خوبصورتی بیکار گئی

طاہرہ یہ صاٸمہ کو آج کل کیا ہوگیا ہے؟
حسنارہ نے طاہرہ سے مخاطب ہوتے ہوۓ کہا,
اسکو نئی نئی جوانی آئی ہوئی ہے۔ اور کچھ والدین نے بھی ڈھیل دی ہوئی ہے اکیلی اولاد ہونے کے ناطے۔طاہرہ نے حسنارہ کے سوال پہ لپک کر کہا۔
___
صائمہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔
اس لحاظ سے والدین بھی صائمہ کی خاطر داری میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔
صائمہ نے آٹھویں کے امتحانات دینے کے بعد آگے پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔
والدین کے لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی صائمہ نے پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔
___
صائمہ کے بابا ایک پولیس افسر تھے۔۔
کھانے پینے کے علاؤہ صائمہ کو پہننے اور کسی قسم کی دشواری نہیں تھی۔
گھر میں ایک نوکرانی رکھی ہوئی تھی۔
صائمہ کی پڑھائی سے استعفی کے بعد اسکے بابا نے پوچھا کہ نوکرانی کو اب بس کام پہ نا آنے کا کہتے ہیں۔۔
مگر صائمہ نے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ مجھ سے کوئی کام نہیں ہوتا۔
میں آپ کے اور مما کے کپڑے نہیں دھو سکتی۔
صائمہ کی مما نے ایک دفعہ نوکرانی کو بھیج بھی دیا تھا مگر صائمہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دوبارہ کام پہ رکھ لیا تھا۔
_____
صائمہ سارا دن موبائل لے کہ کمرے میں گھسی رہتی۔کھانے کے وقت آکر کھانے کھا کہ واپس کمرے میں گھس جاتی۔۔
صائمہ کی امی اسکی اس ہٹ دھرمی سے بہت پریشان ہوچکی تھی۔۔
لہذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسکو دست کاری کا ہنر سیکھنا چاہیۓ۔۔
چنانچہ صائمہ کو ایک پرائیویٹ دستکاری اکیڈمی میں جانے کا کہا۔۔
پہلے پہل تو صائمہ نے بلکل انکار کر دیا۔
مگر بابا کے مسلسل اصرار پہ اکیڈمی جانا شروع ہوگئی۔
<<<__
صائمہ کے بابا سارا دن جاب پہ ہوتے اس وجہ سے صائمہ اکیلی اکیڈمی آتی جاتی۔۔
____
پانچ مہینے گزر گۓ اور صائمہ کی ٹیچر نے بتایا کہ صائمہ دستکاری کا کام مکمل سیکھ چکی ہے۔۔
مگر صائمہ اب بھی اکیڈمی جاتی ۔
مما کے پوچھنے پہ کبھی کہتی کہ وہاں میری ایک سہیلی ہے میں اسکی مدد کرتی ہوں۔
دو مہینے اور گزر گئے اور مما نے کہا کہ بیٹا اب تمہارا وہاں جانا بلکل مناسب نہیں۔
خواہ مخواہ فری کی فیس لگتی ہے۔۔
مما کے بارہا اصرار پہ صائمہ نے اکیڈمی جانے سے پرہیز کر لی۔۔
___
صائمہ اکلوتی اولاد ہونے کے ساتھ حسن کی دولت سے بھی مالا مال تھی۔۔
صائمہ کو اپنے حسن پر بہت گھمنڈ تھا۔
گھر سے بازار جانا ہو یا کہیں کبھی عبایا استعمال نہیں کیا تھا۔۔
___
جوں جوں صائمہ بڑی ہوتی گئی گاؤں میں اسکے حسن کے چرچے ہونے لگے۔۔
صائمہ ان باتوں سے بہت خوش ہوتی اور اپنا روپ اور نکھارنے کی کوشش کرتی۔۔
تاکہ لوگ اور تعریفوں کے پل باندھیں۔۔
____
صائمہ کی عمر بیس کے قریب ہوگئی تھی۔۔
اس دورانیے میں صائمہ کے کئی دوست تھے۔۔
اپنی ماں کے سامنے ان سے ہنس ہنس کر باتیں کرتی۔۔۔
ماں کے پوچھنے پہ وہ کہتی فلاں خالہ کا فلاں بیٹا میرا کزن ہے اس سے بات کر رہی ہوں۔۔
لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے اسے سب پتہ ہوتا ہے۔۔
تقریبا ڈیڑھ سال یہ سب کچھ چلتا رہا۔۔
اب صائمہ کی ماں اس انتظار میں تھیں کہ کب اچھا سا رشتہ آتا ہے تو اسکی شادی کر دی جاۓ۔۔
___
صائمہ جس کے کسی دور میں حسن کے چرچا چار سو ہوا کرتے تھے۔۔
آج وہ لڑکوں سے غلط رابطے رکھنے کی بدولت مشہور ہوچکی تھیں۔۔
آہستہ آہستہ باپ کو بھی سب پتہ چل گیا۔
تو باپ نے بھی کافی سختی شروع کر دی۔۔
موبائل چھین لیا۔۔
لیکن اولاد اگر ایک بار ہاتھ سے نکل جاۓ تو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔۔
____
جب جب صائمہ سے موبائل چھینا جاتا ایک گھنٹے بعد نیا موبائل حاضر ہو جاتا۔۔
____
صائمہ کی عمر چوبیس سال ہو چکی تھی مگر اب تک اسکا کوئی رشتہ نہیں آیا تھا۔

والدین بھی واقف تھے کہ کیوں نہیں آتا رشتہ ۔۔
بلاآخر صائمہ کے بابا نے تنگ آکر خود اپنے ایک پولیس دوست کے بیٹے سے رشتہ طے کروا دیا۔۔
صائمہ روتی چیختی چلاتی رہی کہ مجھے یہ رشتہ پسند نہیں۔۔۔
مگر صائمہ کی حرکتیں گھر رکھنے والی نہیں تھیں۔۔۔
____
منگنی کے دو مہینوں بعد شادی کی تاریخ مقرر ہوگٸ۔۔
صائمہ کے بابا نے ناراضگی کے باوجود بڑے دھوم دھام سے شادی کی۔۔
____
صائمہ کی شادی کو دو مہینے ہو چکے تھے ۔
صائمہ نا چاہتے ہوۓ بھی خوش تھی۔۔
صائمہ کے بابا کو یہ تھا کہ شہر کے باہر اسکی شادی ہوئی ہے۔۔
وہاں پر شاید اسکے کارناموں کا پتہ نا ہو ۔۔
مگر جلد ہی انکی یہ خشک فہمی بھی دور ہوگٸ ۔۔
___
ایک دن صائمہ دوپہر کے وقت ایک بریف کیش سمیت اپنے گھر پہنچ گئی۔۔
والدین نے پوچھا اس طرح اچانک کیسے آئی ۔۔
نا کو اطلاع دی۔۔
اگلے لمحے صائمہ کے جواب نے اسکے والدین کی جان نکال دی تھی۔
“مجھے عبید نے طلاق دے دی ہے”
____
صائمہ کی مما کو پتہ تھا کہ اسکا شوہر پہلے اسکے کارناموں سے واقف نہیں تھا۔۔
اب واقف ہوگیا ہے۔
اس طرح کوئی بھی شوہر اس طرح کی بیوی گھر میں نہیں رکھتا۔
جس کے دس دس یار ہوں۔۔
___
صائمہ کے ابو کو سکون نا آیا اور اس نے داماد عبید سے پوچھا کہ آخر ایسی کیا وجہ بنی تھی کہ طلاق تک کی نوبت آگئی ۔۔
داماد نے کوئی جواب نا دیا اور جیب سے فون نکال کر صائمہ کے ابو کے ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔
فون میں صائمہ کی پانچ چھ لڑکوں کے ساتھ ویڈیوز اور بے ہودہ تصویریں تھیں۔۔۔
زیادہ سوالات صائمہ کے ابو نے بھی نہیں کسے اور شرمندہ گھر لوٹ آیا۔۔
___
صائمہ کی عمر اب پینتیس سال ہوچکی ہے۔
وہ صائمہ جس کی کسی دور میں لوگ تعریفیں کر کر نہیں تھکتے تھے۔۔
آج وہ حسن کی چکی میں پس کر آٹا بن چکی تھی۔۔
اب صائمہ کو ٹھوکر لگنے کے بعد اسکے ہوش ٹھکانے لگے تھے۔۔
مگر گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔
______ختم شد

رائٹر : ابوبکر قاسم

اپنا تبصرہ بھیجیں