ٹک ٹاک کی بے حیائیاں اور نقصانات

لاہور سے ٹک ٹاک استعمال کرنیوالی ایک لڑکی کی کچھ 20 دن پہلے شیراز نامی لڑکے سے دوستی ہوئی، شیراز نے اسے سمن آباد ملنے کیلیئے بلایا وہ بیچاری چلی گئی، شیراز کے ساتھ اسکی گاڑی میں ایک اور گھٹیا لڑکا بھی تھا ان دونوں کمتر هوس کے مارو نے ویرانے میں لے جا کر بیچاری کا گینگ ریپ کر دیا اور ویرانے میں پھینک کر چلے گئے…

میں نے لفظ بیچاری 2،3 بار استعمال اسلیئے کیا ہے کیونکہ عورت ذات ہے…

حالانکہ اس جرم پر اس نے تھانے جا کر رپورٹ بھی پتہ نہیں کس منہ سے کروائی ہے…

جنہوں نے ریپ کیا وہ تو اس دنیا میں بھی سزا پائیں گے اور آخرت میں بھی…

پر یہ ریپ کرنے کا موقع انکو دیا کس نے؟

جب وہ لڑکی مشرقی روایات کو دفنا کر فُل میک اپ کر کہ وڈیوز بنا کر لڑکوں کیلیئے اپلوڈ کرتی تھی تھی تب اسے شرم آئی؟

جب اس نے انجان لڑکے سے دوستی کا فیصلہ کیا تو اسے کوئی شرم آئی؟

جب اس لڑکے کے بلانے پر راضی ہوگئی تو اسے کوئی شرم آئی؟

تو بہن پھر اب کس عزت کے لٹنے پر بین کر رہی ہو جسکی تم نے خودقدر نہیں کی؟

ابھی ان ماؤں کی آنکھیں خشک نہیں ہوئیں جن کے لال اس ٹک ٹاک پر وڈیو اپلوڈ کرنے کے چکر میں ٹرین تلے کچلے گئے…

ابھی قوم اس صدمے سے نکلی نہیں کہ ہر گھر میں بھانڈ ناچ گا کر ٹک ٹاک کو حلوہ سمجھ رہے ہیں

ابھی قوم کے کچھ ذندہ ضمیر والے افسوس کر رہے ہیں کہ سُنت محمدیہ چہرے پر سجانے والے بھی اس ٹک ٹاک پر میرے نبی کی سنت کا مذاق بنوا رہے ہیں

جب یہ سب ہم برداشت کر سکتے ہیں تو ایک گینگ ریپ ہوگیا تو کون سا طوفان آگیا…

جہاں جانور بھی روڈ کراس کرتے ہوئے سگنل کی پابندی کرے اور اشرف المخلوقات سگنل توڑ کر گاڑی کے نیچے آ مرے

اس معاشرے میں زندگی اور موت کے بیچ صرف جہالت زندہ رہتی ہے…

میرے کچھ دوست بولیں گے کہ حکومت کو چاہیے کہ ٹک ٹاک بند کرے، تو وہ لوگ جو پورنوگرافی سائٹس کو وی پی این کی مدد سے کھول لیتے ہیں وہ ٹک ٹاک نہیں کھول سکتے؟

آپکا فون آپکے ہاتھوں میں ہے، چاہو تو یہ سب رکھو چاہے تو نہ رکھو، اللہ کا واسطہ ہے میری اس تنقید پر بھلے مجھے برا بھلا بول لو، مگر اپنی ماؤں بہنوں کی اور اپنی زندگی کو محفوظ کرنے کی کوشش کرو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں