوس ہو جاتا ہوں تو لکھ بیٹھتا ہوں چٹّھی ..اس کی مرضی جواب دے یا نہ دے !!”

وہ میری پیٹھ تھپتھپا کر بولا:

” تیری تمام چٹھیوں کے جواب آئے ہوئے ہیں پُتّر … دیکھ تیری گود میں پڑے ہیں …. !!”

میں نے بے یقینی سے اپنی گود میں رکھّے قران پاک کو دیکھا اور نا سمجھی میں سر ہلا دیا- اس نے میری گود سے قران پاک اٹھایا اور بولا :

” یہ صرف دم درود اور جنّ بھوت بھگانے والی کتاب نئیں … رب تعالی کی لکھی ہوئ چِٹّھی ہے … انسان کے نام …. لوگ اسے کپڑے میں لپیٹ کے طاق پہ دھر دیتے ہیں … پھر جب کوئ تکلیف آتی ہے … تو اس کے سامنے شکوے کھول کے بیٹھ جاتے ہیں … اسے ترجمے سے پڑھا کر … جوں جوں سمجھ آئے گا … تیرے ہر خط کا جواب ملتا جائے گا …!! ”

میں نے کہا ” میں ضرور پڑھوں گا بابا جی … ترجمے سے پڑھوں گا … کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کا رتبہ کیا ہے؟ آپ غوث ہیں ، خواجہ یا قطب … ؟؟”

وہ ہنس کر بولا:
” عہدہ پوچھ کے کیا کرے گا- یہ عہدے تو دنیا والوں نے گھڑ رکھّے ہیں- فلاں غوث ہے فلاں قطب- اصل میں سب نوکر ہی ہیں اس ذات کے- کوئ وڈّا نوکر کوئ نِکّا نوکر- غلام رسول نام ہے میرا … لوگ بابا ڈاکیا کہتے ہیں …!!”

پھر وہ بزرگ چوکڑی مار کے میرے سامنے بیٹھ گئے اور بولے:

” 30 سال تک اسی گاؤں میں ڈاک تقسیم کرتا رہا ہوں … خط … منی آرڈر رجسٹریاں … گرمی سردی دھوپ بارش ہر آن ڈیوٹی نبھائ … یہاں ایک غریب بڑھیا تھی … ست جوائ نام تھا اس کا … ایک ہی بیٹا تھا اس کا جو شہر میں نوکری کرتا تھا … اسے ہر مہینے منی آرڈر بھیجتا تھا … وہ لڑکا باغی ہو گیا … وہیں شہر میں کہیں شادی کر لی اور ماں کو بھول گیا … ست جوائ وِچاری رُل گئ … ہر مہینے مجھ سے پوچھتی …. نورمحمّد کا کوئ منی آرڈر آیا ؟… میں جُھوٹ مُوٹ کہتا … ہاں بی بی آیا ہے … پھر اپنی تنخواہ سے کچھ نہ کچھ پیسے اسے پکڑا دیتا اور جھوٹ موٹ اس کا انگوٹھا لگواتا … جب تک وہ زندہ رہی …. اس کی مدد کرتا رہا … بس اتنی سی بات پہ رب سائیں نے نوکر رکھ لیا … اچھی بھلی تنخواہ دیتا ہے … ضرورت سے کہیں زیادہ … واپس اسی کے بینک میں ڈال دیتا ہوں … تو کرے گا اس کی نوکری ؟ … ایک سیٹ آج ہی خالی ہو رہی ہے؟؟ ”

میں نے حیرت سے اسے دیکھا اور کہا ” کیا نوکری ہے بابا جی؟”

وہ بولا ” مخلوق کی خدمت- اس کے کنبے کا خیال رکھنا- بس یہی نوکری ہے اس کی … بہت کم لوگ یہ نوکری کرتے ہیں … اور جو کرتے ہیں … ہمیشہ بھلے میں رہتے ہیں … یہاں سے بہت اوپر … آسمانوں پہ اس کا بینک ہے … بے شمار لوگوں نے وہاں اکاؤنٹ کھول رکھّے ہیں … ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائ سب کے اکاؤنٹ ہیں وہاں … ان کے بھی جو اسے مانتے تک نہیں … سب کو برابر نفع دیتا ہے وہ لیکن … ایمان والوں کو سب سے زیادہ دیتا ہے … ستّر گُنا …. دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی !!”

میں نے مایوسی سے کہا:

” میرا اکاؤنٹ کیسے کھل سکتا ہے بابا … میرے پاس تو پھوٹی کوڑی نہیں …؟”

وہ بولا ” جو شخص دوسروں کا دکھ درد محسوس کرتا ہے … اس کا اکاؤنٹ آپو آپ ہی کھل جاتا ہے … تم اس کی مخلوق کا درد رکھتے ہو … بس ٹوٹے دلوں کو ڈھارس دو … وہ رزق بڑھا دے گا … پھر جو منافع ملے … اسی کے نام پہ لٹا دو … وہ اور زیادہ دے گا … یوں منافع کا یہ چکر چلتا رہے گا … باقی یہ کلمہ … نماز … روزہ … زکواة … حج … یہ صرف اشٹام ہے … تیری مسلمانی کا … لوگ اشٹام تو لئے پھرتے ہیں … اکاؤنٹ خالی ہے … اصل زر تو انسانیت کی خدمت ہے …. !!”

اسی دوران مؤذن نے فجر کی اذان دے دی- بابا نے مجھ سے ہاتھ ملایا پھر خاموشی سے اٹھا اور اگلی صف پہ جا کے سنتیں پڑھنے لگا-

نماز کے بعد میں کافی دیر مسجد میں بیٹھا رہا کہ شاید بابا سے دوبارہ ملاقات ہو- لیکن وہ نہ آیا- شاید خاموشی سے کھسک گیا تھا- آہستہ آہستہ نمازی اٹھتے گئے اور مسجد خالی ہو گئ-

میں ستون سے ٹیک لگا کے بیٹھ گیا- شب بھر کا جاگا ہوا تھا بہت جلد آنکھ لگ گئ- نجانے کتنی دیر سویا رہا- پھر اچانک محسوس ہوا جیسے کسی نے مدد کےلئے پکارا ہو-

میری آنکھ کھل گئ- آواز باھر سے آئ تھی- بھاگ کے صحن میں پہنچا تو ایک نوجوان وضوخانے کے پاس گرا پڑا تھا- میں اس کی مدد کو آگے بڑھا-
وہ بولا ” مجھے بس میری بیساکھیاں پکڑا دو …. وضو کرتے ہوئے گر گیا ہوں … ”
میں نے اسے بیساکھیاں پکڑائیں اور پوچھا “کیا ہوا ہے تمہیں”
وہ بولا ” گینٹھیا کا مریض ہوں … نماز کو دیر ہو رہی تھی … وضو کرنے لگا تو پاؤں پھسل گیا …. خدا کا شکر کہ کوئ چوٹ نہیں آئ …!!”

میں نے اسے سہارا دیا اور مسجد کے اندر لے آیا- پھر اسے نماز والی کرسی پہ بٹھا کر کہا ” سورج نکلنے میں دس پندرہ منٹ باقی ہیں .. آرام سے پڑھ لو .. میں رب تعالی سے تمہاری صحت یابی کی دعا کرتا ہوں …”

وہ نوجوان نماز پڑھ چکا تو میں اس کے قریب ہوا اور کہا:
” تم آنکھیں بند کر کے درود شریف پڑھو … میں تمہیں دم کرتا ہوں ”

اس نے میری ھدایت پہ عمل کیا اور آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا- میں اس کے گھٹنوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے سورہ فاتحہ کا دم کرنے لگا-

تھوڑی دیر بعد میں نے کہا:
” آنکھیں کھول لو … اب تم بالکل ٹھیک ہو … گھٹنوں پہ آہستہ آہستہ وزن ڈالو …کھڑے ہونے کی کوشش کرو … !!”
وہ بولا ” میں گر جاؤں گا”
میں نے کہا ” ان شاءاللہ بالکل نہیں گرو گے … یقین رکھو”

اس نے کوشش کی اور آہستہ آہستہ اٹھ کھڑا ہوا- پھر حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے بولا:
” درد تو واقعی نہیں ہو رہا … آپ ہاتھ پکڑو …. میں چلنے کی کوشش کرتا ہوں”
میں نے کہا ” ہاتھ پکڑنے کی اجازت نہیں … تم بالکل ٹھیک ہو … بیساکھیاں ادھر ہی چھوڑو … اور گھر چلے جاؤ”

وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے ڈر ڈر کے چلنے لگا- میں نے اس کی کمر تھپتھپائ اور کہا ” چلو چلو … شاباش … جلدی چلو”
اس نے قدم اٹھائے اور قدرے بہتر چلنے لگا- پھر مڑ کر مجھے حیرت سے دیکھا اور مسجد سے باہر نکل گیا-

سورج نکل آیا تھا- میں نے وضو کر کے اشراق پڑھی اور وہیں مسجد کی صف پہ لیٹ گیا- ابھی آنکھ ہی لگی تھی کہ اسپیکر کی ٹھک ٹھک سے پھر کھل گئ- خادم مسجد مائک تھامے “ایک ضروری اعلان” کر رہا تھا …..

” غُلام رسول ڈاکیا … رضائے الہی سے فوت ہو گیا ہے … جنازے کا اعلان بعد میں کیا جائیگا …!! ”

اب سونا فضول تھا- بابا ڈاکیا اپنی سیٹ چھوڑ کر رب کی جنّتوں میں جا چکا تھا- اب اس سیٹ پر مجھے بیٹھنا تھا- یہ نوکری مجھے ہی کرنا تھی- ایک بہت بڑا بوجھ میرے سر پہ آن پڑا تھا- ایک ایسا بوجھ جسے موت تک مجھے بخوشی اٹھانا تھا-

سورج کافی چڑھ آیا تھا اور گرمی بڑھ رہی تھی- بھوک کی وجہ سے میری آنتیں سکڑنے لگیں- میں نے وضو خانہ میں جا کر خوب پانی پیا اور مسجد کے صحن میں سایہء دیوار تلے جا کر بیٹھ گیا-

اسی دوران کچھ نوجوان مسجد میں داخل ہوئے- وہ آپس میں اونچی اونچی آوازوں میں باتیں کر رہے تھے- پھر ان میں سے ایک کی نظر مجھ پہ پڑی- اس نے ساتھیوں کو آواز دی اور میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
” وہ رہے …. بابا جی … !!! ”

یہ وہی لڑکا تھا جسے صبح میں نے دم کیا تھا- وہ بھاگ کر میری طرف آیا اور ہاتھوں کو بوسہ دیا- پھر اس کے باقی ساتھی بھی میری طرف چلے آئے- بڑے ادب سے سلام کیا اور میرے سامنے حلقہ بنا کر بیٹھ گئے- ان میں سے ایک بولا:

“بابا جی … کہاں سے تشریف لائے ہیں آپ …؟”
میں نے کہا ” میں بابا نہیں …. سائیں ہوں … راوی پار سے آیا ہوں ..!!”

وہ بولا “ہم آپ کے احسان مند ہیں سائیں جی … ہمارا یہ بھائ کافی عرصے سے بیمار تھا … آپ کی دعا سے ٹھیک ہو گیا ہے … !!”

میں نے ملائمت سے کہا :
” یہ سب اللہ کا فضل ہے .. !!”
وہ بولا ” آج یہ پہلی بار پاؤں پہ چل کے گھر گیا ہے … یہ ہمارے لئے بہت بڑی خبر ہے … ہم سب تو شازے کو دیکھ کر حیران پریشان رہ گئے”
میں نے پوچھا “کون شازیہ ؟؟”

وہ سب شرمندگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے- پھر وہ لڑکا جسے میں نے دم کیا تھا بولا:
” بابا جی میرا نام ملک شہزاد ہے … سب شازا شازا بلاتے ہیں … یہ میرے بڑے بھائ ملک ایّوب ہیں … آج صبح آپ کی دعاؤں سے میں پاؤں پہ چل کے گھر گیا تو سب حیران رہ گئے .. ہم آپ کو لینے آئے ہیں … کیا آپ ہمارے ڈیرے پہ تشریف لا سکتے ہیں … ؟؟ ”

میں نے کہا ” خلوص سے بلاؤ گے تو ہزار بار آئیں گے …. !!”
ہم اٹھنے ہی لگے تھے کہ کچھ اور لوگ بھی مسجد میں چلے آئے- وہ سب عقیدت سے مجھے سلام کر کے حلقے میں آن بیٹھے- یوں رفتہ رفتہ لوگ آتے گئے اور مسجد میں ٹھٹھ سا جم گیا-

پھر اس مجمع میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا:
” بابا جی سخت بیمار ہوں … ساری رات کھانستے گزر جاتی ہے … حکیم بتاتے ہیں کہ ٹی بی ہے … !!”
ابھی اس کی طرف متوّجہ ہی ہوا تھا کہ دوسرا کھڑا ہو گیا کہ بابا جی چِٹّا موتیا ہے سجی آنکھ میں … بائیں والی پہلے ہی ختم ہے … اس سے پہلے کہ اندھا ہو جاؤں … کوئ دم درود کر دیو-
میں نے کہا ” ذرا قریب آؤ …”
وہ آنکھ دکھانے کو آگے بڑھا ہی تھا کہ ایک اور مریض بیچ میں کوُد پڑا ” بابا جی … پہلے میرا کالا یرقان دم کر دو … میں نے بکریوں کے پٹّھے لینے جانا ہے ….. !!”

میں نے کہا ” دیکھو بھائیو .. میں کوئ ڈاکٹر یا حکیم نہیں ہوں … آپ ہی کی طرح کا بندہ ہوں … صرف دعا کر سکتا ہوں … کالے چِٹّے کو ٹھیک کرنا رب سائیں کا کام ہے … دعا تو بس ایک عرضی ہے … ایک التجاء ہے … رب کے سامنے … اس کی مرضی قبول کرے یا رد کر دے … وہ چاہے تو حکیم کی پھکّی سے آرام آ جائے اور نہ چاہے تو ولائت جا کے بھی بندہ مر جائے … شفاء اسی کے ہاتھ میں ہے … وہ سب کی سنتا ہے .. میری بھی .. تمہاری بھی … !! ”

ان میں سے جو موتیا کا مریض تھا میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گیا ” سائیں … آپ اللہ والے ہو … آپ کو مولا پاک کا واسطہ … میری آنکھیں ٹھیک کر دو … کالا بکرا چڑھاؤں گا … اندھا ہو گیا تو میرے چھوٹے چھوٹے بچّے رُل جائیں گے … ”

میں نے کہا ” تو بکرا بیچ کے آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس کیوں نئیں چلا جاتا ؟”
وہ بولا ” گیا تھا جی … ڈاکٹر نے ہی تو بتایا ہے کہ موتیا ہے … آپریشن کا ست ہزار بتاتے ہیں جی … ٹیڈی بکرا اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا … آپ دم درود کر دو … شاید اتر جائے ..!! ”

میں نے جان چھڑانے کو کہا: “ٹھیک ہے- ٹھیک ہے- سب ٹھیک ہو جاؤ گے .. اب کھڑے ہو جاؤ … میں سب کو اکٹّھے دم کرتا ہوں”
اس کے بعد میں نے سب کو سورة فاتحہ پڑھ کے دم کیا اور جھاڑ پھونک کے رخصت کر دیا-

ملک صاحب کے ڈیرے پر پورا مُحلّہ جمع تھا- کافی لمبی چوڑی حویلی تھی- ایک حصّے پہ تین بڑے کمرے اور برامدہ بنا ہوا تھا- صحن میں ایک طرف چارپائیاں بچھّی تھیں ، دوسری طرف کچھ جانور بندھے تھے- میں وہاں پہنچا تو سب نے اٹھ کر استقبال کیا- پھر شازے نے اعلان کیا ” بابا جی پہلے ناشتہ فرمائیں گے فیر آپ لوگوں کو دم کریں گے ”

ناشتے میں وہ سب کچھ میّسر تھا جس سے میں ایک مدت سے محروم چلا آتا تھا- دیسی گھی کے پراٹھے ، دہی ، مکھن ، سبزی ، شہد ، اچار ، گوشت ، انڈے- صدیوں کی بھوُک جاگ اُٹھی- سب کچھ تناول کر چکا تو ایک لمبا سا ڈکار لیتے ہوئے شازے سے کہا :

” سائیں رات بھر کا جاگا ہوا ہے … تم مخلوق کو کسی طرح قابو کرو … سائیں تو اب آرام کرے گا … خبردار جو ظہر کی نماز سے پہلے کسی نے جگانے کی کوشش کی …. مریضوں کو بھی سمجھا دو کہ جو دم درود کروانا ہے عصر کے بعد کروانا … !!”

شازا فوراً خدمت پہ کمر بستہ ہو گیا- ایک کمرے میں آرام دہ بستر بچھایا- میں جو دس ماہ سے مسجد کی صف پہ سوتا آیا تھا ، نرم و گداز تلائ اور مخملی تکیہ میّسر آیا تو پل میں نیند کے مزے لینے لگا-

خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ بابا ڈاکیا مجھ پہ سخت ناراض ہیں- کہتے ہیں نوکر کا کام پیٹ بھر کے سونا نہیں ، غریب لاچار عوام کی خدمت ہے- چار ضلعوں میں کوئ ہسپتال نہیں- پولیس اپنی حفاظت نئیں کر سکتی- فوج کابل فتح کرنے نکلی ہوئ ہے- لیڈر کوڑے کھانے میں مصروف ہیں- پِیر لوُٹ گھسوُٹ میں لگے ہیں- اگر تُو بھی بے فکری کی چادر اوڑھ کے لیٹ گیا تو تُجھ میں اور ان ظالموں میں فرق کیا رہ جائے گا؟ اٹھ اور مخلوق کا درد بٹا- خبردار …. آئیندہ کچّے پیاز اور گُڑ سے روٹی کھانا اور صرف شب کو نیند فرمانا- ورنہ سائیں نوکری سے بیدخل کر دے گا-

میں ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھا- مسجد سے بابا ڈاکیا کے جنازے کا اعلان ہو رہا تھا-

ظہر کی نماز پڑھ کر ھم جنازہ گاہ پہنچے- وہاں بڑا اژدھام تھا- دور دراز سے لوگ آئے ہوئے تھے- ہر شخص مرحوم کی تعریف کر رہا تھا کہ غریبوں کا بڑا ہمدرد تھا- چھپ چھپا کے ان کی مدد کرتا تھا- دو بیٹے سعودیہ میں تھے- وہ جو کچھ بھیجتے بابا ناداروں میں لٹا دیتا تھا- کئ گھروں کا چولھا اس کے دم سے روشن تھا وغیرہ وغیرہ-

جنازہ رکھا گیا تو میں بھیڑ کو چیرتا ہوا بمشکل میّت تک پہنچا- پھر شورشرابے کے بیچ چارپائ کا پایہ پکڑ کے آنسو بہانے لگا- زبانِ حال سے شکوہ بھی کر رہا تھا کہ بابا جی کدھر پھنسا دیا یہاں تو ہر دوسرا بندہ بیمار ہے … لوگ مجھ سے امید باندھ کے بیٹھ گئے ہیں … کس کس کو دم کروں … کس کس کو ٹھیک کروں؟ میرا تو کوئ بیٹا بھی سعودیہ میں نہیں ، جو پیسے بھیجے … اتنے مریضوں کا علاج کیسے کروں گا ؟ … میں تو خود دربدر ہوں … دوسروں کا سہارا کیسے بنوں گا ؟ … آج تو ملک پور والے بابا مانتے ہیں … کل چار دعائیں رد ہوئیں تو پنڈ سے نکال باہر کریں گے … مالک سے میری سفارش کر دینا بابا کہ نوکری دی ہے تو عزت بھی بنائے رکھنا … !!”

میں پایہء میّت کو چمٹا ہوا تھا کہ اوپر ہٹّو بچّو کا شور بلند ہوا- لوگ میّت سے پیچھے ہٹنے لگے- شازے نے مجھے پکڑ کے اٹھایا اور بولا :
” سائیں جی … اٹھو … پیر صاحب تشریف لا رہے ہیں … !! ”

میں نے کہا ” ہیں ؟ میرے اوپر بھی کوئ پیر ہے ؟؟”
وہ مجھے کھینچتا ہوا پیچھے لے گیا پھر میرے کان میں بولا ” پیر سیّد حاکم شاہ بخاری تشریف لا رہے ہیں … “ملک پور” کے جدّی پشتی پیر – پورا پِنڈ انہی کا مرید چلا آتا ہے …. !!”

جنازہ گاہ میں ایک ہیجان برپا ہوگیا- لوگ میّت کو چھوڑ کر پیر صاحب کے گرد جمع ہونے لگے- ہر کوئ صدقے واری جا رہا تھا- کسی نے گھٹنے چھوئے ، کسی نے دست بوسی کی اور کوئ زخمی پرندے کی طرح سیدھا قدموں میں جا گرا- باقی ادب سے رستہ چھوڑنے لگے- غرض کہ ہر کوئ برکات سمیٹنے میں مصروف ہو گیا اور میں بابا کی میّت کے پاس تنہا کھڑا یہ سوچنے لگا کہ اگر پِیری پہ حاکم شاہ فائز ہے تو بابا ڈاکیا کس مرتبے پہ فائز تھا؟

جنازہ ہو چکا تو پیر صاحب نے دعا کروائ اور اعلان کیا کہ بابا غلام رسول ڈاکیا کے ذمّہ اگر کسی کا کوئ آنہ پیسہ بقایا ہو تو وہ دربار سیّداں پہ آکر وصول کر لے-

اس پر بڑے بوڑھوں نے سبحان اللہ کی صدا لگائ- کچھ لوگوں نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا ” پیر بادشاہ … ساڈی ایہہ مجال نئیں” اور کچھ خاموش ہو گئے-

پیر صاحب میّت کا دیدار کر کے واپس اپنی کار میں جا بیٹھے- کچھ لوگ ادھر بھاگے اور کار پر ہاتھ پھیر کے اپنے جسم پر ملنے لگے- کچھ نے ٹائروں کی مٹّی اٹھا کر جیب میں ڈال لی- میرا “پہلا مرید” شازا بھی مجھے چھوڑ کے پیر صاحب کی گاڑی پہ جا کے لیٹ گیا-

بابا ڈاکیا کو لحد کے سپرد کر کے ہم لوٹ رہے تھے تو میں نے شازے سے پوچھا:
” میں تو سمجھ رہا تھا کہ بابا ڈاکیا ہی گاؤں کا پِیر ہے … کیا وہ نیک آدمی نہ تھا …؟؟”

وہ بولا ” بابا ڈاکیا بہت نیک بندہ تھا- لوگوں کے کام آتا تھا- گاؤں میں کئ نلکے لگوائے اس نے ، غریب بچیوں کی شادیاں کروائیں ، یہ جو اڈّے کے پاس ڈسپنسری ہے … وہ بھی بابے نے ہی بنوائ … اس جنازہ گاہ کی چار دیواری اسی نے بنوائ … لیکن وہ پیر نہیں تھا …. وہ تو ذات کا جولاہا تھا …. پیر تو سیّد حاکم شاہ بخاری ہیں … لوگ انہیں “کڑے والا پیر” بھی کہتے ہیں … ان کے بزرگوں نے گاؤں کے گرد کڑا دیا تھا … ”

میں نے کہا ” یہ کڑا کیا ہوتا ہے ؟”

وہ بولا ” کڑے کا مطلب ہے پورے گاؤں کے گرد چکّر لگا کے اسے ہر بلاء سے محفوظ کر دینا … تا کہ کوئ آفت مصیبت ادھر نہ آئے … اسی لئے لوگ ان کی قدر کرتے ہیں … آٹا ، پھکّا ، بکری ، لیلا ، لکڑ ، بٹھڑی سب انہی کے دربار پہ چڑھتا ہے … رہا بابا ڈاکیا … وہ تو پیروں فقیروں کو مانتا ہی نئیں تھا … پیر صاحب جنازے کو کندھا دینے آ گئے یہ ان کا بڑا پن ہے … ورنہ بابا تو … سخت منکر تھا پیر صاحب کا … !!”

میں نے کہا ” مُنکر ؟ وہ کس لئے؟”

کہنے لگا ” بابا دربار سیّداں پر ایک آنہ تک نہ دیتا تھا … الٹا لوگوں کو بھی گمراہ کرتا تھا کہ آستانے پہ کچھ مت چڑھاؤ … ظاہر ہے یہ سخت بے ادبی تھی … خیر آپ کو اس سے کیا ؟ آپ تو خود سیّد بادشاہ ہو … شاہ تو شاہوں کے دوست ہوتے ہیں … !!”

میں نے کہا ” کس نے کہا میں سیّد ہوں؟ ، کُمہار ہوں میں … یقین نہ آئے تو راوی پار جا کے پوچھ لو اور خدا کی پناہ مانگتا ہوں میں ان شاہ سواروں سے … جو عقیدت کی لگام ڈال کے ازل سے لوگوں کے کندھوں پہ سوار ہیں … !!”

ملک پور میں ہمارا قیّام طویل ہوتا چلا گیا- سائیں کے ڈیرے پر دِن بدن رش بڑھنے لگا- کرامت پرستوں کے ہاں میری فقیری کا ایک ہی چلتا پھرتا ثبوت تھا- شازا .. !! وہی میرا پہلا خلیفہ بنا- اس کے دوست فیصل ، اجّو ، شکورا اور جیدا بھی میرے جانثاروں میں شامل ہو گئے- میٹرک فیل بے روزگاروں کو مشغلہ ہاتھ آیا اور دیکھا دیکھی انہوں نے بھی اپنی زلفیں بڑھانا شروع کر دیں-

مریدوں نے میرے بہت سے نام تجویز کئے- ملنگ بابا ، سائیں بابا ، اللہ لوک ، راوی والا بابا ، زلفاں والی سرکار- مگر میں نے خود کو مُلاں پور کا سائیں کہلوانا پسند فرمایا- رفتہ رفتہ ہماری شہرت آس پاس کے پِنڈ ، دیہات تک جا پہنچی اور صبح شام یہاں لوگوں کا ٹھٹھ جمنے لگا-

ہم نے دم کے اوقات اور اصول مرتب کر دئے- فجر سے لیکر ظہر تک سائلین کی آمد رہتی- اس کے بعد تھوڑا آرام اور عصر کے بعد پھر کام شروع- ڈیرے کا ایک کمرہ قران خوانی کےلئے مختص کر دیا گیا- امام مسجد سے بات کر کے عصر تا مغرب یہاں درسِ قران کا بندوبست بھی ہو گیا-

مریضان صبح تڑکے ہی صحن میں میں آ کے بیٹھ جاتے- اشراق سے فارغ ہو کر میں ایک ایک کے پاس جا کر اسے دم کرتا ، پھر اس کا سینہ ٹھونک کے کہتا ” اللہ کے فضل سے آج سے تم بالکل ٹھیک ہو … بس نماز پڑھو …. اور اللہ کو یاد کرو … ” شازا پیتل کا لوٹا اٹھائے میرے ساتھ ساتھ چلتا اور ہر جھاڑ پھوُنک کے بعد میرے ہاتھ دھلواتا اور یوں ساری بیماری مریض کے سامنے ہی پانی میں بہہ جاتی-

بہت جلد دم کے آثار ظاہر ہونے لگے- ڈاکٹروں ، حکیموں ، عطائیوں اور پِیر زادوں کا ڈالا ہوا وہم چَھٹّنے لگا- وہم کے مریض سب سے پہلے تندرست ہوئے- جو واقعتاً بیمار تھے انہیں بھی کسی قدر آرام نصیب ہوا- مایوسی کے بادل چھٹّنے لگے اور خلقِ خُدا پُکار اُٹھی ” ڈاکٹر بیماری ڈالتا ہے … سائیں کھینچ نکالتا ہے … حق سائیں …واہ سائیں … !! ”

کبھی کبھار کوئ ڈھیٹ قسم کا مریض ، ٹھیک ہونے سے انکار کر دیتا تو میرے مرید آگے بڑھ کے صورت حال سنبھال لیتے- اسے سمجھاتے کہ ساری بات یقین کی ہے … پہلے سائیں پہ یقین تو پختہ کر … پھر مولا شفاء دے گا … !!!”
لوگوں کا یقین پُختہ ہوا یا نہیں ، میرا یقین اپنے سائیں پہ دن بدن پختہ ہونے لگا-

بعد مریض شفایابی کے بعد روپیہ پیسہ ھدیہ کرنا چاہتے تو میں سختی سے انکار کر دیتا اور کہتا ” میں پِیر نہیں ہوں کہ تمہاری کھال اتاروں … اللہ نے شفاء دی ہے … جاؤ اس کے نام پہ کسی غریب کو صدقہ دو” شازا بے چارہ مریضوں کو گھر سے دودھ پتیاں پلا پلا کر ہانپ گیا-

ڈیرے پہ خواتین کی آمد شروع ہوئ تو میں نے شازے سے کہ کر قنات منگوا لی- یوں عورتوں کےلئے پردے کا انتِظام بھی ہو گیا اور فتنوں کے آگے بند بھی بندھا- میں قنات کے پیچھے کھڑے ہو کر ایک ایک خاتون کا مسئلہ سنتا ، وہیں سے دم چھوُ کرتا اور بی بی کو صبر اور حوصلے کی تاکید کر کے رخصت کرتا-
اس طرح ایک مہینہ خیر خیریت سے گزر گیا-

ایک روز فجر کے بعد مریضوں کو دم کر رہا تھا کہ ایک مریض اکڑ گیا- کہنے لگا :
“ہمیں دم شم کی ضرورت نہیں سائیں … ہم خود پِیروں فقیروں والے ہیں … !! ”
میں نے ملائمت سے کہا:
“ٹھیک ہے … پھر آپ یہاں کیسے تشریف لائے ہیں؟ ”
وہ بولا ” تمہیں سمجھانے آئیں ہیں سائیں …. اِس گاؤں میں اگر دم درود کرنا ہے تو پہلے دربار سیّداں جا کر وہاں کی مٹّی چاٹو …. !!”

میں نے کہا :
” کیوں جی ؟ میں کوئ گڈویا ہوں جو مٹّی چاٹوُں؟ میں تو آٹا پَھکتا ہوں اس رب کا جو سارے جگ کا داتا ہے … !!”

وہ وجد میں آ کر بولا ” جاگ بنا دُدھ نئیں جمدے ، پاویں لال ہوون کڑھ کڑھ کے …. پیر حاکم شاہ حسنی حسینی سیّد ہے … غوث پاک کا پڑپوتا ہے …. توُ کیا ہے … ؟؟”

میں نے کہا ” میں آدم کا بیٹا ہوں- صرف اللہ سے ڈرتا ہوں”

اس دوران شازے نے مداخلت کی اور وہ شخص میرے سر سے ٹلا-

اگلے روز ہم عصر پڑھ کے بیٹھے تھے کہ اچانک ڈیرے پہ شور برپا ہوا- کچھ لوگ ویگن پر ایک شخص کو رسیوں سے باندھ کے لائے تھے- وہ شخص سخت وحشی دکھائ دیتا تھا اور بار بار اپنا سر ویگن کی چھت سے ٹکرا رہا تھا- اس کا مونہہ کپڑے سے بندھا ہوا تھا اور وہ رسّیاں تڑانے کو بے تاب تھا-

میری نظر پڑی تو کہا ” چھوڑ دو اسے … کھول دو اس کی رسّیاں کچھ نئیں کہتا یہ … !!! ”

یہ کہنا تھا کہ ساتھیوں نے واقعی اس کی رسیاں کھول دیں- ڈیرے پہ بھگدڑ سی مچ گئ- جس کا جدھر مونہہ آیا بھاگ کھڑا ہوا- میں اکیلا ہی میدان میں کھڑا رہ گیا- وہ شخص چھلانگ مار کے ویگن سے اترا- مونہہ سے کپڑا اتار کے دور پھینکا- اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں- وہ کف اُڑاتا ہوا وہ میری طرف بڑھا-

بے اختیار میرے مونہہ سے نکلا:

” قُلْنَا یَا نَارُ کُونِیْ بَرْدًا وَسَلَامًا عَلٰی إِبْرَاهِیْمَ ”
اس کے بعد میں نے اپنے دونوں بازو کھول دئے- وہ کچھ دیر وحشیوں کی طرح مجھے دیکھتا رہا ، پھر سیدھا میرے گلے آن لگا- نجانے کس رنج و الم کا مارا ہوا تھا کہ پُھوٹ پُھوٹ کے رونے لگا- محبّت کی ایک جپھّی نے اس کی ساری وحشت اتار دی اور وہ برف کی طرح پگھل کے رہ گیا-

میں نے صافے سے اس کا مونہہ صاف کیا ، ماتھے پہ بوسہ دیا اور کہا:

” تیرے دکھ درد سب تکلیفیں آج سے ختم ہو گئیں- اپنے رب کا بندہ بن جا- وہ تجھ سے بہت محبّت کرتا ہے- تو بھی اسے یاد کیا کر- اب جا … آرام سے چارپائ پہ جا کے بیٹھ اور ایک سو ایک بار استغفراللہ کا ورد کر”
وہ خاموشی سے چارپائ پہ جا کے بیٹھ گیا اور انگلیوں پہ ذکر کرنے لگا-

مریدین اور بیماران دیواروں کے پیچھے سے جھانک جھانک کر یہ منظر دیکھ رہے تھے- اس قصّے کی شہرت پورے گاؤں میں پھیل گئ اور میرے مریدوں نے خوب ڈھول پِیٹا- معلوم ہوا کہ یہ شخص ایک عرصہ سے سیّد حاکم شاہ کے دربار پہ بندھا ہوا تھا- پیر صاحب نے شاید میرا امتحان لینے کو ہی اسے میرے اوپر چھوڑا تھا-

اس واقعے سے دربار سیّداں پہ کھُلبلی مچ گئ- حاکم شاہ کے نصف مرید تو اسی روز ٹوٹ کر مجھ سے آن ملے- باقیوں نے اسے دو پیروں کا ذاتی معاملہ قرار دیکر خاموشی اختیار کر لی-

دو روز بعد پیر حاکم شاہ کا خلیفہ خاص ملک الہی بخش مجھ سے ملنے آیا- میں اس وقت کمرے میں اکیلا پیاز کے ساتھ روٹی کھا رہا تھا- وہ کچھ دیر خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا پھر نہایت ادب سے بولا:

” سائیں جی … وڈّے پیر صاحب کا پیغام ہے … آپ کےلئے ”
میں نے کہا ” وڈّا پِیر ؟ کیا رب سائیں کا پیغام لائے ہو ؟”
وہ شرمندگی چھپاتے ہوئے بولا:
“پیر سیّد حاکم شاہ بخاری کا پیغام لایا ہوں جی … آپ کےلئے … !!”
میں نے کہا ” کہو؟”
وہ بولا ” بزرگ فرماتے ہیں کہ آپ دم درود کرنے سے پہلے دربار پہ آکر ان کا اذن حاصل کر لیں … ”
میں نے کہا ” اِذن ؟ وہ کس لئے ؟”
کہنے لگا ” مجھے تو جو پیغام ملا تھا آپ تک پہنچا دیا جی ..!! ”

میں نے چارپائ کے پائے پہ ایک بڑا سا پیاز توڑتے ہوئے کہا:
” پیر صاحب سے عرض کر دینا کہ سائیں اذن لے چُکا … بابا ڈاکیا سے … یہ پیاز دیکھ رہے ہو … ؟؟ یہی اذن ہے ڈاکیا سرکار کا … اب مزید کسی اذن کا مجھ میں حوصلہ نہیں …. !!”
وہ خاموشی سے اُٹھ کر چلا گیا-

کچھ ہی روز بعد گاؤں بھر میں مشہور ہو گیا کہ سائیں صلّو ، پیر حاکم شاہ کے اذن سے یہاں بیٹھا ہے- اور پیر صاحب جب چاہیں گے اسے ڈیوٹی سے ہٹا دیں گے- شاید یہ افواہ ملک الہی بخش نے ہی اڑائ تھی- اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ مجھ سے دم درود کروا کے نذرانے پیر صاحب کو جا کے دینے لگے- میں حالات کو اس نہج پہ نہیں لے جانا چاھتا تھا کہ ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو- سو خاموش رہا اور پیر صاحب کا مقابلہ کرنے کی بجائے رب کی مخلوق پہ توّجہ دینے لگا-

پیر صاحب سے ہمارا مُلاکھڑا ولی محمّد کی وجہ سے ہوا- وہ تاپ کا مریض تھا اور ڈاکٹروں ، حکیموں ، اور عطائیوں سے لٹتا لٹاتا آخر پیر صاحب کے آستانے پر جا پڑا- زندگی کی کوئ صورت باقی نہ رہی تو پیر صاحب نے کہا “اس کا وقت آن پہنچا- اسے اٹھا کے گھر لے جاؤ”
لوگ ولی محمّد کو اٹھا کر ہمارے ڈیرے پہ لے آئے-

میں نے شازے سے کہا :
” جو اصیل مرغ تو نے لڑائ کے واسطے پالا ہوا ہے ، اس کی قربانی چاھئے …. !!!”
وہ حیرت سے میرا مونہہ دیکھنے لگا- میں نے کہا ” ہم وہ مرغ ذبح کر کے ولی محمّد کو کھلائیں گے … اس بے چارے کی رگ رگ میں بھوُک کُنڈلی مارے بیٹھی ہے … بھوک کا تاپ ہے یہ .. اصیل کُکّڑ سے ہی اترے گا”

شازے نے میرے حکم کی تعمیل کی- میں نے اپنے ہاتھوں سے مرغ ذبح کیا اور خود ہی ہانڈی میں پکایا- پھر ایک پلیٹ سالن کی نکال کے شازے کو دی اور کہا:
” یہ پلیٹ گاؤں کے اس گھرانے میں دے کر آؤ جہاں عید کے روز بھی گوشت نہیں پکتا …!!”

رب کے بینک میں یہ چھوٹی سی نیکی جمع کرا کے میں مصلّے پہ جا کھڑا ہوا-

ساری رات میں مصلّے پہ رہا اور شازا ولی محمّد کو بچے کھچے مرغ کی یخنی پلاتا رہا- اسے اتنا پسینہ آیا کہ رضائ بھیگ گئ- صبح دم رب سائیں کا چیک وصول ہوگیا اور ولی محمّد کا تاپ ٹوُٹ گیا-
میں نے رب کی بارگاہ میں سجدہء شکر ادا کیا پھر اشراق پڑھ کے چارپائ پہ جا گرا-

مرید میرے ڈھول بجانے گاؤں میں نکل کھڑے ہوئے- جگہ جگہ میرے اور حاکم شاہ کے مریدوں میں بحث چل نکلی- وہ کہتے کہ ولی محمّد پیر صاحب کے آستانے پہ ٹھیک ہوا ہے ، یہ کہتے کہ پیر صاحب نے تو شام کو ہی جنازہ اٹھا دیا تھا ، ٹھیک تو وہ سائیں کی دعا سے ہوا ہے-

بات بڑھی تو دربار والوں نے ولی محمّد سے صدقے کا بکرا مانگ لیا- وہ غریب بھاگا بھاگا میرے پاس آیا اور بولا:
“سائیں جی بکرا کِس کو چڑھانا ہے؟ پِیر صاحب کو یا آپ کو؟”
میں نے کہا:
“خبردار – سادات پر اُمّت کا مال کھانا حرام ہے- اگر زیادہ ہی فالتو مال ہے تو بڑی عید پر قربانی کر دینا- حاکم شاہ کی بھینٹ مت چڑھانا”

میرے اس بیان کو پیر صاحب کے سامنے توڑ موڑ کر پیش کیا گیا- کہا گیا کہ میں سادات کا منکر ہوں اور ان کی شان میں سخت گستاخی کرتا ہوں- حاکم شاہ کے مریدوں نے آسمان سر پہ اٹھا لیا اور دن رات میری بربادی کے منصوبے بنانے لگے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالاخر ایک روز یہ دشمنی رنگ لے آئ اور پولیس پارٹی نے ڈیرے پہ چھاپا مار دیا- میں عصر پڑھ کے تسبیح کر رہا تھا کہ شازا ہانپتا کانپتا کمرے میں آیا-
” سائیں جی … بب … باہر پولیس آئ ہے … وہ آپ کو بلاتے ہیں جی … آپ پچھلے دروازے سے نکل جائیں ”

میں نے کہا ” کیوں ؟ سائیں نے کسی کا مال کھا رکھّا ہے کہ نکل جائے؟ … تم لوگ یہیں بیٹھو … میں کرتا ہوں بات ان سے … !!!”

شازا مجھے روکتا ہی رہ گیا اور میں گیٹ کھول کے باھر نکل آیا- سامنے گلی میں کیکر کے سائے تلے پولیس کی ویگن کھڑی تھی- ایک حوالدار بونٹ سے ٹیک لگائے سگریٹ پھونک رہا تھا- مجھے آتا دیکھ کر اس نے سگریٹ بجھائ اور رعونت سے بولا:
“سائیں کو بھیجو … باہر .. !!”

میں نے قریب جا کر سلام کیا اور کہا ” جی فرمائیے … سائیں حاضر ہے … !!”

اس نے حیرت سے مجھے سر تا پاؤں گھوُرا اور بولا:
” ہم نے سنا ہے آپ کے ڈیرے پہ پیپل پالٹی کا جھنڈا لہرایا جاتا ہے؟ جئے بھُٹّو کے نعرے لگتے ہیں؟ وی سی آر پہ بھارتی فلمیں چلتی ہیں …!!”

میں نے کہا ” جھنڈا تو فی الحال اُسی کا ہے جس کے ہاتھ میں ڈنڈہ ہے … ھمارے پاس تو صرف تسبیح ہے …. وی سی آر کیا یہاں ریڈیو بھی نہیں بجتا … اور بھٹّو صاب کو عرصہ ہوا ہم نے نہیں دیکھا …!!”
وہ بولا ” ہمیں یہی خبر ملی ہے- تلاشی لینا پڑے گی ہمیں ڈیرے کی”
میں نے کہا ” تشریف لائیے”

پولیس ڈیرے پہ داخل ہو گئ- پندرہ بیس مریض چارپائیوں پہ موُدھے سیدھے پڑے تھے- ان پہ ایک نظر ڈالی پھر کمروں میں جا کے الٹ پلٹ کرنے لگی- تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک سپاہی کسی کمرے سے پرانا سا اخبار لیکر باھر نکلا اور حوالدار سے کہا:
“سر رونامہ مُساوات مِلا ہے .. بھُٹّو کی فوٹو بھی ہے اس میں … !!”

حوالدار نے میری طرف دیکھا- میں نے کہا ” لے جاؤ مساوات کو اور تندور میں ڈال دو … تین دن تک مسلسل آگ جلانا … پھر جو راکھ بچے … اسے راوی کے پُل سے بہا دینا … اگر پھر بھی بھُٹّو زندہ رہا تو سمجھ لینا سرکار کو واقعی خطرہ ہے … مساوات سے …. !!!”

وہ شرمندہ ہوا- اس نے اخبار لپیٹ کر سپاہی کو دی اور خاموشی سے رخصت ہو گیا-

دوسرے روز اشراق کے بعد صحن میں مریضوں کو دم کر رہا تھا کہ وہی پولیس حوالدار اندر آگیا- وہ سِوّل لباس میں تھا- میں نے اس کی طرف کوئ توّجہ نہ کی اور برابر مریضوں کو دم کرتا رہا- کام ختم کر کے میں خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا آیا-

کچھ ہی دیر بعد شازا اسے ساتھ لئے میرے کمرے میں آیا اور بولا:

“حوالدار شوکت صاحب آئے ہیں جی … معافی مانگنے ..!!”
میں نے ڈانٹ کر کہا:
” میری اجازت کے بغیر کیوں لائے ہو اسے …؟ سارا دِن دم دروُد کر کے شیطانوں کو بھگاتا ہوں .. تو پکڑ پکڑ کے میرے کمرے میں لا رہا ہے ؟؟ ”

حوالدار ہاتھ جوڑ کر میرے پاؤں میں بیٹھ گیا- اور بولا:

” خُدا کا واسطہ … معاف کر دیو سائیں … میرے باپ کی بھی توبہ کہ آئندہ ادھر کا رخ کروں … کل واپس جاتے ہوئے ویگن کا ٹائر پھٹ گیا … تین مرغیاں تھیں … رات بِلّے نے مار دیں … آج صبح تھانے پہنچا تو معلوم ہوا کہ قتل کے ایک کیس میں غلط تفتیش کرنے پر معطّل ہو رہا ہوں … میری بیلٹ بچا لو سائیں جی …!!”

میں نے کہا ” اس بیلٹ سے کتنے مظلوموں کی پیٹھ ادھیڑی ہے تو نے ؟ کتنی ماؤں کا کلیجہ دکھایا ہے ؟ کسی اور کی آہ لگی ہو گی … سائیں کا تو نے کیا بگاڑا ہے ؟”

وہ بولا ” آپ پولیس اسٹیشن جا کر پوچھ لو … آج تک یہ ہاتھ کسی بے گناہ پر نہیں اٹھا .. آج تک ایک آنے کی رشوت نہیں لی .. ہمیشہ بچّوں کو حلال کھلایا ہے .. پوری تفتیش کر کے اصلی قاتل پکڑا تھا ، اس نے اپروچ کر کے معطّل کرا دیا ہے …جو آئے روز بے گناہوں کا چمڑا ادھیڑتے ہیں وہ ترقیّاں بھی پاتے ہیں اور ان کا نقصان بھی نہیں ہوتا … !!”

میں نے کہا ” اگر توُ واقعی ایمان دار ہے اور میری وجہ سے تیرا نقصان ہوا ہے تو میں رب تعالی سے استغفار کرتا ہوں .. دعا کرونگا تیرے لئے”

اس نے باھر کسی کو آواز دی- ایک شخص کے-ٹی کا تھان اٹھائے اندر آیا اور اسے پکڑا دیا-

میں نے کہا ” یہ کیا ہے ؟”
بولا ” آپکےلئے تحفہ لایا ہوں-
میں نے کہا ” میں تحفے اور نذرانے قبول نہیں کرتا”
وہ بولا “یہ حلال کمائ کا ہے- کسی کا تحفہ نہیں ٹھکرانا چاھئے- میں آپ کی نذر کرتا ہوں- آپ بھلے کسی اور کو بخش دیں”

میں خاموش ہو گیا-اس نے اٹھ کر عقیدت سے سلام کیا اور خاموشی سے رخصت ہو گیا-

کوئ مہینہ بعد ایک نئ یلغار کا سامنا ہو گیا- مغرب سے پہلے ہم عموماً دم درود بند کر دیا کرتے تھے- اس روز ڈیرے پہ سائلوں کا رش تھا- ہم نے مغرب کے بعد بھی کام جاری رکھّا- عشاء سے کچھ دیر پہلے ملک سہیل باہر سے بھاگتا ہوا آیا اور شور کیا کہ پیر حاکم شاہ کے لوگ ڈنڈے سوٹے لیکر آ رہے ہیں … کمریں کس لو-

مریدوں نے فوراً اٹھ کر گیٹ بند کیا پھر کمروں سے اپنے اپنے ڈانگ سوٹے نکالنے لگے-
میں نے کہا:
” یہ کیا کر رہے ہو ؟ یہی سکھایا ہے میں نے تمہیں … خبردار ..کوئ لڑائ نہیں کرے گا …. گیٹ کھول دو … آنے دو انہیں … میں نمٹ لیتا ہوں ان سے … !! ”

انہوں نے گیٹ کھولا تو آٹھ دس لٹھ بردار اندر چلے آئے- میرے مرید ہتھیار بند ہو کر میرے دائیں بائیں کھڑے ہو گئے-

میں نے کہا ” خبردار … کوئ لڑائ نہیں ہو گی یہاں … مجھ سے بات کرو … کیا کہتے ہو ؟”

ان میں سے ایک جو قدرے ادھیڑ عمر تھا بولا:
“آپ نے سادات کی شان میں گستاخی کی ہے …. دربار پہ جا کے معافی مانگو یا گاؤں چھوڑ کے چلے جاؤ … ورنہ ہم خود نمٹ لیں گے تُم سے …!!”

میں نے کہا ” گاؤں تو کسی صورت نئیں چھوڑوں گا …. رہی بات گستاخی کی تو پہلے یہ بتاؤ کہ کیا گستاخی کی ہے میں نے ؟؟”

وہ بولا ” آپ نے پیر سیّد حاکم شاہ بخاری کو جعلی سیّد کہا ہے؟ یہ گستاخی نئیں تو کیا ہے؟”

میں نے کہا ” سیّد کی تعریف جانتے ہو ؟”
وہ بولا ” ہاں جانتا ہوں … آلِ رسوُل ، اولادِ علی رض کو سیّد کہتے ہیں … ”
میں نے کہا ” اب یہ بتاؤ کہ مولا علی شیرِ خدا رض ، سیّدنا حسن رض اور سیّدنا امام حسین رضی اللہ تعالی .. آلِ رسول ناں تھے؟”
اس نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے کہا:
” اب یہ بتاؤ کہ سیّدین کونین لوگوں میں خیرات بانٹا کرتے تھے یا ان سے خیرات وصول کیا کرتے تھے …. ؟؟ ”

وہ کچھ دیر چُپ ہوا اور بولا :
“یہ بات آپ پیر صاحب سے خود جاکے پوچھیں … !!!”
میں نے کہا ” میں کیوں پوچھوں؟ تین پشتوں سے لٹتے تم چلے آ رہے ہو …. پوچھوں میں؟ جاؤ اور پوچھو اپنے پیر صاحب سے کہ اہلِ بیت اطہار کون تھے؟ تین روز تک مسلسل بھوکے رہ کر فقیروں کو کھانا کس نے کھلایا تھا ؟؟ دروازے پہ آئے ہوئے سائل کو بکریوں کا ریوڑ کس نے بخشا تھا؟ … صبح سے شام تک سونے چاندی کے سکّے غریبوں میں کس نے بانٹے تھے؟ قاتل کو شربت کس نے پلایا تھا ؟ چکّی پیس پیس کر کس ہستی کے مبارک ہاتھوں میں آبلے پڑ گئے تھے؟ اصلی ہونگے تو جواب ضرور دیں گے … جواب مل جائے تو مجھے بھی آ کے بتا دینا ”

وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے- مجمع سے اٹھ کر کچھ بزرگوں نے انہیں سمجھایا بجھایا تو واپس لوٹ گئے-

شام کو پیر صاحب کا وزیر خاص الہی بخش بھاگتا ہوا آیا-

“پیر صاحب اپنے مریدوں کی حرکت پہ سخت رنجیدہ ہیں … اور آپ سے معزرت کرنے کو دربار پہ بلا رہے ہیں …!!”

میں نے کہا ” حملہ سائیں کے ڈیرے پہ آ کے کرتے ہیں اور صلح کےلئے دربار پہ بلاتے ہیں ؟ سائیں صرف اپنے مالک کے دربار پہ جاتا ہے … نئیں جاؤں گا … بتا دو جاکے کہ سائیں نے انکار کر دیا ہے ….!! ”
وہ خاموشی سے چلا گیا-

دو روز بعد ایک شب میں ڈیرے کے پچھلے احاطے میں مریدوں کی محفل سجائے بیٹھا تھا- مُرید چارپائیوں کے بیچ آگ کا بھانبھڑ جلا کے مکئ کے بھُٹّے بھون رہے تھے-

اچانک ملک ایّوب میرے پاس بھاگا بھاگا آیا اور بولا:

” پیر صاحب آئے ہیں … دوسرے احاطے میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں … خدا کےلئے کوئ گستاخی نہ کیجئے گا … آخر سیّد ہیں … پانی گدلا بھی ہو جائے تو آگ پہ حاوی رہتا ہے”

میں خاموشی سے اُٹھا اور دوسرے احاطے میں چلا آیا- پیر صاحب عصاء تھامے بڑی سی آرام کرسی پر تشریف فرماء تھے- یہ کرسی بھی ان کے مُرید دربار سے ہی ساتھ لائے تھے- دو کمزور سے مُرید ان کی مُٹھی چانپ میں مصروف تھے-

مجھے آتا دیکھ کر انہوں سے سر اٹھایا اور مریدوں کو باہر جانے کا حکم دیا-

میں سلام کر کے پیڑھا گھسیٹ کے ان کے پاس جا بیٹھا- وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے:
” نام کیا ہے تیرا ….؟؟”
” میں نے کہا ” صلاح الدین …!! ”
“کہاں سے آئے ہو ؟؟”
میں نے کہا “راوی پار سے !!”
” قوم کیا ہے تیری ؟؟”
کہا ” کمہار ہوں”
انہوں نے بڑی سی ہونہہ کی اور بولے:

” مالک کی مرضی …. فقر کا خزانہ اسی کا ہے … جسے چاہے بخش دے … چاہے تو چوروں کو قطب بنا دے … کون پوچھ سکتا ہے اس سے؟؟ … مانا کہ بخت تیرا عروج پہ ہے … جوانی میں فقیری وی مل گئ … مرید وِی … اور ملک پور جیسا زرخیز پِنڈ وِی … خیر جو مرضی مالک کی … ہم کیا کہ سکتے ہیں … ہم تو صرف سمجھانے آئے ہیں کہ فقیر بن گیا ہے تو فقیری کا طریقہ وِی سیکھ …. پیری فقیری کے کچھ اصول ہوتے ہیں … کوئ قاعدے ہوتے ہیں ، کچھ قانون ہوتے ہیں …!! ”

میں نے کہا ” مجھے سمجھا دیجئے میں نے کون سا قاعدہ قانون توڑا ہے ؟”

وہ بولے:
“دیکھ … مولوی مولوی کا ویری ہوتا ہے … اس کے ساتھ لڑتا ہے … بھڑتا ہے .. مناظرے کرتا ہے … اس کے رد میں تقریریں کرتا ہے … کتابیں چھاپتا ہے …. لیکن پِیر ایسا نئیں کرتے … پِیر تو پِیر کا بھائ ہوتا ہے …. کبھی تو نے قادری ، سہروردی ، نقش بندی اور چشتی کو آپس میں سینگ پھنسائے دیکھا ہے؟ لڑتا کون ہے؟ شیعہ ، بریلوی ، دیوبند ، وہابی … ہر وقت ایک دوسرے پہ کیچڑ پھینکیں گے … اسی لئے تو وہ کیچڑ میں لت پت رہتے ہیں اور پِیر کا مزار بھی اگر بتیوں سے مہکتا رہتا ہے … اسی لئے مسجدوں سے عوام کنارہ کر گئ ہے اور آستانوں پہ بیٹھنے کو جگہ نئیں ملتی … اسی لئے مولوی تنگ دست رہتا ہے اور پیر کا لنگر سال بھر چلتا ہے- دیکھ صلاح الدین … لڑائ کریں گے تو دونوں تنگ دست رہیں گے … مل جل کر رہیں گے تو خدا شان بنائے رکھّے گا … ہماری تیسری پیڑھی چل رہی ہے اس پِنڈ میں … مُدتوں پہلے یہاں اولے پڑے تھے … ڈنگر ، وچّھے ، کُکّڑ ، بٹیرے سب مر گئے تھے … فصلیں تباہ ہو گئ تھیں … پھر ہمارے پردادا سائیں …. سیّد بودلے شاہ بخاری نے فصلوں کو کڑا دیا … ذمّہ واری اٹھائ کہ آئیندہ اس پِنڈ میں اولہ نہیں پڑے گا …. فصلیں تباہ نہیں ہونگی … آج تک اولے نہیں پڑے … ہم اسی کڑے کا صدقہ لیتے ہیں … یہاں سے چلے گئے تو بربادی آئے گی … لیکن تیرے جانے سے کوئ نقصان نہ ہو گا … نہ پِنڈ کا … نہ تیرا … یہ ہماری گارنٹی ہے … یہاں سے صرف تین مِیل دور چار چَک ہے … اسے راجوں والا پِنڈ بھی کہتے ہیں … میں نے بات کی ہے وہاں … راجہ افتخار سے … وہ تجھے ڈیرہ بھی دے گا …. اور مرید بھی … تیری ٹہل سیوا بھی یہاں سے زیادہ ہو گی …. تو راجوں کے پِنڈ چلا جا … ملک پور کو ہمارے ہاتھ میں رہنے دے …!!”

میں کچھ دیر آنکھیں بند کئے بیٹھا رہا پِھر کہا :
” پیر سائیں … میں یہاں اپنی مرضی سے نہیں بیٹھا … بابا ڈاکیا سرکار نے بٹھایا ہے مجھے … فقیری کا چارج بھی میں نے انہی سے لیا ہے … مانا کہ سیّد نہیں ، کمّی کمین ہوں … نہ بارش کو روک سکتا ہوں نہ اولوں کو … میں تو امریکن سنڈی کو بھی نہیں روک سکتا جو ہر سال ان غریبوں کی فصل اجاڑ دیتی ہے … ہاں میں ٹوٹے دِلوں کو ضرور جوڑ سکتا ہوں … بہتے آنسوؤں کے آگے ڈھارس کا بند باندھ سکتا ہوں … رب سائیں سے ان کےلئے دُعا کر سکتا ہوں … یہی نوکری ہے میری … اور یہ نوکری میں کرتا رہونگا … اسی پِنڈ میں ….!!

گاؤں میں ہر روز کئ اخبارات شائع ہوتے تھے- یہ اخبارات کسی کاغذ پہ نہ لکھّے ہوتے بلکہ گپ تھڑپ کی صورت ہوتے تھے- ان کی شہہ سرخیاں اڈّے پر بیٹھے ہوئے جواری مُرتّب کرتے، ان کے اداریے گاؤں کے حجام لکھتے اور بڑی بوڑھیاں سر جوڑ کر ان پہ کالم نگاری کرتی تھیں-

پیر صاحب کی ہم سے خفیہ ملاقات بہت جلد طشت ازبام ہو گئ- گاؤں کے اخبارات نے رنگا رنگ سرخیاں جمائیں- کسی نے لِکھّا ” سائیں چل کے پِیر کے پاس آیا ” تو کسی نے سرخی جمائ “سیّد چل کے سائیں کے پاس گئے”- ان حالات میں ایک عام آدمی سخت تذبذب کا شکار ہو گیا- حالات بہتری کی بجائے بدتری کی طرف جانے لگے-

مجھے مریضوں کو دم کرنے اکثر دور دراز گاؤں پنڈوں میں جانا پڑتا تھا- حالات اس نہج پہ آ گئے کہ ادھر میں گاؤں سے نکلتا ادھر سرخی لگ جاتی کہ سائیں گاؤں چھوڑ کر چلا گیا ہے- اسی طرح پیر صاحب کسی مرید کی دعوت پہ دوسرے گاؤں چلے جاتے تو خبر لگ جاتی کہ ” بالاخر پیر صاحب نے گاؤں چھوڑ دیا …!!”

اگلا معرکہ مسجد چوک پہ پیش آیا- اس روز نمازِ جمعہ کے بعد میرے ایک مرید کو پیر صاحب کے مُرید نے اچھی طرح پھینٹ ڈالا- جھگڑا “کمہار کا مُرید” ہونے کے طعنے پہ شروع ہوا تھا- جواباً اس نے اسے “ڈاکو کا مُرید” کہ کر بھڑکا دیا- دونوں طرف گریبانوں کی دھجیّاں اڑ گئیں- خیر بڑے بوڑھوں نے آگے بڑھ کر مداخلت کی اور کوئ بڑا نقصان نہ ہوا لیکن تعصّب کی آگ پورے گاؤں میں پھیل گئ-

شام کو دربار سیّداں سے ایک نئ تجویز آگئ-
الہی بخش نے آ کر کہا:
“پیر صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کمّیوں والی پانڈ چلے جائیں- نائ ،موچی ، دھوبی ، کمہار ، ماشکی ، وگاری، مُسلّی سب وہاں رہتے ہیں- اگر آپ واقعی انسان کی برابری کے قائل ہیں تو کمیوں کی پانڈ جا کر رہیں اور ان کے پِیر بن جائیں”

میں نے کہا ” یہ کیا بات ہوئ؟ کیا رب تعالی نے کمیوں اور دوسرے انسانوں کےلئے الگ الگ پیغمبر اتارے؟ کیا حضرت نوح لکڑی کا کام نہ کرتے تھے؟ حضرت ادریس کپڑے نہ سیتے تھے؟ حضرت داؤد نے لوہا نہ کوُٹا تھا؟ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلّم اپنے نعلین مبارک خود نہ مرمّت فرماتے تھے- پیر صاحب سے کہیں آپ سیّدوں والے پِنڈ چلے جائیں تاکہ عام انسانوں کے کندھوں سے بوجھ اترے اور وہ سُکھ کا سانس لے سکیں … !!”

گندم کی کٹائ عروج پہ تھی کہ موسم کے تیور بگڑنے لگے- پہلے آندھیاں آئیں ، پھر صبح شام بارش برسنے لگی- کسانوں کے کھلواڑے بھیگ گئے- ایک روز اچانک ژالہ باری شروع ہو گئ- اتنا موٹا دانہ برسا کہ لوگ پناہ پناہ کر اُٹھے- موسم تو دو روز بعد اچھا ہو گیا لیکن پیر صاحب کا کڑا ، کڑکڑا کے ٹوُٹ گیا-

لوگ مایوس ہو کر میرے پاس دوڑے آئے کہ آپ ہماری فصل کو تازہ کڑا دیں تاکہ گندم برباد ہونے سے بچ جائے-
میں نے کہا :
“بھائیو … گرمی ، سردی ، بہار ، خزاں ، آندھی طوفان یہ سب اللہ تعالی کی قدرت ہے- موسم پہ انسان کا کیا اختیار؟ ہاں رب تعالی نے انسان کو عقل ضرور دی ہے کہ نقصان سے بچنے کی تدبیر کرے- سب سے بہتر تدبیر صدقہ ہے- جو نذر نیاز تُم پیر صاحب کو چڑھاتے ہو ، وہی اگر رب کے بینک میں جمع کرا دو تو انہی بھیگے ہوئے کھلواڑوں سے تمہارا سال بھر کا رزق نکل سکتا ہے- ضمانت میں دیتا ہوں … بتاؤ کون کون تیّار ہے …؟؟”

” کیا مطلب؟ یہ رب کا بینک کہاں ہے؟” ایک بابے نے پوچھا-
” آسمانوں میں … ” میں نے کہا-
” اور آسمان پہ چڑھے گا کون؟” میں نے کہا ” آسمان پہ چڑھنے کی ضرورت نہیں … زمین پہ کسی نادار کا ہاتھ پکڑ لو ، آسمان پہ رزق کا دروازہ خودبخود کھُل جائے گا … سب سے زیادہ منافع وہی دیتا ہے … اور اس اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے صدقہ و خیرات … اگر ہر زمیندار یہ نیّت کر لے کہ وہ ایک بوری گندم ہمارے ڈیرے پہ بھجوائے گا ناداروں کےلئے تو ان شاءاللہ انہی کھلواڑوں سے صحت مند دانے نکل آئیں گے- بودلے شاہ کا کڑا تو تم لوگوں نے دیکھ ہی لیا اب سائیں کا کڑا بھی آزماء کے دیکھ لو …!!”

” ٹھیک ہے … ہم دیں گے … ہم سب دیں گے ” وہ یک زبان ہو کر بولے-

میں نے کہا ” تین روز بعد جا کر اپنا کھلواڑہ کھول لینا … ان شاءاللہ صاف گندم نکلے گی”

اللہ پاک نے فضل کیا اور یہ کڑا واقعی کارگر رہا- اگلے کچھ روز خوب دھوپ نکلی اور گندم کی گہائ شروع ہو گئ- ہفتہ بھر میں ہمارے ڈیرے پہ گندم کے ڈھیر لگ گئے- ہم نے مریدوں کو دانے صاف کرنے پہ لگا دیا- منڈی سے خالی بوریاں منگوائیں پھر غریبوں کی پانڈ میں تقسیم کرنے نکل کھڑے ہوئے-

ایک روز ہم گندم تقسیم کرنے کو اڈّے کی طرف جا رہے تھے کہ پیر صاحب کی گاڑی آتی دکھائ دی- شاید وہ شہر سے واپس آ رہے تھے- ملک فیصل نے بتایا کہ پیر صاحب کچھ روز سے بیمار ہیں اور علاج کی غرض سے آج کل شہر جاتے رہتے ہیں-

میں نے کہا ” ان شاءاللہ شام کو ہم ان کی عیادت کےلئے ضرور جائیں گے”

مغرب کے بعد ہم فیصل اور شازے کو ساتھ لئے پہلی بار پیر صاحب کے آستانے پہ گئے-
دروازہ الہی بخش نے کھولا- وہ کچھ دیر ہمیں حیرت سے دیکھتا رہا پھر بولا:
“خخ … خیریت ؟؟”
میں نے کہا ” گھبرائیے مت- ہم صرف پیر صاحب کا حال پوچھنے آئے ہیں … جائیے اور اجازت لے کر آئیے …!!”

وہ بھاگا بھاگا اندر گیا- کافی ساعتوں کے بعد لوٹا اور ہانپتے ہوئے بولا:
“آپ اکیلے کو بلا رہے ہیں جی .. باقیوں کےلئے اجازت نہیں …!!”

میں نے شازے اور فیصل کو باہر کھڑا کیا اور الہی بخش کے پیچھے پیچھے اندر چلا گیا-

پیر صاحب کی حویلی تقریباً ڈیڑھ ایکڑ پہ پھیلی ہوئ تھی- صحن میں ایک پکّی تُربت تھی جسے سفید سنگ مرمر نے برف کی طرح ڈھانپ رکھا تھا- اس پہ چراغ اور اگر بتیاں روشن تھیں- قیمتی پتّھر پر پڑنے والی روشنی نے پورے صحن کو بقعہء نور بنا رکھّا تھا- کچھ زائرین صحن میں لیٹے ہوئے تھے اور کچھ تربت پہ بیٹھے قران مجید پڑھ رہے تھے-

کچھ آگے بڑھے تو ایک خوبصورت پنگھوڑے پہ نظر پڑی- کچھ زائرین اس کا محاصرہ کئے بیٹھے تھے- ایک بارہ تیرہ سالہ سرخ و سفید لڑکا ماحول سے بے نیاز پنگھوڑے پہ آرام فرما رہا تھا- ہم قریب سے گزرے تو الہی بخش نے کہا:
“حضرت جی کے صاحبزادہ شریف … نِکّے شاہ جی …. سلام کرتے جائیے …!!”

ہم نے اسلام علیکم کہا لیکن نِکّے شاہ جی نے کوئ توجّہ نہ کی اور ہاتھوں میں پکڑی پلاسٹک کی ایک گڑیا سے کھیلتے رہے-
اچانک ہی طبلے پہ تاپ پڑی اور سامنے بیٹھے قوالوں نے مصرعہ اٹھا دیا …
تیرا چاندی دا جھولا
تیرا سونے دا پلنگ
نکّا بابا ملنگ …
میرا بابا ملنگ …!!

تان اچھّی تھی مگر رقص کی خواہش دم توڑ چُکی تھی- نگاہوں میں ٹاٹ سے بنے وہ جھولے گھوم گئے جن میں غریبوں کے بچّے سارا دن چیختے چلاتے تھے- مکھیاں جن پر دِن بھر بھنبھناتی تھیں اور مائیں جِن کی سارا دن گندم کاٹتی تھیں-

سامنے تین اطراف میں برامدوں کی قطار تھی جن پر شیشے سے خوبصورت نقش و نگار بنے ہوئے تھے- ایک طرف بڑا گودام تھا جہاں گندم کی بوریاں رکھّی ہوئ تھیں-

الہی بخش ہمیں مختلف برامدوں میں گھماتا پھراتا بالاخر آخری کمرے تک لے گیا- پھر ایک دروازے پہ کھڑے ہو کر دستک دی اور اندر چلا گیا- ہم باہر کھڑے دیواروں کے نقش و نگار دیکھنے لگے-

کچھ ہی دیر میں دروازہ کھلا اور الہی بخش نے جھانک کر کہا-
“حضرت صاحب اکیلے ہی ہیں جی … آپ جوتے اتار کر اندر تشریف لے آئیں …!!”

میں نے جوتے اتارے اور اندر چلا گیا- پیر صاحب ایک وسیع و عریض پلنگ پر نیم دراز تھے- میں نے سلام عرض کیا ، انہوں نے خفیف سی آواز میں جواب دیا اور کرسی کی طرف اشارہ کر دیا-

میں کچھ دیر کرسی پہ خاموش بیٹھا رہا- انہوں نے الہی بخش کو چائے کا کہا- جب وہ چلا گیا تو بولے:
” خیریت ؟ آج کیسے رستہ بھول پڑے؟”
میں نے کہا:
“آپ کی بیماری کی اطلاع موصول ہوئ- سوچا خیر خیریت دریافت پوچھ لوں- کیسی ہے اب آپ کی طبیعت ؟”

وہ بولے : “طبیعت تو وہی ہے جو دیکھ رہے ہو … افسوس تو نے ہماری کوئ بات نہ مانی … فساد ہم چاھتے نہ تھے … پیار سے تو نئیں مانتا … مولویوں والی ضد لگا رکھّی ہے … چاھتا کیا ہے آخر توُ ……؟؟ ”

میں نے کہا ” چاھت تو اسی دن رخصت ہو گئ جس روز ناک میں فقیری کی نکیل پڑی تھی .. بخدا میں نے کبھی آپ کا برا نہیں چاہا … آپ کی نسبت کا احترام کرتا ہوں … میں تو بس ان انسانوں کےلئے فکرمند ہوں جنہیں آپ نے نسبت کی اس نکیل سے باندھ رکھّا ہے … حسب نصب تو دنیاداری کا تماشا ہے پیر جی .. نوح کا بیٹا ہو یا خلیل اللہ کا باپ … رب کے ہاں اس کی کوئ حیثیّت نہیں … وہاں صرف اچھّا عمل ہی معتبر ہے …..!!”

وہ بولے:
“یہ بات نہیں صلاح الدین … ہم نے کسی کو نسبت سے نہیں باندھا … حسب نصب کی وجہ سے کوئ عقیدت رکھتا ہے تو اس کی مرضی … کوئ نہ رکھّے تو زبردستی تھوڑی ہے؟”

میں نے کہا:
“رزق پہ سب انسانوں کا حق ہے … جو چڑھاوے دربار سیّداں پہ چڑھتے ہیں کیا ان پر غریبوں مسکینوں کا کوئ حق نہیں ؟؟”

وہ بولے:
” ہمارے ہاں جو رزق آتا ہے وہ غریبوں پہ ہی خرچ ہوتا ہے … عرس ، گیارہویں ، کونڈے مخلوقِ خدا ہی کھاتی ہے … دو مربع زمین ہماری اپنی ہے … ہم کسی پہ بوجھ نہیں … تُم خوامخواہ لوگوں کا دماغ کیوں خراب کر رہے ہو ؟؟”

میں نے کہا :
“میں نے کسی کا دماغ خراب نہیں کیا … ہاں وہ غریب جسے دو وقت کی روٹی دستیاب نہیں اسے روکا ضرور ہے … کہ آپ کے دربار پہ کچھ مت چڑھائے ..!!”

وہ بولے:
“دیکھو صلاح الدین …. کئ سال سے ہم بیمار چلے آتے ہیں … شوگر نے جسم کا جوڑ جوڑ تباہ کر دیا ہے … ایک ہی صاحبزادہ ہے ہمارا … نِکّے شاہ … عقل سے بھی بودلہ ہے … نہ پڑھ سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے … نہ ہی کسی کام کے قابل ہے … ہمارے ہوتے ہوئے بادشاہوں والی زندگی گزاری ہے اس نے … وہی ہماری گدّی کا تنہا وارث ہے … تمہاری وجہ سے لوگ ہم سے ٹوٹ رہے ہیں … سوال کرنے لگے ہیں … گستاخ ہو رہے ہیں … اس سال بمشکل سال بھر کی گندم جمع ہوئ ہے … اگلے سال شاید یہ بھی نہ ملے … اگر یہی سلسلہ رہا تو گدّی نہیں رہے گی …. گدّی نہ رہی تو نکّے شاہ رُل جائے گا … !!”

اس کے بعد انہوں نے ایک سرد آہ بھری اور آسمان کی طرف دیکھ کر بھرّائ ہوئ آواز میں کہا:

“واہ میرے مولا تیرے رنگ … آج ایک سیّد زادہ …. ایک کمہار کے سامنے بیٹھا اپنی گدّی کی بھیک مانگ رہا ہے ؟”

میں نے کہا ” ضرور سیّد زادوں سے کوئ بھول ہوئ ہے …. ورنہ آپ سے گدّی چھین کر وہ ہم کمینوں کو کیوں دیتا؟ کہاں آپ اور کہاں ہم … جب شاہ اپنے فرائض سے غافل ہو جائیں تو پیچھے کُمہار اور جولاہے ہی بچتے ہیں … وہ مالک ہے … جسے چاھے نوکری پہ رکھّ لے … بہرحال آپ فکر نہ کریں … آپ کی گدّی سلامت رہے گی … میری اس طرف کوئ نگاہ نہیں …اس گدّی پہ نکّے شاہ ہی بیٹھے گا … مجھ سے آئیندہ آپ کو کبھی کوئ رنج کوئ تکلیف نہ پہنچے گی … آپ اپنے دربار پہ خوش رہیں … ہمیں اپنے ڈیرے پہ خوش رہنے دیں …. اپنے مریدوں کو سمجھا دیجئے … پھڈّے کرنا چھوڑ دیں …ہم بھی سمجھا دیں گے … آج کے بعد کوئ جھگڑا ، کوئ لڑائ نہ ہو گی .. !!”

پِیر صاحب نے غیر یقینی نظروں سے مجھے دیکھا- اس دوران الہی بخش چائے لیکر آگیا اور ہم خاموش ہو گئے-
میں نے کہا:
“اگر آپ اجازت دیں تو شازے کو بلوا لوں … کچھ نزرانہ لایا تھا آپ کےلئے …!!”

وہ مسکرائے اور سر ہلا کر اجازت دی- میں نے الہی بخش کو بھگایا- تھوڑی ہی دیر میں شازا کے- ٹی کا تھان لیکر حاضر ہو گیا-

میں نے کہا ” یہ قبول کیجئے .. اور غلطی کوتاہی معاف کر دیجئے … آئیندہ سے آپ کے بھائ بن کے رہیں گے ”

پیر صاحب نے الہی بخش کو اشارہ کیا- کچھ دیر میں وہ بھی ایک کپڑے کا تھان لیکر آ گیا- پیر صاحب اٹھے اور اپنے ہاتھوں سے ہمارے سر پہ پگ باندھنے لگے-

پیر صاحب سے جنگ بندی کا معاملہ بڑا کارگر رہا- گاؤں والوں نے بھی سکون محسوس کیا اور ہم پر بھی برکت کے چشمے پھوٹ پڑے-ھم جتنا خرچ کرتے گئے ، مالک ستر سے ضرب دے کر لوٹاتا رہا- ڈیرے پہ ٹیلی فون لگ گیا ، شازے نے دور دراز کے مریدوں کو دم کروانے کےلئے ڈاٹسن خرید لی- پھر کرولا چھیاسی آ گئ – آہستہ آہستہ ہم بھی سائیں سے پیر بنتے چلے گئے-

ھم نے پیر حاکم شاہ کے ساتھ کئے معاہدے کا پورے چھ ماہ تک پاس رکھا- نہ ہم ان کے ہاں گئے نہ وہ ہماری طرف آئے لیکن ہر ماہ انہیں کچھ نہ کچھ ھدیہ ضرور بھجواتے رہے- تاھم اس یادگار معاہدے کے چھ ماہ بعد ہی پیر صاحب دنیا کی عارضی گدّی چھوڑ کے دار بقاء تشریف لے گئے-

ہم نے خود جا کر نِکّے شاہ کی نذر اتاری- اسے سادات کی دائمی گدّی پہ بٹھایا جس کا وہ اصل وارث تھا- ہمارا کیا ہے؟ ہم تو عارضی نوکر ہیں- کیا معلوم کب مالک نوکری سے برخواست کر کے دوبارہ کمہاروں والی بھٹّی پہ بٹھا دے-

ہم پیر صاحب کے جنازے میں مع مریدوں کے اسی طرح شریک ہوئے جس طرح وہ سال پہلے بابا ڈاکیا کے جنازے میں شریک ہوئے تھے- وہی ہٹّو بچّو کا شور ، وہی سفید رنگ کی گاڑی ، اور جنازے کے بعد وہی محبّت بھرا اعلان کہ پیر صاحب کے ذِمّہ کسی کا قرض یا بقایا ہو تو ہم دینے کو حاضر ہیں ….!!”

ہم مولوی تھوڑی ہیں جو ٹکّے ٹکّے کے مسئلوں پہ ایک دوسرے کو پچھاڑتے رہیں- ہم پیر ہیں اور پیر ہمیشہ بانٹ کے کھاتے ہیں- اسی لئے خوشحال رہتے ہیں- بقول پیر حاکم شاہ بخاری مرحوم … مولوی مولوی کا ویری ہوتا ہے اور پِیر پِیر کا بھائ …. !!

تین سال بیت گئے-
ہماری شہرت ملک پور سے نکل کے چہارسوُ پھیل چکی تھی- دور دراز سے لوگ ہماری زیارت کو آ رہے تھے- ڈیرے پہ بسوں ، کاروں ویگنوں اور رکشوں کا اژدھام رہنے لگا تھا-

ایک روز بھٹّے والا پٹھان بھی ادھر آ نکلا اور پانچ ہزار نقد چڑھائے- اس کی بیٹی عفریت سے آزاد ہو چکی تھی اور وہ مُدّت سے ہمیں ڈھونڈ رہا تھا- ڈیرہ غازی خان سے نواب رئیس بھی تشریف لائے اور دس ہزار لنگر کےلئے ھدیہ کیا- اس کے بعد تو جیسے روپے پیسے کی بارش شروع ہو گئ-

ہم نے ایک روپیہ نہ رکھّا اور خلقت میں بانٹتے چلے گئے- غریب بچیوں کی شادیاں کرائیں ، موتئے والوں کے آپریشن کرائے ، درد سے کراہتے مریضوں کی شہر کے بڑے ہسپتالوں سے رسولیاں نکلوائیں- غریب غرباء کے علاج معالجے کےلئے ٹوکن کا نظام متعارف کرایا- یہ ٹوکن دکھا کر وہ قریبی شہر کے ڈاکٹر سے نہ صرف مفت علاج کروا سکتے تھے بلکہ ادویات بھی خرید سکتے تھے-

سردیوں کی ایک خُنک دوپہر تھی- سفید بادلوں نے سورج کا چہرہ ڈھک رکھّا تھا اور ٹھنڈک بڑھ گئ تھی- ہم مریضوں کو دم کر رہے تھے کہ شازا کپڑوں کی ایک پَنڈ لئے ہمارے سر پہ آن کھڑا ہوا-
ہم نے کہا یہ کیا ہے ؟
وہ اپنی لمبی زلفوں کو سنوارتے ہوئے بولا:
” آپ نے فرمایا تھا ناں کہ آپ کے نئے پرانے سب کپڑے صدقہ کر دئے جائیں … میں نکال لایا ہوں … آپ ایک نظر دیکھ لیں”

ہم نے کہا ” بس دیکھ لئے- انہیں ملک آصف کے بھٹّے پہ بھجوا دو- بتانا کہ پیر صاحب نے بھیجے ہیں … مزدوروں کےلئے … !!”

وہ کپڑوں کی پَنڈ اُٹھائے ڈیرے سے باھر نکل گیا-
اچانک ہی ہمیں کچھ یاد آیا- ہم مریضوں کو چھوڑ کر دروازے کی بھاگے- شازہ ڈاٹسن اسٹارٹ کر چکا تھا- ہم نے آواز دی-
“رُکو …. !! ”
وہ گاڑی بند کر کے بولا ” جی بابا جی ؟”
” وہ کپڑوں کی پنڈ … اتارو ذرا … اندر لے کے آؤ … !!”

وہ گٹھڑی اٹھا کے اندر لے آیا اور ہمارے سامنے چارپائ پہ آن دھری- ہم نے اسے کھولا اور تمام کپڑے ایک ایک کر کے دیکھنے لگے- پھِر کاٹن ، کے ٹی ، فلیٹ ، اور ٹیراویرا کو الگ کیا اور سیاہ ملیشیا کی ایک پرانی سی قمیض نکال کر کہا:
” بس یہ رہنے دو … باقی سب لے جاؤ … !!”

وہ چلا گیا تو ہم کن اکھیوں سے مریضوں کی طرف دیکھتے ہوئے کمرے میں چلے آئے- پھر اندر سے کنڈی لگائ اور بلب جلا کر اس قیمتی لباس کو دیکھنے لگے-

ملیشیا کی اس پرانی قمیض سے ہماری بہت سی یادیں جُڑی تھیں- ہماری اصل اوقات یاد دلانے کو یہ قمیض بہت ضروری تھی-

تین سال پہلے تن ڈھانپنے کو ہمارے پاس یہی ایک کپڑا تھا- یہ وہی قمیض تھی جسے پہن کر ہم اس رات درگاہ سے نکلے تھے ، اور کالے کھوہ سے ہوتے ہوئے ملک پور تک پہنچے تھے-

ہم نے قمیض کو سونگھا ، آنکھوں سے لگایا اور بے خیالی میں اس کی جیبیں ٹٹولنے لگے- اچانک ہی ہمارا ہاتھ کسی نرم و نفیس شے سے ٹکرایا- ایک مخملی سی پوٹلی ہمارے ہاتھ لگی- اس کے ساتھ ایک سنہری ڈور بندھی ہوئ تھی- ہم نے تجسس سے اسے کھولا تو اندر سے چاندی کی چمکتی ہوئ چھاپ نکل آئ-

ہمارا دِل بڑی شدّت سے دھڑکا اور ہم اس چھاپ کو ہاتھوں میں لے کے غور سے دیکھنے لگے-
یادوں کے صحرا سے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا ہمیں چھو کر گزر گیا-
رخسانہ …. !!!
کیا وہ ایک سراب تھی ؟
یا محض ایک خواب ؟ جو ہم نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا اور پھر سو گئے ؟؟
لاحول ولا قوة الا باللہ … !!!
یہ ہم کیا سوچ رہے ہیں ؟؟
یہ عورت کا خیال بھی کیسے آ گیا ہمارے دِل میں؟
الّھُمَّ اِنّی اَعُوذُبِکَ مِن فِتنَةُ النِساء

ہم نے انگوٹھی واپس قمیض کی جیب میں رکھّی اور باھر آ گئے- چارپائ پہ بیٹھے مریضوں کے چہرے ہمیں دیکھ کر خوشی سے دمک اُٹّھے-

ہم دم کرنے کی غرض سے ایک مریض کے پاس جا کھڑے ہوئے- اسے جنّات کا وہم لاحق تھا-
کہنے لگا:
” ایسا چمٹا ہے کہ جان ہی نہیں چھوڑتا … نڈھال کر دیا مجھے تو …!!”
ہمارے مونہہ سے بے ساختہ نکلا:

” چلنے کا حوصلہ نہیں ، رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو ، مجھ کو نڈھال کر دیا”

وہ حیرت سے ہمیں دیکھنے لگا- ہم بھی حیرت سے اسے دیکھنے لگے اور کہا:
“جو دشتِ عشق میں بچھڑے وہ عمر بھر نہ ملے
یہاں دھواں ہی دھواں ہے قریب آ جاؤ”

کچھ سجھائ نہ دیتا تھا کہ ہوش و خرد میں ہیں یا دیوانے ہو چکے ہیں؟ کسی سے ہم کلام ہیں یا زیرلب خود سے سرگوشیاں کر رہے ہیں-

ایک ہی ملاقات ہوئ تھی اس سے ؟
صرف ایک مُلاقات ؟
اس روز یہ چھاپ ہم نے اسے کیوں نہ پہنائ تھی ؟؟

ہم خیالات کو جھٹک کر دوسرے مریض کی طرف پلٹے- اس کا جِگر ختم ہو چکا تھا اور بچنے کی کوئ امید نہ تھی-
کہنے لگا:
” گھبراہٹ ہوتی ہے سائیں ..!!”

ہم نے اس کے سینے پہ تھپکی دی اور کہا :
“طولِ شبِ فراق سے گھبرا نہ اے جِگر
ایسی بھی کوئ شام ہے جس کی سحر نہیں ؟”
کیا ہمارے عشق کی بھی کوئ سحر ہو گی؟ ”
وہ بولا ” جی …..؟؟؟”
ہم نے چونک کر کہا ” کچھ نہیں … اللہ پاک شفاء دے گا … اب جاؤ … !!”

ہم جتنا خیالات کو جھٹکتے اتنے ہی سوالات دماغ کو جکڑتے جا رہے تھے-
ہم اس سے دوبارہ ملنے کیوں نہ گئے ؟؟
ہمیں یہ چھاپ پہنانی چاھئے تھی- ایک ملاقات تو کرنا چاھئے تھی- اک ملاقات جو شاید بہت ضروری تھی-

رخسانہ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح ہمارے چاروں طرف رقص کر رہی تھی- ہم محفل میں کھڑے تھے مگر یادوں کے صحرا میں بھٹک رہے تھے-
” بخار جان نہیں چھوڑ رہا جی … دُعا کر دیں سرکار …!!”

ہم آنکھیں بند کئے مریض کو دم کر رہے تھے مگر لائن … مالک کی بجائے کہیں اور مل رہی تھی-
لوحِ مزار پہ آنکھیں بند کئے وہ دعا کر رہی تھی اور ہم ستون کے پیچھے چھپ کے اسے دیکھ رہے تھے-

” ڈاکٹر کہتے ہیں اپینڈیکس ہے … گھڑی گھڑی پیٹ میں وَٹ پڑتا ہے جی …!!”

ہم نے چونک کے کہا :
“کون سی گھڑی ….؟؟”

ہم یہاں موجود ہی کب تھے- ہم تو وسیع و عریض حویلی کے صحن میں کسی کی مرمریں کلائ میں گھڑی پہنا رہے تھے:
“دم کی ہوئ گھڑی ہے- اس سے تمہاری حفاظت ہو گی- جنّات اس کی ٹِک ٹک سے دور بھاگیں گے …. !!!”

ہم مریضوں کو چھوڑ چھاڑ کے نلکے پہ گئے- ملک فیصل نے ہمیں وضو کرایا- ہم نے کہا ” کمرے میں مُصلّہ بچھا دو- ہم نوافل پڑھیں گے … !!”

کمرہ بند کیا تو بخشو کے قید خانے میں پہنچ گئے- سامنے ہی شیطان ہاتھ جوڑے کھڑا تھا:

” آزاد ہو چکی وہ اس عفریت سے … میں نے اس کے ماں باپ سے کہ دیا کہ اس کا بیاہ کر دو … ایک لڑکے کو پسند کرتی ہے وہ … ہوش میں آتے ہی اسی کا نام لے رہی تھی …!!”

ہم مُصلّہ بچھانے لگے تو ہر طرف سے ایک ہی آواز آنے لگی …. !!
“بھولے مت بنو امام صاحب … وہ تمہارا نام لے رہی تھی ….!!”
“بھولے مت بنو امام صاحب … وہ تمہارا نام لے رہی تھی ….!!”

ہم نے نماز کا ارادہ ترک کیا- کیا فائدہ.اس نماز کا جو پڑھی تو خدا کےلئے جائے رکوع و سجود میں کسی اور کا خیال ہو-

ہم نے مصلّہ سمیٹا اور ملیشیا کی قمیض سے چھاپ نکال کر بیٹھ گئے-
شاید کسی کو ہمارا آج بھی انتظار ہو …. !!

ہم باہر نکل آئے- سورج نکل آیا تھا اور موسم کی خُنکی قدرے کم ہو چکی تھی- صحن میں مریضوں کا رش پہلے سے بڑھ چکا تھا-
ہم نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائ اور بڑبڑائے:
“دو دن کی چھٹّی چاھئے مالک … بس دو دِن کی… بھلے تنخواہ کاٹ لینا … پہلے اس عشق کا قلعہ قمع کر لیں … پھر دھیان سے کریں گے تیری نوکری ….!!”

شکور اور جیدا صحن میں چارپائیاں بچھا رہے تھے-

ہم نے کہا ” شازا کہاں ہے ؟”
انہوں نے سر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور ادب سے کھڑے ہوگئے-
ہم چلائے:
“شازا کہاں ہے …؟؟”

شکور بولا ” وہ تو شاید … بھٹّے پہ گئے ہیں جی … آپ نے بھیجا ہے”

ہم نے کہا ” اتنی دیر ہو گئ ابھی تک آیا نہیں … موٹر سیکل لے کے جاؤ … اس کے پیچھے … بولو کپڑے چھوڑ کے فوراً واپس آئے”

وہ بھاگتا ہوا باہر نکل گیا-

تھوڑی ہی دیر میں شازا پہنچ گیا- ” جی بابا جی … کوئ کام ہے؟؟”

ہم نے کہا ” ہاں … بوہت ضروری کام ہے … گاڑی نکالو … فوراً … ہمیں نوُری سہاگ جانا ہے … !!”

“نوری سہاگ … یہ کہاں ہے جی؟”

” راوی پار … رستہ ہم سمجھائیں گے … سب کو لے چلو ساتھ … ہمیں ابھی نکلنا ہے !! ”

وہ جلدی سے دوسرے احاطے میں گیا اور ساتھیوں کو آواز لگانے لگا:
“فیصل … سجّو … جیدے … پِیر سائیں راوی پار جا رہے ہیں … گاڑی تیّار کرو … جلدی .. !!”

ہم جب بھی دم کرنے دور دراز شہروں میں جاتے ، یہ سب لوگ ساتھ ہوتے تھے- جو مریض سفر کے قابل نہ ہوتا ہم اس تک خود پہنچتے تھے- اس کو دم کرتے ، ڈھارس بندھاتے اور زندگی کا حوصلہ دیتے- مریض کے لواحقین متموّل ہوتے تو سفر خرچ کی صورت کچھ نہ کچھ ھدیہ کرتے- غریب ہوتے تو ہم ھدیہ دے کے آ جاتے-

تھوڑی ہی دیر بعد ہم جی ٹی روڈ پر تھے- ہمارے بائیں طرف چیچہ وطنی کا مشہور جنگل تھا- یہ وہی تاریک جنگل تھا جہاں ڈیڑھ سال پہلے ایک شب ہم بھٹک رہے تھے- اگر رب سائیں اس رات ہمارا ہاتھ نہ پکڑتا تو شاید آج بھی ہم بھٹک ہی رہے ہوتے-

ھم نے راوی کا پل پار کیا اور کمالیہ روڈ پر چڑھ گئے- جمال پہاڑ سے ہم نے ایک ذیلی سڑک پکڑی اور چلتے رہے- جگہ جگہ گاڑی روک کر ھم نے رستہ پوچھا- اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر دھول مٹّی اڑاتے بھاگتے رہے-

تین گھنٹے کے جان لیوا سفر کے بعد بالاخر ہم ایک گاؤں پہنچ ہی گئے- چوک پر کچھ لوگ خوش گپیوں میں مشغول تھے- ہم نے گاڑی رکوائ اور شیشہ گِرا کے پوچھا :
” وِیر جی … نوری سہاگ یہی ہے ؟

انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تو ہم نے دوسرا سوال کیا:

“.چوھدری رمضان کا گھر کِدھر ہے ؟”

اس شخص نے ہماری رہنمائ کی- تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے بالاخر ہم چوبارے والے گھر کے سامنے جا رُکے-
ہم نے ساتھیوں کو گاڑی میں ہی رہنے کی تاکید کی اور خود اتر کر دروازے پہ جا کھڑے ہوئے- دستک دی تو دِل طبلے کی طرح دھک دھک کر اٹھا- سانس تُنبے کے تار کی طرح بجنے لگی-

گھڑی بھر کے انتظار کے بعد دروازہ کھُلا اور کمسن نوکر نے جھانک کر پوچھا کون؟
ہم نے کہا ” چوھدری صاحب کو بلائیے …. بولئے سائیں صلّو آئے ہیں …. ملک پور سے …!!”

تھوڑی ہی دیر بعد چوھدری رمضان بھاگتا ہوا آگیا- ایک نظر گاڑی پہ ڈالی اور سائیں سرکار کہتا ہوا سیدھا قدموں پہ آن گرا-
ہم نے کہا ” کیا کرتے ہو چاچا- اٹھئے … آپ بڑے ہیں … گلے ملئے ہم سے”

وہ ڈرتے جھجھکتے ہم سے گلے ملا- اور اکھڑتی سانسوں میں بولا:
” آپ کہاں چلے گئے تھے سائیں سرکار … مڑ کے خبر ہی نہ لی ہماری … ہماری دھِی رخسانہ تو شام سویر آپ ہی کو یاد کرتی ہے … !!”

ہم نے مسکرا کر کہا:
“ہماری نکیل کسی اور کے ہاتھ میں ہے چاچا … آج ایک دن کی چھٹی لے کر آئے ہیں تیرے پاس .. بتا … جِن اترا کہ نہیں …؟؟”

وہ بولا ” مولا کا شکر ہے سائیں-آپ کی دعا سے سب بلائیں ٹل گئیں … اس روز مزار پہ جو کچھ ہوا … بڑا افسوس ہے … اس عامل نے برا کیا آپ کے ساتھ … وہ جُھوٹا تھا ، مکّار تھا ، فریبی تھا … اس لئے مزار چھوڑ کے بھاگ گیا … آپ سچّے ہیں … کھّرے ہیں … اسی لئے آج یہاں کھڑے ہیں … آپ اندر آئیے ناں … !!”

ہم مسکراتے ہوئے اندر داخل ہو گئے- شب فراق کی سحر قریب تھی یا پھر کوئ نیا سراب درپیش؟ یہ وہی جانتا تھا جس سے چھُٹّی لے کر آئے تھے-

وہی کشادہ اور صاف ستھرا صحن – تازہ سفیدی نے درودیوار کو پہلے سے زیادہ نکھار دیا تھا- صحن میں روئ کا ڈھیر لگا تھا اور پُختہ شیڈ کے نیچے کھڑا ٹریکٹر بھی آج کچھ نیا نیا لگ رہا تھا-

تھڑے پہ آج بھی ویسے ہی دو رنگین چارپائیاں بچھی تھیں- ساتھ دو موُڑھے تھے اور چند کُرسیاں- تھوڑی ہی دیر میں نوکر پانی لے آیا- پھر چائے آئ- انڈے آئے، کیک آئے ، بسکٹ آئے، مٹھائ آئ مگر نہ آئ تو رخسانہ-

ہمیں قیام فرمائے نصف گھنٹہ بیت چکا تو بالاخر چوھدری صاحب سے خود ہی کہنا پڑا کہ رخسانہ بی بی کو بلوا دیجئے … ان کےلئے ہمارے پاس ایک بڑی ہی برکت والی چیز ہے …!!

وہ اداس ہو کے بولا :
” رخسانہ دٍھی تو آج ہی گئ ہے … اس وار وی آپ کو یاد کر رہی تھی … شادی ہو گئ اس کی .. میرے بھتیجے سلطان کے ساتھ … کُکّڑ ہٹّہ میں رہتی ہے … میں سمجھاتا ہوں جی آپ کو رستہ… یہاں سے سیدھی سڑک پکڑیں ……………”

طبلے کی تھپ تھپ اچانک رُک گئ- تُنبے کے تار ٹوٹ گئے- بظاہر ہم بڑے غور سے چوھدری صاحب سے کُکّڑ ھٹّہ کا راستہ پوچھ رہے تھے ، مگر کان ہمارے بند ہو چکے تھے-

بالاخر ہم نے چہرے پہ ایک مصنوعی سی مسکراہٹ سجا کر کہا:
” مبارک ہو چاچا … اچھا آدمی ہے سلطان … خیال رکھے گا تیری دٍھی کا … ہمیں آگے جانے کا حُکم نہیں …. بس .. اب چلتے ہیں … حال معلوم ہو گیا … بس … اتنا ہی بوہت ہے …چنگا رب رکھا ..!!”

وہ اٹھتے ہوئے بولا:
” وہ برکت والی چِیز ہمیں دے دیں سائیں سرکار … ہم پہنچا دیں گے دھِی رانی کو … ”

ہم نے کہا ” بس برکت کی دعا ہی دینی تھی … مولا پاک اسے ہر بلاء سے محفوظ اور شاد و آباد رکھّے …. امین … !!”

اس نے جھک کر ہمارا ہاتھ چوما ، گوڈوں کو ہاتھ لگایا اور دروازے تک ہمیں چھوڑنے آیا-

باہر سب ہمارے منتظر تھے- سجًو نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا:

” آج تو بہت انتظار کرایا پیر سائیں …!! ”

ہم نے کہا ” کوئ کسی کا انتظار نہیں کرتا سجّو … دنیا دھوکے کا سامان ہے … انتظار صرف ایک ہی ہستی کرتی ہے … رب سائیں … وہ اپنے بندے کی توبہ کا انتظار کرتا ہے …موت تک … باقی سب کہانیاں ہیں … !!”

سجًو نے سبحان اللہ کہا اور گاڑی بڑھا دی- مرید کی زندگی کتنی آسان ہے- جو بات پِیر کا جِگر چیر کے نکلتی ہے ، اس پہ سبحان اللہ کہ کے وہ حقِ ارادت ادا کر دیتا ہے- نہ کوئ غم نہ کوئ دُکھ- پیر کا دل چیر کے کون دیکھے کہ اس پہ کیا گزرتی ہے-

پُل باگڑ پہ پہنچے تو ہم نے کہا:

“یہاں سے بائیں مڑ جاؤ … کچھ دُور مستاں والا دربار ہے … عصر کی نماز ہم وہاں پڑھیں گے”

مزار کی رونق اسی طرح قائم و دائم تھی- وہی بھنڈارے کی دیگیں وہی خلقت کا ہجوُم- عصر کا وقت جا رہا تھا- ہم مسجد کی طرف بڑھے- پیپل کے پیڑ کے پاس تھے کہ شادا ملنگ مل گیا- اس نے حیرت سے ہمیں دیکھا اور ہماری طرف بھاگا چلا آیا:
” ست بسم اللہ … رد بلائیں … سائیں آیا … ہوئے ہوئے ہوئے … خدا کا شکر جی آپ آ گئے … کدھر چلے گئے تھے ہمیں چھوڑ کے … ؟”

ہم نے اسے خوب بھینچ کے گلے لگایا اور کہا :

” بس یار … نوکری مل گئ راوی پار … ٹائم ہی نہیں ملتا … امید ہے مسجد کا خوب خیال رکھا ہو گا تو نے … پیش امام جو بن گیا ہے … !!”

وہ جھوم کے بولا ” ناں جی … میں تو مؤذن ہوں … امام تو وہی ہے … آپ کا دلبر جانی …. !!!”

ہمارا دِل دھک سے رہ گیا اور آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں- بے ساختہ مونہہ سے نکلا:
“جانی ؟ کون سا جانی ؟”
اس نے قہقہہ لگا کر کہا:
“اچھا تو اب جانی کو بھی بھول گئے … واہ سائیں … لگتا ہے پِیر بن گئے ہو … !!”

ہم اسے نظر انداز کرتے ہوئے تِیر کی طرح مسجد کی طرف بھاگے ، لکڑی کا کواڑ کھولا اور جانی کو تلاش کرنے لگے-

بالاخر وہ نظر آ ہی گیا- ہمیشہ کی طرح کمرہء مسجد کے ایک کونے میں تلاوت کرتے ہوئے-
ھم اس کے پاس جا کھڑے ہوئے- کچھ دیر بعد اس نے نظر اٹھا کر دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا- اس کے چہرے پہ دُکھ کے آثار نمایاں ہوئے اور بمشکل ہونٹوں سے نکلا:
” تت … تُم …. تُم زندہ ؟”
ہم نے ہاتھ پکڑ کے اسے اٹھایا اور گلے سے لگا لیا-

” ہاں یار … زندہ ہیں … جیسے تو زندہ ہے …. ہم بھی زندہ ہیں … بچ گئے تھے ہم بھی … جس نے تجھے بھی بچا لیا … ہمیں بھی اسی نے محفوظ رکھا … روز تیری بخشش کی دعائیں کرتے تھے … رب سائیں کو تیری نشانی بتا بتا کے تھک … کہ مولا … ہمارا یار … جس کی پیٹھ پہ ماتم کے نشان ہیں .. اسے ضرور بخش دینا … !!!”

اپنے مُریدوں کو ہم نے لنگرخانے بھیجا- شادا ان کی خاطر تواضع پہ مامور ہوا- عشاء کے بعد مہمانوں کو مسافر خانے ٹھہرا کر وہ ہمارے لئے رضائ اور کمبل لے آیا- اپنا اردہ مسجد میں ہی قیام کرنے کا تھا-

عشاء پڑھ کے ھم مسجد کی صفوں پہ لیٹے تو جانی نے اپنا احوال سنایا- اس کی کہانی شاہ جی کے کالے اسراروں سے پردہ اٹھانے کو کافی تھی :

وہ بولا:
” ہم نصف شب کے قریب کالے کھوُہ پر پہنچے- فاضل شاہ کی حقیقت مجھے وہاں جا کر معلوم ہوئ- جونہی اس نے سفلی عمل شروع کیا ، میرا دل مکدّر ہونے لگا اور میں وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا-

وہ مجھے گالیاں دیتا ہوا میرے پیچھے پیچھے بھاگا- پھر مجھ پہ خنجر پھینکا جو مجھے چھوتا ہوا ایک درخت کے تنّے میں جا کر پیوست ہوا- میری رفتار اس سے کافی زیادہ تھی- میں جنگل کے انجان راستوں پہ سرپٹ دوڑتا رہا- پھر اچانک ہی میرا پاؤں پھسلا اور میں لڑھکتا ہوا ایک کھائ میں جا گرا-

یہ راجباہ تھا جو خشک پڑا ہوا تھا- یہاں بڑی بڑی گھاس اُگی ہوئ تھی- مجھے کوئ خاص چوٹ نہ آئ اور میں راجباہ کی ٹھنڈی ریت پر دم سادھے لیٹ گیا- اگلے ہی لمحے شاہ کی گالیوں کی آواز میرے کانوں تک پہنچی- شاید وہ ادھر ہی چلا آ رہا تھا-

میں ریت پہ چت لیٹا رہا- پھر مجھے اس کا ہیولا نظر آیا- وہ مجھ سے کچھ فاصلے پہ راجباہ کے کنارے پہ کھڑا ہو گیا- اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا خنجر رات کی تاریکی میں چمک رہا تھا- میں دل ہی دل میں رب کو یاد کرنے لگا-

وہ کچھ دیر وہاں کھڑا گالیاں بکتا رہا ، پھر مایوس ہو کے لوٹ گیا- میں کافی دیر وہاں لیٹا رہا پھر رینگتا ہوا راجباہ سے باھر نکلا-
سمّت کا کوئ تعیّن نہ ہو رہا تھا- بس راجباہ کے کنارے کنارے چلتا رہا- آخرکار جنگل ختم ہوا اور ایک کچّی سڑک شروع ہو گئ-
میں سڑک پکڑے مسلسل چلتا رہا اور بالاخر ایک گاؤں جا نکلا-

ایک پکّی سڑک گاؤں کے ساتھ ساتھ جا رہی تھی- میں اسی پہ ہو لیا- کچھ آگے جا کر اڈے کے آثار نظر آئے- سڑک کے کنارے ایک تانگہ کھڑا نظر آیا- میں پاس گیا تو کوچوان سیٹ پہ اونگھ رہا تھا-
میں نے اسے جگایا اور کہا:
“کمالیہ جانا ہے- جتنا کرایہ مانگو گے دُونگا … ”

وہ کچھ دیر اندھیرے میں مجھے گھورتا رہا- پھر جماہی لیکر بولا:

“کمالیہ تو یہاں سے بہت دور ہے- گھوڑا اتنا سفر کیسےکر سکتا ہے؟ چیچہ وطنی اڈّے تک چھوڑ آتا ہوں- وہاں سے کمالیہ کی بس پکڑ لینا- 20 روپے کرایہ ہو گا … !!”

فجر کی اذان کے ساتھ ہی اس نے مجھے چیچہ وطنی کے اڈّے پہ جا اتارا- میں نے وہاں نماز پڑھی اور چائے بسکٹ سے ناشتہ کیا- کمالیہ کی بس تیّار کھڑی تھی- صبح 8 میں کمالیہ پہنچ گیا-

یہاں میرا ایک چچیرا بھائ رہتا تھا- وہی ہمیشہ میری مدد کرتا آیا تھا- میں اس کے پاس ٹھہر گیا-
تقریباً 6 ماہ تک میں وہیں پڑا رہا- اس بھلے مانس نے میرے بھائیوں سے بات چیت کی- صلح صلاح ہوئ اور وہ جائیداد میں میرا حصّہ نکالنے پہ راضی ہو گئے- ایک دوکان میرے حصّے میں آئ اور ایک گھر- نوری سہاگ اڈّے پہ- کرائے پہ چڑھا دی ہے- آمدنی کا ذریعہ بن گیا ہے- لیکن کیا کروں وہاں دل ہی نہیں لگتا-

بالاخر مزار پہ چلا آیا- آٹھ ماہ کے بعد بھی سب کچھ ویسا ہی تھا- بس تو نظر نہ آیا- شادے سے تیری گمشدگی کی اطلاع ملی- شاہ جی کا دفتر بھی بند تھا- شادے نے بتایا کہ سائیں تو سات ماہ سے غائب ہے ، اور فاضل شاہ کا بھی کچھ پتا نہیں-
میں نے بخشو سے پوچھا مگر وہ کچھ بتانے کو تیار نہ ہوا- میں نے خیال کیا کہ شاید تو اپنے پِنڈ چلا گیا ہے- تیرا اتا پتا تو معلوم نہ تھا ، صبر کر کے واپس چلا گیا-
اس کے بعد میں ہر جمرات کو یہاں آنے لگا- دو تین راتیں ٹھہر کے واپس چلا جاتا- چار ماہ پہلے آیا تو بخشو اپنی کوٹھڑی میں بیمار پڑا تھا- کوئ اسے پوچھنے والا نہ تھا- میں یہیں مسجد میں ٹھہر گیا اور اس کا خیال رکھّنے لگا- شہر سے دوائیاں لا لا کر اسے دیتا رہا- ایک بار پِنڈ کے ڈاکٹر کو بھی لے کے آیا- اس نے بتایا کہ کالا یرقان ہے اور بچنا بہت مشکل –
بالاخر ایک رات اس کی طبیعت بگڑ گئی- شادا اس کے پاس تھا- بخشُو بار بار مجھے یاد کر رہا تھا- شادا مجھے بلانے کو مسجد چلا آیا- میں بھاگ کے اس کے پاس پہنچا تو وہ بہت کرب میں تھا-

کہنے لگا “جانی مجھے معاف کر دو .. مجرم ہوں میں تمہارا”

میں نے شادے کو کوٹھڑی سے باہر بھیجا اور پوچھا:
“کس چیز کی معافی مانگتے ہو؟ تم نے تو مجھ سے کوئ زیادتی نہیں کی ؟؟”

وہ بولا :
میں تمہارے قتل کی سازش سے آگاہ تھا- شاہ جی بوہت غلط آدمی ہے- اس کا اصل نام کالے ناتھ ہے- بھارت کا جاسوس ہے وہ- سفلی علوم کے ذریعے لوگوں کو پھنساتا ہے- روپیہ پیسہ اینٹھتا ہے- پھر اس رقم سے ملک میں دھماکے کراتا ہے- اس نے تُمہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا- سفلی عمل کےلئے اسے کالی کو بھینٹ چڑھانا تھی- ایک باشرع مسلمان کی بھینٹ- اس عمل کے بعد اسے کسی بس اڈّے پر دھماکہ کرانا تھا اور واپس ہندوستان چلے جانا تھا- مجھے معاف کر دو- مجھ سے بڑی کوتاہی ہوئ”

میں نے کہا ” تُم خود کیا ہو ؟ مسلمان یا ہندو؟

وہ بولا ” بس نام کا مسلمان ہوں- کافر کے ساتھ رہ کر میں بھی کافر ہو گیا ہوں- آج بڑا پچھتاوہ ہو رہا ہے- سخت تکلیف میں ہوں- جیسے کوئ سولی پہ لٹکا ہو- تم معاف کر دو تو شاید سکون سے مر سکوں … !! ”

میں نے کہا ” مجھے میرے رب نے بچا لیا- وہ بڑا ہی کارساز ہے- میں نے تمہیں معاف کیا”

وہ کراہتے ہوئے بولا:
” تم تو بچ گئے ہو ، تمہارا دوست یقیناً نہیں بچا ہو گا- وہ اسی خبیث کے ساتھ گیا تھا … مہینوں پہلے … !!! ”

مجھ پہ جیسے دُکھ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا- دل غم اور غُصّے سے بھر گیا- جی چاہا کہ بخشو کا ابھی گلہ گھونٹ دوں- لیکن میں ایسا نہ کر سکا- مردے کو کیا مارتا- اس کی آنکھیں پھیل چکی تھیں-

میں نے اس کی تدفین کرائ- پھر متوّلی سجاد شاہ کو جا کر ساری بات بتا دی- اس نے پہلے تو یقین نہ کیا- پھر کہنے لگا خاموشی بہتر ہے- خواہ مخواہ پولیس کیس بن جائے گا اور مارشل لاء والے چمڑی ادھیڑ دیں گے-

میں نے کہا خونِ ناحق ضرور رنگ لاتا ہے- ایک دن تو سرکار کو ضرور خبر ہو گی- پھر کیس بھی بڑا ہی بنے گا- ہم سب شریکِ جرم سمجھے جائیں گے- کیوں نہ ہم خود ہی پولیس کو بتا دیں-

بالاخر ہم نے پولیس کو اطلاع کر دی- انسپکٹر بھاگا چلا آیا- اس نے عامل کا دفتر کھلوایا اور سارا سامان ضبط کر کے دفتر سیل کرا دیا- ہم پولیس کی بھاری جمیعت کے ساتھ کالے کھوہ پر گئے- بہت ہی گہرا کُنواں تھا- کوئ بھی اندر اترنے کو تیّار نہ ہوا- بالاخر ایک سپاہی نے ہمّت کی- وہ بھی نصف تک ہی گیا اور چیخنے لگا کہ انسانی ہڈیاں ہیں اور ایک بڑی ہی کریہہ صورت سوختہ لاش پڑی ہے- سانپ بچھّو چمٹے ہیں- میری ہمّت نہیں-

پھر انسپکٹر نے ٹریکٹر ٹرالی اور کراہ منگوایا- کچھ گاؤں والوں نے ہمّت کی- تین دن کی مشقت کے بعد بالاخر ہم کنویں کو برابر کرنے میں کامیاب ہوئے-

اس کے بعد میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے واپس نوری سہاگ چلا گیا- کبھی کبھار یہاں آتا ہوں- پرانی یادیں تازہ کرنے کےلئے- مسجد کی امامت کرا لیتا ہوں یا کوئ پروگرام کر لیتا ہوں- اب تُم بتاؤ ، تم پہ کیا بیتی ؟”

جانی کی داستان ختم ہوئ تو میں نے کہا:
” رب سچّے نے مجھے بچا لیا اور اس وحشی کو کالے کھوہ میں جہنم رسید کیا- وہ لاش اسی خبیث کی تھی- میری کہانی بھی تیرے جیسی ہی ہے جانی- فرق یہ ہے کہ تو راوی کے اِس پار چلا گیا اور میں اُس طرف رہ گیا – شب بھر جنگل میں بھٹکنے کے بعد بالاخر میری زندگی کی سحر ہوئ- ولی ، قطب ، خواجہ یا غوث تو نہ بن سکا بس چھوٹی سی نوکری مل گئ اس بادشاہ کی جو سب جہانوں کا مالک ہے- راوی پار ملک پور میں آستانہ ہے- یہ جو لوگ میرے ساتھ ہیں ، مرید ہیں میرے- میں نے رب کے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا ہے جانی- اس نے اتنا منافع دیا کہ سنبھالنا مشکل ہے- اس کے نام پہ لٹا لٹا کے تھک گیا ہوں- سچّی یاری تو بس اسی کی ہی ہے- کبھی نہ ٹوٹنے والی- دنیا والے تو ہمیشہ دھوکا ہی دیتے ہیں- شب بھر کو رکا ہوں- کل واپس چلا جاؤں گا- تُو ساتھ چل میرے .. تجھے بھی نوکری دلاتا ہوں .. !!”

وہ بولا ” میں بھی بے روزگار نہیں ہوں سائیں- نوکری ہی کرتا ہوں اس شہنشاہ کی- مجھے بھی بہت کچھ دے رہا ہے- بس جلوہ نہیں دکھاتا- دل کی تڑپ ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتی- اس کی ذات میں گُم ہونا چاھتا ہوں- کوئ رستہ بتاؤ ناں …. !!”

میں نے کہا ” گُم ہو کے کیا کرو گے ؟ مخلوق کے ساتھ رہو- لوگوں کے دُکھ درد بٹاؤ- نوکر بن کے رہو- جتنا مالک کا حکم ہے اتنا ہی کرو- جو اس سے زیادہ بے تکلّف ہونے کی کوشش کرتے ہیں ، مالک ان کا بوجھ بھی بڑھا دیتا ہے”

رات بیت رہی تھی- مزار سے قوالی کی آواز آئ- میں نے کہا چل اُٹھ جانی- قوالی سن کے آتے ہیں-

ھم صحنِ مزار میں جا بیٹھے- محفل اپنے عروج پہ تھی- ملنگ بے خود ہو کر دھمال ڈال رہے تھے- آج کوئ نیا ہی کلام تھا اور نیا ہی ساز جو دل کو چھوُ کر روح کے تار چھیڑ رہا تھا:

بیخُود کِئے دیتے ہیں
اندازِ حجابانہ​

آ دل میں تجھے رکھ لوں
اے جلوہء جانانہ​

جانی میرا ہاتھ پکڑ کے اُٹھ کھڑا ہوا- ہم نے قوالوں پہ پیسے پھینکے اور دیوانوں کی طرح ناچنے لگے:

کِیوں آنکھ مِلائی تِھی
کیوں آگ لگائی تِھی​

اب رُخ کو چُھپا بیٹھے
کر کے مُجھے دِیوانہ​

اِتنا تو کرم کرنا
اے چِشمِ کریمانہ​

جب جان لبوں پر ہو
تُم سامنے آ جانا​

پینے کو تو پِی لُوں گا
پر عَرض ذرّا سی ہے​

اجمیر کا ساقِی ہو
بغداد کا میخانہ​

​کیا لُطف ہو محشر میں
شِکوے میں کیے جاوں​

وہ ہنس کے یہ فرمائیں
دیوانہ ہے دیوانہ​

​بیدمؔ میری قِسمت میں
سجدے ہیں اُسِی دّر کے​

چُھوٹا ہے نہ چُھوٹے گا
سنگِ درِّ جَانَانَہ​

آ دل میں تجھے رکھ لوں
اے جلوہء جانانہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

​ہم گدڑ پِنڈی سے واپس ملک پور پہنچے تو گاؤں میں کئ فتنے سر اٹھا چکے تھے- سائیں کے ڈیرے پہ ہو کا عالم تھا- سوائے ملک ایّوب کے کوئ بندہ بشر نظر نہ آیا- وہ ڈیرے پہ اکیلا بیٹھا حُقّہ پی رہا تھا-
ہم نے پوچھا:
“ملک صاحب خیریت؟ بالکل چوپٹ ویرانی؟ آج کوئ وی نئیں آیا؟”

وہ بولا:

” کمیوں والے محلّے میں چِڑّی موچی ایک قبر بنا کے بیٹھ گیا ہے- کہتا ہے رنگ شاہ کی ہے- بزرگ خواب میں اشارہ کر گئے ہیں- آدھا پِنڈ وہاں جمع ہے- باقی لوگ ملک شیر علی گھوڑی پال کے گھر کے سامنے کھڑے ہیں”

“وہاں کون سے پِیر کا ظہور ہوا ہے …؟”

” وہاں جنّات قبضہ کر کے بیٹھے ہیں جی … رضائیاں ، تلائیاں، کَھیس ، تکیے اُڑ اُڑ کے باہر آتے ہیں اور آگ لگ جاتی ہے … ”

ہم نے کہا ” بلّے وئ بلّے ..”

” اور سُن لیں .. ملک مقصود کے ڈیرے پہ ایک بوہڑ سے اچانک پانی کے قطرے گرنے لگے ہیں … بچے کھُچے لوگ بالٹیاں لوٹے لے کر وہاں جمع ہیں … حصوُلِ برکت کےلئے … یہ حالات ہیں جی … اب پِیر سائیں کے ڈیرے پہ کون آئے گا؟”

ہم نے کہا ” سبحان اللہ … یعنی دو دن کےلئے ہم گاؤں سے گئے اور تین فتنے کھڑے ہوگئے ….. سچ فرمایا تھا پیر حاکم شاہ نے کہ وہ گاؤں سے چلے گئے تو بربادی آئے گی ….!!”

ہم نے کپڑے بدلے اور سر کے نیچے تکّیہ اڑس کر چارپائ پہ لیٹ گئے- دماغ میں خیالات کے جھکّڑ چل رہے تھے- خلقِ خُدا کو کون سمجھائے کہ پِیر کیا ہوتا ہے؟ خدمت کرنے والا جیتا جاگتا انسان یا قبر میں سویا ہوا بزرگ؟ موسی علیہ السلام کوہ طور پہ کتاب لینے گئے اور لوگ پیچھے بچھڑا بنا کر بیٹھ گئے- یہ قصّہ تقریروں میں خوب مرچ مصالحہ لگا کے سناتے ہیں مولوی صاحبان- لوگ سبحان اللہ کہتے ہیں ، استغفار پڑھتے ہیں اور باہر جا کر کسی نہ کسی بچھڑے کی پوجا شروع کر دیتے ہیں- لوگوں کو ہر وقت ایک بچھڑا چاھئے- جس کے ذریعے ان کی تمام جائز ناجائز خواہشات پوری ہو سکیں-

انہی خیالات میں غوطے کھا رہے تھے کہ پیرومرشد بابا ڈاکیا سرکار کے یہ الفاظ یاد آئے:

“مخلوق کی خدمت کر- رب کے کنبے کا خیال رکھ- بس یہی نوکری ہے اس کی … بہت کم لوگ یہ نوکری کرتے ہیں … اور جو کرتے ہیں … ہمیشہ بھلے میں رہتے ہیں … ”

ہم تکیہ پھینک کے چارپائ سے اُٹھے اور کہا:
“چلیں ملک صاحب … پہلے جنّات کا موُل مِٹا کے آتے ہیں … !!”

ملک شیر علی کی حویلی کے سامنے لوگوں کے ٹھٹھ جمع تھے- بڑے بوڑھے سڑک پہ کھڑے استغفار کر رہے تھے- مائیاں توبہ تائب ہوئ جاتی تھیں- ہمیں آتا دیکھ کر مجمع میں جان سی پڑ گئ- سرگوشیاں شروع ہو گئیں- کچھ لوگ ہماری طرف دوڑے چلے آئے- ہر کوئ پھولی سانسوں میں بڑھا چڑھا کے جنّات کے کارنامے سنا رہا تھا-

ہم نے کہا ” بند کرو یہ کہانیاں ملک شیر علی کو بلاؤ …”

ایک آدمی بھاگا بھاگا گیا اور ملک صاحب کو بلا لایا- وہ بہت پریشان دکھائ دیتے تھے- مجھ سے گلے ملے اور بولے:
“دیکھ لیں سائیں جی … کیا ہو رہا ہے ہمارے ساتھ ؟”

ہم ان کا ہاتھ تھامے مجمع سے دور لے گئے- چلتے چلتے ہم پکّے کھال کی بنیر پہ جا کھڑے ہوئے-

“ملک صاحب … سچ سچ بتاؤ .. اصل قصّہ کیا ہے ؟”

وہ بولے ” پرسوں سارا ٹبّر سویا ہوا تھا … آدھی رات کو مجھے دھویں کی بوُ آئ … آنکھ کھلی تو وِچکارلے کوٹھے سے دھوُں آ رہا تھا … بوہا کھولا تو رضائ کو اگ لگی ہوئ تھی …. باقی لوگ وی جاگ گئے …. خیر پانی شانی سَٹ کے اگ بجھائ … رات کے پچھلے پہر مُڑ دھویں کی بو آئ … ویکھا تو دُوئے کوٹھے میں اگ لگی ہوئ ہے- ہِک رضائ ، ہِک تلائ اور ہِک منجی سڑ کے چھائ ہو گئ جی … ہم سویر تک جاگتے رہے … ہر بندہ ڈر سے کمھ رہا تھا … کام آلی مائی نے بتایا کہ گھر پہ جِن بھوت قابض ہو گئے ہیں جی … کیا کرتے؟ … آپ کے ڈیرے پہ گئے تو ملُوم ہوا کہ راوی پار گئے ہیں … مُڑ نوکرانی نے ای دَسیا کہ اُس کے چَک میں ایک عامل ہے … جو جنّوں شِنّوں کا عمل شمل کرتا ہے … اج سویرے اس کو بلا کے لائے ہیں … وہ چوکاٹھ بند کر کے اندر پڑھائ کر رہا ہے جی …”

ہم نے کہا ” چلو ہمارے ساتھ … ایسی کی تیسی اس عامل کی ..!!”

گھر کا گیٹ اندر سے بند تھا- ہم نے سامنے والے گھر سے سیڑھی منگوائ اور ملک صاحب کو ساتھ لئے گھر کے اندر کود گئے- ایک کمرہ کھُلا ہوا تھا- اندر گئے تو وہ عامل پیٹیاں اور صندوق کھول کے گھر کی صفائ کر رہا تھا-
ہم نے اُسے گُدّی سے جا پکڑا اور کہا:
“عامل جنّات پالتے ہیں اور سائیں نکالتا ہے …!! ”

وہ متوحش ہو کر بھاگنے لگا تو ہم نے اڑنگا دے کر گرایا- پھر جست لگا کر اس کے اوپر بیٹھ گئے- ملک صاحب ششدر کھڑے دیکھتے رہے- ہم نے کہا ” دیکھتے کیا ہیں ملک صاحب رسّی لے کے آئیے … جِن قابو آ گیا ہے ..!!”

اس دوران کچھ اور لوگ بھی دیوار ٹاپ کر اندر آ گئے- ان میں ملک ایّوب بھی تھا- ہم نے عامل کو چار لگائیں تو وہ مِنّت زاری پہ اتر آیا-
ہم نے ملک ایّوب سے کہا:
” تھانے فون کرو اور حوالدار شوکت کو بلاؤ … بتاؤ کہ سائیں نے جِن قابو کیا ہے … ویگن لے کے پہنچے فوراً …”

اس مردود کو تھانے پہنچا کر ہم اس مائی کی تلاش میں نکلے جو گھر میں کام کرتی تھی- شام تک وہ بھی پکڑی گئ- یہی چڑیل گھر میں آگ لگاتی تھی-

جنّات کی سرکوبی کے بعد ہم چڑّی موچی کے فتنہ کی طرف متوَجہ ہوئے- مغرب کے بعد شازے کو لیکر کمیّوں والے محلّے میں گئے تو ایک میلہ سا لگا ہوا تھا- ایک خالی پلاٹ پہ تازہ بہ تازہ قبر بنی تھی- اس پہ گلاب کی پتیاں ، پھول ، اگر بتیاں اور چراغ رکھّے گئے تھے- ساتھ ہی دوچار سفید کھیس بچھا کر ملک صاحبان عبادت میں مشغول تھے-

ہمیں آتا دیکھ کر چِڑی والہانہ پن سے اُٹھا گویا قلعہ فتح کر کے بیٹھا ہو- اس کا خیال تھا کہ شاید سائیں بھی زیارت کو آیا ہے- ہم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کھینچتے ہوئے زیارت گاہ سے دور لے گئے- وہاں جا کر اس کا گریبان پکّڑا اور کہا:

” یہ کیا ڈرامہ ہے چِڑّی ؟ سچ سچ بتا ورنہ ابھی قبر مسمار کرتا ہوں … !!”

وہ ہاتھ جوڑ کے بولا:

“ایسا نہ کریں سائیں سرکار … مولوی نہ بنیں … پیر تو پیر کا بھائ ہوتا ہے- آپ بھی تو کمہار ہیں- کیا موچی پِیر نہیں ہو سکتا؟”

ہم نے کہا ” ہو سکتا ہے … کھاؤ ناں پیاز کے ساتھ سوکھی روٹی اور مرغ پکا کے غریبوں کو دو … پِیر بن جاؤ گے … یہ کون سا طریقہ ہے؟ کیوں لوگوں کا ایمان بگاڑتے ہو؟”

وہ بولا :
” ایمان ؟ کون سا ایمان ؟ ان لوگوں میں ایمان ہے؟ 20 سال ان کی جوتیاں گانٹھ گانٹھ کے پیسہ جوڑا … پھر یہ پلاٹ خریدا …. یہ کچرا پھینکتے ہیں وہاں … پورا پلاٹ بھر دیا میرا گند پھینک پھینک کے … کیا نمازی کیا حاجی سب ایک جیسے ہیں … ایک ایک بُوہے پہ گیا ہوں میں .. منّت سماجت کی .. خدا رسول کا واسطہ دیا کہ کچرا مت پھینکو میرے پلاٹ میں … میرے پاس گھر بنانے کے پیسے نئیں ہیں … لیکن پلاٹ کو دیکھ کر خوش تو ہو جاتا ہوں ناں کہ اللہ کی زمین پہ میری بھی کوئ جگہ ہے … اور وہ جگہ انہوں نے کچرے کا ڈھیر بنا کے رکھ دی ہے … کیا کرتا؟ نک نک تک کر دیا ان لوگوں نے … آخر تنگ آ کر افواہ چھوڑی کہ خواب میں ایک بزرگ تشریف لائے ہیں … اور یہاں … میرے پلاٹ پہ … اپنی قبر کا نشان لگایا ہے .. بس قبر بنانے کی دیر تھی کہ سب جھاڑو اٹھائے چلے آئے …. اپنے ہاتھوں سے اپنا گند صاف کرنے لگے … دیکھو … کتنا صاف ہو گیا ہے میرا پلاٹ … کل شام سے اب تک 50 روپے نذرانہ بھی آ چکا ہے … اب آپ رنگ میں بھنگ نہ ڈالئے گا … جو کچھ آئے گا نصف آپ کو دونگا جی … آخر پیر پیر کا بھائ ہوتا ہے …. !!!”

ہم نے زور کا گھسّن اس کے جبڑے پہ مارا- وہ پھرکی کی طرح گھوم گیا اور تلملا کے بولا:
“یہ کیا جی ؟؟”

ہم نے کہا “پیر پیر کا بھائ ہوتا ہے جب دونوں اصلی ہوں … ایک اصلی اور ایک نقلی ؟ یہ پیوند نہیں چلے گا چِڑّی … دونوں نقلی ہوتے تو بات بن سکتی تھی …جا اور اسی وقت اپنے ہاتھوں سے اس قبر کو مسمار کر … میں بنا کے دونگا تجھے گھر … کل ہی اینٹیں منگواتا ہوں … تو مستری کا بندوبست کر … پلاٹ زندوں کےلئے ہوتے ہیں چِڑی … مردوں کےلئے قبرستان میں بہت جگہ ہے !!”

فتنہء چڑی موچی کی سرکوبی کے بعد اگلے روز ہم صودی کے ڈیرے پہ گئے- وہاں بوہڑ کے نیچے عورتوں کا ہجوم لگا تھا- ہمیں آتا دیکھ کر سب ایک طرف ہو گئیں-
ہم نے شازے سے کہا:
“اوپر بوہڑ پہ چڑھو … اور جہاں سے پانی رِس رہا ہے وہاں مُوت کے آ جاؤ …… !!”
وہ ہچکچایا تو ہم نے اس کی گُدّی پہ دھول جما کے کہا :
“چڑھو ….. یہ پِیر سائیں کا حکم ہے … !! ”

آپریشن مکمل ہو چکا تو ہم نے خواتین سے کہا :
” ماؤں بہنوں … اس چشمے کو ہم نے ناپاک کر دیا ہے … سب کو جا کے بتا دو … اب یہ برکت والا پانی نہیں …. نرا موُت ہے … پانی دم کر کے ہم دیں گے …. شفاء اللہ پاک دے گا- خبردار جو آئیندہ کسی نے ادھر کا رخ بھی کیا … ”

دو ہی روز میں تمام فتنوں کا خاتمہ ہو گیا-

انہی دنوں جمال مُسلّی کا بیٹا بیمار ہو گیا- اس کی کھانسی نہ رکتی تھی- لوگ کہتے تھے ٹی بی ہے- ایک ہی بیٹا تھا بیچارے کا- اسے اٹھا کر ڈیرے پر لے آیا-
ہم نے اسے سو روپے دئے اور کہا:

“صبح شہر جا کے ڈاکٹر چشتی کو دکھاؤ … پہلے دوا داروُ کراؤ شام کو ہم تمہارے گھر جا کر دم کر آئیں گے … !!”

مغرب کے بعد وہ ڈیرے پہ آیا اور بتایا کہ دوائ تو کر دی ہے- آپ دم کےلئے تشریف لے آئیں … !! ”

ہم نے اس سے عشاء کا وعدہ کیا- نماز کے بعد ہم ڈیرے پہ آئے تو دو چار مریض اور آئے ہوئے تھے- انہیں جھاڑ پھونک کے فارغ ہوئے تو اکیلے ہی مسلّیوں والی پانڈ روانہ ہو گئے-

راستے میں بوہڑ کا ایک گھنّا پیڑ تھا- اس کے نیچے خلیل لوہار کی بھٹّی تھی اور آٹا پیسنے والی گھراس لگی ہوئ تھی- دن کو یہاں رش رہتا تھا- لوگ درانتیاں ، کسیاں ، ٹمبے ، رمبے تیز کرانے آتے تھے- عصر کے بعد گھراس پہ گندم کی پسائ ہوتی- رات کو یہ جگہ ویران رہتی تھی-

ہم درخت کے نیچے سے گزرنے لگے تو محسوس ہوا جیسے کسی نے ہمیں آواز دی ہو-
ہم چلتے چلتے رک گئے اور ادھر ادھر دیکھنے لگے-
آس پاس کوئ نہ تھا-

اتنے میں آواز دوبارہ آئ- یوں لگا جیسے کسی نے ہمیں نام لے کر پکارا ہو-
ہم نےکہا:
“کون ہے ؟ سامنے آؤ …!!”
اچانک بوہڑ کے بڑے تنّے کے پیچھے سے ایک بونا سا بزرگ نکل کر سامنے آ گیا- ہم خوفزدہ ہوئے کہ الہی یہ کون ہے؟ اس بزرگ کو پہلے کبھی نہ دیکھا تھا- اور یہ بوہڑ کے نیچے کیا کر رہے ہیں- ان کا قد بمشکل ساڑھے تین فٹ تھا اور سفید لمبی داڑھی گھٹنوں تک آ رہی تھی-

ہم نے ڈرتے ہوئے کہا:
” جج … جی بابا جی ؟”
وہ مصافحے کو ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولے :
” سلیمان قادری … صدر آل پاکستان سُنّی مُسلم جنّات … !!”

ہماری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گئے- ہم دھڑام سے گرے اور بے ہوش ہو گئے-

ہمیں ہوش آیا تو مریدوں کے نرغے میں چارپائ پہ چت پڑے تھے- کوئ پاؤں کی تلیاں مَلتا ، کوئ ہاتھ مسلتا تو کوئ سر کی مالش کرتا تھا- ہماری آنکھ کھُلتے ہی سرہانے بیٹھے سجّو نے نعرہ لگایا “حق حق … پِیر سائیں حق حق …!!”
باقی لوگ بھی اس کی دیکھا دیکھی نعرے لگانے لگے-

ہم نے دماغ کی بتّی روشن کی اور ٹارچیں مار مار کے یاداشتیں کھنگالنے لگے- ذھن میں کچھ نقشے ابھرتے پھر مٹ جاتے- ہم کہاں تھے ؟ کل عشاء کی نماز کے بعد کیا ہوا تھا؟؟

شاید ہم کسی کو دم کرنے جا رہے تھے- کس کو …؟؟ ہاں ہاں … ہم مسلّیوں کی پانڈ جا رہے تھے … جمال کے بیٹے کو دم کرنے … اس کے بعد کیا ہوا تھا …؟؟
پھر اچانک بوہڑ کا درخت یاد آ گیا … پھر اس کے نیچے کھڑا وہ بونا بزرگ؟؟ اوہ میرے خدایا .. !!”

ہم کسی مردے کی طرح کفن پھاڑ کے اُٹھ بیٹھے- مُریدوں کا تراہ نکلا اور وہ اچھل کے پیچھے ہو گئے-
ہم نےکہا:
” کیا ہوا تھا ہمیں . …؟”
باقی لوگ تو چُپ گھڑُپ ہو گئے شازا بولا :
“سائیں آپ خیل لوہار کی بوہڑ تلے بے ہوش پڑے تھے- نمبردار کا نوکر رات کو درانتیاں لینے گیا تو اس نے دیکھا- پھر ہمیں خبر کی- شکر ہے وہ اس طرف چلا گیا ورنہ رات کو لوگ ادھر نہیں جاتے- وہاں سے کترا کے گزرتے ہیں- پہلے بھی کئ لوگوں کو وہاں جنّات نظر آ چکے ہیں جی … وہ بوہڑ بہت بھاری ہے سائیں … !!”

ہم نے تاسف سے کہا :
“بوہڑ بھاری نہیں شازے … ہم ہلکے ہو چکے ہیں … آج ایک بوہڑ بھاری ہوئ … کل ٹاہلی، کیکر، کریر ….. توُت ، دھریک ، بکین ، سب بھاری ہو جائیں گے- انسانوں کا رستہ روک کے کھڑے ہو جائیں گے یہ درخت- کس کس پیڑ سے کترا کر گزریں گے؟؟ انسانوں کی بستی میں جنّات کا کیا کام؟ غلطی ہماری ہے شازے- خدمتِ خلق میں ایسے مصروف ہوئے کہ قران کی تلاوت ہی چھوڑ دی؟ وہ جو قاری صاحب ڈیرے پہ آتے تھے … قران پڑھانے .. وہ کیا ہوئے؟ وہ ذکر کی محفلیں کیا ہوئیں ، وہ حفظ کے دورے کیا ہوئے؟ بات یہ ہے کہ تم سب اوّل درجے کے لفنٹر ہو چکے ہو اور پِیر سائیں کو بھی لفنٹر بنا کے رکھ دیا ہے …!!”

اسی دوران ڈاکٹر چشتی مع سازو سامان آن پہنچے- کہنے لگے سائیں جی لوگوں کو دم کرتے کرتے خود بے دم ہو گئے ہو- اپنی صحت کا خیال رکھا کرو- بڑا سخت موسم ہے- پھر میرا ٹمپریچر دیکھا- بلڈ پریشر ملاحظہ کیا اور موسمی بخار تشخیص فرما کر کچھ ادویات لکھیں اور پرہیز کا مشورہ ارشاد کیا-

تین روز بخار میں کٹ گئے- ساتھ ساتھ پچھتاوے کا دُکھ- میں اتنا کمزور کب سے ہو گیا کہ ایک جِن کا سامنا تک نہ کر سکا؟ میں تو اس مخلوق کو تڑیاں لگایا کرتا تھا؟ میں نے تو کالے کھوہ پہ انہیں شکست فاش دی تھی؟ اس وقت میں نہتّا تھا- آج مریدوں کے جلو میں چلتا ہوں- میں اتنا کمزور ، اتنا بددِل کیسے ہو گیا کہ ایک نوّے سالہ بزرگ جِن نے مجھے چاروں شانے چِت کر دیا؟

چوتھے روز بخار اترا- ہنوز کمزوری باقی تھی- ہم نے شازے سے کہا بستر ہمارا بوہڑ کے نیچے لگا دو- آج رات سے ہم چلّہ کریں گے- اس نے بہتیرا روکا کہ پِیر سائیں سردی ہے- بیمار پڑ جاؤ گے مگر ہم اڑ گئے کہ چِلّہ ہو گا اور ضرور ہو گا-خلیل مستری کی بوہڑ کا بھاری پن دور کرنا ہم پہ قرض ہے-

اگلی شب بعد نمازِ عشاء بوہڑ کے نیچے ہمارا بستر لگا دیا گیا- ساتھ ایک چھوٹا میز دھرا گیا جس پر لالٹین ، پانی کا جگ اور کلام پاک رکھّا گیا- ہم نصف شب تک تلاوت میں مشغول رہے- پیڑ کی ٹہنیوں پہ وقتاً فوقتاً سرسراہٹ تو ہوتی رہی- رب جانے پرندے تھے یا جِنّات ، مگر سامنے کوئ نہ آیا-

اسی طرح دو راتیں مزید گزر گئیں- تیسری شب تلاوت میں مشغول تھے کہ سفید روئ جیسے ہیولے بوہڑ سے اترنے لگے- ہمارے آس پاس چہل پہل شروع ہو گئ مگر ہم نے نگاہ تک نہ کی اور مسلسل سورہء بقرہ پڑھتے رہے-

تلاوت مکمّل ہو چکی تو ہم نے پورے اطمینان سے مصحف سمیٹی اور سامنے متوجہ ہوئے- کیا دیکھتے ہیں کہ سفید لباس اور سفید براق داڑھیوں والے درجن بھر بزرگان ہمارے سامنے زمین پہ چوکڑی مارے تشریف فرماء ہیں-ان کی گول گول سرخ آنکھیں اندھیرے میں دہک رہی ہیں- ایک جیسا حلیہ اور ایک جیسا لباس- گویا کہ سب ایک دوسرے کی فوٹو کاپی ہوں- وہ ہمیں ٹکٹکی باندھ کے دیکھنے لگے اور ہم انہیں-

بالاخر ہم نے خفیف سا سلام کیا تو سب نے با آوازِ بلند کہا:
“وعلیکم سلام”
اس کے بعد وہ پھر ہمیں ٹکٹکی باندھ کے دیکھنے لگے ، اور ہم انہیں-

بالاخر ھم نے ایک گلاس پانی پیا اور کہا:
” جی فرمائیے … ؟؟”

ان میں سے ایک بونا بزرگ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی چار انگلیوں سے ہماری طرف اشارہ کر کے بولا:

” اے ہمارے مربّی و محسن !!
ہم آپ کے سپاس گزار ہیں- اس رات کالے کھوہ پہ آپ کی سنگ باری نے تہلکہ مچایا ، اور اس تہلکے نے دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھّ دی- آل پاکستان ھندومسلم جنّات کا اجلاس تتّر بتّر ہوا- پھر بحثیں ہوئیں ، ہنگامے ہوئے ، فساد ہوئے ، جھگڑے ہوئے ، بلوے ہوئے- اڑھائ کروڑ ہندو اور سوا دو کروڑ مسلم جنّات ان فسادات کی نظر ہوئے- بالاخر آزادی کا سورج طلوع ہوا- برہمن اپنا سامان سمیٹے بارڈر پار چلا گیا اور ایک آزاد مسلم جنّاتی ریاست کا حصوُل ممکن ہوا سرحدیں جس کی چیچہ وطنی سے لیکر کمالیہ تک پھیلی ہوئ ہیں- ھم اپنے قائدکو ہدیہء تہنیّت پیش کرتے ہیں- آپ کی ولولہ انگیز قیادت کو سلام پیش کرتے ہیں جس نے جِنّانِ راوی کو آزادی کی نعمت سے ہمکنار کیا-
یوں دی ہمیں آزادی
کہ پریاں ہوئیں حیران
اے سائیںِ اعظم
تیرا احسان ہے احسان !!”

اس پر زمین پہ چوکڑی مارے بزرگان نے تالیاں بجائیں اور سائیں زندہ باد کے نعروں سے فضاء گونج اُٹّھی –
ہم نے انہیں خاموش کرایا اور کہا :

” سنو … یہ سب میرے مالک کا کرم ہے- بے شک آزادی اس کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس کی قدر جِن و انس دونوں پر فرض ہے- آزادی مبارک- لیکن اتنے آزاد مت ہو جاؤ کہ دوسروں کی آزادی سلب کرنے لگو- اس بوہڑ پہ آپ کا رہنا اور آتے جاتے لوگوں کو ستانا کون سی مسلمانی ہے- ایسی اوچھّی حرکات مسلم جنّات کو بالکل زیب نہیں دیتیں … !!”

وہ بولا:
“قائد محترم .. !! ہم کیا کریں؟ کدھر جائیں؟ آزادی کے بعد ایک سال تو ہم بھائ بھائ بن کے رہے- پیار محبّت ، امن امان ، اور رواداری ہمارا شعار تھا- پھر رفتہ رفتہ ہم فرقہ فرقہ ہو گئے- شیعہ ، بریلوی، دیوبند ، وہابی جِن بن گئے- ایک دوسرے کو بدعتی ، مشرک ، گستاخ اور کافر جِن کہنے لگے- بات مناظروں سے بڑھ کے ہاتھا پائ تک جا پہنچی- پھر نعرہء تکبیر لگا کر ایک دوسرے پہ ٹوٹ پڑے- ہمارے بیچ خونی فسادات ہوئے- کروڑوں جنّات اس جنگ میں کام آ چکے ہیں-

کہیں کھُوہ پہ قبضہ جمانے پہ جھگڑا
کہیں پیڑ پر گھر بنانے پہ جھگڑا
کھنڈر پہ جھگڑا، ٹھکانے پہ جھگڑا
کسی سوہنی کُڑی کو چمٹ جانے پہ جھگڑا ؟
پیرومُرشد !! سندھیلیاں والی میں ہمارے کھوہ پہ غیر مسلک جنّات قابض ہو چکے ہیں- ہم دربدر ہیں- آپ کے پاس مدد کےلئے آئے ہیں- آپ ہمارے ہم مسلک بھائ ہیں- ہماری مدد کیجئے- ہمارا کھوُہ ہمیں واپس دلا دیجئے … !!”

یہ کہ کر وہ پرامید نظروں سے ہمیں دیکھنے لگا-
ہم کچھ دیر ششدر ہو کے انہیں دیکھتے رہے پھر کہا:

“مبارک یا جنّات- بالاخر ترقی کرتے کرتے تم بھی ہمارے برابر آ ہی گئے- ہماری طرح فرقہ فرقہ ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے- اچھی بات ہے- اب انسانوں کی بجائے ایک دوسرے کو چمٹا کرو گے اور ہم تماشا دیکھیں گے- ہم بھی اسی طرح ایک دوجے کو چمٹے ہوئے ہیں اور دشمن ہمارا تماشا دیکھتا ہے-
رہی بات مدد کی تو میں فرقوں سے بیزار ہوں اور تمہاری اس مسلک پرستی پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نفرین کرتا ہوں- میرا مسلک محبّت ہے جبکہ تم نفرتوں کے امین بن چکے ہو- میں تمہارے کسی کام کا نہیں ہوں- کسی فرقہ پرست مولوی سے رجوع کرو ، بہتیرے پھرتے ہیں- ایک انگلی پہ ہزار سما سکتے ہیں- شاید وہ کوئ رستہ نکال دیں ہاں اس برگد کے پیڑ کو ضرور خالی کر دو- اس کے نیچے ہماری گھراس ہے- لوگ آٹا پیستے ہیں- درانتیاں رنبے اور ٹمبے تیز کرواتے ہیں”

انہوں نے مایوسی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا- پھر وہ بزرگ بولے:

“تو پِھِر ہم آپ کی طرف سے چِٹّا اِنکار سمجھیں؟”

ہم نے کہا ” بالکل تیرے لباس جیسا چِٹّا ، تیری داڑھی اور تیرے خُون جیسا چِٹّا- کل ظہر تک یہ پیڑ خالی نہ ہوا تو فرقہء مخالفہ کے جنّات کرائے پہ منگوا کے یہاں ان کا جلسہ کرواؤں گا اور تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا کے رکھ دوں گا”

وہ خاموشی سے اٹھے اور اندھیرے میں غائب ہو گئے- ہم نے بھی اپنا بستر سمیٹا اور ڈیرے پہ چلے آئے- اس روز کے بعد ملک پور میں کسی کو جنّات نظر نہ آئے-

ایک روز شام کو کرم علی میراثی اپنے بارہ سالہ بچّے کو لیکر آستانے پہ آیا- بچّہ دھاڑیں مار مار کےروتا تھا اور باپ بیچارہ اس کے آنسو پُونچھتا تھا-

ہم نے پوچھا کیا ہوا ہے ؟

کرم علی بولا : “رب جانے جی .. کچھ بتاتا بھی نہیں … سائیوں والے کھوہ پہ گیا تھا … کئ بار موڑا ہے کہ مت جایا کر … کوئ جِن بھوت چمڑ گیا ہے جی … بس روئے ہی جا رہا ہے .. !!”

ہم نے بچّے کو پاس بٹھایا- اس کو دلاسا دیا ، پانی پلایا اور پوچھا “بتاؤ بیٹا کیا ہوا ؟”
وہ جواب دینے کی بجائے پھر ہچکیاں لینے لگا- اس کے آنسو ہمارے دل پہ گرنے لگے- ہم نے حوصلہ دینے کو اس کی پیٹھ تھپتھپائ تو وہ تڑپ اٹھا اور مزید زور سے چیخنا شروع کر دیا-

ہم نے اس کےلئے دودھ پھل اور فروٹ منگوایا- کوئ گھنٹے بعد اس کا مزاج کچھ بہتر ہوا- پھر ہم اسے لئے جانوروں کے واڑے میں چلے گئے- اسے گھوڑے خچّر مرغ اور کبوتر دکھائے- جب وہ اچھی طرح ہم سے مانوس ہو چکا تو ہم نے پوچھا:
“سچ سچ بتاؤ بیٹا ، تمہیں کس نے مارا ؟ ہم اس کو ضرور سزا دیں گے”
وہ کچھ دیر چپ رہا پھر بولا:
” اڈّے کے پاس جو باغ ہے .. اس کے مالی نے … !!”
“کس لئے … ؟؟”
وہ سر جھکا کے خاموش ہوگیا-
ہم نے کہا ” چکوترا توڑا تھا ناں … باغ سے ؟؟”
وہ بولا ” جی بس ایک ہی توڑا تھا …. دیکھنے کےلئے کہ کیسا ہوتا ہے … کبھی کھایا نئیں تھا ناں جی .. !!”
ھم نے بندہ بھیج کر فوراً مالی کو بلوایا- وہ آیا تو بچّے کی پیٹھ اسے دکھا کر پوچھا ” کیا تُم نے یہ ظُلم کیا ہے ؟”
وہ بولا: “سائیں جی کیا کروں ؟ ان بچّوں نے باغ اجاڑ کر رکھ دیا ہے میرا- 90 ہزار میں لیا تھا- 20 ہزار کا پھل بکا ہے- 70 ہزار ابھی تک پھنسے ہیں- کچھ طوطے اجاڑ رہے ہیں … کُچھ بچّے ..!!”

ھم نے کہا : ” بچے تو فرشتے ہوتے ہیں- فرشتوں کا حصّہ نہیں نکالو گے تو ہمیشہ گھاٹے میں ہی رہو گے …. !!!”
وہ ڈھٹائ سے بولا: ” آپ خرید کر فرشتوں میں بانٹ دو ، میں تو گھاٹا برداشت نہیں کر سکتا”
ہم نے کہا “بتاؤ کتنے میں بیچتے ہو ؟ 90 ہزار کافی ہیں …؟؟”

اس نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے شازے سے کہا:
“اس کو 70 ہزار دے دو ابھی- باقی پرسوں تک دے دینا- آج سے یہ باغ خلقِ خدا کےلئے وقف ہے- جو جتنا چاھے توڑ کے کھا سکتا ہے-
پھر ہم کرم علی اور اس کے بیٹے کو لیکر باغ میں گئے-
ہم نے کہا “بیٹا اب جتنے چاہو چکوترے توڑو- یہ باغ آج سے تمہارا ہے”
وہ کھلکھلا کے ہنسا اور دوڑ کے چکوترا اتار لایا-

اس کی کھلکھلاہٹ میں ہمیں رب سائیں کی مسکراہٹ دکھائ دی- ہاں وہی رب جسے کبھی ہم چٹھیاں لکھّا کرتے تھے- جس سے گلے شکوے کیا کرتے تھے ، نظامِ کار چلانے کےلئے اپنے تئیں بڑی بڑی تجاویز دیا کرتے تھے- آج کل وہ ہمارے آس پاس ہی رہتا ہے- اسے ہنسانے کو ہم نت نئ ترکیبیں سوچتے ہیں-

محبوب کو ہنسانے میں ، اسے خوش رکھنے میں کیا لطف ہے یہ دنیادار کیا جانیں؟ یہ تو صرف سچّے عاشق ہی جانتے ہیں-

ایک روز عصر کے بعد سیاہ بادل امڈ آئے- دور دراز سے آنے والے زائرین نے موسم کا مزاج دیکھتے ہی اپنی اپنی گاڑیوں کو چابیاں لگائیں- مُرید چارپائیاں اٹھا اٹھا کر اندر رکھنے لگے- تھوڑی ہی دیر میں مونسلادھار بارش شروع ہو گئ-

مغرب کے بعد ھم بڑے ورانڈے میں آگ کا ڈاڈھ جلا کے بیٹھ گئے- جھڑی منانے کو مریدوں نے سونف الائچی اور گُڑ والی چائے بنائ- شکر قندی اور انڈے ابالے گئے- سجّو تھال پہ ڈھولک بجانے لگا اور جیدا اپنی پرسوز آواز میں عنایت حسین بھٹّی کا رنگ جمانے لگا:

پُچھ پُچھ ہاریاں
اکھیاں دِل توُں
ہوسی کدُوں دِیدار
ڈھولا مِلسی کہڑے وار
ماہی مِلسی کہڑے وار

محفل شباب پہ تھی کہ اچانک شازا باہر سے بھیگتا ہوا آیا اور بولا:

” دوپہر کو راوی پار سے کچھ عورتیں آئیں تھیں جی … کچھ تو بارش کے آثار دیکھ کر واپس چلی گئیں … ایک امّاں ادھر ہی رُکی ہوئ ہے … کہتی ہے سائیں سے مل کر جاؤں گی … !!”

ہم نے کہا ” ٹھیک ہے ، زنان خانے میں ٹھہرا دو- صبح ملوا دینا ”
وہ بولا : “وہ بہت پریشان ہیں جی … کہتی ہیں سائیں سے ابھی ملنا ہے اور ابھی واپس جانا ہے …!!”

ہم نے جھنجھلا کر کہا:
“ابھی کیسے واپس جائے گی؟ یہ موسم اور اتنا پینڈا …؟؟”

” وہ کہتی ہیں جی … گھر میں بیمار بچّی اکیلی ہے ….!!”

ہم نے کہا:
” تو بچّی کو ساتھ کیوں نہ لائیں؟ .. چلو ٹھیک ہے … بلا لو انہیں … آ رہے ہیں ہم … !!”

ہم اٹھے اور ٹہلتے ٹہلتے اس طرف چلے آئے جہاں خواتین کےلئے قنات لگی تھی- یہاں قدرے اندھیرا تھا- تھوڑی ہی دیر میں شازا دوسرے احاطے سے اس خاتون کے ساتھ آتا ہوا دکھائ دیا-
چال ڈھال سے وہ کوئ ادھیڑ عمر بی بی نظر آتی تھیں-

وہ ہم سے کچھ فاصلے پہ آ کے کھڑی ہو گئیں- شازا چلا گیا تو ہم نے کہا ” جی امّاں جی ؟”

وہ جانگلی لہجے میں بولیں:
“سائیں جی … میری دِھی بوہت بیمار ہے … ڈاکداروں کو بھی وِکھایا ہے … پر سمجھ کسے کوُں نئیں آئی … سُک سُک کے تِیلا ہو گئ ہے جی … کھاتی پیتی بھی کوئ نئیں جی …”

ہم نے پوچھا ” کتنی عمر ہے؟”
وہ بولیں: ” جوان ہے جی چھبی ستائ ورہے کی …!!”
” ویاہ ہوا ہے اس کا …؟؟”
میرے سوال پہ وہ کچھ دیر خاموش رہیں پھر بولیں:

“ویاہ ہوا تھا جی … تِن چار سال پہلے … مُڑ سائیں نے طلاق چا دِتّی … مُڑ دوجا نکاح امام صیب نال کیتا .. وہ بھی کوئ چنگا بندہ نئیں نکلا جی … تنگ کرتا تھا … طعنے دیتا تھا وچاری کو .. فیر وہ بھی فوت ہو گیا جی .. کالا نصیب ہے جی اس کرماں سڑی کا … کیا کروں؟ … دِھی جو ہے … کوئ دُعا پناہ چاء کرو … چنگی ہو جاوے … تُساں فقیر ہو … !!”

ہم نے دھڑکتے دِل سے پوچھا:
“پِنڈ کون سا ہے امّاں تیرا ؟”
وہ بولی:
“راوی پار ہے جی دھوبیاں والا”

ہمارے سر پہ زور کی بجلی کڑکی اور کلیجے کو چیر کے گزر گئ-
کانپتی ہوئ آواز میں پوچھا:
“عا… عالیہ نام ہے ناں .. اس کرماں سڑی کا ….؟؟”

اس نے حیرت سے ہمیں دیکھا پھر روتے ہوئے بولی:

” تُساں اکھّیاں والے ہو جی … سب خبر ہے تُساں کوں … اس بختاں ماری نوں ٹھیک چاء کرو جی … او مر گئ تو اس کی امبڑی وی مر جائے گی … !!”

ہم نے کہا :

“نہیں مرے گی وہ … ان شاءللہ نہیں مرے گی … زندہ رہے گی عالیہ .. جب تک سائیں صلّو زندہ ہے … عالیہ کیسے مر سکتی ہے؟”

وہ کچھ دیر اندھیرے میں ہمیں گھورتی رہی گویا پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو- پھر بولی:

” صلّو تو اس کو چھوڑ گیا تھا جی … کئ سال پہلے !!”

ہم چپ ہو گئے اور مفلر سے چہرے کو ڈھانپ لیا- پھر رخ پھیر کر اپنے آنسوصاف کرنے لگے … آسمان پہ بادل زور سے گرجا اور ورانڈے سے اٹھتی بھٹّی کی تان نے دِل کے سب زخم کھول کر رکھ دئے:

کی جاناں کیوں دوری ہوئ
مَندڑا تے نئیں بولیا کوئ
کردے رہے ہاں پیار
ماہی مِلسی کہڑے وار
ڈھولا مِلسی کہڑو وار

ہم نے آواز لگائ …
“شازے …….. !!!”
وہ بھاگتا ہوا ورانڈے سے باہر نکلا-
“جی سائیں جی …؟؟”

” گاڑی نکالو … فوراً ہمیں دھوبیاں جانا ہے … ابھی !!”

“دھوبیاں؟ … یہ کہاں ہے جی؟”

” راوی پار .. رستہ میں سمجھاؤں گا … سجّو کو لے لو ساتھ ہمیں ابھی نکلنا ہے … !! ”

وہ بھاگ کر گیا اور آواز لگانے لگا:
“فیصل … سجّو … جیدے …. پِیر سائیں راوی پار جا رہے ہیں … گاڑی تیّار کرو … جلدی .. پِیر سائیں راوی پار جا رہے ہیں … !!”

جیدا اپنی دھُن میں مست تھا-

بے پرواہ دے صدقے جائیے
کول نئیں آؤندا کیویں بلائے
کیتے جتن ہزار
ماہی ملسی کہڑے وار
دلبر ملسی کہڑے وار

ہم ماں جی کی طرف مُڑے اور کہا:
“امّاں جی … ہم ہی صلّو ہیں … عالیہ کے پہلے سائیں … خوب پہچان لو … بس اک ذرا سی بھوُل ہوئ تھی ہم سے اور … جنگل جنگل رُل گئے … اور جب رُل رُل کے چٹّو کی طرح گول ہو گئے تو رب سائیں نے گلے لگا لیا … وہی سچّا مالک ہے … ہمارا سچّا محبوب … پیار بھی بہت کرتا ہے … اور آزماتا بھی بوہت ہے … ہم مانگیں گے اس سے … پہلے بھی مانگا تھا … پھر مانگیں گے … عالیہ کو …. اس بار وہ ہمیں خالی نہیں لوٹائے گا ..!!”

انہوں نے حیرت سے ہمیں دیکھا اور چادر میں مونہہ چھپا کے رونے لگیں- ہم ڈھارس بندھانے کو آگے بڑھے تو ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے- ہم نے انہیں گلے لگا لیا اور خود بھی زور زور سے رونے لگے-

بارش نے اب ہلکی پھلکی پھوار کا روپ دھار لیا تھا- ہم کمالیہ روڈ پہ بھاگے چلے جا رہے تھے- ہم نے سِیٹ سے ٹیک لگائ اور آنسوؤں کا ہار لئے رب سائیں کے در پہ سائل بن کے کھڑے ہو گئے-

اسے خوش کرنے کو اپنی نیکیوں کی چھوٹی سی پوٹلی کھولی تو کچھ بھی نہیں تھا- اس کے نام کی ایک بھی نیکی نہ مل سکی- سارا اکاؤنٹ ہی اپنے نام ہو چکا تھا- سائیں کا لنگر ، سائیں کی دعوت ، سائیں کی عنایت ، سائیں کا صدقہ ، سائیں کا دَم ، سائیں کا بکرا ، سائیں کا کُکّڑ-
ہم لوگوں کو رب سے کیا جوڑتے؟ اس کے نام نہاد مینیجر بن کے اپنا ہی سکّہ چلانے بیٹھ گئے تھے-

ڈھونڈ ڈھانڈ کے بس ایک ہی چِیز ہاتھ آ سکی- کچھ پرانے خواب- خواب بھی تو اسی کی ڈاک ہوتی ہے ناں-

ہم وہ سب خواب کھول کے بیٹھ گئے جو سالوں سے دیکھتے آ رہے تھے- ہر خواب میں عالیہ تھی- کبھی دلھن بن کر سامنے آتی اور چولھانے کے دھویں میں گُم ہو جاتی- کبھی ووہٹی بن کے روٹی پکاتی اور خود ہمارا بچا کھچا کھاتی- ہم سینے پہ ٹیپ رکھ کے ماہئے سن رہے ہوتے اور وہ کمر پہ منجی لادے ویہڑے میں لا بچھاتی- ہم کیکر پہ چڑھ کے اس کا ٹہنا ہلاتے اور وہ زمین پہ کھڑی ڈر جاتی-

موٹی کِکّر پہ جا کے ہم نے سڑک چھوڑ دی اور نہر والی سولنگ پکڑ لی- سولنگ جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئ تھی- ہماری رفتار سست ہونے لگی- چار سال کتنی جلدی گزر مگر آج ایک سولنگ گزارنا مشکل ہو رہا تھا-

دھوبیاں پہنچتے پہنچتے گہری رات ہو گئ- موسم صاف ہونے لگا تھا اور بادلوں کی قید سے چاند رفتہ رفتہ آزاد ہو رہا تھا-

گاؤں میں وہی کُتّوں کی بھونکاڑ جسے سن کر کبھی صادق نے کہا تھا ” ویخ تیرے باراتی آ گئے..” گلیوں میں اکّا دُکّا لوگ بھوتوں کی طرح نظر آئے جو جھانک جھانک کے ہماری گاڑی کو دیکھ رہے تھے- ہم سجّو کو برابر رستہ سمجھاتے رہے- تاریک گلیوں کو ہیڈ لائٹس سے روشن کرتا ہوا وہ بالاخر ھمیں لکڑ والے بوُہے پہ لے ہی آیا سامنے جس کے بیری کا چھتریلا پیڑ تھا-

ہم سب گاڑی سے نیچے اترے- پھر امّاں جی کو اتارا- وہ نقاہت سے چلتی ہوئ بوہے تک گئیں اور اس دروازے کو کھولنے لگیں جو چار سال پہلے ہم پہ بند ہوا تھا-

دھڑکتے دل کے ساتھ سچّے رب کو یاد کرتے ہوئے ہم اندر چلے آئے- وہی کپڑے دھونے والی گھاٹ اور وہی کوٹھڑی جو آج بھی صحن سے ایک فٹ نیچے تھی- لالٹین کی مدھم روشنی یہاں آج بھی زندگی کا احساس دلا رہی تھی-

ہم دروازے کی مُوہاٹھ پکڑ کے کھڑے ہو گئے- امّاں جی آگے بڑھیں اور جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر عالیہ کو جگانے لگیں-

” اُٹھ عالی … اٹھ میری دھی رانی … ویکھ کون آیا اے … اکھ تے کھول … اٹھ میرا پُتر … ویکھ کون آیا … اُٹھ !!

امّاں جی کی سسکیوں کی آواز نے ماحول کو اور بوجھل کر دیا-
ہم دروازے کی مُہاٹھ چھوڑ کر آگے بڑھے اور کہا:

“امّاں … تم جاؤ … چولھانے میں جا کے سونف ، اجوائن کا کاڑھا بناؤ … ہم عالیہ کو دم کرتے ہیں … فکر نہ کرو … وہ ٹھیک ہو جائے گی …..!!”

اماّں جی سامنے سے ہٹیں تو ہم عالیہ کے قریب ہوئے- اس کے چہرے سے رضائ ہٹائ- بس وجود باقی تھا اور سانسیں- باقی کچھ نہ بچا تھا- رنگ ، روپ ، حسن ، جوانی سب اُجڑ چکا تھا- آخر حوّا کی بیٹی تھی- نہ سائیں بن سکتی تھی ، نہ رب سائیں کو چٹھیاں لکھ سکتی تھی- نہ اسے نیا عشق رچانا آتا تھا ، نہ ملنگ بن کے دربار پہ ناچ گانا-
غم اسے اندر ہی اندر کھاتا رہا اور وہ موم کی طرح پگھلتی ہی چلی گئ-

ھم نے اسے جھنجھوڑ کر کہا:
“عالیہ … آنکھیں کھولو … ہم آئے ہیں … پِیر صلاح الدین .. تمہیں دم کرنے …!!”

ایک ہلکی سی بڑبڑاھٹ کے سوا کوئ جواب نہ آیا- زندگی کا احساس دلانے کو یہ بڑبڑاھٹ ہی کافی تھی- روح کا پنچھی ابھی تک جسم کے پنجرے میں قید تھا اس سے بڑی خوش خبری بھلا کیا ہو سکتی تھی ؟

ہم نے اس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا- اس کے جسم کی حدّت کے آگے ہمارے ہاتھوں کی ٹھنڈک ماند پڑ گئ- ہم تڑپ کر پیچھے ہٹے- پھر مُڑ کر شازے کو آواز دی-

وہ باہر صحن میں تھا- آواز سن کر بھاگا آیا “جی پِیر سائیں ؟”

ہم نے کہا:

” شازے … اس کو تو تاپ ہے !!”

وہ ہونقوں کی طرح ہمارا چہرہ دیکھنے لگا اور بولا:
“فیرررر ؟”

ہم نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:
” تیرے پاس اصیل کُکّڑ ہے ناں؟”

اس کا مونہہ بن گیا اور وہ بولا:

” بخش دو سائیں ؟ اب راوی پار بھی میرا ہی کُکّڑ چلے گا ؟؟ صبح ادھر سے ہی پکڑ لیں گے کوئ کُکّڑ …!!”

ہم نے کہا:
“ارے او پگلے … تو کیا جانے یہ کون ہے ؟ بیوی ہے یہ ہماری … سائیں صلّو کی بیوی … اسی کی وجہ سے تو آج ہم پِیر بنے بیٹھے ہیں … ورنہ کون جانتا تھا صلّو کُمہار کو؟ اسے بچانے کےلئے اپنے گلے پہ بھی چھرّی چلانا پڑی تو ہم چلا دیں گے … لیکن مرنے نہیں دیں گے اسے … یہ مر گئ تو سائیں بھی زندہ نہیں رہے گا …. مر جائے گا تیرا مُرشد .. !!!”

ہم جوش میں جانے کیا کیا بولتے چلے گئے- اچانک شازے نے ہمیں اشارہ کیا-
ہم نے کہا ” کیا ہے …؟؟؟”
وہ بولا ” پیچھے دیکھو پیر سائیں پیچھے …!!” ”
ہم نے فوراً پلٹ کے دیکھا-
عالیہ بستر سے اُٹھ بیٹھی تھی-

ایک لمحے کو تو ہم چونک سے گئے اور ششدر کھڑے اسے دیکھتے رہے- پھر لڑکھڑاتے قدموں سے چلتے ہوئے قریب ہوئے اور چارپائ کی ہِینہہ پہ اس کے بالکل سامنے جا بیٹھے-

کچھ دیر خاموشی سے اس کی اجڑی صورت دیکھنے کے بعد ہم نے کہا:

“دے … دیکھ عالی … ہم … ہم آئے ہیں … دیکھ … پپ … پِیر بن گئے ہم … پیر سائیں … ہم نے کہا تھا ناں … کہیں تیری محبّت میں پاگل ہو کے سائیں نہ بن جائیں … دیکھ ہم بن گئے … اب لینے آئے ہیں تجھے ….!! ”

وہ کچھ دیر دیوانوں کی طرح ہمیں دیکھتی رہی پھر اپنے کمزور ہاتھوں سے زور کی چنڈ ہمارے مونہہ پہ ماری اور روتے ہوئے نقاہت سے بولی:
“اب آیا ہے ؟ اب کیا بچا ہے مجھ میں؟؟ … دفنانے آیا ہے ؟؟ ”

ہم نے گال ملتے ہوئے کہا:
“نہیں عالی … ہم زندگی لوٹانے آئے ہیں … ہم مانگیں گے رب سائیں سے … اس کے ساتھ لائن سیٹ ہے اپنی … نئیں مرے گی توُ … زندگی تو اب شروع ہو گی پگلی … وہ جینا بھی کوئ جینا تھا ؟ اب ہم کیسٹیں بیچنے والے صلّو تھوڑی ہیں … دیکھ روٹھی تقدیر کو مناتے مناتے کیا سے کیا بن گئے؟ مقدر کی سیاہی کو دھوتے دھوتے اپنا تن من سب کچھ دھو ڈالا- پاک پوتّر ہو گئے ہم … پہلے فتووں کےلئے مولبیوں کے پیچھے بھاگتے تھے … اب وڈے وڈے مولوی ہمارے پاس آتے ہیں … دم کرانے ….. ہم ملنگ بنے … عاشق بنے … عامل بنے … سائیں بنے … اور اب پیر بنے بیٹھے ہیں … رب سائیں نے ہمارا ہاتھ پکڑ لیا عالی … ہم نوکر ہیں اس کے … اسی نے زندہ رکھا … ہمیں بھی اور تجھے بھی … کیوں بھلا ؟ … دوبارہ ملانے کےلئے … آج رات ہم اپنے آستانے کی سب سے قیمتی چیز قربان کریں گے … اس کے نام پہ … صدقہ اتاریں گے تیرا ..!!”

شازا آگے بڑھ کے بولا:
” جج … جی سائیں میں قربان کر دونگا … اپنا کُکّڑ .. !!”

ہم نے کہا :
” غم نہ کر عالی … سب ٹھیک ہو جائے گا …. سچّے سائیں کو سب خبر ہے … ھم آئے نہیں … بھیجے گئے ہیں … تا کہ ایک بار پھر نکاح کریں … تجھ سے … اک بار پھر تجھے دلھن بنائیں … چلے گی ناں ہمارے ساتھ … راوی پار ؟ … دیکھ ھم کیا لائے ہیں تیرے لئے؟”

اس کے بعد ہم نے جیب سے ریشمی پوٹلی نکال کر کھولی اور چاندی کی چھاپ نکال کے اسے دکھانے لگے- وہ کچھ دیر آنکھیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتی رہی بالاخر مسکرائ اور اپنا کمزور سا ہاتھ آگے بڑھا دیا-

سُفنے دے وِچ ماہی مِلیا
میں گھُٹ گھُٹ جپھیاں پاواں
ڈر دی ماری اکھ نہ کھولاں
کتھّے فیر وِچھڑ نہ جاواں

ہم اسی رات عالیہ اور امّاں جی کو ملک پور لے آئے-
عالیہ کے مکمّل علاج میں چھ سے سات ماہ لگ گئے- ہماری دعائیں اور ڈاکٹر چشتی کی دوائیں آخر کام کر ہی گئیں- بخار تو ہفتوں میں اتر گیا البتہ نقاہت دو ماہ تک قائم رہی- دودھ ، جوس ، شہد اور تازہ پھلوں کی فروانی نے اس کا رنگ روپ حسن جوانی سب کچھ لوٹا دیا- چھ ماہ بعد ایک بار پھر عوام میں چھوارے بٹّے ، آستانے کے باہر گولے پھٹّے اور ہم پیر سائیں سے دولھا سائیں بن گئے-

ہم ملّاں پور کبھی لوٹ کر نہ گئے- ویسے بھی ان دنوں پورا ملک ہی مُلاں پور بنا ہوا تھا- حکمران کوڑوں سے قوم کی مرمت کرکے انہیں اچھا مسلمان بنانے میں مصروف تھے اور ہم زخموں پہ مرہم رکھنے میں مگن – ھم نہیں جانتے ان کا خدا کیسا تھا اور کہاں رہتا تھا ، ہمارے خدا کا مزاج تو ہم جیسا تھا اور وہ دکھی دلوں میں رہتا تھا- ہم خلقت کے دٌکھ دور کرنے ، اسےخوش کرنے ، اور ہنسانے کو ہی خدا کی عبادت سمجھتے تھے-

کبھی ہم اس کو چٹھیاں لکھتے تھے اب ھم اس کے چیک کا انتظار کرتے ہیں- بلینک چیک … جو برکت کی صورت ملتا ہے- برکت جو ہماری دعاؤں کو مقبول کر دیتی ہے- اور دعائیں جو لوگوں سے کہلوا دیتی ہیں کہ بڑا پہنچا ہوا پّیر ہے … بڑا ہی کرنی والا بزرگ ہے … !!

اسے ناراض کرنے والے تو بہت ہیں- شرک کرنے والے ، بے گناہوں کا خون بہانے والے ، ماں باپ کا دل دکھانے والے ، بھائیوں رشتہ داروں کا حق مارنے والے ، دوسروں کی عزتیں لوٹنے والے ، ملاوٹ کرنے والے ، مہنگا بیچنے والے ، مسکین کو دھتکارنے والے ، تکبّر کرنے والے، بغض رکھنے والے ، حسد کرنے والے ، نفس کی غلامی کرنے والے-
ہے کوئ جو اسے ہنسائے ؟ اسے خوش کر کے کچھ نہ کچھ وصول کر لے؟ وصولی جو ہماری فقیری کا اصل راز ہے-
ہم مُلاں پور کے سائیں ہیں اور مرید ہمارے راوی کے دونوں اطراف بستے ہیں-

ختم شد

اپنا تبصرہ بھیجیں