خدا دیکھ رہا ہے

اکرام میرا بہت اچھا دوست ہے۔
اکرام کی مخلص دلی,اسکا ہر ایک کے ساتھ اچھا برتاؤ کی سارے علاقے والے تعریف کرتے ہیں,
اکرام کی ابتدائی تعلیم اپنے شہر میں ہی مکمل ہوئی ۔
میٹرک کے بعد اکرام نے کراچی میں جا کہ باقی تعلیم حاصل کرنے کا عزم کر لیا تھا۔۔
___
اکرام کے بابا لوگوں کی اپنے چچا زاد بھائیوں سے پہلے دشمنی رہ چکی تھی۔۔
مگر اب صلح صفائی ہوگئی۔۔
اور ان دو خاندانوں کے درمیان کٸ رشتے طے ہو چکے تھے۔۔
اکرام کی والدہ جب اکرام دس سال کا تھا اللہ کو پیاری ہوگٸ تھیں۔۔
اب اکرام اور اسکی بہنوں کے اوپر صرف باپ کا سایہ باقی رہتا تھا۔
اکرام اکیلا بھائی تھا دو بہنیں اکرام سے بڑی اور دو چھوٹی تھیں۔۔
_____
اکرام کی والدہ کی وفات کے بعد اکرام کی دو بہنوں کا رشتہ ان چچا زاد بھاٸیوں جن سے دشمنی تھی ہوا۔۔
رشتے اس بنا پہ ہوۓ کہ آٸندہ کے بعد ہماری دشمنی ختم ہوتی ہے اور یہ دو رشتے معاہدے کے طور پر تھے۔۔
بہنیں تو ان رشتوں سے متفق نہی تھیں۔
لیکن خاندانی دشمنی اور باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے ڈر سے یہ رشتہ انہوں نے منظور کر لیا تھا۔
___
اکرام کی والدہ ہمارے علاقے میں دیسی طبیب تھیں۔۔
دیسی جڑی بوٹیوں سے لوگوں کا مفت علاج کرتیں۔۔
خاص کر بچے کی پیداٸش کے وقت دیہاتوں میں ہسپتال کی سہولت موجود نہیں ہوتی ۔۔
اسلیۓ اکرام کی والدہ بہت اچھی دائی تھیں۔,
ایک مقولہ ہے!!
“کہ نیک سیرت لوگ دنیا سے جلد چلے جاتے ہیں”
اکرام کی والدہ بھی زیادہ دیر دنیا میں نا رہ سکیں اور اللہ کو پیاری ہوگٸں۔۔
انکی وفات پہ سارے اہل علاقہ صفِ ماتم میں تھے۔
____
اکرام بی اے کے امتحانات دے کر واپس اپنے شہر آچکا تھا۔۔کچھ عرصہ اس نے گھر کے کام کاج اور والد کے کام میں ہاتھ بٹایا۔۔
___
اکرام کے بابا نے اسکی والدہ کی وفات کے بعد نٸ شادی کر لی تھی,
جس سے تین جڑواں اولاد ہوٸ۔۔
اکرام کی دوسری ماں اسکے بہن بھائیوں کے ساتھ بلکل بھی اچھا برتاؤ نا کرتی۔۔
اکرام نے اس بات کو برداشت نا کیا اور انکی جلدی سے شادی کر وا دی۔۔
____
اکرام کی ساری بہنیں اپنوں گھروں میں خوش ہیں۔۔
لیکن باپ نے جب سے دوسری شادی کی ہے بیوی کی باتوں میں آگیا۔۔,
ماہانہ پچاس ساٹھ ہزار کماتا ہے لیکن گھر کا خرچہ کریانے والوں سے ادھار لے کہ جاتا ہے۔۔
اہل علاقہ کے پوچھنے پہ بتایا کہ میری بیوی کے والد کا آپریشن ہے میرے سارے پیسے ادھر لگ جاتے ہیں۔۔
لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے,
جو بھی کماٸ ہوتی بیوی ہڑپ جاتی ہے۔اور اکرام بھی اس وجہ سے بہت پریشان تھا۔۔
اکرام کے بابا اب کٸ کریانہ والوں کا لاکھوں کا مقروض بن چکا تھا۔۔۔
____
اکرام کی منگنی بچپن میں ہوچکی تھی,اب صرف شادی کرنا باقی رہ گیا تھا۔۔
اکرام کی بہنوں نے جب والد سے شادی کا کہا تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ ابھی میرے پاس کوٸ گنجاٸش نہیں ہے,
___
آخر کار تنگ آکر اکرام کی چار بہنوں نے اپنا زیور وغیرہ بیچ کر اکرام کی شادی لا تہیہ کر لیا تھا۔۔
____
اکرام کی شادی کی تاریخ مقرر ہوچکی تھی۔۔
نہایت شاندار طریقے سے اکرام کی شادی ہوئی۔
اہل علاقہ بہنوں پہ رشک کھانے لگے کہ آج تک بنوں نے اپنا زیور بیچ کہ بھائی کی شادی کی ہو ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا,
لیکن اکرام اور اسکی بہنوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ باپ نے دوسری شادی کر لی ہے اب وہ انکو منہ لگانے والا نہیں۔۔
شادی کی تقریب میں ہر قریبی رشتہ دار کو ایک ایک شال تحفے میں دی گٸ۔۔
اس طرح سے اکرام کی شادی پايہ تکمیل تک پہنچی۔۔
____
اکرام کی شادی کو پچیس دن گزر چکے تھے,
اکرام کی بیگم شادی کے بعد اب تک اپنے میکے نہیں گئی تھیں۔,
اکرام کی والدہ کی طرح انکی بہو بھی ایک نیک سیرت,اور اچھے اخلاص والی لڑکی تھی۔
اکرام کی بیوی رشتے میں ماموں کی بیٹی تھیں۔۔
____
آۓ روز باپ نے گھر میں تماشہ کیا ہوتا کہ تمہاری بیگم کو کھانا نہیں بنانا آتا,
یہ میری خدمت نہیں کرتی,
اسکو کھیتوں کا کام نہیں آتا,وغیرہ وغیرہ۔
اکرام کو پتا تھا کہ اسکی بیوی کتنی غلط ہے اور کتنی سہی اسکے باوجود بھی وہ باپ کو کہتا رہتا کہ سہی ہے میں سمجھاتا ہوں,
_____
ایک دن باپ نے تو حد کر دی دوپہر کے کھانے میں لسی مانگی تو اکرام کی بیوی نے کہا کہ,
لسی تو صبح کے ناشتے میں ختم ہوگئی تھی,
یہ کہنا تھا کہ باپ اپنی جگہ سے اٹھا اور اسکو پیٹنا شروع کر دیا,
سر پہ کٸ زخم آۓ,اور بازو بھی ٹوٹ چکا تھا,
ساتھ میں اکرام کے چھوٹے چاچو رہتے تھے انہوں نے آکہ چھڑوا لیا,
__
جب چھوٹے چاچو آکہ تھوڑا غصے ہوۓ تو اکرام کے باپ نے تین طلاقوں کے ساتھ اسکو گھر سے نکل جانے کا کہا,
اور ساتھ میں تنبیہ کی کہ آٸندہ کے بعد یہ میرے گھر میں نظر نا آئے۔۔
اکرام کے چاچو اسکی بیوی کو وہاں سے لے کر اپنے گھر آگۓ۔
پٹی کی اور پانی وغیرہ پلایا,
____
شام کو جب اکرام گھر آیا تو ساری صورتحال سے چاچو نے آگاہ کیا,
اکرام جو کہ ایک سلجھا ہوا لڑکا تھا اس نے باپ سے بہت معافیاں مانگی۔
مگر باپ نے ایک نا سنی اور گھر سے نکل جانے کا کہا,
بلا آخر مجبور ہوکر اکرام اپنی بیوی کے ہمراہ اسکے سسرال چلا گیا,
___
اکرام کا کہنا ہے کہ ابھی اگر وہ گھر جاۓ تو اسکے باپ کا طلاق کا مسلہ بھی ہو سکتا ہے,
اور ناراضگی اور بڑھ جانے کا خدشہ بھی ہوسکتا ہے,
اسلیۓ فلحال اکرام اپنی بیگم کے میکے ہے۔۔
جلد ہی وہ سارے حالات سے نبھٹنے کا عزم رکھتا ہے۔
______ختم شد

رائٹر : ابوبکر قاسم

اپنا تبصرہ بھیجیں