کیا لڑکی کا پیدا ہونا جرم ہے؟

بیٹی پیدا ہوجانا اتنا بڑا ظلم کہلایا جاتا ہے کہ پھر لڑکی کی زندگی برباد کردی جاتی ہے ۔۔؟
آخر یہ کیا وجہ ہے کہ لڑکے صرف مال و دولت ہی کے لیئے لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں اور پھر انہیں اور ان کی فیملی کو اتنا لوٹتے ہیں کہ اپنے کلفٹن تک میں کروڑوں کے فلیٹ خرید لیتے ہیں اور جب اچھا خاصہ لوٹ لیتے ہیں تو پھر لڑکی کو طلاق دے کر اس کی زندگی برباد کر دیتے ہیں ۔۔
از قلم محمد عدنان جواد ۔۔
دو تین ہفتوں پہلے میرے پاس اک کیس آیا تھا پھر وہ فیملی میرا نمبر لے گئ اور ہر ہر قدم پر مجھ سے مشورہ کرنے لگی اور مجھ سے جتنا ممکن ہو رہا تھا میں نے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیئے ان کا ساتھ دیا ۔۔ اس کیس میں دو مسئلے تھے اک مسئلہ یہ تھا کہ لڑکی کا کہنا تھا کہ لڑکے نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور اس بات کی گواہ صرف لڑکی ہی نہیں بلکے لڑکی کی ماں باپ بہن بھائی اور لڑکے کی ماں اور بہنیں بھی تھی جبکہ لڑکا انکاری تھا کہ میں نے طلاق نہیں دی ۔۔ دوسرا مسئلہ ان کی دو سال کی بیٹی کا تھا ماں اپنی بیٹی سے ملنے کو تڑپ رہی تھی مگر لڑکا ماں سے بیٹی کو ملوانے کو تیار نہیں تھا آخر لڑکی والوں کے چچا وغیرہ نے پولیس تھانے میں جانے کا فیصلہ کیا اور لڑکی والے اس قدر شریف اور سیدھے سادھے کہ شاید اپنی زندگی میں پہلی بار تھانے گئے ہوں ۔۔ مجھے بھی پوری فیملی کی طرف سے خصوصی طور پر کہا گیا کہ آپ نے ہمارے ساتھ تھانے لازمی چلنا ہے اور آخر کل رات میں ان کے گھر پہنچا جہاں ان کے بھائی اور والدین پہلے بیٹی کے فلیٹ گئے جوکہ لڑکی کا اپنا فلیٹ ہے اور وہاں سے وہ اپنی گاڑی میں ہمارے ساتھ تھانے روانہ ہوئ ۔۔ تھانے پھنچنے سے پہلے میں یہ بالکل بھی نہیں جانتا تھا کہ جن لوگوں کے ساتھ میں آیا ہوں وہ کس قدر امیر ہیں اور اس کی وجہ یہی تھی کہ جب بھی ان لوگوں کی کال آئی یا میسجزز آئے تو میں نے صرف کام کی بات کی ان کی ذات خاندان یا کاروبار کو جاننے کی بالکل بھی کوشش نہ کی اور نہ ہی میں کسی کے مالدار ہونے سے متاثر ہوتا ہوں ۔۔ بات کو مختصر کرتا ہوں کہ جب وہاں لڑکا بھی آگیا اور تھانے کے ایس ایچ او کے سامنے سب بیٹھے تو پھر باتیں شروع ہوئی اور تین چار گھنٹے تک تھانے میں مسلسل کبھی منہ ماری تو کبھی غصہ کا ماحول بنا رہا ۔۔ لڑکے کا کہنا تھا کہ میں نے طلاق نہیں دی اور یہی مجھ سے طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے تو لڑکی نے کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں ۔۔ آپ نے مجھے خود تین طلاقیں دی ہیں ۔۔ پھر لڑکی نے سب کے سامنے بتایا کہ میں نے شادی کے بعد اپنے شوہر کو ڈبل ماسٹر کروایا ۔۔ ( پتہ نہیں اور کون کون سی بڑی ڈگریوں کا نام لیا تھا ) ان کی ساری فیس میں نے خود ادا کی ۔۔ انہیں میں نے زبردست کمپنی میں جاب دلوائی ۔۔ ہل پارک پر میرے والدین نے مجھے الگ سے شادی پر فلیٹ گفٹ دیا جس کی قیمت دس کروڑ روپے ہے ۔۔ میں نے اپنے شوہر کی تین بہنوں کی شادی خود کروائی ۔۔ میں نے اپنے شوہر کو اور ان کے گھر والوں کو الگ الگ گاڑیاں لے کر دی ۔۔ میں نے اپنے شوہر کی سب بہنوں کو ہر ہر موقع پر سونے کے سیٹ گفٹ دیئے ۔۔ میں نے اپنے شوہر کو دنیا میں اک مقام پر پہنچایا تاکہ میں دنیا کو بتا سکتی کہ یہ ہے میرا شوہر مگر اس نے میرے ساتھ کیا کیا ۔۔ ؟ لیاقت آباد میں رہنے والے ان بلوچوں کو جن کی ماں بہن سے زیادہ اچھی ہماری ماسیاں ہوں ( یہ لڑکی کی امی کے الفاظ تھے کہ اس کی ماں بہن ہماری ماسیوں سے بھی ںری حالت میں رہتی ہیں ) مگر صرف اور صرف لڑکے کی وجہ سے میں نے یہ سب کچھ برداشت کیا اور اس سے شادی کی ۔۔
یہاں میں آپ کو اک عجیب بات بتاؤں جو لڑکی کے پورے خاندان والوں نے مجھے بتائیں کہ یہ لڑکا صرف شادی سے پہلے تک نہیں بلکے بیٹی پیدا ہونے سے پہلے تک ہمارے قدموں میں بیٹھا کرتا تھا اور ہر وقت امی ابو جان کرتا رہتا تھا اور جہاں بھی یہ دونوں جاتے یہ لڑکا شادی سے لے کر بیٹی کی پیدائش تک ہمیشہ لڑکی کے لیئے گاڑی کے دروازے ایسے کھولا کرتا تھا جیسے ڈرائیور کھوتے ہیں ۔۔ ہر وقت لڑکی کے سامنے بھی ہاتھ باندھ کر رکھتا تھا ۔۔ شادی سے پہلے لڑکی کیلے ماں باپ کے پاؤں پکڑ پکڑ کر رشتہ مانگا کرتا تھا مگر بیٹی کی پیدائش سے جیسے اس کے پر نکل آئے ہوں ۔۔ لڑکی کو اتنا لوٹ چکا تھا کہ کلفٹن میں اپنا کروڑوں کا فلیٹ خرید چکا تھا اور بس نہیں چل رہا تھا کہ صرف اس دس کروڑ کے فلیٹ پر قبضہ کرلے جو لڑکی کی ماں نے گفٹ دیا تھا بلکے لڑکی کے والدین کے بنگلے تک کو ہڑپ کر جانے کے چکر میں تھا ۔۔
چلیں آپ کو اس لڑکی کے بارے میں بھی بتاتا ہوں جس کے بھائی اور والدین کا کہنا ہے کہ ہر وقت وہ گھر میں عدنان اپ ہی کا نام لیتی رہتی ہے ۔۔ کوئی بھی مشورہ کرنا ہو یا کسی بھی قسم کا مسئلہ ہو سب سے پہلے عدنان کا نام لیتی ۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ جو ہر وقت عدنان بھائی عدنان بھائی کرتی رہتی ہیں وہ خود اتنی پڑھی لکھی ہیں کہ گولڈ میڈل ہیں ۔۔ ڈبل ماسٹر کیا ہوا ہے ۔۔ پتہ نہیں کیا کچھ پڑھا ہوا ہے اور اس وقت جس جگہ جاب کر رہی ہیں وہاں کی سب سے سینیئر منیجر ہیں اور صرف ان کی اڑھائی لاکھ روپے تنخواہ ہے ۔۔ بڑا بھائی سعودیہ میں ہے اور بارہ تیرہ لاکھ ان کی تنخواہ ہے ۔۔ چھوٹے بھائی کی بھی اتنی ہی تنخواہ ہے اور والد صاحب کی پینشن وہ الگ ماشاءاللہ سے ۔۔ والدین کا بنگلہ ۔۔ خود لڑکی کا لگژری اپارٹمنٹ اور لگژری گاڑیاں ملازم چوکیدار گھر کی ملازمین ۔۔
آپ سب حیران ہوں گے کہ شاید میں ان کی دولت سے متاثر ہوکر یہ سب کچھ لکھ رہا تو نہیں بھائیوں میں جو آگے لکھنے جا رہا ہوں وہ آپ سب کے کلیجے بھی پھاڑ دے گا ۔۔ لڑکے نے یہی سب مال دیکھ کر لڑکی سے شادی کی تھی مگر جیسے ہی بیٹی پیدا ہوئی لڑکے کی ماں نے ایسا تماشہ لگایا اور کہا کہ اب تجھے ہر صورت طلاق کرواؤں گی ( جبکہ لڑکا اور لڑکی الگ لڑکی کی والدہ کے گفٹ دئیے ہوئے فلیٹ میں اکیلے رہتے تھے ) ۔۔ ان تمام باتوں کے درمیان اک عجیب بات بھی سنیں ۔۔ جب لڑکے کو ڈبل ماسٹر اور نہ جانے کیا کیا لڑکی نے مکمل کروا دیا تو اس نے کہا کہ مجھے کینیڈا سے جاب کی آفر ہے اور مجھے وہاں جانا ہے جس کے لیئے بینک میں تیس سے چالیس لاکھ روپے شو کروانے پڑیں گے تو لڑکی نے اپنے سعودیہ والے بھائی سے کہا تو انہوں نے فورا اپنی بہن کے اکاؤنٹ میں یہ رقم بھیج دی مگر ہوا کچھ یوں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا میں لاک ڈاؤن لگ گیا اور لڑکے کے کینیڈا جانے کی خواہش پوری نہ ہو سکی ۔۔
اب سنیں ہوا یہ تھا کہ جس یونیورسٹی سے اسے لڑکی نے ڈبل ماسٹر اور بڑی بڑی ڈگریاں دلوائی تھی وہاں پاکستان کی صرف کریم یعنی امیر ترین پارٹیوں کے بجے ہی پڑھنے آتے ہیں ۔۔ اور وہاں وہ کسی اور امیر زادی کو پٹا چکا تھا اور اس امیر زادی کی فیملی کینیڈا میں رہتی تھی تبھی وہ کینیڈا جانا چاہ رہا تھا تاکہ اس سے وہاں پر شادی کر سکے اور اسے بھی لوٹ سکے ۔۔ جبکہ لڑکی کو شادی کے بعد پتہ چلا تھا کہ اس نے مجھ سے شادی سے پہلے قطر میں بھی اک لڑکی سے شادی کی ہوئی تھی ۔۔
یقیناً آپ سب کو اب سارا کھیل سمجھ میں آگیا ہوگا کہ پیسے کہ لیئے کم ظرف لوگ شریف لوگوں کی شرافت سے بھی کھیل جاتے ہیں اور انہیں خوب خوب لوٹ کر آخر میں اٹھا کر پھینک دیتے ہیں ۔۔
خلاصہ یہ ہے کہ کل رات تھانے میں تین سے چار گھنٹے خوب بحث ہوتی رہے اور ہم رات دو بجے تھانے سے اس طرح نکلے کہ نتیجہ عدالت میں جانے کی صورت میں نکلا تھا ۔۔ لڑکا پہلے ہی دن سے لڑکی والوں کو سمجھ چکا تھا کہ یہ حد سے زیادہ شریف لوگ ہیں یہ تو کبھی تھانے نہ جائیں تو عدالت کیسے جائیں گے مگر انہیں کیا پتہ تھا کہ جب ربُّ العالمین مدد کریں تو بڑے سے بڑے کام دو منٹ میں ہوجاتے ہیں ۔۔
مجھے لڑکی اور ان کے والدین نے کل رات اور آج صبح کہا کہ عدنان بیٹا اب وکیل کا انتظام بھی آپ کروں کیوں کہ ہم کسی کو نہیں جانتے اور مجھے یاد آیا کہ اک بار اک ہائی کورٹ کی کوئی بہت بڑی وکیل میرے پاس اپنا اک کام کروانے آئی تھی اور جاتے ہوئے مجھے اپنا کارڈ دیا تھا اور کہا تھا کہ کبھی بھی کوئ بھی کام ہو تو مجھے ضرور یاد کرنا اور میں نے وہ کارڈ گھر لاکر بہن کے حوالے کیا تھا کہ اسے سنبھال کر رکھیں ۔۔ فوراً سے کارڈ نکلوایا اور انہیں نمبر دیا اور اس لڑکی نے انہیں کال کرکے میرے تعارف سے اپنی ساری کہانی سنائی تو انہی ہائی کورٹ کی وکیل صاحبہ نے کہا کہ آپ بالکل پریشان نہ ہو ۔۔ اس لڑکے پر ہم چار کیس بنائیں گے ۔۔ پہلا کیس طلاق کا ۔۔ دوسرا کیس بچی کو زبردستی اٹھا کر لے جانے کا ۔۔ تیسرا کیس بچی کے تمام کاغذات پاسپورٹ پر قبضہ کرنے کا اور چوتھا کیس آپ پر تشدد کرنے کا اور ان چاروں کیسوں میں عدالت سے عورت ہی کو ریلیف ملتا ہے اور لڑکے کو لگ پتہ جائے گا کہ عدالت کیا ہوتی ہے ۔۔
جب یہ سارا واقعہ میں نے گھر والوں کو سنایا تو گھر والوں کے الفاظ تھے کہ لڑکے کی بربادی کا وقت شروع ہوچکا ہے ۔۔ یہ لڑکا اب ہر جگہ ذلیل ہوگا ۔۔ ویسے میں حیران ہوں کہ اس قدر بدنصیب لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس قدر پڑھی لکھی لڑکی کا ایسا حشر کرتے ہیں ۔۔ 😭
وللہ میں نے جو کچھ بھی کیا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیئے کیا اور لڑکی کے الفاظ تھے کہ عدنان بھائی ہم آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولیں گے ۔۔
آخر میں آپ سب سے بھی دعا کا کہوں گا کہ اس ماں کے لیئے ضرور دعا کرنا جو اپنی دو سال کی بچی سے ملنے کے لیے ہر ہر لمحہ تڑپی جا رہی ہے اور امیر لڑکیوں کو مال و دولت لونٹے کے لیئے شادیاں کرنے والوں کی بربادی اور لڑکیوں کی آہوں اور بددعاؤں کی جلد قبولیت کے لیئے بھی ضرور ہاتھ اٹھائے گا ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں